52.9K
31

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 8

نوال بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے سو رہی تھی۔ اس کا ایک ہاتھ آئرہ پر تھا اور دوسرا گود پر دھرا تھا۔
آئرہ بھی سو رہی تھی۔
زاویان نے اسے جھنجھوڑ ڈالا۔
نوال ہڑبڑا کر اٹھی۔
” اٹھو عنایہ کو اسکول جانا ہے۔ وہ لیٹ ہو جائے گی۔ آئرہ بھی اٹھ جائے گی۔” زاویان نے بیزاریت سے کہا۔
نوال آئرہ کے آگے تکیہ رکھتی عنایہ کو جگانے کے لیے لپکی۔
” عنایہ۔۔
بیٹا۔۔۔
اٹھو سکول جانا ہے۔” نوال نے اس کے بالوں میں نرمی سے ہاتھ پھیرا۔
عنایہ نے سستی سے کروٹ بدل لی۔
” اٹھو بیٹا۔۔” نوال نے پھر سے اسے پیار کیا۔
عنایہ نے آنکھیں بند میں ہی منہ بنایا۔
عنایہ کی آنکھیں کھلنے کی دیر تھی۔ اس نے ایک بار پھر شور مچانا شروع کیا۔
” تم یہاں میرے کمرے میں کیا کر رہی ہو؟ منع کیا تھا نا میرے کمرے میں نہیں آنا۔”
” عنایہ بیٹا آپ کو سکول جانا ہے میں آپ کو صرف اٹھانے آئی ہوں۔”
” بابا مجھے اٹھائیں تم جاؤ یہاں سے۔”
نوال بےبس سی پلٹ گئی۔
” بات سنیں۔۔
بات سنیں۔۔۔ ” زاویان نے کوئی جواب نہ دیا۔
نوال نے اس کے پاؤں کا انگوٹھا ہلایا۔
” کیا ہے؟” زاویان نے کوفت سے آنکھیں کھولیں۔
” عنایہ نہیں اٹھ رہی۔ وہ کہہ رہی ہے آپ اٹھائیں۔ “
” ماں میں ہوں کہ تم؟ تم اٹھاؤ۔”
” ماں تو میں ہی ہوں لیکن وہ بابا سے اٹھنا چاہتی ہے۔”
” بچے ضد ہی کرتے ہیں۔ ان کو بہلانا پڑتا ہے۔ میں سو رہا ہوں اسے تم اٹھاؤ۔” زاویان نے بیزاریت سے کہہ کر کروٹ بدل لی۔ جس کا مطلب صاف تھا کہ اب جاؤ۔
نوال واپس عنایہ کے پاس آ گئی۔
” عنایہ بیٹا آج آپ اٹھ جاؤ۔ بابا سو رہے ہیں۔” نوال نے پیار سے اس کا گال سہلایا۔
عنایہ نے اس کا ہاتھ جھٹک دیا۔
” جاؤ یہاں سے آج مجھے بابا ہی اٹھائیں گے۔”
” آپ سکول سے لیٹ ہو جاؤ گی۔”
” میں نے کہا نا۔” عنایہ نے اسے پیچھے دھکا دیا۔
اسی لمحے زاویان کمرے میں آیا۔
” کیا ہوا ہے عنایہ بیٹا سکول سے لیٹ ہو جاؤ گی۔ جلدی اٹھو میری بیٹی اچھی بچی ہے۔”
” یہ میرے کمرے میں کیوں آئی ہے۔ میں نے آپ سے کہا تھا نا یہ میرے روم میں نہیں آئے گی۔ اسے بھیجیں یہاں سے۔”
” میں نے بھیجا تھا۔” زاویان نے اسے گود میں اٹھایا اور واش روم کے دروازے کے باہر کھڑا کر دیا۔
” جاؤ فریش ہو کر آؤ۔ یہ آپ کو سکول کے لیے ریڈی کرے گی۔ شور نہ کرنا آئرہ سو رہی ہے وہ جاگ جائے گی۔”
عنایہ واش روم چلی گئی۔
کچھ دیر بعد وہ بالکل تیار تھی۔
” عنایہ آپ دو پونیاں بناؤ گی یا ایک پونی؟”
” مجھے تم سے بال ہی نہیں بنوانے۔”
” عنایہ بابا ناراض ہوں گے۔”
” کہا نا جاؤ۔”
زاویان عنایہ کے شور سے اٹھ کر بیٹھا۔
” عنایہ پلیز۔۔”
” عنایہ ریڈی ہو گئی؟”
” بابا یہ میری پونی نہیں بنا ریی۔ میں کہہ رہی ہوں ایک پونی بنانی ہے۔”
زاویان نے نوال کی طرف دیکھا۔
” نوال اس کے بال بناؤ۔” زاویان نے سنجیدگی سے کہا اور وہیں کھڑا رہا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ آج عنایہ جان بوجھ کر تنگ زیادہ کر رہی ہے۔

نوال عنایہ کے بال بنانے لگی۔

زاویان عنایہ کو سکول ڈراپ کرنے چلا گیا تھا۔
نصار صاحب نماز کے بعد چہل قدمی کر رہے تھے اور کلثوم بیگم لان چیئر پر براجمان تھیں۔
نوال اپنی اور ان لوگوں کی چائے لے کر وہیں آ گئی۔
” تھینک یو بیٹا۔” کلثوم بیگم نے چائے کا کپ اٹھا لیا۔
” تمہیں رات نیند صحیح سے آئی؟ آئرہ نے زیادہ تنگ تو نہیں کیا؟”
” نہیں آنٹی ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ آپ عنایہ اور آئرہ کی طرف سے بالکل بے فکر ہو جائیں۔”
” پھر بھی ؟”
” اگر میں ان کی سگی ماں ہوتی تو کیا آپ مجھ سے یہ سوال کرتیں؟”
کلثوم بیگم مسکرا دیں۔۔
” مجھے آپ سے ایک فیور چاہیے۔۔”
” بتاؤ بیٹا۔۔”
” آپ مجھے ان تینوں کی روٹین بتا دیں تاکہ آسانی ہو جائے۔”
کلثوم بیگم اسے زاویان عنایہ اور آئرہ کے بارے میں ہر چھوٹی سے چھوٹی اور بڑی سے بڑی بات بتاتی چلی گئیں۔
پورچ میں زاویان کی گاڑی کے ہارن نے ان دونوں کو متوجہ کیا۔
پوری شان و شوکت سے زاویان ہاشمی اپنی گاڑی سے نکلا اور لان میں ان کی طرف بڑھا۔
” اسلام و علیکم ماما۔” زاویان نے ان کے سر کو چوما۔
” وعلیکم السلام کل سب ٹھیک رہا؟” کلثوم بیگم نے محبت سے پوچھا۔
” ماما نہ یہ نوال کی پہلی شادی ہے نہ یہ میری۔ یہ شادی بچوں کے لیے کی گئی ہے۔ بچے اس سے مطمئن ہو جائیں بات ختم۔ مجھے اس سے مطمئن ہونے کا کوئی شوق نہیں ہے۔”
نوال نے تکلیف سے زاویان کو دیکھا۔
وہ کل سے اب تک کئی بار اسے یہ بات جتا چکا تھا۔
” زاویان۔۔ یہ جتانا ضروری نہیں ہے۔” کلثوم بیگم نے ٹوکا۔
” نوال کے گھر والے ناشتہ لانا چاہتے تھے۔ میں نے انہیں منع کر دیا کیونکہ یہ کوئی روایتی شادی تو ہے نہیں۔ ضرورت کے تحت کی گئی ہے۔ اس لیے ان سب فارمیلیٹیز کی ضرورت نہیں ہے۔”
” آنٹی میں آئرہ کو دیکھ لوں اٹھ نہ گئی ہو۔” نوال کہتی تیزی سے اٹھ کر چلی گئی۔ مبادا دوسری شادی کا طعنہ نہ مل جائے۔
” یہ کیا رویہ ہے زاویان اب اگر تم نے شادی کر ہی لی ہے تو رویے اور دل میں تھوڑی وسعت تو لاؤ۔”
” جس دن یہ بچوں کی ماں کی حیثیت سے اپنے فرائض ادا کرے گی اس دن میرے رویے میں وسعت آ جائے گی۔ دل کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔” زاویان اٹھ کر چلا گیا۔
” اگر ایسا ہی رویہ رکھنا تھا تو شادی ہی نہ کرتا۔ نصار ایسے کوئی بھی عورت صرف ماں بن کر نہیں آتی۔ اس کے رویے میں ذرا سی بھی لچک نہیں یے۔ وہ جلد اکتا جائے گی۔”

” اللّٰہ سب ٹھیک کرے گا تم پریشان نہ ہو۔” نصار صاحب نے کلثوم بیگم کا ہاتھ تھپتھپایا۔

” دادو میں لگ رہی ہوں نا پرنسس؟” نوال آئرہ کو لیے لاؤنج میں آئی۔
کلثوم بیگم نے آئرہ کی طرف ہاتھ بڑھایا۔ آئرہ ان کی طرف جانے کو مچلنے لگی۔
نوال نے مسکراتے ہوئے آئرہ کو کلثوم بیگم کی گود میں دیا۔
نوال نے آئرہ کو نک سک سے تیار کیا۔ نوال نے آئرہ کے کیوٹ سی پونی کی تھی۔
” یہ اپنے بابا کی پرنسس ہے۔” زاویان نے چبا چبا کر نوال کو دیکھ کر جتایا۔
نوال نے بےبسی سے زاویان کو دیکھا۔
” میں اب سے مما کی بھی تو پرنسس ہوں بابا۔” کلثوم بیگم نے آئرہ کو پیار کرتے ہوئے کہا۔
” کھجور کا درخت۔” نصار صاحب نے اس کی چھوٹی سی پونی ہلائی۔
نوال آئرہ کا ناشتہ بنانے کچن میں چلی گئی۔
ڈائننگ ہال میں سبھی لوگ ناشتہ کر رہے تھے۔
” آئرہ فرائی ایگ کھائے گی؟”
” امم۔۔”
نوال نے اس کے منہ میں بائٹ ڈالا۔
” یمی ہے؟”
” امم۔۔”
آئرہ ایک ایکٹو اور فرینڈلی بچی تھی۔ جب کہ عنایہ موڈی تھی۔
نوال آئرہ سے باتیں کرتے ہوئے اسے ناشتہ کروا رہی تھی۔ زاویان کا ناشتہ بھی اس نے بنایا تھا البتہ اسے چھیڑا نہیں تھا۔
” بیٹا تم بھی ناشتہ کر لو۔” کلثوم بیگم نے نوال کو کہا۔
” آنٹی بس آئرہ کو ناشتہ کروا لوں۔”
زاویان خاموشی سے ناشتہ کر رہا تھا۔
آئرہ نے جیسے ہی ناشتہ کر لیا پھدک کر نیچے اتر گئی۔
آئرہ سہارا لے کر چلتی بھی تھی اور توتلی زبان میں باتیں بھی کرتی تھی۔
نوال بھی ناشتہ کرنے لگی۔ گاہے بگاہے وہ اسے دیکھ بھی رہی تھی۔ اسی لمحے آئرہ کا پاؤں لڑکھڑایا اور وہ زمین پر گر گئی اور اس نے رونا شروع کر دیا۔
نوال اور زاویان تیزی سے آئرہ کی طرف بڑھے۔
” آئرہ میری جان۔۔” نوال اسے گود میں اٹھا کر پیار کرنے لگی۔
” اگر اتنی ہی فکر تھی تو پہلے ہی گرنے نہ دیتی۔” زاویان نے آئرہ کو نوال کی گود سے چھین لیا اور اس کو بہلانے لگا۔