52.9K
31

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 11

اسامہ کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔ ایک ہفتے کے جسمانی ریمانڈ کے بعد اسے کورٹ میں پیش کیا گیا۔
نوال احمر اور شاہ رخ کے ساتھ کراچی گئی تھی۔
اسامہ نے نوال پر جھوٹا الزام لگایا کہ اس کے غیر مردوں سے تعلقات تھے اور وہ گھر سے بھاگی تھی۔ اس نے نہیں نکالا نہ ہی اس نے قاتلانہ حملہ کیا ہے۔ جس کے ساتھ بھاگی تھی۔ اسی ںت مار کر اسے پھینک دیا ہو گا اور یہ الزام اسامہ پر لگا رہی ہے۔
جس جگہ نوال کو پھینکا گیا تھا۔ وہاں کی سی سی ٹی وی فوٹیج نکلوائی گئی تھی اور اس کے ذریعے یہ بات بھی کنفرم کی گئی تھی۔
اس فوٹیج کے ذریعے یہ تو پتا نہ چل سکا کہ دھکا دینے والا شخص کون تھا؟ لیکن گاڑی کے نمبر سے اسامہ کی گاڑی کی تصدیق ہو گئی اور محلے والوں کے بیانات نے بھی اس بات کی تصدیق کر دی تھی۔
اسامہ کو عمر قید کی سزا سنائی گئی۔
احمر کے کمشنر دوست کے ذریعے یہ کیس بہت جلدی اور آسانی نے سولو ہو گیا تھا۔
کورٹ سے نکلتے ہوئے اسامہ کی نظر جیسے ہی نوال پر پڑی تھی۔ وہ نوال کو مارنے کے لیے آگے بڑھا۔ نوال تیزی سے احمر کے پیچھے ہو گئی۔
انسپیکٹر نے اسامہ کو پکڑ لیا اور پولیس وین میں ڈال کر وہ لوگ اسے لے کر چلے گئے۔
نوال بھی شدت سے رونے لگی۔ احمر نے اسے دلاسا دیا۔
وہ احمر اور شاہ رخ کے ساتھ جب اپنی چین لینے کے لیے ہاسپٹل گئی تو اسے پتا چلا کہ اس کی چین تو وہ شخص لے کر جا چکا ہے۔ جس نے اس کی مدد کی تھی۔ مگر وہ کون تھا؟ اسے یہ بات نہیں پتا تھی۔
احمر اور شاہ رخ نے اسے تسلی دی اور نئی چین دینے کا وعدہ کیا۔ وہ دونوں اسے بہلاتے ہوئے واپس لے آئے تھے۔
زندگی بھی سست روی سے چل رہی تھی۔ نوال کی زندگی تو تھم گئی تھی۔ وہ ایک جگہ بیٹھتی تو گھنٹوں بیٹھی رہتی۔

عظمیٰ بیگم نوال کی یہ حالت دیکھ کر بےتحاشا پریشان ہو اٹھتیں اور رونے لگتیں۔ ان کا دل ہولنے لگتا۔ سب انہیں تسلی دیتے کہ وقت کے ساتھ ساتھ ٹھیک ہو جائے گی۔

زاویان گھر آیا تو پورچ سے ہی اسے عنایہ اور آئرہ کے بےتحاشا رونے کی آوازیں آ رہی تھیں۔
وہ تیزی سے اندر بھاگا۔
” کیا ہوا ہے؟” زاویان تیزی سے عنایہ کی طرف بڑھا۔
” میری پرنسس کیوں رو رہی ہے؟” زاویان نے عنایہ کو اٹھانا چاہا جو زوباریہ کی گود میں ہی چھپ گئی۔
عنایہ زاویان کی گود میں آنے کو تیار نہ تھی۔
” کیوں رو رہی ہیں یہ دونوں؟” زاویان نے زوباریہ اور کلثوم بیگم کی طرف باری باری دیکھا۔
کلثوم بیگم اور زوباریہ کی آنکھیں بھی نم تھیں۔ وہ اسے کیا بتاتیں۔ جب وہ جانتی تھیں کہ اس کا جواب وہی ہمیشہ والا ہی ہونا تھا۔
” کوئی مجھے کیوں نہیں بتا رہا؟ کیا ہوا ہے؟” زاویان نے پریشانی سے پوچھا۔
” عنایہ بیٹا بابا کو نہیں بتاؤ گی؟” زاویان نے عنایہ کو زبردستی گود میں اٹھا لیا اور اس کے آنسو صاف کیے۔
” میں نے کارڈ بنایا ہے میں یہ کارڈ کسے دوں؟” عنایہ نے روتے ہوئے وہ کارڈ زاویان کے آگے لہرایا۔
زاویان نے جیسے ہی کارڈ عنایہ کے ہاتھ سے لے کر دیکھا وہیں جم گیا۔
” بابا ہماری مما کہاں ہیں؟ ہمیں بھی ہماری مما چاہئیں۔” عنایہ نے روتے ہوئے مزید کہا۔
” مما۔۔ مما چاہیے۔۔” آئرہ بھی برابر مما مما کی رٹ لگانے لگی۔ جسے پوری بات نہیں پتا تھی لیکن عنایہ کی ڈیمانڈ پر اس کی بھی روتے ہوئے یہی ڈیمانڈ تھی۔
” سب کی مما ہیں ہماری نہیں ہیں۔ میں نے یہ کارڈ مما کے لیے بنایا تھا۔ میں نے سوچا جب میں یہ کارڈ بناؤں گی تو مما آ جائیں گی۔ بابا وہ نہیں آئیں۔” عنایہ نے بے تحاشا روتے ہوئے بتایا۔
اس نے سب سے چھپ کر یہ مدرز ڈے کا سپیشل کارڈ بنایا تھا کیونکہ جانتی تھی کہ اگر ان میں سے کسی کو بھی پتا چل گیا تو وہ اسے یہ مدرز ڈے کا کارڈ نہیں بنانے دیں گے۔
زاویان نے تکلیف سے عنایہ کو دیکھا اور اسے ساتھ لگا لیا۔
زاویان کی خود کی آنکھیں بھی ضبط سے سرخ ہو گئیں۔
فیصلے کی گھڑی آ گئی تھی اور یہی وہ وقت تھا جب زاویان ہاشمی نے اپنی زندگی کا سب سے مشکل بلکہ ناممکن فیصلہ کر لیا تھا۔ اس کی نگاہیں ان دونوں کے بلکتے چہرے پر جمی تھیں لیکن دماغ بہت کچھ سوچ چکا تھا۔
زاویان کچھ بھی کہے بغیر دونوں بچوں کو لے کر باہر چلا گیا۔
کلثوم بیگم اور زوباریہ نے تاسف سے زاویان کو جاتے دیکھا۔ جس کا فیصلہ کبھی نہیں بدلنا تھا لیکن وہ دونوں اس بات سے انجان تھیں کہ ان کا بیٹا ان کا بھائی بہت بڑا فیصلہ کر چکا تھا اپنی اولاد کی خاطر ہی سہی۔
وہ بچوں کو لے کر بلا مقصد گاڑی سڑکوں پر دوڑاتا رہا۔
وہ بچوں کو پلے لینڈ لے گیا۔ جہاں آئرہ تو جلدی بہل گئی لیکن عنایہ چپ چپ اور اداس تھی۔
زاویان نے تکلیف سے عنایہ کو دیکھا۔
” عنایہ آئس کریم کھاؤ گی؟” زاویان نے محبت نے ایکسائٹڈ کیا۔
” بابا مما کے ساتھ آئس کریم کھانی ہے ” عنایہ نے بھیگی آواز میں کہا۔
” بابا مما۔۔ ” آئرہ کو بھی جیسے یاد آیا۔
” مما بھی آ جائیں گی ابھی ہم پیزا کھاتے ہیں پھر آئس کریم کھاتے ہیں۔” زاویان نے انہیں پیار کیا اور کھانے کا آرڈر دیا۔

کچھ دیر میں وہ بچوں کو بہلانے میں کامیاب ہو چکا تھا لیکن وہ اب فیصلہ کر چکا تھا۔ اس کے بچوں کو ضرورت تھی اور ان کی خاطر وہ دوسری شادی کرنے کو تیار تھا۔ چاہے کوئی بھی لڑکی اس کی زندگی میں عرشیہ کی جگہ نہیں لے سکتی لیکن عنایہ اور آئرہ کی ماں ضرور بن سکتی ہے۔

نوال کا اسامہ سے رشتہ ختم ہوئے ایک سال ہو چکا تھا لیکن تاحال نوال کی طبیعت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی تھی۔ وہ گم سم رہتی تھی۔ شام میں بچوں کے ساتھ اس کا کچھ وقت اچگا گزر جاتا تھا لیکن بچوں کی مصروفیات کے شروع ہوتے ہی وہ پھر سے اپنے خول میں سمٹ جاتی۔
عظمیٰ بیگم اور مختار صاحب اس کی حالت دیکھ کر پریشان رہتے۔
وہ آف وائٹ کلر کے سادہ سے سوٹ میں دوپٹہ شانوں پر طریقے سے ٹکائے بالوں کا میسی بن بنائے۔ ہر طرح کی ظاہری آرائش و زیبائش سے پاک تھی۔
ہوا میں خنکی تھی۔ موسم تبدیل ہونے لگا تھا۔ دن میں گرمی ہوتی تھی لیکن شام میں چلنے والی خنک ہوائیں ماحول کو خوش گوار بنا دیتے لیکن ماحول کی یہ خوش گواری بھی اس کی ذات پر کوئی اثر نہ ڈال سکے۔ ہوا اس کی لٹوں سے چھیڑ خانیاں کرتے اسے ہوش کی دنیا میں لانے کی کوشش کر رہی تھی مگر وہ غیر مرئی نقطے پر نگاہیں جمائے کسی اور ہی جہاں کی مسافر تھی۔
” نوال باجی عامر بھائی کے دوست آئے ہیں۔ وہ کہہ رہے ہیں آپ چائے بنا دیں۔”
وہ پچھلے لان کے زینے پر اداس سی بیٹھی تھی۔ جب ملازمہ نے آ کر عامر کا پیغام دیا۔ وہ خاموشی سے اٹھ گئی۔
وہ کچن میں میں آ کر لوازمات کی تیاری کرنے لگی۔
اس نے آخری کباب پلیٹ میں رکھا اور چائے کے لوازمات تیزی سے ٹرالی میں سیٹ کرنے لگی۔ چائے کی ٹرالی کا تنقیدی جائزہ لیا اور ٹرالی گھسیٹ کر ڈرائنگ روم کی طرف بڑھ گئی۔
” یار عامر سوتیلی ماں کیا سگی ماں کے جیسا پیار دے سکتی ہے؟”
” ہاں بالکل قدرت کی سر زمین معجزوں سے بھری پڑی ہے۔”
” میری زندگی میں عرشیہ کی جگہ کوئی نہیں لے سکتا پر میرے بچوں کو ماں کی کمی اب شدت سے محسوس ہوتی ہے۔ میں ان کی زندگی میں اس خلا کو پر کرنا چاہتا ہوں۔ تمہیں کیا لگتا ہے میرا یہ فیصلہ ٹھیک رہے گا؟”
” بالکل زاویان تم ٹھیک فیصلہ کر رہے ہو دیکھو وہ بچیاں ہیں۔ زندگی میں بہت سے مرحلے اور فیصلے ایسے یوں گے جس میں انہیں ماں کی اشد ضرورت ہو گی۔ تم چاہے کچھ بھی کر لو لیکن تم ماں کی ریپلیسمنٹ نہیں ہو۔”
” کوئی اچھی لڑکی ہو چاہے ضرورت مند ہو میں اس کی فیملی کو فنانشلی سپورٹ کروں گا۔ ڈیوورس ہو بیوہ ہو پر اس کی کوئی اولاد نہ ہو۔”
” کیوں زاویان جب تم یہ امید رکھتے ہو کہ وہ تمہاری اولاد کو ماں جیسا پیار دے تو تم اس کے بچے کو باپ بن کر کیوں نہیں پال سکتے؟”
نوال ٹرالی گھسیٹتی ہوئی ڈرائنگ روم تک آئی اور ڈور ناک کیا۔
وہ دونوں خاموش ہو گئے۔
” آ جاؤ نوال۔” عامر نے اسے آنے کی اجازت دی۔
نوال ٹرالی گھسیٹتی ہوئی اندر آئی۔
زاویان کا موبائل رنگ ہوا وہ ایکسکیوز کرتا ڈرائنگ روم کے ٹیرس میں چلا گیا۔
نوال ٹرالی پر سے ایک ایک کر کے لوازمات اٹھا کر ٹیبل پر رکھنے لگی۔
نوال اٹھ کر باہر آ گئی۔
زاویان کال کاٹتا اندر آیا۔
” آؤ زاویان چائے پیو ٹھنڈی ہو رہی ہے۔” عامر نے اسے چائے سرو کی ساتھ بروسٹ کی ڈش اس کی طرف بڑھائی۔
” تھینک یو۔” زاویان نے لے لیا۔
” بات صرف اسے پالنے کی حد تک محدود نہیں رہے گی شاید میں اپنے دل میں اتنی وسعت نہیں پاتا یا شاید میں جانتا ہوں میرے بچے اتنے اعلیٰ ظرف نہیں ہیں۔ وہ شراکت برداشت نہیں کر سکتے چاہے کوئی بھی رشتہ ہو۔” زاویان نے بات کا آغاز کیا۔
” اور پھر اس لڑکی کا دھیان میرے بچوں پر نہیں جائے گا کیونکہ اس کی ضرورت پوری ہو چکی ہو گی۔ عمر کی کوئی قید نہیں ہاں اخلاق بہت اچھا ہو مزاج نرم ہو۔
تم سوچ رہے ہو گے کہ خود کی اتنی لمبی فرمائشیں ہیں اور خود اسے کچھ دینے کو تیار نہیں لیکن یار میں بھی کیا کروں اپنے بچوں کو لے کر خدشات میں مبتلا ہوں۔ اچھی لڑکی ہو گی تو تربیت بھی اچھی کرے گی”
” تم فکر مت کرو جیسے ہی کوئی رشتہ ہوا تمہیں ضرور بتاؤں گا۔ جب اللہ نے یہ خواہش پیدا کی یے تو اسباب بھی وہی پیدا کرے گا۔”
زاویان بھی مسکرا دیا اور چائے کا سپ لیا۔
” چائے اچھی بنی ہے۔”
” ہاں نوال اچھی چائے بناتی ہے۔ اسی لیے میں نے اسے کہا تھا کہ تم بھی فریش ہو جاؤ گے۔”

زاویان مسکرا دیا۔

جاری ہے