No Download Link
Rate this Novel
Episode 3
” مسٹر زاویان پیشنٹ اب خطرے سے باہر ہے۔ ابارشن ہو گیا ہے۔” ڈاکٹر نے پروفیشنل انداز میں کہتے ہوئے ہاتھ میں پکڑا پولیتھین پیکٹ انسپیکٹر امجد کی طرف بڑھایا۔
” یہ وہ ہتھیار ہے جو ہم نے پیشنٹ کے پیٹ سے نکالا ہے دو بار وار کیا گیا ہے۔”
انسپیکٹر امجد نے چمکتی آنکھوں سے وہ پیکٹ لے لیا۔
” پیشنٹ کو ہوش کب آئے گا؟” انسپیکٹر امجد نے سنجیدگی سے پوچھا۔
” تھوڑی دیر تک آ جائے گا۔ بلڈ لگا دیا گیا ہے۔”
” تھینک یو سو مچ ڈاکٹر۔” زاویان مشکور ہوا۔
ڈاکٹر مسکراتے ہوئے سر اثبات میں ہلا کر کوریڈور کی طرف بڑھ گئی پھر جیسے کچھ خیال آنے پر پلٹی۔
زاویان اور انسپیکٹر امجد چونکے۔
” ون تھنگ مور پیشنٹ کو ڈومیسٹک وائلنس کا نشانہ بھی بنایا گیا ہے۔ کچھ نشان تازہ ہیں کچھ پرانے ہیں۔ مطلب یہ کہ شاید اس کو اکثر ڈومیسٹک وائلنس کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔”
” ہم بیان کب لے سکتے ہیں؟”
” ہوش میں آنے کے بعد پیشنٹ کی کنڈیشن چیک کی جائے گی پھر ہی کچھ کہا جا سکتا ہے۔”
” تھینک یو ڈاکٹر۔” انسپیکٹر امجد نے مسکراتے ہوئے کہا۔
ڈاکٹر وہاں سے چلی گئی۔
” مسٹر زاویان آپ تو کہہ رہے تھے کہ یہ لڑکی کنواری ہے؟ پھر یہ بچہ کہاں سے آ گیا؟ یا پھر؟” انسپیکٹر امجد نے تمسخر اڑایا۔
” انسپیکٹر امجد نہ تو میں اس لڑکی کے نکاح میں شامل تھا اور نہ ہی ایسا کوئی وعدہ کر رکھا ہے۔ نہ میرے اور اس کے پاس اتنا وقت تھا کہ میں اس کے پاس بیٹھ کر یہ پوچھ لیتا کہ مجھ سے یہ سوالات کیے جائیں گے تو مجھے بتا دو۔ میں نے صرف انسانیت کے ناطے اس کی مدد کی ہے۔”
” آپ کے ڈیپارٹمنٹ کے اسی طرح کے سوالات سے لوگ گھبرا جاتے ہیں اور کوئی کسی کی مدد نہیں کرتا۔
” مسٹر زاویان مجھے یہ گھر سے بھاگی ہوئی لڑکی لگتی ہے۔ جس کے عاشق نے بچے کا کام تمام کرنے کے لیے اس سے بھی جان چھڑانی چاہی ورنہ گھر والے کوئی رپورٹ تو لکھواتے۔”
” انسپیکٹر تم اس کی کردار کشی نہیں کر سکتے۔ جب تک وہ ہوش میں آتی ہے۔ اس چاقو پر سے فنگر پرنٹ سے قاتل کا پتا لگواؤ۔ تب تک کے لیے اپنے سوالات محفوظ رکھو۔”
” آپ ہمیں ہمارا کام نہ سمجھائیں۔ میں اس وقت یہی کر رہا ہوں۔”
” یہ سوالات مجھ سے نہیں اس سے کرنا۔ جو اس حادثے سے گزری ہے۔”
زاویان نے اپنا نمبر انسپیکٹر امجد کو نوٹ کروایا اور خود اس لڑکی کے روم کی جانب بڑھ گیا۔
آہستگی سے دروازہ کھولا اور اندر قدم رکھا۔ جہاں سامنے ہی وہ لڑکی ہوش و خرد سے بیگانہ پڑی تھی۔ زردی مائل کملایا چہرہ، اتری رنگت، آنکھوں کے گرد پڑے گہرے سیاہ حلقے، لمبی خمدار پلکوں کی جھالر آزردوں پر سایہ فگن تھیں، پپڑی زدہ ہونٹ، گال پر تھپڑوں کے شان ابھی بھی موجود تھے۔
اس لڑکی کی حالت کو دیکھ کر زاویان کے دل کو کچھ ہوا۔
اگر وہ لڑکی اتنی ابتر حالت میں نہ ہوتی تو یقیناً وہ ایک خوبصورت اور معصوم دوشیزہ تھی۔
اس معصوم لڑکی کو دیکھ کر کہیں سے بھی وہ گھر سے بھاگی ہوئی نہ لگی۔ وہ ایک اچھے اور شریف گھرانے کی لڑکی معلوم ہو رہی تھی۔
اس کو دیکھ کر ایک بار پھر زاویان کو عرشیہ کی یاد آئی اور وہ وہاں سے تیزی سے نکل گیا۔
انسپیکٹر امجد نے اپنے ساتھ کھڑے کانسٹیبل کو دیکھا۔
” ناصر کیا لگتا ہے اس کا کوئی سین ہے؟ مجھے لگتا ہے یہ شریف ہونے کا ڈرامہ کر رہا ہے۔” انسپیکٹر امجد نے پوچھنے کے ساتھ اپنا خیال بھی ظاہر کیا۔
” کیا کر رہا تھا اندر؟”
” کچھ بھی نہیں سر لڑکی کو صرف دیکھتا رہا ہے اور تھوڑی دیر بعد نکل گیا۔”
” ہو نا ہو اسی کا بچہ تھا۔ خود مار کر شریف بن رہا ہے اور اس لڑکی کے ہوش میں آنے سے پہلے ہی نکل گیا۔”
” سر آپ کو کیا لگتا ہے لڑکی کو اسی نے مارا ہے؟”
” ہاں بالکل میں ہنڈریڈ پرسنٹ شیور ہوں۔ اسی نے مارا ہے۔ پہلے مارا ہے پھر گاڑی سے پھینکا ہے اور پھر کچھ دیر بعد آ کر اس کا مسیحا بن گیا۔”
” سر مجھے لگتا ہے نفسیاتی ہے پہلے مار دیا پھر افسوس ہو رہا ہے۔”
” ناصر یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جسے ہم افسوس سمجھ رہے ہیں۔ وہ اس لڑکی کے بچ جانے کا افسوس ہو۔” انسپیکٹر امجد نے ہنستے ہوئے کہا۔
ناصر بھی ہنسنے لگا۔
” یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ صرف بچہ مارنا چاہتا ہو معشوقہ نہیں۔”
” سر معشوقہ ہے تو بچہ کیوں مارے گا؟”
” اس لیے کہ وہ بچہ نہیں چاہتا ہو گا اور لڑکی اٹک گئی ہو گی کیونکہ لڑکی معشوقہ ہے بیوی نہیں۔”
” تم جاؤ اور اس چاقو کے فنگر پرنٹس نکلواؤ۔ پاس بیٹھ کر یہ کام کروانا۔ اس کی رپورٹ یقیناً مختلف آئے گی۔
اور اس زاویان ہاشمی پر نظر رکھو۔ یہ کب کہاں اور کس سے ملتا ہے؟ کیا کرتا ہے؟
اس کا اس لڑکی سے کیا تعلق ہے؟ اسلام آباد میں کیا کرتا ہے؟ یہاں کب کب آتا ہے؟ سب کچھ پتا کرواؤ۔” انسپیکٹر امجد نے اسے کوریڈور سے نکلتے ہوئے ہدایات دیں۔
زاویان ریستوران پہنچ چکا تھا۔ جہاں اس کی میٹنگ تھی۔ وہ پہنچ کر ان سے لیٹ ہونے کی معذرت کرنے لگا۔
اس کی میٹنگ شروع ہو چکی تھی۔ اس کی کمپنی کراچی کی کمپنی سے کولیبریشن کر رہی تھی۔ اسی سلسلے میں وہ آج کراچی آیا تھا۔ میٹنگ کے دوران ہی اس نے ان کے ساتھ لنچ کیا۔
کچھ ایگریمنٹس سائن کیے۔ جس کے مطابق ان کی کمپنی پانچ سال کے لیے کچھ پروجیکٹس کے لیے ان کے ساتھ کولیبریٹ کر رہی ہے۔ کوئی بھی فریق اس ایگریمنٹ کو توڑنے کی صورت میں پنیلٹی پے کرے گا۔
اپنی کامیاب میٹنگ کے بعد وہ ریستوران سے نکل آیا۔
اس کی گاڑی ایک بار پھر کراچی کی سڑکوں پر دوڑ رہی تھی۔
اس سارے ٹائم میں اسے اس لڑکی کا خیال تک نہیں آیا تھا۔ جسے وہ ہاسپٹل چھوڑ کر میٹنگ کے لیے چلا گیا تھا۔
ایئرپورٹ پہنچ کر اپنی فلائٹ کی طرف بڑھ گیا۔ فلائٹ کے ٹیک آف ہوتے ہی وہ سیٹ کی بیک پر سر ٹکا گیا۔
اس کا دل آج بہت بجھا ہوا تھا۔ وہ آج بہت زیادہ تھک بھی گیا تھا۔ وہ آج کے اس تھکا دینے والے دن کے بارے میں سوچنے لگا تو اسلام آباد ایئرپورٹ سے نکلنے سے لے کر کراچی آنے اور پھر کس طرح کراچی کی پر رونق سڑکوں پر گاڑی دوڑاتے ایک سڑک پر ایک لڑکی بےبس اور بے یار و مددگار سی دیکھی تھی۔ جسے دیکھنے کو تو سب کھڑے تھے لیکن اس کی مدد کرنے کو کوئی آگے نہیں بڑھا تھا۔
اس کے اور ان کے کیس میں بس اتنا فرق تھا کہ وہ سنسان سڑک پر کسی کی مدد کے منتظر تھے اور یہ لوگوں کی بھیڑ کے باوجود کسی کی مدد کی منتظر تھی۔
” وہ لڑکی کیسی ہو گی؟ اسے ہوش آ گیا ہو گا؟ اس کے گھر والوں کو پتا چل گیا ہو گا؟ کوئی پہنچ گیا ہو گا؟ مجھے ایک بار پھر ہاسپٹل جانا چاہیے تھا۔ کیسے بھول سکتا ہوں؟” زاویان نے اپنا ماتھا مسلا۔
” پتا نہیں کیسی ہو گی؟ ہاسپٹل میں کوئی اسے دیکھ بھی رہا ہو گا یا نہیں؟” زاویان کے دل کو کچھ ہوا۔ اس کا دل گھبرانے لگا۔ وہ یک دم ہی بے چین ہو گیا۔
ایئر ہوسٹس اسے کافی سرو کر رہی تھی۔
وہ اپنی سوچوں میں مگن تھا۔
” ایکسکیوز می سر۔” ایئر ہوسٹس نے خوش اخلاقی سے مخاطب کیا۔
زاویان اپنے خیالوں سے چونکا اور ایئر ہوسٹس کو دیکھا۔ جو زاویان کو کافی سرو کر کر رہی تھی۔
” یور کافی سر۔” ایئر ہوسٹس نے شائستگی سے کہا۔
” تھینک یو۔” زاویان نے کپ اٹھاتے ہوئے کہا۔
ایئر ہوسٹس مسکراتے ہوئے سر خم کرتی وہاں سے چلی گئی۔
زاویان نے کافی کا پہلا سپ لیا اور ایک بار پھر اس کی سوچوں کا سلسلہ اسی لڑکی سے جا ملا۔
” کاش وہ ہوش میں آ گئی ہوتی تو اس سے پوچھ کر اس کے گھر والوں سے اسی وقت رابطہ کر لیتا۔” زاویان نے ملال سے سوچا۔
زاویان کی گاڑی ہاشمی ہاؤس کے پورچ میں رکی۔ گاڑی سے نکلتے ہی اسے عنایہ اور آئرہ کے رونے کی آوازیں باہر تک آ رہی تھیں۔
زاویان لمبے لمبے ڈگ بھرتا اندر کی جانب بڑھا۔ اندر لاؤنچ میں آتے ہی وہ اندر کے حالات دیکھ کر تشویش سے آگے بڑھا۔
عنایہ کو کلثوم بیگم چپ کروانے کی کوششوں میں تھیں۔ جس کے رونے کی وجہ سمجھ نہیں آ رہی تھی۔ آئرہ شازیہ کی گود میں تھی۔ جسے چپ کروانے میں وہ بری طرح ناکام تھی۔
زاویان کو آتا دیکھ کر عنایہ روتی ہوئی اس کی ٹانگوں سے لپٹ کر اور شدت سے رونے لگی۔
” بابا۔۔۔ بابا۔۔۔”
” کیا ہوا ہے بیٹا؟” زاویان نے عنایہ کو گود میں اٹھا لیا اور اس کے آنسو صاف کیے۔
” بابا آئرہ۔۔۔ آئرہ روئے جا رہی ہے۔”
” تو یار میرا بیٹا تو بریو گرل ہے۔ آپ بہن کو چپ کرواؤ۔ آپ تو خود رو رہی ہو۔” زاویان نے اس کے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا۔ جو مسلسل بہے جا رہے تھے۔
” کھانا کھایا ہے میری پرنسس نے؟” زاویان نے اس کے گال باری باری چومے۔
” نہیں۔۔۔” عنایہ نے بھیگی پلکیں لیے کہا۔
” ہوم ورک کر لیا؟”
” تھوڑا سا۔۔”
زاویان نے گہری سانس لی۔
” چلو کھانا کھاتے ہیں پھر ہوم ورک کرتے ہیں۔” زاویان نے اس کے بال سنوارتے ہوئے کہا۔
زاویان نے عنایہ کو صوفے پر بٹھایا اور خود آئرہ کو شازیہ کی گود سے لے لیا۔ جو بےتحاشا رو رہی تھی اور زاویان کی گود میں آنے کے لیے مچل رہی تھی۔
زاویان نے آئرہ کو اپنے سینے سے لگایا۔
” تم سے ایک ڈیڑھ سال کی بچی نہیں سنبھالی جاتی؟ ایک بچی کو سنبھالنا کتنا مشکل ہے؟ اس کو کوئی ٹوائے دے کر ، کچھ کھانے کا پکڑا دیتی، کچھ سکنگ کو دے دیتی، ڈائپر دیکھ لیتی کچھ تو بچی کا مسئلہ سمجھنے کی کوشش کرتی۔” زاویان غصہ کرنا شروع ہوا تو چپ نہ کیا۔
” صاحب وہ کچھ بھی نہیں لے رہی تھی۔”
” اس لیے کہ تم نے ڈائپر نہیں دیکھا ہو گا چینج اٹ۔” زاویان نے سخت لہجے میں کہا۔
” آئرہ بیٹا بابا یہیں پر ہیں ڈائپر چینج کروا کر آؤ۔” زاویان نے آئرہ شازیہ کی طرف بڑھائی۔
” زاویان شازیہ بچوں کو بالکل صحیح سے دیکھتی ہے۔” شازیہ کے آئرہ کو لے کر جاتے ہی کلثوم بیگم نے سنجیدگی سے کہا۔
” میرے ہوتے ہوئے میں اپنے بچوں کے ساتھ زیادتی نہیں ہونے دوں گی۔ مسئلہ یہ ہے کہ وہ تمہیں مس کر رہی تھی۔ تم ایک گھنٹہ لیٹ آئے ہو۔” کلثوم بیگم نے اسے حقیقت بتائی۔
” ماما میں کراچی گیا ہوا تھا۔ ایئرپورٹ سے سیدھا گھر ہی آ رہا ہوں۔” وہ نوراں سے پانی کا گلاس لے کر پینے لگا۔
” بابا کراچی کیوں گئے تھے ہمیں چھوڑ کر؟” عنایہ نے بے چینی سے پوچھا۔
” چھوڑ کر نہیں کام سے گیا تھا۔” زاویان نے خالی گلاس ٹیبل پر رکھا۔
” ہمارے بغیر؟”
” آ بھی تو گیا ہوں۔” زاویان نے عنایہ کو گال کھینچے۔
عنایہ زاویان کی گود میں چڑھ کر بیٹھ گئی۔ یہ اظہار تھا کہ عنایہ اب زاویان سے اپنا ٹائم لے گی۔
عنایہ ایک اٹینشن سیکر اور اگریسو بچی ہے۔ جو اپنی مرضی کے خلاف کچھ برداشت نہیں کرتی ہے۔ اسے زاویان سے اپنے لیے وقت لینا آتا ہے۔ زاویان سے اپنی ہر بات ضد سے منوانا جانتی ہے۔
زاویان کی اپنی دونوں بیٹیوں میں جان بستی ہے۔
زاویان نے ایک بار پھر اسے پیار کیا۔
” زاویان بچے تمہاری کمی محسوس کرتے ہیں۔”
” ماما میں ہر وقت گھر پر بندھ کر نہیں بیٹھ سکتا۔”
” اسی لیے کہہ رہی ہوں کہ تم۔۔۔ “
” ماما پلیز پھر سے شادی نامہ شروع نہ کر لیجیے گا۔” زاویان نے عنایہ کو گود میں اٹھا لیا۔
” میرا اور بچوں کا کھانا روم میں بھیج دیں۔”
” زاویان اگر یہ تمہارے بچے ہیں اور تم ان کی تکلیف میں درد محسوس کرتے ہو تو تم بھی میرے ویسے ہی بچے ہو اور پھر تمہاری عنایہ چار سال کی چھوٹی سی بچی ہے اور زاویان ایک جوان جہان خوبرو مرد ہے۔ اس کا اکیلا پن اور تنہائی مجھے اندر سے کھاتی ہے۔ کھانا نیچے آ کر کھاؤ۔ میں بھی تمہیں سارا دن مس کرتی ہوں۔” کلثوم بیگم آبدیدہ ہو گئیں۔
” ٹھیک ہے ماما۔” زاویان نے ان کے گرد بازو حمائل کیے اور محبت سے ان کے سر پر بوسہ دیا۔
” آ رہا ہوں۔” زاویان سیڑھیوں کی طرف بڑھ گیا۔
کلثوم بیگم اپنے بیٹے کو دکھ سے جاتا دیکھ رہی تھیں۔
” بابا میں پیزا کھاؤں گی۔”
” اوکے۔”
” بابا ہم روم میں ڈنر نہیں کریں گے؟”
” نہیں اگر میں آپ کا بابا ہوں تو وہ میری ماما بھی تو ہیں۔ میں فریش ہو جاؤں پھر ڈنر کے لیے نیچے چلتے ہیں۔ دادو ہمارا انتظار کر رہی ہیں اور انہوں نے بھی کھانا نہیں کھایا۔” زاویان نے اسے بیڈ پر کھڑا کیا۔
” دادا آ گئے؟”
” یس وہ بھی آپ کا ویٹ کر رہے ہیں۔”
” پھر تو جانا بنتا ہے نا؟” زاویان نے تائیدی نظروں سے عنایہ کو دیکھا۔
جس نے سر اثبات میں ہلا دیا۔
” آپ کو پتا ہے بابا۔۔۔” عنایہ اپنے پورے دن کی روداد سنانے لگی اور زاویان مسکراتے ہوئے دلچسپی سے اسے سن رہا تھا۔
