98.2K
31

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 10

پولیس وین کے سائرن کی آواز سب کو چونکا گئی۔ پورے محلے میں سائرن کی آواز نے رہائشیوں کو متحرک کر دیا۔
پولیس وین نے رکتے ہی اسامہ کے گھر کا دروازہ زور زور سے دھڑدھڑایا۔
” کون ہے بھئی؟” شاہدہ دروازے کی طرف بڑھی۔
” اماں پولیس تو نہیں؟” زارا نے ڈر کر پوچھا۔
اسامہ یہ بات سنتے ہی پچھلے دروازے کی طرف بھاگا۔
دروازہ کھلتے ہی زارا کے شک کی تصدیق ہو گئی۔
” پولیس۔۔۔”
” اسامہ کو بلائیں ہم اسے لینے آئیں ہیں؟” انسپیکٹر نے سنجیدگی سے کہا۔
اسامہ کے اوسان خطا ہونے لگے۔
” وہ گھر پر نہیں ہے۔” شاہدہ نے گھبراتے ہوئے کہا۔
” پورے گھر کی تلاشی لو۔” انسپیکٹر نے کرخت لہجے میں کہا۔
پولیس اہلکار پورے گھر میں پھیل گئے اور تلاشی لینے لگے۔
” آپ کی بہو کہاں پیں؟”
” وہ اپنے عاشق کے ساتھ ایک ہفتہ پہلے بھاگ گئی۔” شاہدہ نے نفرت سے کہا۔
” بھاگ گئی یا پھر تمہارے بیٹے نے ٹپکا دی۔” انسپیکٹر امجد نے طنز کیا۔
شاہدہ نے تھوک نگلا۔
” اسامہ کہاں ہے؟” انسپیکٹر امجد نے سخت لہجے میں پوچھا۔
” آپ کو کیا کام ہے؟” شاہدہ نے ماتھے پر آیا پسینہ صاف کیا۔
” ہم اسے اریسٹ کرنے آئے ہیں۔ اس نے نوال مختار پر قاتلانہ حملہ کیا ہے۔ نوال مختار نے اس کے خلاف ایف آئی آر درج کروائی ہے۔” انسپیکٹر امجد نے سخت لہجے میں کہا۔
” وہ آئے تو اسے کہنا اپنا آپ خود ہی ہمارے حوالے کردے ورنہ اگر میں نے پکڑا تو رعایت نہیں دوں گا۔”
” وہ جھوٹ بول رہی ہے میرا بیٹا بے قصور ہے۔”
” بی بی یہ قانون طے کرے گا تم نہیں۔ اگر بے گناہ ہوا تو چھوڑ دوں گا اور اگر کیا ہے جو کہ واقعی کیا ہے تو سزا کے لیے تیار ہو جاؤ تم بھی اور وہ بھی ورنہ تمہیں بھی نہیں چھوڑوں گا۔”
” سر پیچھے کا دروازہ کھلا ہے۔”
سبھی اہلکار پیچھے کی طرف لپکے۔ انسپیکٹر امجد بھی ان کے پیچھے بھاگا۔
یہ اسامہ کے گھر کی پچھلی گلی تھی۔ جس کے دونوں اطراف گھر بنے تھے۔ گلی نسبتاً کم چوڑی تھی۔
” سبھی پھیل جاؤ وہ ابھی بھاگا ہے نکلنے نہ پائے۔” انسپیکٹر امجد نے سب کو حکم دیا۔
سبھی اہلکار چاروں طرف پھیل گئے۔
اسامہ انسپیکٹر امجد کے کچھ قدموں کے فاصلے پر بھاگ رہا تھا۔ انسپیکٹر امجد کی جیسے ہی نظر اس پر پڑی۔ اس نے اپنی ٹیم کو الرٹ کیا۔
” بلو شرٹ بلیک ٹراؤزر ہے پکڑ لو اسے۔”
اس سے پہلے اسامہ بھاگتے ہوئے رائٹ ٹرن لیتا اس گلی میں موجود اہلکار نے واکی ٹاکی پر سنتے ہی اسی گلی کے سرے میں جا پہنچا اور اسامہ سے بری طرح سے ٹکرایا۔
کانسٹیبل ناصر نے اس کے ہاتھ کمر پر لے جا کر ہتھکڑی سے باندھ دیے تاکہ وہ بھاگنے کی کوشش نہ کرے۔
” سر مل گیا۔” کانسٹیبل ناصر نے انسپیکٹر امجد کو واکی ٹاکی پر الرٹ کیا۔
انسپیکٹر امجد بھی پہنچ چکا تھا۔

” او بھائی صاحب کہاں کی تیاریاں ہیں؟ سسرال نہیں جانا کیا؟” انسپیکٹر امجد نے زناٹے دار دو تھپڑ اسے رسید کیے اور کھینچتے ہوئے پولیس وین میں اسے پٹخا۔

نوال کپڑے چینج کر کے باہر آ چکی تھی۔ ثانیہ نے اس کی بھرپور مدد کی تھی۔ وہ اسے سہارا دیتے ہوئے باہر لے آئی۔
عامر احمر اور ثانیہ اسے لے کر ہاسپٹل کے لیے نکل گئے۔
راستے میں احمر نے اپنے کمشنر دوست کو نوال کے گھر آ جانے کا بتایا اور یہ بھی ریکؤیسٹ کی کہ اسامہ کی گرفتاری کو یقینی بنایا جائے۔
ہاسپٹل پہنچ کر نوال کا کمپلیٹ چیک اپ کیا گیا اور دوائیاں دی گئیں۔ نوال کو ڈاکٹر نے انجیکشن بھی دیا تھا۔
عامر فارمیسی سے انجیکشن لینے چلا گیا۔
احمر اور ثانیہ نوال کے پاس ہی رک گئے۔
عامر فارمیسی سے نوال کی میڈیسن لے رہا تھا۔ جب اس نے جانی پہچانی آواز پر پلٹ کر دیکھا۔
” زاویان کیسے ہو؟”
” میں ٹھیک تم کیسے ہو؟” زاویان عامر کو دیکھ کر اس سے بغل گیر ہوا۔ رسمی علیک سلیک کے بعد دونوں کی بات چیت شروع ہوئی۔
اپنی اپنی میڈیسنز لے کر دونوں ہاسپٹل کے اندر کی جانب بڑھے۔
” تم یہاں کیسے؟”
” یار میری بیٹی کو بخار ہے ایڈمٹ ہے کل رات سے۔”
زاویان اور عامر کی ملاقات یونیورسٹی میں ہوئی تھی۔ وہ دونوں اکھٹے پڑھتے تھے۔ پہلے پہل ہلکی پھلکی بات چیت تھی پھر یہ ایک گہری دوستی میں بدل گئے۔
عامر زاویان کی شادی پر بھی انوائیٹڈ تھا۔ عرشیہ کے چلے جانے کے بعد زاویان اپنے آپ میں مقید ہو گیا۔ لوگوں سے ملنا جلنا چھوڑ دیا۔ تمام دوستوں سے تعلقات محدود ہو گئے۔ آج وہ لوگ کافی عرصے بعد ملے تھے۔
عامر کی شادی پر زاویان بھی انوائٹڈ تھا پھر عامر بھی بزنس اور فیملی میں اتنا بزی ہو گیا کہ وہ بھی زاویان کا فولو اپ نہ کر سکا۔
” تم یہاں کیسے؟ گھر میں سب ٹھیک ہے؟”
” ہاں یار نوال کو لے کر آیا ہوں۔ اس کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔ تمہاری لائف کیسی جا رہی ہے؟”
” سٹک عرشیہ کے بعد تو بالکل سٹک ہو گئی ہے۔ جیسے دو سال پہلے عرشیہ مجھے چھوڑ کر گئی تھی۔ میں وہیں اسی لمحے میں قید رہ گیا ہوں۔ عنایہ اور آئرہ ہیں جو اب جینے کی وجہ ہیں۔”
” شادی کر لو یار تمہاری لائف چینج ہو جائے گی۔ مرنے والوں کے ساتھ مرا نہیں جاتا جینے والوں کے لیے ہمت رکھی جاتی ہے۔ تمہارے ساتھ ساتھ تمہارے بچوں کو بھی ماں کی ضرورت ہے۔”
” تم اس وقت میری ماما لگ رہے ہو۔” زاویان دھیرے ہنسا۔
” ہاں کیونکہ ہم تمہارے خیر خواہ ہیں اور تمہیں اس طرح تنہا اور اجڑا ہوا نہیں دیکھ سکتے۔”
” تھینک یو یار میں اب چلوں آئرہ اندر اکیلی ہے۔”
” سی اگر اس کی ماں وہاں ہوتی تو تمہیں فکر نہ ہوتی۔”
” اوئے تم نے تو میرج بیورو بھی کھول لیا ہے۔” زاویان نے اس کے کندھے پر پنچ جڑا۔

” بعد میں ملتے ہیں۔” زاویان اندر روم میں چلا گیا اور عامر آگے بڑھ گیا۔

زاویان جب اندر آیا تو نرس آئرہ کو میڈیسن دے کر جا چکی تھی۔ وہ آئرہ کے پاس بیڈ پر بیٹھ گیا۔ وہ اس کا بخار چیک کرنے لگا۔ جو ابھی بھی تیز تھا لیکن کل سے کم تھا۔ اس نے آئرہ کے سر پر بوسہ دیا اور اس کے بال پیچھے کیے۔
کل جب وہ کراچی سے آیا تھا تو اسے پتا چلا تھا کہ آئرہ کو بہت تیز بخار ہو رہا ہے۔ وہ آئرہ کو فوراً ہاسپٹل لے آیا تھا۔ وہ اب کل سے یہیں تھا۔
وہ آئرہ کے پاس سے اٹھ کر ونڈو کے پاس جا کر کھڑا ہو گیا۔
اس کی سوچوں کے دھاگے ایک بار پھر اس لڑکی سے جا الجھے تھے۔
بے اختیار اس نے اپنی پاکٹ میں ہاتھ ڈال کر وہ چین نکالی۔
پتا نہیں وہ لڑکی اپنے گھر پہنچ گئی ہو گی؟ کہاں سے ڈھونڈوں گا؟ وہ پتا نہیں کہاں ہو گی؟ اس نے کیا سوچ کر یہ چین اٹھا لی تھی یہ بات وہ خود بھی نہیں جانتا تھا۔
زاویان کی نہ ختم ہونے والی سوچوں کا طویل سلسلہ جاری تھا۔
جب اسے پارکنگ میں عامر کسی کے ساتھ جاتا دکھائی دیا۔ وہ اس کا بھائی تھا اس سے پہلے وہ عامر کے پیچھے چلتی اس کی بہن کو دیکھتا زوباریہ کے پکارنے پر پلٹا۔
” زاویان کیسے ہو؟”
” تمہارے سامنے ہوں۔”
” آئرہ کیسی ہے؟ کیا کہا ڈاکٹر نے؟” کامران نے اس کے پاس بیٹھتے ہوئے پوچھا۔
” ابھی بھی بخار ہے۔”
” آئرہ ٹھیک ہو جائے گی۔” کامران نے تسلی دی۔
” کھانا کھا لو زاویان۔” زوباریہ نے ٹفن کھولا۔
” بھوک نہیں ہے۔”

” ریلیکس زاویان بچے بیمار یو جاتے ہیں۔” کامران نے اس کا کندھا تھپتھپایا۔

جاری ہے