No Download Link
Rate this Novel
Episode 15
” ماما نے ہمیں کل ڈنر پر انوائیٹ کیا ہے۔” نوال آئرہ کو سلا کر ہمت کرتی بالآخر بول پڑی۔ وہ یہ بھی جانتی تھی کہ جوابا زاویان نے اسے ڈانٹ دینا ہے۔
” عنایہ نہیں جائے گی اور جب میرے بچے نہیں جائیں گے تو میں وہاں جا کر کیا کروں گا؟” زاویان نے سرد مہری سے کہا۔
” تم چلی جاؤ ڈرائیور تمہیں پک اینڈ ڈراپ دے دے گا۔” زاویان نے جیسے بات ہی ختم کر دی۔
” ماما نے سبھی کو انوائیٹ کیا ہے۔ انکل آنٹی کو اور زوباریہ کی فیملی کو۔” نوال نے پھر سے ہمت مجتمع کی۔
” اوکے تو ان کے ساتھ چلی جاؤ۔” زاویان نے کوئی اثر نہ لیا۔
” میں آپ کے اور بچوں کے بغیر جاتی کیا لگوں گی؟ سب پریشان ہو جائیں گے۔” نوال نے پریشانی سے کہا۔
” گڈ منع کر دو۔” زاویان نے سمجھتے ہوئے کہا۔
زاویان نے ایل ای ڈی کی آواز اونچی کر دی۔ جیسے بات ہی ختم ہو گئی تھی۔
” آئرہ سو رہی ہے۔” نوال نے احساس دلایا۔
زاویان نے اسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھا اور والیوم کم کر دیا۔
نوال اسے بے بسی سے دیکھ کر رہ گئی۔
” ماما کو پتا ہے اس انویٹیشن کا؟” زاویان کو جیسے خیال آیا۔
نوال حیران ہوئی۔
” کیا وہ اس بارے میں سوچ رہے تھے؟”
زاویان نے خود کو تکتا پا کر بھنویں اچکائیں۔
” جی۔۔”
” پہلے نہیں بتا سکتی تھی؟ کیا ضرورت تھی انہیں بتانے کی؟” زاویان کو تپ چڑھی۔
” میں منع کر دیتی ہوں۔” نوال نے حل پیش کیا۔
” ابھی کرو۔” زاویان نے حکمیہ کہا۔
نوال نے موبائل اٹھا کر شاہ رخ کو کال ملائی۔
جو پہلی ہی بیل پر اٹھا لی گئی۔ رسمی سلام دعا کے بعد وہ مدعے پر آئی۔
” شاہ رخ میرے پیارے بھائی مجھے تم سے ایک کام پڑ گیا ہے۔” نوال نے بٹرنگ کی۔
” ظاہر ہے میرڈ بہن کو کنوارا بھائی بیٹھے بٹھائے یاد نہیں آتا۔” شاہ رخ نے ٹھنڈی آہ بھری۔
” ہاں ڈیوورسڈ بہن تمہیں بوجھ لگی تو تم نے بھی تو کھسکا دی۔” نوال نے حساب برابر کیا۔
زاویان نے ایک نظر اسے دیکھا۔
” تو اس بار بھی وہ اپنی زندگی سے مطمئن نہیں تھی۔ ہاں ظاہر ہے دو بچوں کے باپ کے ساتھ رہنا آسان نہیں تھا اور پھر بچوں کی ذمے داری پڑ گئی۔ حالانکہ اس نے ایک دن بھی اسے خود میں دلچسپی نہیں لینے دی کیونکہ اسے ضرورت ہی نہیں تھی۔ وہ عرشیہ کی محبت کے ساتھ خوش تھا۔”
” اسے کھسکانا نہیں۔۔ اسے اپنے فرض سے سبکدوش ہونا کہتے ہیں۔” شاہ رخ نے سمجھایا۔
” اتنا تم ذمے داریوں کے بوجھ تلے ڈوبے ہوئے۔” نوال نے آنکھیں گھمائیں۔
وہ زاویان کی موجودگی یکسر فراموش کر گئی تھی۔
” ہاں نا اب اعصاب ڈھیلے ہوئے ہیں تو میں بھی اپنے لیے ایک خوبصورت حسین اور سگھڑ دوشیزہ ڈھونڈ رہا ہوں۔” شاہ رخ نے قلابیں مارے۔
نوال ہنسنے لگی۔
زاویان کو اس کی کھنکتی ہنسی بہت بھلی معلوم ہوئی۔ سفید رنگت گلابی ہونٹ سفید موتیوں جیسے دانت اور اس پر اس معصوم چہرے پر گھلی یہ گُلابی چمک کسی بھی ظاہری میک اپ کے بغیر ہی اس وقت وہ زاویان کی مکمل توجہ اپنی طرف کھینچ رہی تھی۔
زاویان نے اسے آج تک ہنستے ہوئے نہیں دیکھا تھا۔
” تمہیں تو میں پاپا کی پری لے کر دوں گی۔ جو تم نے میرے ساتھ کی ہے۔” نوال نے انتظامیہ کہا۔
زاویان ہوش میں آیا۔
” وہ خوش نہیں تھی۔”
” نہیں یار یہ ظلم نہ کرنا مجھے پاپا کی پری نہیں بلکہ شاہ رخ کی حسینہ چاہیے۔” شاہ رخ نے دہائی دی۔
” ٹھیک ہے میں تمہیں ڈھونڈ کر دوں گی لیکن اس سے پہلے تمہیں میرا ایک کام کرنا پڑے گا۔ ماما نے مجھے ڈنر پر انوائیٹ کیا ہے۔” نوال مدعے پر آئی۔
” او بی بی صرف تمہیں نہیں تمہارے پورے اہل و عیال کو بھی۔” شاہ رخ نے شرارت سے کہا۔
” میرا عیال آنے کو تیار نہیں۔ آئی مین زاویان بزی ہیں۔ ان کی بہت ایمپورٹنٹ میٹنگ ہے۔ وہ لیٹ نائٹ آئیں گے۔ عنایہ نے سکول جانا ہوتا ہے تو اس کی نیند ڈسٹرب ہو گی۔ سو سمپلی پلان کینسل لیکن یہ بات تم ماما سے منواؤ گے۔” نوال جو شروع میں شاہ رخ کی بات کا جواب شاہ رخ کے ہی سٹائل میں دے رہی تھی۔ زاویان کی موجودگی کا احساس کر کے سیدھے طریقے سے مدعے پر آئی۔
” جب اپنے سے بھاری کام ہوتا ہے تو تمہیں میرے نازک کندھے یاد آ جاتے ہیں۔ یہ بھی نہیں سوچتی کہ کنوارا بھائی ہے۔ کوئی اس پر ترس ہی کھا لوں۔ بات تو تب ہے جب تم یہی بات بھائی صاحب سے منواؤ تو میں تمہیں مانوں۔”
” مرواؤ گے؟ آنکھوں سے ہی میرا پوسٹ مارٹم کر لیں گے۔”
” یہ کس کی بات ہو رہی ہے جس سے وہ اتنا ڈرتی ہے۔” زاویان نے دلچسپی سے سوچا۔
” وہ بیچارہ اتنا برا بھی نہیں ہے۔”
” وہ برے نہیں ہیں لیکن مجھے ان کے غصے سے بہت ڈر لگتا ہے۔”
” کوئی نہیں نائمہ بھابھی ان کے ساتھ اب تک چل ہی رہی ہیں۔”
” وہ نائمہ بھابھی ہیں۔ یہ ہم غریب ہیں۔” نوال نے بیچارگی سے کہا۔
زاویان کو اس کی باتوں سے اندازہ ہوا تھا کہ وہ احمر کی بات کر رہے ہیں اور وہ اس سے ڈرتی ہے اور شاہ رخ سے فرینک تھی۔
” بہرحال کام ہو جانا چاہیے اور ماما کو مجھ سے بات کرنے کا نہ کہنا۔ بڑی آس سے آئی ہوں تمہارے پاس۔” نوال نے ملتجی انداز اپنایا۔
” نوال تم خوش تو ہو اپنے گھر؟”
” ہمم۔۔۔ کام ہو جائے گا نا؟”
” زاویان ہے تمہارے پاس؟”
” ہاں۔۔”
” بات کرواؤ۔”
” شاہ رخ پلیز نا بات کو سمجو۔”
” ارے کوئی فورس نہیں کر رہا۔ بہنوئی ہے بات کرنی ہے بعد میں وہ یہ نہ سوچیں کہ میرا تو حال بھی نہیں پوچھا۔”
اس نے بےبسی سے زاویان کی طرف موبائل بڑھایا۔
زاویان نے کوفت سے اسے دیکھا۔
” پلیز۔۔” نوال نے فقط لب ہلائے۔
زاویان نے پکڑ لیا۔
” کیسے ہو شاہ رخ؟” زاویان نے خوش اخلاقی کا مظاہرہ کیا۔
” ساری اور بےزاری میرے لیے ہی ہے۔ سب کو یہ بہت اچھے مزاج کے لگتے ہیں۔ میرا کیا قصور ہے؟” نوال تکلیف سے سوچ کر رہ گئی۔
” ٹھیک نہیں ہوں زاویان بھائی دل بہت خراب ہے۔”
” کیوں کیا ہوا؟”
” جیسے کہ آپ کو تو پتا ہے کنوارا ہوں۔ دل زیادہ خراب ہے۔ مرہم رکھنے والی بھی پاس نہیں۔”
” میں رکھ دیتا ہوں بتاؤ کیا ہوا؟” زاویان کو اس کا شریر انداز اچھا لگا۔
شاہ رخ سے اس کی زیادہ بات نہیں ہوئی تھی لیکن جتنی ہوئی تھی۔ اس سے زاویان کو اتنا اندازہ ہو گیا تھا کہ اسے شادی کا بہت شوق ہے۔
” کل بار بی کیو بننا تھا جو کہ میری پہلی محبت ہے۔ نوال کی وجہ سے چھن گئی۔” شاہ رخ نے دکھ سے کہا۔
زاویان ہنس پڑا۔
نوال اس کی ہنسی کو اشتیاق سے دیکھنے لگی۔
” زاویان کو ہنسی بھی آتی ہے؟” نوال نے حیرت سے سوچا۔
” تم دل چھوٹا مت کرو۔ تمہاری پہلی محبت میں تم سے ملواؤں گا لیکن کل نہیں سیٹرڈے نائٹ کو۔” زاویان نے معاملہ فہمی سے کہا۔
” ڈن؟” شاہ رخ نے تائید چاہی۔
” ہنڈریڈ پرسنٹ ڈن۔” زاویان نے مہر ثبت کی۔
” ہم آپ کا انتظار کریں گے۔”
الوداعیہ کلمات کے بعد کال منقطع ہو گئی۔
زاویان نے گہری سانس لی اور موبائل نوال کی طرف بڑھایا۔
” ویکینڈ پر جانا ہے۔” زاویان نے سنجیدگی سے کہا۔
تھوڑا اور سڑے ہوئے انداز سے کہہ دیتے۔
نوال کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی۔
اس نے سر اثبات میں ہلایا اور بیڈ سے اٹھ گئی۔
زاویان نے ایل ای ڈی کی آواز اونچی کر دی۔
نوال نے وارڈروب کھولی اور عنایہ اور آئرہ کے کپڑے دیکھنے لگی۔
میکے جانے کا احساس ہی عورت میں اینرجی ڈال دیتا ہے۔
وہ بہت خوش تھی۔
عنایہ اور آئرہ کے دو تین ہینگرز لے کر وہ زاویان کے پاس آئی۔
” ان میں سے کون سا اچھا لگے گا؟”
زاویان نے اسے دونوں کے ڈریسز بتا دیے۔
وہ بہت پرجوش لگ رہی تھی اور ان کی باقی چیزیں دیکھنے لگی۔ جیسے وہ سب کچھ ڈن کر کے رکھنا چاہتی تھی۔
زاویان خاموشی سے اسے پورے کمرے میں ادھر ادھر پھرتا دیکھ رہا تھا۔
وہ عنایہ اور آئرہ کا سب کچھ دیکھتی تسلی کرتی بیڈ پر آئرہ کا ڈائپر چیک کرنے لگی پھر اس کے ارد گرد تکیے رکھتی صوفے پر چلی گئی۔
عنایہ اپنے روم میں سو رہی تھی اور زاویان ایل ای ڈی آف کر کے اب موبائل پکڑ چکا تھا۔
اس دوران زاویان نے ایک بات شدت سے محسوس کی تھی کہ اس نے اپنا کچھ بھی چیک نہیں کیا تھا۔
” عورتوں کو تو کہیں بھی جانے کے لیے اپنی فکر ساتھ ہوتی ہے۔” زاویان نے حیرت سے سوچا۔
——————-
شاہ رخ اپنے دوستوں کے ساتھ کالونی کی سڑکوں پر آوارہ گردی کر رہا تھا۔ وہ روز ڈنر کے بعد باہر آ جاتے۔ وہ واک کرتے باتیں کرتے ہلا گلا کرتے اور ایک گھنٹے تک اپنے اپنے گھروں کی راہ لیتے۔
مختار صاحب یہاں پر بہت سالوں سے رہائش پذیر تھے۔ وہ انہیں گلیوں میں انہیں دوستوں کے ساتھ کھیل کود کر جوان ہوا تھا۔ اب وہ سب ہی برسر روزگار تھے۔ کوئی جاب کرتا کوئی اپنا بزنس کر رہا تھا لیکن روٹین وہی تھی کہ ڈنر کے بعد وہ سب اکٹھے ہوتے اور پورے دن کی روداد ایک دوسرے کو سناتے۔
شاہ رخ کے موبائل پر ہوتی رنگ نے انہیں متوجہ کیا۔
نوال کی کال دیکھ کر وہ ایکسکیوز کرتا ایک سائیڈ پر ہو گیا۔
نوال کی کال اس ٹائم پر آنے پر وہ اتنا تو سمجھ گیا تھا کہ اس نے کوئی ضروری بات کرنی ہو گی کیونکہ اس ٹائم تو زاویان آ چکا ہوتا ہے۔
رسمی سلام دعا کے بعد نوال مدعے پر آئی اور نوال کا مدعا جان کر وہ سمجھ گیا کہ زاویان آنا نہیں چاہتا تھا اور نوال کے لہجے میں بھی کوئی کھنک نہیں تھی۔ اسے اپنی بہن کی شادی شدہ زندگی کا آئیڈیا ہو گیا۔ اس لیے اس نے نوال سے پوچھا کہ وہ خوش ہے تو نوال کہ صرف ہمم نے اس کے خدشے پر مہر ثبت کر دی۔ شاید نوال بھی اس بار اپنی فیملی کو جھوٹے دلاسے نہیں دینا چاہتی تھی۔ اس نے زاویان سے بات کروانے کا کہا۔ وہ جاننا چاہتا تھا زاویان کا موڈ کیسا ہے؟ اپنے اسٹائل میں وہ زاویان کو آنے کے لیے قائل کر چکا تھا۔ اب حقیقت میں دیکھنا یہ تھا کہ وہ انڈرسٹینڈنگ کے کس مقام پر کھڑے ہیں؟ کال منقطع کرتا وہ اپنے دوستوں کے پاس آ گیا۔
زاویان کی جگہ وہ خود بھی ہوتا تو محبت کے بعد کسی دوسری عورت کو اپنی زندگی میں نئے سرے سے جگہ دینا اتنا آسان نہیں تھا لیکن جو عورت آپ کے بچوں کو ماں کا پیار دے۔ اس لمس سے متعارف کروائے۔ اسے اتنا ایج تو ملنا چاہیے کہ وہ آپ کے گھر پر آپ کے کمرے پر آپ کی زندگی پر حکمرانی کرے۔ وہ نوال کو جانتا تھا وہ ان بچوں کو سوتیلی ماں ہونے کا احساس دلا ہی نہیں سکتی۔ بھائی جان اور بھائی صاحب کے بچوں کی پیدائش پر وہ بہت چھوٹی تھی۔ سکول جاتی تھی تب بھی ان بچوں میں اس کی جان بستی تھی۔ اب تو پھر یہ اس کے شوہر کے بچے تھے۔ محبت تو لازمی دینی تھی۔ زاویان اس سے محبت نہ کرے لیکن اس کی قدر تو کرے اور اس سے جڑے رشتوں کے جذبات کا احترام کرے۔ نوال اسی بات پر سر سے پیر تک راضی ہونے والی لڑکی تھی۔
اس کی عمر ہی کیا تھی؟ صرف بائیس سال؟ اس عمر میں لڑکیاں کیا کیا خواب نہیں پالتیں؟ اور وہ اتنا بڑا جھٹکا لے چکی تھی۔ وہ بہت کچھ سوچ رہا تھا اور نوال کے بارے میں فکر مند بھی تھا۔
——————-
” کامی ویکینڈ پر نوال کے گھر ہمیں ڈنر پر جانا ہے۔” زوباریہ نے بریڈ پر بٹر لگاتے ہوئے کہا۔
” نہیں یار ہم نہیں جائیں گے۔ نوال اور زاویان کو جانے دو۔ اس وقت ان کو ٹائم ملنا چاہیے۔” کامران نے صاف انکار کیا۔
” اچھا نہیں لگتا انہیں یہ نہ لگے کہ ہم میں سے کسی نے نوال کو ایکسیپٹ نہیں کیا۔ اتنی محبت سے نوال کہہ رہی تھی۔ انہوں نے ہم سب کو بلایا ہے۔ جبران اور جویریہ کو بھی۔” زوباریہ نے سمجھانا چاہا۔
” حالانکہ ضرورت اس وقت زاویان کو ٹائم دینے کی ہے۔” کامران نے باور کروایا۔
” زاویان شادی کے بعد اب تک نوال کو اس کے گھر لے کر نہیں گیا۔” زوباریہ نے ایک اور نقطہ اٹھایا۔
” دیکھ لو۔” کامران نے جتایا۔
” ہو سکتا ہے کامی کہ انہوں نے اسی لیے ایک گیٹ ٹو گیدر پلان کیا ہے۔ اچھے لوگ ہیں ملنسار ہیں۔” زوباریہ نے منانا چاہا۔
” میں یہ جانتا ہوں۔ وہ بہت اچھے لوگ ہیں۔ میں ملا ہوں ان سے۔ بس یہ چاہ رہا ہوں کہ زاویان اور بچے نوال کو ایکسیپٹ کر لیں۔ ان کی آپس میں سیٹنگ ہو جائے۔ ہمارا کیا ہے زندگی بھری پڑی ہے۔ جب مرضی چلے جائیں۔” کامران نے چائے کا سپ لیتے ہوئے کہا۔
” اسی لیے کہہ رہی ہوں اگر زاویان کا خشک رویہ وہاں بھی ٹھیک نہ رہا تو وہ پریشان ہو جائیں گے اور ایسے میں ہمارا نہ جانا انہیں مزید پریشان کر دے گا۔ انہیں یہ نہ لگے کہ ہم نوال کو پسند نہیں کرتے۔ جب کہ ایسا نہیں ہے۔ ہم سب نے اسے کھلے دل سے قبول کیا ہے۔ کل کو زاویان کا رویہ بھی ٹھیک ہو جائے گا۔” زوباریہ نے خدشہ ظاہر کیا۔
” تمہارا مطلب ہے ہم سب مل کر انہیں دھوکا دیں؟” کامران نے بھنویں اچکائیں۔
” یار ان کا دل رکھیں۔” زوباریہ نے زچ ہوتے ہوئے کہا۔
ٹیبل پر موجود سبھی افراد خاموشی سے ناشتہ کر رہے تھے۔
” تمہیں ایسا لگتا ہے کہ ان کی سیٹنگ آ جائے گی؟ مجھے تو حالات نظر نہیں آ رہے۔” کامران نے صاف گوئی سے کہا۔
” کامی ڈراؤ تو نہیں۔” زوباریہ نے دہلتے ہوئے کہا۔
” میں ڈرا نہیں رہا لیکن میں جھوٹے دلاسے بھی نہیں دے سکتا۔” کامران نے دھیما سا مسکراتے ہوئے کہا۔
” زوبی میں زاویان کے خلاف نہیں ہوں لیکن اس کے رویے کے خلاف ہوں۔ میں چاہتا ہوں وہ اور بچوں خوش رہیں۔ ہم سبھی کہیں نا کہیں ان کو لے کر ڈسٹرب ہیں۔ انکل آنٹی کو ہی دیکھ لو۔ نوال اچھی لڑکی ہے ضروری نہیں ہے کہ زاویان کو نیکسٹ ٹائم بھی اچھی لڑکی مل جائے۔” کامران نے قائل کرنا چاہا۔
” کامی اب ایسا بھی نہیں ہے کہ زاوی اسے چھوڑنے کا فیصلہ رکھتا ہے۔” زوباریہ نے برا مانتے ہوئے کہا۔
” بیگم صاحبہ بسانے والے بھی حالات نہیں ہیں۔ نوال یہاں کیوں رکے گی؟ مجھے بتاؤ نا ایسی کیا چیز ہے اس کے پاس جو اسے اس گھر میں باندھے؟ نہ شوہر کی محبت نہ بچوں کی اپنائیت خیر میں چلوں گا۔” کامران نے سرنڈر کر دیا۔
زوباریہ نے گہری سانس لی۔
” جویریہ جیبو تم لوگ بھی تیار رہنا۔ تم لوگ بھی جا رہے ہو اور پلیز کوئی آرگیومنٹس نہیں۔ پہلے ہی تم لوگوں کے بھائی نے میرے اعصاب شل کر دیے ہیں۔” زوباریہ نے زچ ہوتے ہوئے کہا۔
کامران ہنسنے لگا۔
” ان کے بھائی نے نہیں تمہارے بھائی نے۔” کامران نے ہنستے ہوئے کہا۔
” یار بھابھی اتنی دور کیا لگتا ہے؟ بھابھی کی بھابھی کا میکہ.. نہیں نہیں بھابھی بہت بےعزتی ہو جائے گی.” جویریہ نے منہ بناتے ہوئے کہا۔
” کوئی برا نہیں لگتا نوال نے اتنا اسرار کیا ہے کہ ہم سب آئیں اور سپیشلی جویریہ کو لانے کا کہا ہے۔ اب بتاؤ وہ کتنا ہرٹ ہو گی اگر ہم نہ جائیں۔” زوباریہ نے اسے پیار سے سمجھایا۔
جویریہ خاموش ہو گئی۔
” جیبو اب تم اپنے فرینڈز کے ساتھ ویکینڈ کی کوئی کمٹمنٹ مت نکال لینا۔” زوباریہ نے حتمیہ کہا۔
” بھابھی آپ کے لیے تو میری جان بھی حاضر ہے۔” جبران نے کھلے دل سے کہا۔
” جان نہیں چاہیے ویکینڈ پر تمہاری موجودگی چاہیے۔” زوباریہ نے متاثر ہوئے بغیر کہا۔
سبھی ہنس پڑے۔
جبران نے سر خم کیا۔
” اب تم نے کیوں منہ لٹکایا ہوا ہے؟” زوباریہ نے جویریہ کو اداس دیکھا تو پوچھا۔
” یار بھابھی کپڑے نہیں ہیں۔” جویریہ نے منہ بناتے ہوئے کہا۔
” رکھنے کو جگہ نہیں پہننے کو کپڑا نہیں۔” کامران نے مذاق اڑایا۔
” یار بھائی نوال بھابھی کے گھر والے مجھے فرسٹ ٹائم دیکھیں گے تو لکس تو اچھی ہونی چاہیے۔ میں بھابھی کی اکلوتی نند ہوں۔ جیبو میرے پیارے بھائی شاپنگ پر لے جاؤ۔” جویریہ نے اپنی ویلیو بتاتے ہوئے جبران کو مکھن لگایا۔
” نہیں بھئی ثائم نہیں ہے میرے پاس۔ تم بہت خوار کرتی ہو۔” جبران نے کانوں کو ہاتھ لگائے۔
” کامی بھائی۔۔” جویریہ نے آس سے کامران کی طرف رخ کیا۔
” زوبی یار تم لے جانا۔” کامران نے فوراً زوباریہ پر ڈال دیا۔
” ممی پاپا کو تو کہہ دو۔” کامران نے یاد دلایا۔
” وہ پہلے ہی حامی بھر چکے ہیں۔ تم لوگوں کی طرح نہیں کیا۔” زوباریہ نے ناراضگی سے کہا۔
” بھابھی پھر آج شام کو شاپنگ پر چلیں گے؟” جویریہ نے ایکسائٹڈ ہوتے ہوئے پوچھا۔
” نہیں پہلے تم مجھے اور زوباریہ کو اپنی وارڈروب دکھاؤ۔” کوثر بیگم نے بیٹی کو ٹوک دیا۔
جویریہ نے منہ بنایا۔
——————-
زاویان جیسے ہی گھر آیا تو عنایہ اور آئرہ اس کی ٹانگوں سے لپٹ گئیں۔
” بابا۔۔۔”
” بابا۔۔۔”
” کیسی ہیں میری بیٹیاں؟” زاویان نے انہیں پیار کیا۔
” ہم ٹھیت ہیں آپ کیچھے ہیں (ہم ٹھیک ہیں آپ کیسے ہیں؟” آئرہ نے توتلی زبان میں زاویان کی طرف دیکھا۔
” میں بھی ٹھیک ہوں۔” زاویان نے آئرہ کو گود میں اٹھا لیا۔
” بابا ہم آئس کریم کھانے چلیں؟” عنایہ باپ کی گود میں چڑھ کر بیٹھ گئی۔
” بابا آئش کریم (بابا آئس کریم)۔”
” بالکل ڈنر کر کے چلتے ہیں۔” زاویان نے عنایہ کو پیار کیا۔
” بابا ہم نے تو ڈنر کر لیا۔” عنایہ نے جھٹ کہا۔
” آپ لوگوں نے کیا کھایا؟”
” بابا آج وال رائش با ری ہے (بابا آج نوال رائس بتا رہی ہے)۔” آئرہ نے مسکراتے ہوئے کہا۔
” بابا چلیں؟” عنایہ نے اسرار کیا۔
” اللہ کی بندی میں نے تو ابھی ڈنر نہیں کیا۔ میں ڈنر کر لوں پھر چلتے ہیں۔” زاویان نے انہیں گود سے اتارا۔
” بابا آپ باہر سے ڈنر کر لیں۔”
” موٹی تم رائس کھاؤ میں نہ کھاؤں؟” زاویان نے عنایہ کے پیٹ میں انگلی سے گدگدی کی۔
نصار صاحب اور کلثوم بیگم ہنس پڑے۔
” میں فریش ہو جاؤں پھر آئس کریم کھانے چلتے ہیں۔” زاویان نے اوپر جاتے ہوئے کہا۔
” بابا رائش میں چتن پیس بھی ہے (بابا رائس میں چکن پیس بھی ہے)۔”
” واہ آئرہ کی مما آئرہ کے لیے اتنا مزے کا کھانا بناتی ہیں؟” زاویان نے اس کے گال پر پیار کیا۔
” امم۔۔” آئرہ نے زاویان کی بات پر اتفاق کیا۔
” بابا وہ مما نہیں ہے۔” عنایہ نے منہ بناتے ہوئے کہا۔
” اچھا یار۔۔” زاویان نے ہارتے ہوئے کہا۔
” چلو اب فریش ہوتے ہیں پھر ڈنر کرتے ہیں۔ اس کے بعد آئس کریم کھانے چلیں گے۔” زاویان نے گلاس ٹیبل پر رکھا۔
” یسس۔۔۔” وہ دونوں پرجوش ہو گئیں۔
زاویان نے سرسری سی نظر چاروں اطراف ڈالی۔ اسے آج نوال کہیں نظر نہ آئی۔
کچھ دیر بعد وہ لوگ ہاشمی ہاؤس کے ڈنر ٹیبل پر موجود تھے۔ پلاؤ اور کباب کی اشتہا انگیز خوشبو سارے ڈائننگ ہال میں پھیلی ہوئی تھی۔
پلاؤ کی ڈش ٹیبل پر رکھتے ہوئے زاویان کی غیر ارادی نظر نوال پر پڑی۔ جو سادہ سے حلیے میں بالوں کا بن بنائے ہوئے تھی۔ کسی بھی طرح کے میک اپ جیولری سے بےنیاز تھی۔
سبھی لوگ کھانے کو انجوائے کر رہے تھے۔
عرشیہ کی زندگی میں عرشیہ کھانا بناتی تھی اور زاویان نے اس کی مدد کے لیے بہت سے ملازمین ہائر کر رکھے تھے۔
زوباریہ کے کچن سنبھالتے ہی کلثوم بیگم ریٹائر ہو چکی تھیں۔
عرشیہ کے انتقال کے بعد سے نوراں کھانا بناتی تھی بلکہ نوراں ہی پورا کچن سنبھالتی تھی۔ نوراں بھی اچھا کھانا بناتی تھی لیکن زاویان دن بہ دن اب نوال کے ہاتھ کے کھانوں کا اسیر ہو رہا تھا لیکن اس بات کے اعتراف کرنے کا وہ ارادہ نہیں رکھتا تھا۔
زاویان بہت رغبت سے کھانا کھا رہا تھا۔
” آئرہ بیٹا کھانا کھاؤ ورنہ دودو نہیں ملے گا۔” نوال نے اس کی طرف چمچ بڑھایا۔
” کیوں نہیں ملے گا دودو ہمارے بابا لاتے ہیں۔ آئرہ دودو ملے گا۔” عنایہ نے بدلحاظی سے کہا۔
نوال نے ایک نظر عنایہ کو دیکھا اور پھر آئرہ کو۔
” ہمم بابا لاتے ہیں۔” آئرہ نے بھی عنایہ کی بات سے اتفاق کیا اور نوال کے ہاتھ کو جھٹکا۔
” ہاں آئرہ کے بابا لاتے ہیں لیکن بابا نے کہا ہے کہ اگر آئرہ کھانا نہ کھائے تو دودو دینے کی بھی ضرورت نہیں ہے کیونکہ کھانا کھانے سے پاور آتی ہے۔ آئرہ جلدی سے بڑی ہو جائے گی۔” نوال نے محبت سے کہتے ہوئے اس کی طرف چمچ پھر بڑھایا۔
” بابا پاور نہیں؟” آئرہ نے آنکھیں بڑی کرتے ہوئے پوچھا۔
” پاور نہیں آئے گی کھانا کھاؤ۔”
” ان دونوں نے کھانا نہیں کھایا؟” زاویان نے مدہم آواز میں پوچھا۔
” نہیں آپ کا ویٹ کر رہی تھیں۔” نوال نے آہستگی سے کہا۔
” عنایہ بیٹا کباب دوں؟”
” مجھے بیٹا نہ کہا کرو۔ میں تمہارا بیٹا نہیں ہوں۔ میں صرف بابا کا بیٹا ہوں۔ اپنے آپ میں رہا کرو۔ میرے بابا مجھے خود ہی دیکھ لیں گے۔ تم مجھے مت دیکھا کرو۔” عنایہ نے تپتے ہوئے کہا۔
” عنایہ آپ کو میں نہیں دیکھ سکتا نوال ہی دیکھے گی۔” زاویان نے ہری جھنڈی دکھا دی۔
” مما ہیں بیٹا یہ آپ کی۔” نصار صاحب نے بالآخر مداخلت کی۔
” دادا یہ مما نہیں ہے۔” عنایہ نے غصے سے رد کیا۔
” دادا وال مما نہیں (دادا نوال مما نہیں)۔” آئرہ نے نصار صاحب کو دیکھتے ہوئے کہا۔
نوال نے بچوں کو بہت اچھے طریقے سے سنبھال لیا تھا لیکن نوال اور زاویان کے بیچ کی سرد مہری بھی نصار صاحب اور کلثوم بیگم سے کسی طور بھی پوشیدہ نہیں تھی۔
” بابا آئس کریم کھانے چلیں؟”
” پہلے یہ پلیٹ فنش کرو پھر جہاں کہو گی چلیں گے آئرہ جلدی کرو۔” زاویان نے سنجیدگی سے دونوں کو کہا۔
” بابا نوال نہیں جائے گی۔”
زاویان نے ایک نئی آنے والی آزمائش کو کوفت سے دیکھا۔
——————–
جاری ہے
