52.9K
31

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 22

زاویان کی گاڑی سیاہ تارکول پر دوڑ رہی تھی۔ زاویان کا دماغ لاتعداد سوچیں سوچ رہا تھا۔
نوال زاویان کی حد درجہ سنجیدگی دیکھ رہی تھی۔
” آئس کریم کھاؤ گی؟” زاویان نے نگاہیں سڑک پر ٹکائے ہی پوچھا۔
نوال کو شک ہوا کہ آیا زاویان نے نوال سے ہی پوچھا تھا؟ اسے یاد ہے کہ وہ بھی اس گاڑی میں اس کے ساتھ ہی موجود ہے؟
” بتاؤ؟”
” کھا لوں گی۔” نوال نے مدہم آواز میں کہا۔
” کون سا فلیور کیرمل قلفہ؟”
” جو آپ کا دل کرے۔” نوال نے فیصلہ اس پر چھوڑا۔
” تمہاری خود کوئی عقل نہیں ہے؟ آئس کریم کھاؤ گی یا نہیں؟ انسان کچھ تو خود سے بتاتا ہے۔” زاویان نے چڑتے ہوئے کہا۔
” میں تو چاہ رہی تھی اگر آپ کافی پیتے تو اس میں آپ کو کمپنی دیتی۔” نوال نے اٹکتے اٹکتے کہا۔
” تو کہو میں کافی پیوں گی بات ختم۔” زاویان نے ناراضگی سے کہا۔
نوال نے کوئی جواب نہیں دیا۔
کچھ دیر بعد زاویان نے گاڑی روکی۔
” آؤ۔” زاویان نے سیٹ بیلٹ کھولی۔
نوال بھی اس کے ہم قدم تھی۔
زاویان نے اندر آ کر نوال کے لیے چیئر گھسیٹی۔
نوال حیران ہوتی بیٹھ گئی۔
” عرشیہ اور میں یہیں آتے تھے۔ یہ عرشیہ کی فیورٹ پلیس ہے۔” زاویان نے غائب دماغی سے بتایا۔
نوال خاموشی سے اسے دیکھنے لگی۔
” ہم اسی ٹیبل پر بیٹھتے تھے۔ یہاں عرشیہ بیٹھتی تھی۔” زاویان نے انگلی سے نوال کی چیئر کی طرف اشارہ کیا۔
” اوہ مجھے نہیں پتا تھا ہم کہیں اور بیٹھ جاتے ہیں۔” نوال فوراً کھڑی ہونے لگی۔
زاویان نے سر نفی میں ہلایا۔
” نہیں نہیں یہیں بیٹھو ورنہ مجھے لگے گا کہ میں عرشیہ سے نظریں چرا رہا ہوں اور اسے بھولنا چاہتا ہوں۔”
” کیا واقعی ایسا لگتا ہے کہ میں عرشیہ کو بھول سکتا ہوں؟” زاویان نے سوالیہ انداز میں پوچھا۔
” بالکل بھی نہیں آپ کی زندگی میں عرشیہ سے محبت واضح نظر آتی ہے۔”
” پھر اشعر ایسا کیوں کہہ رہا تھا؟ تم بھی اس دن یہی کہہ رہی تھی؟”
” کیا تمہیں جگہ دینا عرشیہ کو بھولنا ہے؟”
” یہ ایک اچھا سائن ہے اگر آپ زندگی میں آگے بڑھ رہے ہیں۔”
” تمہارے کہنے کا مطلب ہے اگر میں تمہیں جگہ دیتا ہوں اپنے بچوں کی خاطر آگے بڑھ رہا ہوں تو میں عرشیہ کو بھول چکا ہوں؟”
” نہیں تب بھی آپ نے سمجھوتہ کیا ہو گا عرشیہ کو بھولنا نہیں اور یہ آپ کو کرنا پڑے گا۔”
” زندگی تو گزر ہی جانی ہے۔ زندگی کو ہنس کر جیا جائے یا رو کر گزارا جائے گزر تو یہ جائے گی۔ ہمیں بھی آج نہیں تو کل جانا ہی ہے تو اچھا نہیں اس کو جیا جائے۔”
” عرشیہ سے آپ کی محبت یہ نہیں کہ آپ اس کی یاد میں آنسو بہائیں یا اپنی زندگی وہیں روک لیں۔ آپ عرشیہ سے محبت تو ایسے بھی شو کر سکتے ہیں کہ عنایہ اور آئرہ کا خیال رکھیں، ان کی تربیت اچھی کریں۔ جب آپ کو وہ شدت سے یاد آئے تو آپ اس کے لیے دعا کریں اور کچھ پڑھ لیں۔”
ان کی کافی سرو کر دی گئی تھی۔
” عرشیہ بھی یہاں کی کافی پیتی تھی۔” زاویان مدہم سا مسکرایا۔
” مجھے نہیں پتا تھا ورنہ ہم آئس کریم کھا لیتے۔”
” بالکل نہیں میں اسے کچھ دیر کے لیے محسوس کرنا چاہتا ہوں۔”
نوال خاموش ہو گئی۔
” آپ جو شیئر کرنا چاہیں مجھ سے کر سکتے ہیں۔”
” تمہیں بھی تو اسامہ یاد آتا ہو گا؟”
نوال نے گہری سانس لی۔
” زاویان پلیز اس وقت اس کا ذکر مت کریں۔”
” تم جب چاہو مجھ سے ذکر کر سکتی ہو۔ مجھے برا نہیں لگے گا۔”
” میں اسے یاد کرنا ہی نہیں چاہتی۔ کچھ یادیں اتنی تلخ ہوتی ہیں کہ ہم اسے بھول جانا چاہتے ہیں۔”
زاویان خاموشی سے اسے دیکھ رہا تھا۔
” زاویان کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ ہمارے بیچ اس کا ذکر ہو ہی نہ کیونکہ میں بھولنا چاہتی ہوں۔” نوال نے کچھ دیر بعد کہا۔
” اشعر عرشیہ کا بھائی ہے۔” زاویان نے مزید بتایا۔
نوال نے سمجھتے ہوئے سر اثبات میں ہلایا۔
” پھر اس کا ٹونٹ کرنا لازمی اور فطری تھا۔ اپنے کسی پیارے کی جگہ پر کسی دوسرے کو دیکھنا آسان نہیں ہوتا۔” نوال نے کندھے اچکاتے ہوئے کہا۔
” عرشیہ یقیناً بہت اچھی اور پیاری ہو گی۔ جو آپ کے دل میں آج بھی زندہ ہے۔ اس نے آپ کو دو پیاری پیاری بیٹیاں دی ہیں۔” نوال نے مسکراتے ہوئے کہا۔
” ہاں وہ بہت اچھی تھی۔ بے پناہ محبت کرتے تھے ہم ایک دوسرے سے۔ وہ میری زندگی کا سرمایہ تھی۔”
” وہ آج بھی آپ کی زندگی کا سرمایہ ہے کیونکہ آپ کی زندگی عنایہ اور آئرہ کے گرد گھومتی ہے۔ آپ اسے کیسے بھول سکتے ہیں؟ آپ نے عنایہ اور آئرہ کی خاطر سمجھوتہ کیا ہے۔”
زاویان خاموشی سے اسے سن رہا تھا۔
” آپ لوگوں کی باتوں کو مت سوچا کریں۔ ان کی باتوں پر دھیان نہ دیا کریں۔”
” تمہاری باتوں پر دھیان دے دیا کروں؟” زاویان نے مدہم مسکراہٹ سے پوچھا۔
” ہاں اگر عرشیہ عنایہ اور آئرہ کے بارے میں ہو۔” نوال نے مسکراتے ہوئے کہا۔
” تمہیں عرشیہ سے جیلسی نہیں ہو رہی؟”
” بالکل نہیں کیونکہ وہ آپ کی زندگی کی حقیقت ہے اور اس حقیقت کو جانتے ہوئے ہی میں آپ کی زندگی میں آئی ہوں۔ وہ آپ کو اولاد دے کر چلی گئی اور اسی کی ہی اولاد سے پیار کر کے میں اپنی ممتا کی پیاس بجھا رہی ہوں تو اس سے جیلسی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔”
وہ لوگ کافی پی چکے تھے۔
” بچوں کے لیے کچھ لے جائیں؟”
” جو تمہارا دل چاہے۔”

بچوں کے لیے کھانا پیک کروا کر وہ لوگ گاڑی میں آ کر بیٹھ گئے۔

زاویان اور نوال ہاشمی ہاؤس پہنچ چکے تھے۔ داخلی دروازے سے اندر داخل ہوتے ہوئے زاویان اور نوال کو عنایہ اور آئرہ لاؤنج میں کھیلتی مل گئیں۔
” آپ دونوں اب تک جاگ رہے ہو؟” زاویان نے ٹائم دیکھتے ہوئے پوچھا۔
” بابا ہم آپ تا ویٹ تر رہے تھے۔”
نوال نے جھک کر آئرہ کے پھولے پھولے گالوں پر پیار کیا۔
” یہ دیکھو میں آپ لوگوں کے لیے کیا لائی ہوں؟”
” یہ تم نہیں ہمارے بابا لائے ہیں۔”
” عنایہ سٹاپ اٹ اس طرح کی چیپ باتیں مت کیا کرو۔ بچوں کا کام صرف لینا ہوتا ہے۔ مما لائیں یا بابا لائیں ایک ہی بات ہے۔” زاویان نے ناراضگی سے ڈانٹا۔
” اور آج یہ نوال ہی لائی ہے۔ مجھے تو یاد بھی نہیں تھا اور اب پلیز یہ مت کہنا کہ یہ مما نہیں ہے۔” زاویان نے ناراضگی سے کہا۔
” بابا آپ ہمیں بھول گئے؟” عنایہ نے صدمے سے پوچھا۔
” بالکل نہیں ہمیں آپ یاد تھے۔” نوال نے عنایہ کے گال سہلائے۔
” مما مدے تھا لیں۔” آئرہ نے بانہیں کھول کر لاڈ سے کہا۔
زاویان نے مسکراتے ہوئے اپنی لاڈلی کو اٹھا لیا اور سیڑھیوں کی طرف قدم بڑھائے۔
عنایہ زاویان کے ساتھ ہی تھی۔
آئرہ زاویان کے کندھے پر سر رکھے ان کے پیچھے آتی نوال کو محبت پاش نظروں سے دیکھ رہی تھی۔
” کوئی حال نہیں تھا اس کی اولاد کا۔” زاویان نے مسکراتے ہوئے سوچا۔
” ایک اس کی جانی دشمن تھی اور ایک اس کی عاشق تھی۔”
کمرے میں آ کر زاویان نے آئرہ کو بیڈ پر کھڑا کیا۔
” مما روش پہنا ترو پلیش۔” آئرہ نے فرمائش کی۔
” اگر میں روز ساڑھی پہنوں گی تو میرے بےبی کو کون اٹھائے گا؟” نوال نے اس کے گال کھینچے۔
” بابا۔” آئرہ نے چہکتے ہوئے کہا۔
” بابا کی لگتی بابا آفس نہ جائیں؟”
” دائیں۔”
” پھر؟”
” دن میں شازیہ تھا لے پھر بابا۔” آئرہ نے حل بتایا۔
” اور آپ مما کو عاشقوں کی طرح دیکھتی رہو۔” زاویان نے اس کے گال کھینچے۔
” شازیہ تمہیں نہیں اٹھائے گی۔ اس نے ہمارا خیال رکھنے سے منع کر دیا ہے۔” عنایہ نے منہ بناتے ہوئے یاد دلایا۔
” تھا لے دی بابا تہیں دے تو تھا لے دی۔ میرے بابا بہت اچے ہے دی۔ (اٹھا لے گی بابا کہیں گے تو اٹھا لے گی۔ میرے بابا بہت اچھے ہیں جی)۔” آئرہ نے زاویان کے گلے میں بانہیں ڈالیں۔
نوال اور زاویان ہنس پڑے۔
” نوال تم ہمیں بھی لے دو۔” عنایہ نے اس کی ساڑھی کا پلو پکڑ کر فرمائش کی۔
نوال نے مسکراتے سر اثبات میں ہلایا۔
” نہیں نوال ان سے ایسی کمٹمنٹ نہ کرو۔ جو ممکن نہیں۔ یہ چھوٹے بچے نہیں پہنتے۔” زاویان نے نوال کا جواب جاننے کے لیے ان کی طرف دیکھا تو فوراً احتجاج کیا۔
” تچی بابا دوشتی مما۔” آئرہ نے نوال کے ساتھ لگتے ہوئے کہا۔
” شاہ رخ ماموں کی شادی میں لیں گے۔” نوال نے ان کے کان میں کہا۔
” سچی؟” عنایہ پرجوش ہوئی۔
” بالکل۔” نوال نے عنایہ کے گال پر جھک کر پیار کیا۔

زاویان سر نہ میں ہلاتا ڈریسنگ روم میں گھس گیا۔

وہ بے خبر سو رہی تھی۔ اس کی نیند میں خلل فون کی مسلسل ہوتی گھنٹی نے پیدا کیا۔ اس نے بیزاری سے کروٹ بدلی۔ اس کی ریشمی زلفیں اس کے بستر پر پھیلی ہوئی تھیں۔ شاید کال کرنے والا بھی ڈھیٹ واقع ہوا تھا۔ جویریہ نے بیزاریت سے بند آنکھوں سے سائیڈ ٹیبل پر سے موبائل ٹٹولا۔
موبائل برآمد ہوتے ہی سکرین پر انگلی سے ٹچ کرتے کال اٹھائی۔
” ہیلو کون ہے بھئی؟” جویریہ نے جھنجھلاتے ہوئے پوچھا۔
” یہ تو تم اپنے دل سے پوچھو۔” شاہ رخ کی شوخ آواز ابھری۔
” میں پاکستان میں ہوں۔” جویریہ نے بتانا ضروری سمجھا۔
” میں سمجھا میرے خوابوں کی دنیا میں۔” شاہ رخ نے گرفتہ لہجے میں کہا۔
” اس ٹائم فون تم نے یہ فضول بکواس کرنے کے لیے کیا ہے؟” جویریہ نے چڑتے ہوئے پوچھا۔
” نہیں تم سے پیار بھری باتیں کرنے کے لیے۔” شاہ رخ نے دل پھینک انداز میں کہا۔
” اگر ہمت ہے تو دن دیہاڑے کال کرو پھر میں تمہیں چھٹی کا دودھ یاد کرواؤں گی۔” جویریہ نے وارننگ دی۔
” مجھے تو بھینس کا دودھ یاد ہے۔” شاہ رخ نے اثر نہ لیا۔
” تم ہو کون بھئی؟” جویریہ بالآخر زچ آ گئی۔
” مابدولت کو شاہ رخ کہتے ہیں۔” شاہ رخ نے اپنا تعارف کروایا۔
” اتراتے تو ایسے ہو جیسے شاہ رخ خان ہو۔” جویریہ نے اثر نہ لیا۔
” میں تمہاری زندگی کا شاہ رخ خان ہی ہوں۔” شاہ رخ نے اپنی اہمیت بتائی۔
” انتہائی فضول انسان ہو۔ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ اتنے پڑھے لکھے سلجھے ہوئے خاندان میں تم جیسا نمونہ کیسے پیدا ہو گیا؟” جویریہ ازحد حیران تھی۔
” اللہ کی قدرت ہے جی۔ ایسے معجزے اللہ تعالیٰ کرتے رہتے ہیں۔” شاہ رخ نے باور کروایا۔
” بالکل ویسے ہی جیسے تم کامی بھائی اور جیبو کی بہن نہیں لگتی۔” شاہ رخ نے حساب بےباک کیا۔
” تم اگر نوال بھابھی کے بھائی نہ ہوتے نا تو میں تمہیں اس بدتمیزی کا جواب بہتر دیتی۔” جویریہ نے انتقامیہ کہا۔
” سمجھو میں نہیں ہوں تو تم کیا کرتی؟” شاہ رخ نے جاننا چاہا۔
” میں تم سے بات ہی نہ کرتی۔” جویریہ دانت پیستے ہوئے کہا۔
” زہے نصیب کہ میں تمہاری نوال بھابھی کا بھائی نکلا ورنہ مجھ غریب کے ساتھ تم اتنا بڑا ظلم کرتی۔” شاہ رخ مشکور تھا۔
” اگر اب تم نے مجھے کال کی ہے نا تو میں زاو۔۔۔” جویریہ نے دھمکی دینی چاہی۔
” جویریہ میں تمہیں پسند کرتا ہوں۔” شاہ رخ نے اس کی بات بیچ میں ہی کاٹ دی۔
جویریہ کا دل زور سے دھڑکا۔
” تمہاری کیا رائے ہے میرے بارے میں؟” شاہ رخ نے دلچسپی سے پوچھا۔
” اگر یہ سب سچ ہے تو..۔” جویریہ نے منہ میں انگلی دبائی۔
” تو؟” شاہ رخ نے دلچسپی سے پوچھا۔
” تو میرے گھر والوں سے بات کرو۔ میرا دماغ نہ کھاؤ۔ اب فون مت کرنا ورنہ میں کامی بھائی اور جیبو کو بتا دوں گی۔” جویریہ نے پھاڑ کھانے والے انداز میں کہا۔
” اور وہ جب مجھ سے پوچھیں گے تو میں انہیں اپنا حال دل بنا دوں گا۔” شاہ رخ نے عاشقانا انداز میں کہا۔
جویریہ نے کال کاٹ دی۔
شاہ رخ نے دلچسپی سے قہقہہ لگایا۔
————————-
” بابا آپ مجھ سے پیار نہیں کرتے؟” عنایہ نے آتے ہی سوال کیا۔
” کرتا ہوں میں اپنی پرنسز کو پیار۔ آپ کو کس نے کہا ہے کہ میں آپ کو پیار نہیں کرتا؟”
” آئرہ کہہ رہی ہے آپ مجھ سے پیار نہیں کرتے۔”
” ہاں دی ایشا ہی ہے بابا ہم شے پار ترتے ہیں (ہاں جی ایسا ہی ہے بابا ہم سے پیار کرتے ہیں)۔” آئرہ نے اپنی دونوں پونیاں جھلاتے ہوئے کہا۔
” عنایہ بیٹا اسے کیا پتا یہ تو چھوٹی ہے۔ میں آپ سے بھی پیار کرتا ہوں۔” زاویان نے پیار سے سمجھایا۔
” بابا ہم شے باتیں بھی ترتے ہیں۔” آئرہ نے ایک ٹانگ جھلاتے ہوئے سراسر آگ لگائی۔
” بابا آپ مجھے تو کہتے ہیں سو جاؤ سکول جانا ہے۔”
” مما بابا ہم شے پار ترتے ہیں نا ہم شے باتیں بھی ترتے ہیں نا؟”
” بالکل بابا آپ دونوں سے بہت پیار کرتے ہیں، باتیں بھی کرتے ہیں اور کھیلتے بھی ہیں۔” نوال نے مسکراتے ہوئے اس کی پونی ٹھیک کی۔
” نہیں میں تہہ رہی ہوں بابا آپ شے اور مد سے زیادہ پار ترتے ہیں۔” آئرہ نے ایک اور تیلی لگائی۔
پانی پیتے کامران کے منہ سے پانی کا فوارہ نکلا۔
زاویان ہنس پڑا۔
لاؤنج میں بیٹھے سبھی افراد ہنس پڑے۔
” میں آتی ہوں شاید چولہا آن ہے۔” نوال سٹپٹا کر وہاں سے بھاگی۔
” عنایہ بیٹا میں آپ کو بھی پیار کرتا ہوں۔ آپ سو چکی ہوتی ہو نا اس لیے آپ کو نہیں پتا۔”
” آپ نوال سے بھی پیار کرتے ہیں؟” عنایہ نے خدشے کے تحت پوچھا۔ جیسے ان کی کائنات ان سے چھننے والی تھی۔
” نہیں میں عنایہ اور آئرہ سے پیار کرتا ہوں۔” زاویان نے عنایہ کے دونوں گالوں پر پیار کیا۔
” جاؤ شاباش کھیلو۔”
” آئرو بےبی ادھر آؤ۔”
” جی مما آئی۔” آئرہ پونیاں جھلاتی کچن کی طرف بڑھ گئی۔
عنایہ بھی کھیلنے کا جا چکی تھی۔
کلثوم بیگم اور زوباریہ نوال کے آنے کے بعد بچوں کی تربیت میں واضح تبدیلی دیکھتی تھیں اور مطمئن تھیں۔
” سب کچھ خود کرواتی ہے۔ ابھی معصوم بن رہی ہے۔” زاویان نے ہنستے ہوئے کامران کو دیکھا۔
کامران بھی ہنس پڑا۔
” تچی بابا۔” آئرہ نے آتے ہی زاویان کی بازو ہلائی۔
” ارے اب کیا ہوا؟”
” تانا نہیں تھا روم تی بات باہر نہیں ترتے؟” آئرہ نے ناراضگی سے کہا اور لان میں چلی گئی۔
پیچھے سے ایک بار پھر سبھی ہنس پڑے۔
چلتے ہوئے آئرہ بار بار سر جھٹک رہی تھی۔
————————-
جاری ہے