52.9K
31

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 12

زاویان گھر آیا تو گھر میں رونق لگی ہوئی تھی۔ بچے لان میں جویریہ کے ساتھ آنکھ مچولی کھیل رہے تھے۔ اس وقت جویریہ آنکھوں پر پٹی باندھے کسی بچے کو پکڑنے کی کوشش کر رہی تھی۔ زاویان لان میں ہی بچوں کے پاس آ گیا۔ تیزی سے بھاگتی جویریہ کسی بچے کو پکڑنے کی کوشش میں زاویان سے بری طرح سے ٹکرائی۔ اگر بروقت زاویان اسے نہ پکڑتا تو اس کا گرنا لازمی تھا۔
” ہائے زاویان بھائی شکر آپ نے مجھے بچا لیا ورنہ ان بچوں نے مجھے نہیں چھوڑنا تھا۔” جویریہ نے آنکھوں سے پٹی اتار کر زاویان کو دیکھا۔
” اور اگر تم گر جاتی تو تم نے ان بچوں کو نہیں چھوڑنا تھا۔” زاویان نے مسکراتے ہوئے کہا۔
” زاویان بھائی آپ مجھے لڑاکا کہہ رہے ہیں؟” جویریہ نے کمر پر ہاتھ جما کر کہا۔
” میری یہ مجال کہ میں پھوپھو کو کچھ کہہ کر ان بچوں پر ظلم کروں؟”
” اگر پھوپھو بری ہوتی ہے تو بھابھی بھی آپ کے بچوں کی پھوپھو ہیں۔” جویریہ نے دو بدو جواب دیا۔
” لیکن میرے بچوں کی پھوپھو تو بہت لونگ اور کیئرنگ ہے کیوں عنایہ اور آئرہ؟”
” یس پھوپھو۔۔۔۔” عنایہ اور آئرہ نے کورس میں کہا۔
” جی پھوپھو کی جان۔” اندر سے آتی زوباریہ نے مسکراتے ہوئے بازو وا کیے۔
عنایہ اور آئرہ زوباریہ سے لپٹ گئیں۔
زوباریہ نے ان دونوں کو پیار کیا۔
” وی لو یو۔۔”
” لب ( لو) یو۔۔ “
” لو یو ٹو میری جان۔” زوباریہ نے ان دونوں کو چٹاچٹ پیار کیا۔
” دیکھ لو۔۔” زاویان نے آنکھوں سے ان کا پیار دکھایا۔
” افوہ زاویان کیوں تنگ کر رہے ہو اسے؟ جویریہ بھی بہت اچھی ہے۔”
” تھینک یو بھابھی۔۔” جویریہ زوباریہ سے جا کر لپٹ گئی۔
” لو یو پھوپھو ۔” اب کی بات سارے بچے جویریہ سے لپٹ گئے ۔
” چلو جی یہ بات ثابت ہوئی پھوپھو کوئی سی بھی ہو جیت ہی جاتی ہے.” زاویان نے ہنستے ہوئے کہا اور اندر بڑھ گیا۔
وہ دونوں بھی ہنستے ہوئے اس کے پیچھے بچوں لے کر اندر بڑھ گئیں۔
عنایہ اندر جا کر زاویان کی گود میں چڑھ گئی۔
زاویان نے پیار کیا۔ اب وہ اپنا لاڈ اٹھوانے کے موڈ میں تھی۔
” پھوپھو۔۔” آئرہ زوباریہ کی ٹانگوں سے لپٹ گئی۔
زوباریہ نے مسکراتے ہوئے اسے گود میں اٹھا لیا۔
” پھوپھو کی لگتی آؤ آپ بھی بابا کے پاس۔” زاویان نے ہاتھ بڑھایا۔
آئرہ زوباریہ کے ساتھ لگ گئی۔
” بابا مما لائے.” عنایہ نے پر شوق نظروں سے زاویان کو دیکھا۔
” بابا مما۔۔۔” آئرہ زوباریہ کی گود سے کود کر اتری۔
” آرام سے آئرہ بیٹا گر جاتی۔” زوباریہ نے پیار سے ٹوکا۔
آئرہ زاویان کے پاس بھاگی۔
زاویان نے اسے بھی گود میں اٹھا لیا۔
” مما کی لگتی پہلے بابا سے تو پیار لو۔” زاویان نے آئرہ کو پیار کیا۔
” بابا بتائیں نا آپ نے کہا تھا۔” عنایہ نے منہ بناتے ہوئے کہا۔
” آ جائیں گی۔” زاویان نے دونوں کو پیار کیا۔
” نوراں بچوں کے فرائز کہاں رہ گئے؟” زوباریہ نے بچوں کا دھیان کے لیے کہا۔
اسے اس سے بہتر آپشن نظر نہ آیا۔
سبھی بچے خوش ہو گئے سوائے عنایہ اور آئرہ کے۔
” بابا مما ہمیں مس نہیں کرتیں؟” عنایہ نے ڈبڈبائی آنکھوں سے پوچھا۔
” کرتی ہیں مما آپ دونوں کو بہت مس کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ مجھے پتا ہے عنایہ اور آئرہ مجھے مس کرتی ہیں۔ میں بھی انہیں بہت مس کرتی ہوں۔ میں جلدی آ جاؤں گی۔ تب تک آپ دونوں بابا کا خیال رکھو۔”
” بابا ہم آپ کا خیال نہیں رکھتے؟” عنایہ نے حیرت سے پوچھا۔
” اوںہوں آپ دونوں تو مما کو مس کرتے ہو۔”
” سوری بابا۔۔” عنایہ نے زاویان کے گال پر کس کی۔
” چھولی (سوری) بابا۔۔” آئرہ نے بھی عنایہ کی پیروی کی۔
” ہم آپ سے بہت پیار کرتے ہیں۔” عنایہ نے باپ کے سینے سے لگ گئی۔
آئرہ بھی اس کے ساتھ تھی۔
زاویان نے ان دونوں کو خود میں بھینچ لیا۔
” مما جلدی آ جائیں گی ڈونٹ وری۔” زاویان نے ان دونوں کو پیار کیا۔
” آپ دونوں فرائز کھاؤ۔” زاویان نے انہیں گود سے اتارا اور ان دونوں کے منہ میں فرائز ڈالے۔
” میں فریش ہو کر آتا ہوں۔” زاویان نے دونوں کے سر سہلائے۔
” ماموں آئس کریم۔”
زوباریہ کے بچوں نے شور مچایا۔
” بالکل لیکن پہلے فرائز پھر آئس کریم۔” زاویان نے مسکراتے ہوئے کہا۔
” یاہو۔۔۔۔”
” کامی نے کب آنا ہے؟”
” رات کو پک کرنے آئے گا۔”
” میں پک کرنے کا نہیں پوچھ رہا سٹوپڈ۔ میں کھانے کے لیے پوچھ رہا ہوں۔ نوراں کو بتا کر خاص اہتمام کروا لینا۔”
زوباریہ نے سر اثبات میں ہلایا۔
زاویان سیڑھیاں چڑھ کر اوپر چلا گیا۔
” بھابھی یہ تو شادی کے نام سے ہی چڑتے ہیں تو اب ان کی مما کہاں سے لائیں گے؟” جویریہ نے زاویان کے آنکھوں سے اوجھل ہعتے ہی سوال کیا۔

” انہیں بہلا رہا ہے۔ کچھ دنوں تک بچے بھول بھال جائیں گے۔” زوباریہ نے دکھ سے بچوں کو دیکھا۔

کلثوم بیگم نماز پڑھ کر لاؤنج میں آ گئیں۔
” تم لوگوں نے چائے پی لی؟”
” نہیں ماما آپ کا ہی ویٹ کر رہے تھے۔”
” نوراں چائے اور سنیکس لے آؤ۔”
” جویریہ بیٹا اچھا لگا تم آئی۔ آتی جاتی رہا کرو۔”
” ماما یہ تو آنے کو تیار ہی نہیں ہوتی۔ ایگزامز ختم ہوئے تھے تو میں اسے زبردستی لے آئی۔”
” اچھا کیا۔” کلثوم بیگم نے سراہا۔
” یار بھابھی آپ دونوں ماں بیٹی کی باتوں میں میرا کیا کام؟ اور پھر آپ کو پراپر پلیٹ فارم ملنا چاہیے ہماری برائیاں کرنے کے لیے۔” جویریہ نے ہنستے ہوئے کہا۔
زوباریہ نے چپت رسید کی۔
زاویان بھی سیڑھیاں اترتا نیچے آ گیا۔
بچے فرائز انجوائے کر کے پھر سے لان میں جا چکے تھے۔
نوراں بھی چائے کی ٹرالی گھسیٹتے ہوئے لے آئی۔
سب خواتین چائے انجوائے کرنے لگیں اور زاویان موبائل میں مصروف ہو گیا۔
اسی لمحے زاویان کے موبائل کی رنگ نے سب کو متوجہ کیا۔
زاویان کال پک کرتا اپنا مگ اٹھا کر انہیں کیری آن کرنے کا اشارہ کرتا سائیڈ پر چلا گیا۔
رسمی علیک سلیک کے بعد عامر مدعے پر آیا۔
” زاویان تم نے دوسری شادی کرنے کے بارے میں دلچسپی ظاہر کی تھی۔ تم اب بھی ایسا ہی چاہتے ہو؟” عامر نے تمہید باندھی۔
” تم مجھے کوئی جذباتی لڑکی سمجھ ریے ہو۔ جس کا صبح اٹھ کر بیان بدل جاتا ہے۔” زاویان نے مصنوعی ناراضگی سے کہا۔
” تو پھر ایسا ہے زاویان میرے پاس تمہارے لیے ایک رشتہ ہے۔ یہ مت سمجھنا کہ ایک بھائی اپنی بہن کے بارے میں بات کر رہا ہے اور کیا اس پر اپنی بہن۔۔۔”
” عامر ان فارمیلیٹیز میں مت پڑو۔ تم بتاؤ کیا کہنا چاہتے ہو؟” زاویان نے اسے بولنے پر اکسایا۔
” میری بہن نوال ڈیوورسڈ ہے۔ میں چاہتا ہوں دونوں فیملیز ایک دوسرے کو مل لیں۔ تم دونوں ایک دوسرے کو دیکھ لو۔ اگر تو بات بن جاتی ہے تو بہت اچھا ہے۔ نہیں تو تم اپنے سرکل میں کوئی مناسب اور اچھا رشتہ ہو تو پلیز بتانا۔”
” ٹھیک ہے کب بھیجوں اپنی فیملی کو؟”
” تم بھی ساتھ آنا انفیکٹ اس ویکینڈ پر ڈنر اکٹھے کرتے ہیں۔”
” ڈنر نہیں ان تکلفات میں مت پڑو اور بس چائے اکٹھے پی لیں گے۔”
” چلو جیسے تمہیں بہتر لگے۔ ہم اس ویکینڈ پر انتظار کریں گے۔” عامر نے مسکراتے ہوئے کہا۔

الوداعی جملوں کے بعد زاویان نے کال منقطع کر دی۔

ہاشمی ہاؤس کے ڈنر ٹیبل پر گھر کے سبھی مکین موجود تھے۔ کامران اور اس کی فیملی بھی آ چکی تھی۔ نصار صاحب نے کال کر کے سب کو بالخصوص ڈنر پر انوائیٹ کیا تھا۔
ڈنر خوش گوار ماحول میں کیا جا رہا تھا۔ ڈنر ٹیبل پر انواع و اقسام کے لوازمات موجود تھے۔
” پاپا آپ کی اس ویکینڈ پر کوئی کمٹمنٹ تو نہیں؟”
” نہیں.. کیوں کوئی خاص کام ہے؟” نصار صاحب نے رائس پلیٹ میں ڈالتے ہوئے کہا۔
” اور کامی تمہاری؟”
” میں تو اپنے بڈی کے لیے ہر وقت اویلیبل ہوں۔ تم حکم کرو میں تمہارے لیے پینڈنگ کر دوں گا۔” کامران نے دوستانہ لہجے میں کہا۔
” تھینکس بڈی۔۔” زاویان مسکرا دیا۔
” ایک رشتہ ہے لڑکی۔۔”
” کس کے لیے رشتہ ہے؟” زوباریہ نے حیرانی سے پوچھا۔
” میں اسی لیے شادی کی حامی نہیں بھر رہا تھا کیونکہ مجھے پتا تھا آپ لوگ میرا مذاق اڑائیں گے بوڑھی گھوڑی لال لگام۔” زاویان نے خفگی سے کہا۔
پانی پیتے جبران کے منہ سے پانی کا فوارہ پھوٹا۔
کامران نے گھورا۔
” سوری۔۔ ان کی ایگزیمپل فنی تھی۔”
” تم کہاں سے بوڑھے ہو گئے جو بوڑھی گھوڑی لال لگام۔” زوباریہ نے ناراضگی سے کہا۔
” وہی تو ان کی پرسنیلٹی ٹھیک ٹھاک ہے۔ انفیکٹ میں اگر لڑکی ہوتا تو مجھے عشق ہو جاتا۔” جبران نے مسکراتے ہوئے معذرت کی اور ماحول کو ہلکا پھلکا کیا۔
” یہ تو لگا رہے گا۔ تم بات کرو۔” کامران نے زاویان کو اکسایا۔
” میں نے دوسری شادی کا فیصلہ کیا ہے تو عامر سے کسی رشتے کا کہا تھا۔ اس کی بہن نوال۔۔ ڈیوورسڈ ہے اور اس کی کوئی اولاد بھی نہیں ہے۔” زاویان نے بات کا آغاز کیا۔
” ہوتی بھی تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہوتا۔ آخر وہ بھی تو ہمارے بچوں کو سنبھالے گی۔” نصار صاحب نے بردباری سے کہا۔
” پر مجھے ہوتا اعتراض۔ اگر اس کے بچے ہوتے تو وہ میرے بچوں کو کب دیکھتی؟” زاویان نے صاف دامن جھاڑا۔
” زاویان رشتے ایسے نہیں ہوتے۔” نصار صاحب نے سنجیدگی سے ٹوکا۔
” مجھے تو ایسے ہی کرنا ہے۔”
” وہ چاہتا ہے ہماری اور ان کی فیملی ایک دوسرے سے مل لیں اور آپ لوگ نوال کو دیکھ لیں۔”
” تم نہیں جاؤ گے؟” کل کلثوم بیگم نے پوچھا۔
” وہ تو بلا رہا ہے پر میرا کوئی ارادہ نہیں۔” زاویان نے لاپرواہی سے کہا۔
” زاویان ایسے نہیں ہوتا۔ ان کے پاس کسی چیز کی کمی نہیں ہے۔ جو وہ اپنی بیٹی کا رشتہ اس طرح بےقدری سے کریں گے۔ تم ساتھ چلو تاکہ وہ لوگ تمہیں دیکھ لیں اور سمجھ لیں۔ اپنے بچوں کے حوالے سے تمہارے جو خدشات ہیں ان کی بھی تسلی ہو جائے گی۔” کامران نے دوستانہ لہجے قائل کرنا چاہا۔
” ٹھیک ہے لیکن آپ لوگ یہ بات واضح کر دیجیے گا کہ وہ کوئی خواب لے کر نہ آئے۔ میں یہ شادی صرف بچوں کے لیے کر رہا ہوں۔ مجھے کوئی اولاد نہیں چاہیے۔ وہ صرف میرے بچوں کی ماں بن کر آئے گی انہیں دیکھے گی اور اس سے آگے وہ کوئی امید نہ رکھے۔”
” زاویان اس طرح سے نہیں ممکن ایسے کوئی صرف بچوں کی ذمے داری نہیں لیتا۔ اپنے بچوں کے لیے تمہیں بھی اسے کچھ دینا ہو گا۔” زوباریہ نے بےبسی سے کہا۔
” اور تم بھی اس طرح سفاکی سے بات نہیں کرو گے۔” نصار صاحب نے بھی سمجھایا۔
” جانا کب ہے؟” زوباریہ نے سنجیدگی سے پوچھا۔
” اس ویکینڈ پر جانا ہے شام کو۔ وہ تو ڈنر پر انسسٹ کر رہا تھا پر میں نے منع کر دیا۔” زاویان نے پانی کا گلاس لبوں سے لگایا۔
” اگر نوال اور تمہارا رشتہ لکھا ہے تو میری دعا ہے وہ ہمارے لیے اور بچوں کے ساتھ اچھی ہو۔” نصار صاحب نے صدق دل سے دعا کی۔

زاویان خاموش رہا۔

جاری ہے