No Download Link
Rate this Novel
Episode 1
کمرہ صاف ستھرا، پرتعیش اور بڑا تھا۔ کمرے میں پڑا فرنیچر اور اس کے در و دیوار پر آویزاں پینٹنگز کمرے میں رہنے والے کے ذوق کا منہ بولتا ثبوت تھا۔ ہر چیز قرینے سے سجی تھی کہ رہنے والے کی نفاست پسندی کی عکاسی کرتا تھا لیکن ظاہری سجاوٹ سے پاک یہ کمرہ کسی طور بھی نئی نویلی دلہن کے استقبال کے لیے نہیں تھا۔
بیڈ کے سامنے کی دیوار پر سجی تصویر اس کمرے کے مالک کی تھی۔ اس کے چہرے پر زندگی سے بھرپور مسکراہٹ تھی اور اس کی بانہوں کے حصار میں اس کے مسکرانے کی وجہ اس کی محبت تھی اور وہ خود نجانے یہاں کیوں تھی؟
وہ ریڈ جوڑا پہنے اس کمرے میں موجود تھی۔ کہنے کو آج اس کی شادی ہوئی تھی لیکن اس کو اپنا آپ یہاں غیر ضروری سامان کی طرح لگا۔ اتنا ہی غیر ضروری جتنا ہم کوئی گھر کا سامان سٹور روم میں رکھ کر بھول جاتے ہیں۔ اسی طرح اس کے شوہر نے بھی اسے اس کمرے میں چھوڑ کر یہاں جھانکنے کی غلطی نہ کی تھی۔
اس کی سوچوں کا تسلسل باہر سے آتی کسی کے بےتحاشا رونے کی آواز سے ٹوٹا۔
وہ آواز وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ قریب آ رہی تھی۔
وہ اٹھ کر کھڑی ہو گئی۔
” زاویان شادی کر لو۔” کلثوم بیگم کا ہمیشہ کی طرح کیا جانے والا وہی مطالبہ تھا۔
” ماما میں کتنی بار کہوں آپ سے مجھے شادی نہیں کرنی۔” زاویان نے ہاتھ میں پکڑا فورک بے دلی سے پلیٹ میں پٹخا۔
” دیکھو زاویان ٹھنڈے دماغ سے سوچو اپنے لیے نہیں عنایہ اور آئرہ کے لیے۔ خاص کر آئرہ کو ماں کی ضرورت ہے۔ وہ ابھی بہت چھوٹی ہے۔ لڑکیوں کو زندگی کے ہر موڑ پر ماں کی ضرورت ہوتی ہے۔” نصار صاحب نے سمجھانا چاہا۔
” پاپا دنیا کی کوئی بھی عورت ان کی ماں نہیں بن سکتی۔ جو بن سکتی تھی وہ اس دنیا سے جا چکی ہے۔” زاویان نے تلخی سے کہا۔
” کیوں نہیں بن سکتی؟ جب ہم ڈھونڈیں گے تو اچھی لڑکی بھی ملے گی پھر میں بوڑھی ہو چکی ہوں۔ زوباریہ اپنے گھر بار والی ہے۔ روز روز وہ یہاں نہیں آ سکتی۔ میڈز سے بھی کام کروانے کے لیے گھر کی مالکن کا ہونا ضروری ہوتا ہے۔” کلثوم بیگم اسے سمجھاتے سمجھاتے زچ ہو گئی تھیں۔
” اچھا تم ناشتہ تو کرو۔” نصار صاحب نے اس کا دھیان ناشتے کی طرف کروایا۔ جس سے وہ مکمل طور پر ہاتھ روک چکا تھا۔
” کر لیا ناشتہ۔” زاویان نے نیپکن سے لب تھپتھپاتے ہوئے کہا۔
” آپ لوگ روز روز اس ٹاپک کو مت چھیڑا کریں۔ میرا جواب نہیں بدلے گا۔” زاویان نے ناراضگی سے چیئر گھسیٹی۔ پریم میں لیٹی آئرہ کو پیار کیا اور آفس کے لیے نکل گیا۔
” آپ مت پریشان ہوں مان جائے گا اور ماننا ہی پڑے گا۔ آخر کب تک انکار کرے گا؟”
” دعا ہے جلدی مان جائے۔ میرا دل سن معصوموں کو دیکھ کر خون کے آنسو روتا ہے۔” کلثوم بیگم آبدیدہ ہو گئیں۔
” وہ عرشیہ سے محبت کرتا تھا اور اس محبت کے ہم سب گواہ ہیں۔” نصار صاحب نے سمجھانا چاہا۔
” لیکن ان بچیوں کو ماں کی ضرورت ہے۔ خود اس کو ایک ساتھی کی ضرورت ہے۔ زندگی تنہا نہیں گزرتی۔” کلثوم بیگم متفکر نظر آ رہی تھیں۔
” سمجھ جائے گا تھوڑا وقت دیں۔ جلد ہی سمجھ جائے گا۔” نصار صاحب نے تسلی دی۔
” تم نے میری بہن کو کیا کہا تھا میرے بارے میں؟” اسامہ نے اسے زور دار تھپڑ رسید کیا۔
” میں نے کچھ بھی تو نہیں کہا۔”
” تو میری بہن جھوٹ بول رہی ہے؟ میں تمہیں نفسیاتی لگتا ہوں؟ تم نے اسے یہ کیوں کہا ہے کہ میں نے تمہیں مارا ہے۔”
” میں کیوں کہوں گی جب آپ ان کی باتوں میں آ کر دوبارہ مجھے ماریں گے۔”
اسامہ نے اسے بالوں سے پکڑ کر جھٹکا دیا اور الٹے ہاتھ کا تھپڑ مارا۔ وہ زمین پر جا گری۔
اسامہ نے یہیں بس نہیں کی تھی۔ اس نے اسے لاتوں اور ٹھڈوں کی نوک پر رکھ لیا۔
وہ درد سے بلبلاتی رہی۔
وہ مار کھاتے کھاتے نیم مردہ حالت تھی لیکن اسامہ نہیں رکا تھا۔
” اوئے اسامہ بس کر دے مر جائے گی۔” کمرے کے باہر سے تماشا سنتی شاہدہ بیگم کو جب اس کی آوازیں آنا بند ہوئیں تو کمرے میں دوڑی آئیں۔
” اماں یہ زارا کو کہتی ہے میں اسے مارتا ہوں غصہ کرتا ہوں۔” اسامہ نے ایک لات مارتے ہوئے کہا۔
” دو اور لگانی تھی جھوٹ بولتی ہے۔” شاہدہ بیگم اس بات کو نظر انداز کیے کہ وہ ابھی بھی یہی کر رہا تھا۔
” میں اس کے ساتھ مزید نہیں رہ سکتا۔” اس نے اسے بالوں سے کھینچ کر اٹھایا۔
” کیا کر رہا ہے؟” شاہدہ بیگم نے اس کو اس کے ساتھ گھسٹتا دیکھا تو پوچھ بیٹھیں۔
” میں اس کنگال کے ساتھ نہیں رہ سکتا۔ جان چھڑا رہا ہوں۔”
اسامہ نے اس کے بےجان وجود کو گاڑی میں پٹخا اور ڈرائیونگ سیٹ سنبھال لی۔
گاڑی ہوا سے باتیں کر رہی تھی۔ جو کہ اسامہ کے اشتعال کو ظاہر کر رہا تھا۔
اسامہ گھر سے بہت دور گاڑی لے آیا تھا۔
اسامہ نے جیب سے چاقو نکالا۔
” اب وقت آ گیا ہے کہ تیری اس منحوس شکل سے چھٹکارا پا لیا جائے۔” اسامہ نے موڑ کاٹتے ہوئے اس کے پیٹ میں بے رحمی سے وار کیا۔
نوال کی دل دہلا دینے والی چیخیں گونجیں۔
” میں اسامہ پورے ہوش و حواس میں تمہیں نوال مختار طالاق دیتا ہوں۔” چاقو کا دوسرا وار بھی کر دیا۔
اسامہ نے چلتی گاڑی سے طالاق دیتے ساتھ اسے دھکا مار کر پھینک دیا۔
اس کی تیز رفتار گاڑی لمحوں میں غائب ہو گئی۔
” شازیہ بچے کیا کر رہے ہیں؟ عنایہ سکول سے آ گئی ہے؟”
” وہ جی عنایہ بےبی اسکول سے آ گئیں ہیں اور کھیل رہی ہیں اور آئرہ بےبی تو سو گئی ہیں۔”
” وہ کیوں کھیل رہی ہے؟ اس نے لنچ کیا ہے؟”
” نہیں جی۔”
” لنچ کرواؤ اور سلاؤ اسے۔ مجھے لاپرواہی نہیں پسند شازیہ۔”
شازیہ عنایہ اور آئرہ کی کیئر ٹیکر تھی۔ وہ دن میں کئی بار شازیہ کو کال کر کے بچوں کے بارے میں پوچھتا رہتا تھا۔
” اچھا ہاں میں آج تھوڑا لیٹ آؤں گا۔ بچوں کا خیال رکھنا کوئی لاپرواہی نہیں ہونی چاہیے۔” زاویان نے سنجیدگی سے کہا۔
وہ کلثوم بیگم کو نہیں بتا سکتا تھا کیونکہ انہوں نے پھر سے شادی کی رٹ پکڑ لینی تھی۔
” جی صاحب۔”
میرا دل بہت گھبرا رہا ہے۔” عظمیٰ بیگم نے اپنے شوہر کے گوش گزار کیا۔
ڈاکٹر کے چلیں؟ مختار صاحب نے فکرمندی سے کہا۔
نہیں مجھے ایسا لگ رہا ہے جیسے میرا کوئی دل مسل رہا ہے۔
” ثانیہ اور نوال سے بات ہوئی تھی؟” مختار صاحب نے فکرمندی سے پوچھا کیونکہ کسی ماں کے دل ہولنے کا مطلب ان کے جگر کا کوئی ٹکڑا تکلیف میں ہے۔ بیٹے تو ان کے سامنے ہی تھے اور ابھی تک کمروں سے نہیں نکلے تھے۔ بیٹیاں دونوں شادی شدہ تھیں اور فکر کے دھاگے انہیں سے الجھ رہے تھے۔
” ثانیہ سے بات ہوتی رہتی ہے۔ نوال کا موبائل دو رن سے بند ہے۔ اسامہ کو پہلے کال کی تھی تو کہہ رہا تھا اس کا موبائل خراب ہے۔ کچن میں فارغ ہوتی ہے تو بات کرواتا ہوں۔
” مختار نوال کا فیصلہ ہم سے غلط ہو گیا ہے۔ بہت صابر ہے میری بچی کچھ نہیں کہتی لیکن وہ ٹھیک نہیں ہے۔”
مختار صاحب بھی پریشان نظر آنے لگے۔
ایک بار پھر اسامہ کا نمبر ملایا گیا۔ جہاں بیل جا رہی تھی لیکن کال نہیں اٹھائی گئی۔
انہوں نے بےبسی سے موبائل سائیڈ پر رکھ دیا۔
زاویان کی گاڑی کراچی کی بے ہنگم ٹریفک کا حصہ تھی۔ وہ اکثر اسلام آباد سے کراچی میٹنگ کے سلسلے میں آتا رہتا تھا لیکن قیام کبھی نہیں کیا تھا۔ اس کا یہ ٹور صرف دن بھر کا ہوتا تھا کیونکہ بچے اس کا گھر پر شام میں انتظار کر رہے ہوتے تھے۔
عام روٹین میں اگر اسے گھر آنے میں ذرا سی دیر ہو جاتی تو عنایہ اور آئرہ گھر سر پر اٹھا لیتی تھیں۔
ٹریفک کافی دیر سے بلاک تھی۔ کسی سگنل کی وجہ سے نہیں بلکہ آس پاس کے لوگوں نے رش لگا رکھا تھا۔ جس کے سبب کوئی بھی پبلک ٹرانسپورٹ اپنی جگہ سے ایک انچ نہیں ہلی تھی۔
زاویان تنگ آ کر گاڑی سے اترا کہ معاملہ جانے کیا مسئلہ ہے۔
وہ آگے بڑھا لوگوں کے رش چیرتا وہ اس مقام پر پہنچا جس کی وجہ سے ٹریفک بلاک تھا۔
سامنے ہی ایک لڑکی اوندھے منہ زمین پر گری پڑی تھی۔ جس کے جسم سے بے تحاشا خون بہہ رہا تھا۔
” کیا کر رہے ہیں آپ لوگ کس چیز کا انتظار ہے؟ ایمبولینس کو بلائیں وہ مر جائے گی۔” زاویان کو لوگوں کی بےحسی دیکھ کر بہت دکھ ہوا۔
” نہیں بھئی ہم پر کیس ہو جائے گا۔ قتل کا معاملہ ہے۔”
” قتل ہوا ہے اس لڑکی کا۔”
” قتل۔۔۔” زاویان زیر لب بڑبڑایا اور آگے بڑھ کر اس لڑکی کو سیدھا کیا تو سامنے ہی اس کے پیٹ میں گھسا چاقو دیکھ کر اس کی آنکھیں کھلی رہ گئیں۔
لوگ بھی چہ مگوئیاں کرنے لگے۔
زاویان نے تیزی سے اس کی نبض ٹٹولی۔ جو کہ بہت دھیمی اور آہستہ رفتار سے چل رہی تھی۔
زاویان نے ایک لمحہ بھی اور ضائع کیے بغیر اسے بازوؤں میں اٹھایا۔
” کیا کر رہے ہو بھائی کیوں اپنے لیے مصیبت کھڑی کر رہے ہو؟” ایک شخص نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے اس جذباتی حرکت سے روکا۔
” ایک لڑکی ہم سب کے سامنے مر رہی ہے۔ میں آپ لوگوں کی طرح بےحس نہیں ہو سکتا۔ میں اسے مرتا ہوا نہیں دیکھ سکتا۔”
زاویان نے اسے گاڑی کی پچھلی سیٹ پر ڈالا اور خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی۔
زاویان کے اس لڑکی کو اٹھانے پر رش چھٹتا پیچھے ہوتا چلا گیا۔
ٹریفک آگے بڑھنے لگی۔
ایک وقت وہ تھا جب ایسے ہی کسی شخص نے اس کی اور عرشیہ کی مدد کی تھی اور انہیں ہاسپٹل پہنچایا تھا۔ وہ الگ بات تھی کہ عرشیہ سروائیو نہ سکی اور اسے ان کے بچوں کے ساتھ اس دنیا میں تنہا چھوڑ کر چلی گئی تھی۔
ایک وقت یہ تھا جب ان کی طرح ہی ایک لڑکی سڑک پر بے آسرا پڑی مر رہی تھی۔ آج وہ قرض چکانے کا وقت آیا تھا اور وہ اس طرح منہ نہیں موڑ سکتا تھا۔
وہ کراچی ٹریفک کو چیرتا ہوا ہاسپٹل پہنچا۔
جاری ہے
