No Download Link
Rate this Novel
Episode 9
” زاویان نوال کو شاپنگ پر لے جاؤ۔ میں نے اس کی کوئی شاپنگ نہیں کی تھی۔”
” کوئی بات نہیں ماما جب اسے ضرورت ہو گی تو شاپنگ کر لے گی۔”
” نہیں زاویان تم اسے پہلے لے جاؤ۔ زوباریہ بھی کہہ رہی تھی کہ تم لوگوں کو انوائیٹ کرنے کا پلان کر رہی ہے۔”
” کیا یار اتنا سیلیبریٹ کرنے کی کیا ضرورت ہے نہ یہ اس کی پہلی شادی ہے نہ یہ میری۔”
” آئرہ کو کون دیکھے گا؟ عنایہ بھی سکول سے آنے والی ہے۔”
” میں آج گھر پر ہی ہوں۔ میں اور شازیہ دیکھ لیں گے بچوں کو۔ تم اس کے ساتھ شاپنگ پر چلے جاؤ۔”
” پھر اس کو لانے کا کیا مقصد ہوا؟”
” زاویان وہ بیوی ہے تمہاری۔ اب نو مور آرگیومنٹس۔” کلثوم بیگم نے حتمیہ انداز اپنایا۔
” چلیں جی تیار ہو جائیں۔” زاویان نے بھڑکتے ہوئے کہا۔
” آنٹی شاپنگ کی ضرورت نہیں ہے۔ میرے پاس سب کچھ ہے۔”
” جاؤ بیٹا ورنہ مجھے اچھا نہیں لگے گا۔ بچوں کی خاطر میں تمہاری شاپنگ کے لیے گھر سے جا نہیں سکی تھی جاؤ فریش ہو کر آؤ۔”
نوال خاموشی سے اٹھ گئی۔
نوال جب فریش ہو کر آئی تو زاویان اسے کہیں نہیں دکھا۔
ایک لمحے کو تو نوال کو لگا وہ اسے لے جانا نہیں چاہتا تھا اس لیے نکل گیا۔ اسی لمحے لاؤنج میں چوکیدار آیا۔
” بیگم صاحبہ زاویان صاحب آپ کا باہر گاڑی میں انتظار کر رہے ہیں۔”
نوال سر ہلاتی باہر آ گئی۔
نوال کے گاڑی میں آ کر بیٹھتے ہی زاویان نے گاڑی ہاشمی ہاؤس سے باہر نکالی۔
” یار ماما سمجھتی نہیں ہیں۔ نہ یہ میری پہلی شادی ہے نہ تمہاری۔ ہمارے ارمان پورے ہو چکے ہیں۔ شادی کی شاپنگ کرواؤ نئی نویلی دلہن کے نخرے اٹھاؤ دو بچوں کے ماں باپ بن کر یہ سب کرتے کتنے سٹوپڈ لگ رہے ہیں۔”
نوال خاموش رہی۔
مال کے باہر گاڑی روکتے ہی زاویان نے اپنے والٹ سے کارڈ نکالا۔
” یہ لو شاپنگ کر لو۔ میں ان سٹوپڈ حرکتوں کا حصہ مزید نہیں بن سکتا۔ جب فری ہو جاؤ مجھے کال کر دینا میں پک کرنے آ جاؤں گا۔” زاویان نے خراب موڈ سے کہا۔
نوال خاموشی سے اترنے لگی۔
” نوال اس میں لمٹ زیادہ ہے تم آرام سے شاپنگ کر سکتی ہو۔”
نوال کوئی بھی جواب دیے بغیر گاڑی سے اتر گئی۔
زاویان اسے جاتا دیکھتا رہا نوال کے مال میں چلے جانے کے بعد گہری سانس لیتا گاڑی آگے بڑھا لی۔
نوال کی آنکھوں سے آنسوں لڑیوں کی صورت میں گرنے لگے۔ وہ بہتی آنکھوں سے مال کے اندر چلی گئی۔
ایک کے بعد ایک فلور پر وزٹ کرتی رہی لیکن نہ اسے کچھ پسند آنا تھا نہ آیا۔
ایک شاپ کے پاس سے گزرتے ہوئے اسے کچھ آرٹیکلز پسند آئے۔ وہ مسکراتے ہوئے اندر بڑھ گئی اور دل کھول کر شاپنگ کی۔
کارڈ سے پیمنٹ کرنے کے بعد وہ مسکراتی ہوئی باہر آ گئی۔ اب اپنی شاپنگ کی تسلی کر لینے کے بعد وہ فوڈ کورٹ میں آ گئی۔
اس نے اپنے لیے کافی لی اور ایک نسبتاً کونے کے ٹیبل کا انتخاب کیا۔
اپنی میٹنگ کے لیے جاتے زاویان کو اپنے موبائل پر بینک کی طرف سے نوٹیفیکشن موصول ہوئی۔
میڈم کی دھڑا دھڑ شاپنگ ہو رہی ہے۔ ان لڑکیوں کو بھی چین نہیں ہے۔ زندگی کیسی بھی ہو یہ فرق نہیں پڑتا بس والٹ میں پیسے اور خرچ کرنے کے لیے بہانا ہونا چاہیے۔” زاویان نے تمسخر اڑایا۔
اس سے بہت کلومیٹر دور مال کے فوڈ کورٹ میں بیٹھی نوال کچھ اور سوچ رہی تھی۔
” ضرورت کیا تھی اس شادی کی؟ نہ بچوں کو ماں چاہیے نہ زاویان کو بیوی۔
اگر بچے ماں کی کمی واقعی محسوس کرتے تھے تو اسے اپنانا اتنا مشکل کیوں تھا؟ شازیہ کے ساتھ ایک میڈ اور ہائر کرتے اور دادو دونوں میڈز کی سوپر ویژن کرتیں تو بچے پل سکتے تھے اور اگر بچوں کے لیے ماں کا ساتھ ضروری تھا اور کمی واقعی محسوس کی جا رہی تھی تو بچوں کو پہلے مینٹلی پریپیئر کرتے اور شاید نہیں یقیناً برین واشنگ کی ضرورت زاویان کو تھی۔
یہ آدمی نہ مجھے میری پہلی شادی بھولنے دے گا نہ خود بھولے گا۔
بھائی جان نے تو کہا تھا زاویان بہت اچھا ہے۔ ان کا مزاج بہت سلجھا ہوا ہے۔
کیا ایسے ہوتے ہیں سلجھے ہوئے لوگ؟ وہ یہ توقع بالکل نہیں کر رہی تھی کہ شادی کی پہلی رات ہی وہ اس پر فدا ہو جائے گا۔ اس کے حسن کے قصیدے پڑھے اور محبت کا دعویدار ہو۔ محبت کے معاملے میں مرد ذات بہت کنجوس ہوتی ہے۔ چاہے انہیں جتنا مرضی چاہا جائے ان کا خیال رکھا جائے لیکن وہ بے وفا ہی ہوتے ہیں۔ بھائی جان کے دلاسوں کے بعد وہ زاویان کی طرف سے اس طرح کے رویے کی امید نہیں رکھتی تھی۔ کم از کم وہ اسے اتنا ٹف ٹائم تو نہ دے۔ بچوں سے زیادہ ٹف ٹائم تو زاویان اسے دے رہا تھا۔ گہری سانس لے کر وہ باہر نکل آئی۔
موبائل سے کیب بک کی اور کیب کا انتظار کرنے لگی۔
کیب کے آتے ہی ہاشمی ہاؤس کی طرف چل دی۔
اس کے پاس زاویان کا نمبر نہیں تھا۔ اگر ہوتا بھی تب بھی وہ اسے بلانے کا ارادہ نہیں رکھتی تھی۔
نوال جیسے ہی ہاشمی ہاؤس داخل ہوئی کلثوم بیگم زوباریہ اور سبھی بچوں کے ساتھ لان میں موجود تھیں۔ سبھی بچے کھیل رہے تھے۔
” اسلام و علیکم۔۔”
” وعلیکم السلام اتنی جلدی آ گئی۔ زاویان اندر نہیں آیا؟”
” جی ان کی میٹنگ تھی وہ وہیں چلے گئے۔” نوال نے بات بنائی۔
” آپ کیسی ہیں؟” نوال زوباریہ سے ملی۔
” بالکل ٹھیک تم کیسی ہو؟ اور اتنی سمپل تھوڑا تیار شیار ہوا کرو۔”
” ٹھیک ہوں۔۔”
” کیا کیا لیا ہے؟” کلثوم بیگم نے اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔
” میں ابھی آپ کو دکھاتی ہوں۔” نوال نے خوشی سے ٹمٹماتا چہرہ لیے کہا اور انہیں باری باری ساری شاپنگ دکھانے لگی۔ اس نے عنایہ اور آئرہ کی بےتحاشا شاپنگ کی تھی۔
” تم نے اپنے لیے کچھ نہیں لیا؟” کلثوم بیگم نے ایک کے بعد ایک شاپنگ بیگ سے عنایہ اور آئرہ کی مختلف چیزیں نکلتی دیکھیں تو پوچھے بنا نہ رہ سکیں۔
” مجھے کچھ سمجھ ہی نہیں آیا تو میں نے سوچا ان کی تو کروں بہت اچھی کلیکشن تھی۔” نوال انہیں خوش ہوتے ہوئے ساری شاپنگ دکھا چکی تھی۔
کلثوم بیگم اور زوباریہ کو بھی اس کی شاپنگ بہت پسند آئی۔
” بیگم صاحبہ کھانا لگ گیا ہے۔” نوراں نے آ کر کھانا لگ جانے کی اطلاع دی۔
” ٹھیک ہے شازیہ کو کہو یہ بیگز نوال کے روم میں رکھ دے۔” کلثوم بیگم نے ہدایت دی۔
” آئرہ میری جان کیسی ہو؟” نوال نے اسے گود میں اٹھا کر چٹاچٹ پیار کر ڈالا۔
” امم۔۔”
” نوال آپ کے لیے برگر لائی ہے کھاؤ گی؟”
” امم۔۔۔”
” بچوں اب ساری گیم بعد میں پہلے لنچ ہو گا۔” نوال نے با آواز بلند کہا۔
” ہم پہلے کھیلیں گے تم کون ہوتی ہو ہمیں کھیلنے سے روکنے والی۔” عنایہ نے غصے سے کہا۔
” بری بات عنایہ۔” کلثوم بیگم نے محبت سے ٹوکا۔
” عنایہ میں آپ سب کے لیے برگرز لائی ہوں۔ پہلے وہ کھا لو پھر کھیل لینا۔”
” برگر یاہو۔۔۔ ” سبھی بچے خوشی سے چیخنے لگے۔
وہ سب بچوں کو لے کر اندر بڑھ گئیں۔
شام کو زاویان کے گھر آتے ہی بچے دوڑ کر اس سے لپٹ گئے۔ زاویان نے ان دونوں کو باری باری پیار کیا۔
آئرہ زاویان کی گود میں چڑھ گئی۔
سامنے سے نوال کو آتا دیکھ کر اسے جیسے یاد آیا۔
” تم کیسے آئیں؟ تم نے مجھے کال ہی نہیں کی؟” زاویان نے بے ساختہ کہا۔
کلثوم بیگم نے نوال کو دیکھا۔ وہ گڑبڑا کر وضاحت دینے لگی۔
” میں نے سوچا آپ میٹنگ میں ہوں گے آپ ڈسٹرب ہو جائیں گے تو میں کیب سے آ گئی۔”
زاویان کو اس کے اور کلثوم بیگم کے انداز سے احساس ہوا اس نے کلثوم بیگم کو نہیں بتایا تھا۔
آئرہ نے ایک خوبصورت سی ڈول زاویان کو دکھائی۔
” ارے واہ کون لایا؟” زاویان نے آئرہ کو پیار کیا۔
” بابا نوال۔۔”
” نوال نے بچوں کو گفٹس دیے ہیں۔” کلثوم بیگم نے مسکراتے ہوئے بتایا۔
” جی نہیں یہ ٹوائز ہمارے بابا کے پیسوں سے آئے ہیں۔” عنایہ نے فوراً کہا۔
” عنایہ میرے بابا نے مجھے پاکٹ منی دی ہے نا میں اپنے پیسوں سے لائی ہوں۔ میں نے آپ کے بابا سے پیسے نہیں لیے۔” نوال نے پیار سے کہا۔
” زاویان تم شاپنگ بھی دیکھ لینا۔” کلثوم بیگم نے نرمی سے کہا۔
” ٹھیک ہے نا ماما مجھے لیڈیز شاپنگ میں اتنا انٹرسٹ نہیں ہے۔” زاویان نے بیزاریت سے کہا۔
” زاویان ایک بار دیکھ لینا مجھے امید ہے تمہیں پسند آئے گی۔” کلثوم بیگم بضد رہیں۔
زاویان نے چونک کر دیکھا۔
” میں فریش ہو لوں بہت بھوک لگ رہی ہے کھانا لگوا دیں۔” زاویان نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا۔
کمرے میں آتے ہی اس کی پہلی نظر صوفے پر رکھے شاپنگ بیگز پر جیسے ہی پڑی اس نے سر جھٹکا۔
اس نے ٹائی کی ناٹ کھول کر بیڈ پر اچھالی۔ اس کے دماغ میں کلثوم بیگم کی باتیں مسلسل گردش کر رہی تھیں۔ وہ واش روم کی طرف بڑھا۔ وہ واش روم میں جاتا پلٹا اور صوفے کی طرف بڑھا۔
اس نے ایک بیگ اٹھایا تو اس میں سے ایک بہت ہی خوبصورت فراک نکلا۔ وہ فراک عنایہ کے سائز کا تھا۔ اس نے دوسرا بیگ اٹھایا۔ اس میں آئرہ کے کپڑے تھے۔ وہ ایک ایک کر کے سارے شاپنگ بیگز دیکھنے لگا۔ ان سب میں عنایہ اور آئرہ کے کپڑے ہیئر پنز بینڈز اور بہت ساری ہیئر ایکسیسریز تھیں۔ ان میں ایک جوڑا بھی نوال کا نہیں تھا۔
وہ سبھی کپڑے بیگ میں رکھنے لگا۔ اسی وقت نوال کمرے میں داخل ہوئی تو زاویان کو شاپنگ دیکھتے دیکھ کر اس کی طرف آئی۔
” یہ فراک اچھا ہے نا میں نے جب یہ دیکھا تو مجھے لگا عنایہ میرے سامنے کھڑی ہے۔ مجھے عنایہ کے لیے یہ بہت اچھا لگا۔ میں نے اسی وقت لے لیا۔” نوال کے چہرے پر بےتحاشا چمک تھی۔
” اور یہ ٹاپ اور یہ پینٹ آئرہ کے لیے بہت پسند آئی۔ آئرہ یہ پہن کر کتنی کیوٹ لگے گی۔ اگر زوباریہ آپی کی طرف جانا ہوا تو یہ پہنائیں گے۔ باقی جیسے آپ کہیں گے،۔” نوال جو روانی میں مسکراتے ہوئے اسے بتا رہی تھی اس پر نظر پڑتے ہی گڑبڑا گئی اور سنجیدہ ہو گئی۔ جو محویت سے اس کی بات سن رہا تھا۔
” بہت اچھے ہیں یہی پہنائیں گے۔ تمہیں سائز کا اندازہ کیسے ہوا؟”
” روز کپڑے چینج کرتی ہوں آئیڈیا ہو جاتا ہے۔”
” اور ویسے بھی بھائی جان اور بھائی صاحب کے بچے مجھ سے بہت اٹیچڈ ہیں تو ان کی وجہ سے بھی آئیڈیا ہے۔” نوال نے سنبھل کر کہا۔
زاویان مسکرا دیا۔
” تمہاری چوائس بھی اچھی ہے۔ میں فریش ہو جاؤں۔” وہ آگے بڑھنے لگا جب نوال نے اسے پکارا۔
” بات سنیں۔۔”
زاویان نے پلٹ کر اسے دیکھا۔
” یہ آپ کا کارڈ اور یہ پیسے۔” نوال نے بیگ سے کارڈ اور پیسے نکالے۔
” کس لیے؟”
” میں نے بچوں کو ٹوائز گفٹ کیے ہیں لیکن اس کی پیمنٹ اس وقت آپ کے کارڈ سے کرنی پڑی۔”
” کوئی بات نہیں یہ رکھ لو کام آ جائے گا۔” زاویان نے کچھ بھی نہیں پکڑا تھا بس اس کا ہاتھ پیچھے کرتے ہوئے تھپتھپایا۔
” لیکن یہ پیسے تو لے لیں۔”
” بچوں کو ٹوائز ان کی ماما لے کر دیں یا بابا ایک ہی بات ہے۔” زاویان نے مسکراتے ہوئے کہا۔ وہ واش روم کی طرف بڑھ گیا۔
نوال اسے مسکراتا دیکھ کر میسمرائز رہ گئی۔
” نیکسٹ ٹائم اپنے لیے بھی شاپنگ کرنا۔”
زاویان اسے سوچوں میں چھوڑ کر واش روم میں گھس گیا۔
” زاویان ہاشمی مسکراتے بھی ہیں؟ وہ مسکراتے ہوئے کتنے اچھے لگتے ہیں۔ یہ مسکراتے کیوں نہیں ہیں؟ انہیں مسکرانا چاہیے۔” نوال نے مسکراتے ہوئے سوچا۔
شاور کے نیچے کھڑے ہو کر بھی زاویان کی سوچوں کے دھاگے نوال سے الجھ رہے تھے۔
وہ شرمندہ تھا اپنی سوچ پر اور اس سے روا رکھے اپنے رویے پر۔ ایک وہ تھی اپنی ساری شاپنگ اس کی اولاد کے لیے کر آئی تھی اور ایک وہ تھا جو اس کے بارے میں کس طرح کی باتیں سوچ رہا تھا۔ زاویان نے دکھ سے سر جھٹکا۔
ماتھے پر بکھرے بالوں پر ہاتھ پھیر کر پیچھے کیا اور باہر آیا۔ کمرے میں آیا تو اس کے کپڑے موجود نہیں تھے۔
” کپڑے ہی نہیں نکالے۔”
زاویان سر جھٹک کر وارڈروب کی طرف بڑھا اور اپنے کپڑے نکالے۔
ماضی
عامر اور شاہ رخ کراچی پولیس سٹیشن میں موجود تھے اور انہوں نے ایف آئی آر درج کروائی اپنی بہن کی گمشدگی کی۔ وہ تمام تر فارمیلیٹیز پوری کر کے باہر آئے۔ انسپیکٹر نے انہیں پوری یقین دہانی کروائی تھی لیکن عامر اور شاہ رخ ایسے ہاتھ پر ہاتھ دھر کر نہیں بیٹھ سکتے تھے۔
” بھائی جان مجھے لگتا ہے اسامہ نے اسے کوئی نقصان پہنچانے کی کوشش کی ہے ورنہ نوال ہم سے کانٹیکٹ تو کرتی۔ شاید وہ کسی مصیبت میں ہے اور ہم سے رابطہ کرنے کا کوئی ذریعہ نہ ہو اور بھائی جان اگر وہ کسی غلط ہاتھوں میں ہوئی تو؟”
” اللہ نہ کرے اچھا اچھا سوچو۔ ہمیں اسے ڈھونڈنا چاہیے۔ پولیس کے ساتھ ساتھ ہمیں بھی اسے ڈھونڈنا چاہیے۔”
شاہ رخ اور عامر نے کراچی کی سڑکوں پر اسے ڈھونڈنا شروع کیا۔ کراچی کی سڑکوں پر آتے جاتے لوگوں کے چہرے کھوجنے شروع کیے لیکن وہ انہیں ایسے کہاں نظر آنی تھی؟ انہوں نے پارکوں میں، بس اڈوں پر، ہاسپٹل میں انہوں نے کوئی ہاسپٹل نہ چھوڑا گورنمنٹ اور پرائیوٹ ہاسپٹلز کے ایمرجنسی وارڈ اور سرد خانے تک چھان مارے تھے لیکن ان کی تلاش لاحاصل رہی تھی۔ وہ دو دن کے قیام کے بعد واپس اسلام آباد کے لیے نکل گئے۔
آنے سے پہلے وہ ایک بار پھر اسلام آباد تھانے سے ہوتے آئے تھے۔ جہاں آفیسر نے انہیں نوال کے بازیاب کروانے کی مکمل یقین دہانی کروائی تھی۔
اسلام آباد آتے ہی وہ گھر جانے سے بھی پہلے پولیس سٹیشن گئے تھے اور نوال کی گمشدگی کی رپورٹ درج کروائی اور کراچی پولیس سٹیشن سے نوال کے متعلق کوارڈینیشن کی ریکؤیسٹ کی تھی۔
احمر نے اپنے کمشنر دوست سے ریکؤیسٹ کر کے اس معاملے کو اہمیت دینے کا کہا تھا۔
عامر اور شاہ رخ شکستہ قدموں سے مختار ہاؤس پہنچ گئے تھے۔ جہاں سب ان کا بے صبری سے انتظار کر رہے تھے۔
ثانیہ بھی احتشام کے ساتھ آئی ہوئی تھی۔ سبھی بچے سکول گئے ہوئے تھے اور بچوں کو تاحال نوال کی گمشدگی سے لاعلم رکھا گیا تھا کیونکہ نوال میں ان سب کی جان بستی تھی۔
ٹرین اسلام آباد اسٹیشن پر رک گئی نوال بہتی آنکھوں سے ٹرین سے باہر نکلی۔ اسلام آباد کی حدود میں پاؤں رکھتے ہی اس کے آنسوؤں میں شدت آ گئی حواس سلب ہونے لگے۔ وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی اسٹیشن سے باہر آ گئی۔
ایک رکشے میں بیٹھ گئی۔
” چلو بھائی۔۔”
” کہاں جانا یے باجی؟”
” تم چلو میں بتاتی ہوں۔”
ڈرائیور رکشہ اسلام آباد کی سڑکوں پر دوڑا رہا تھا۔ وہ اپنے سیکٹر میں داخل ہو چکی تھی پر اسے اپنی گلی یاد نہیں آ رہی تھی۔
” باجی تم امیروں والا پرانک کر ریا ہے ہمارے ساتھ؟”
” نہیں بھائی تم چلو جیسے ہی ملتا ہے میں تمہیں بتاتی ہوں۔”
” تم ہم کو دو گھنٹوں سے گھما رہا ہے۔ اب تو ہم کو لگنے لگا ہے کہ ہم خود گم ہو جائے گا۔ اب پہلے کرایہ دو۔”
” بھائی میرے پاس پیسے نہیں ہیں۔”
” دیکھا تم ہمیں مذاق سمجھتا ہے؟ اترو ہمارے رکشے سے۔”
” بھائی پلیز تم چلو میں گھر جاتے ہی تمہیں تمہاری مرضی کے پیسے دوں گی۔ تم جتنے کہو گے۔”
” اور اگر تم مکر گیا تو؟ نہیں نہیں اترو۔”
” پلیز بھائی میری مدد کر دو۔” نوال کی آنکھوں سے آنسوں تیزی سے برسنے لگے۔
” باجی اگر تم دھوکا کرو گی تو اللہ تمہیں معاف نہیں کرے گا تم غریب کا حق مارو گی۔”
” پلیز بھائی چلو۔”
وہ رکشہ دوبارہ سے سٹارٹ کر چکا تھا۔
” بھائی رکشہ تھوڑا آہستہ چلاؤ۔”
” کیا فرق پڑتا ہے ہمیں کون سا گھر مل رہا ہے۔”
” روکو روکو۔۔”
ڈرائیور نے تیزی سے رکشہ روکا۔
نوال رکشے سے اتر کر پیچھے کی طرف بھاگی۔۔
” اوہ باجی کدھر بھاگ رہا ہے؟”
رکشہ ڈرائیور اس کے پیچھے بھاگا۔
نوال نے دروازہ زور سے دھڑ دھڑانا شروع کر دیا۔
” کیا کر رہا ہے باجی بیل بجا لو۔ ” رکشہ ڈرائیور نے بیل بجاتے ہوئے کہا۔
چوکیدار نے دروازہ کھولا۔ نوال تیزی سے اندر گھس گئی۔
” او باجی میرے پیسے تو دیتی جاؤ۔”
” کیوں شور کر رہے ہو؟” چوکیدار نے جھاڑ دیا۔
” وہ تمہارا باجی میرے پیسے۔۔۔۔”
” دے دیتے ہیں ٹھہرو تم۔”
چوکیدار اندر بڑھ گیا۔
نوال نے داخلی دروازے سے اندر قدم رکھا۔ جہاں سامنے ہی لاؤنج میں گھر کے سبھی مکین موجود تھے۔
نوال کی پہلی نظر مختار صاحب پر گئی۔ اس کا رہا سہا ضبط بھی ٹوٹ گیا۔ وہ تیزی سے ان کی طرف لپکی۔
” بابا۔۔” نوال روتے ہوئے ان کے سینے سے لگ گئی۔
سبھی افراد جھٹکے سے کھڑے ہو گئے۔
کہاں وہ عامر اور شاہ رخ اس کی تلاش میں مایوس لوٹے تھے اور اگلا لائحہ عمل سوچ رہے تھے۔ کہاں وہ خود ان کے پاس آ گئی تھی اور وہ بھی کس حالت میں؟
” نوال کہاں تھی؟”
” نوال تم ٹھیک ہو؟”
شاہ رخ دروازے کی طرف بڑھا۔
” شاہ رخ بھائی رکشہ ڈرائیور پیسے مانگ رہا ہے۔” چوکیدار نے آ کر اطلاع دی۔
” میں دیکھتا ہوں۔” شاہ رخ باہر کی طرف لپکا۔
” اسے پیسے دے دیں میں نے اسے نہیں دیے۔۔ میرے پاس پیسے نہیں۔۔” نوال نے روتے ہوئے ٹوٹے لفظوں سے کہا۔
” کوئی بات نہیں بھائی دیکھ لے گا۔” مختار صاحب نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا۔
” اسے بٹھائیں۔” احمر نے آگے بڑھ کر اسے بٹھانے کا اشارہ کیا۔
” صائمہ جلدی پانی لاؤ۔” عامر نے سنجیدگی سے کہا۔
گھر کے سب ہی افراد پریشان نظر آ رہے تھے۔
نوال کو بٹھا دیا گیا۔ صائمہ پانی لے آئی۔ نوال نے چند گھونٹ پی کر رکھ دیا۔
” نوال بچے کہاں تھی؟” احمر نے نرمی سے پوچھا۔
” کیا ہوا ہے؟” احتشام نے فکرمندی سے پوچھا۔
” یہ کیا حالت بنائی ہوئی ہے؟ ہوا کیا ہے؟” عامر نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا۔
” مجھے معاف کر دیں میں نے آپ لوگوں کو کبھی نہیں بتایا۔ اسامہ میرے ساتھ اچھا نہیں تھا اور جب سے ہم کراچی شفٹ ہوئے تھے۔ اس کا رویہ یکسر بدل گیا تھا۔ وہ مجھے بہت مارتا پیٹتا تھا۔”
” ابھی کہاں ہے اسامہ؟” عامر نے سنجیدگی سے پوچھا۔
” اس نے مجھے ڈیوورس دے دی ہے اور قاتلانہ حملہ کر کے سڑک پر پھینک دیا۔”
نوال نے روتے ہوئے بتایا۔
” کس کے ساتھ آئی ہو؟ ہاسپٹل کیسے پہنچی؟” احمر نے پریشانی سے پوچھا۔
” کوئی راہ گیر لے گیا تھا۔ میں نے نہیں دیکھا۔ میں چار دن ہاسپٹل میں رہی۔ میرے پاس کوئی بھی نہیں تھا۔”
” کال کیوں نہیں کی بیٹا؟” مختار صاحب نے ازحد پریشانی سے پوچھا۔
” میں نے بہت کالز کیں شاہ رخ کو بھائی جان کو سب کے موبائل بند تھے۔”
” کس نمبر سے کی تھی؟” شاہ رخ نے فکرمندی سے پوچھا۔
” نرس کے نمبر سے کی تھی۔”
” میرا خیال ہے بھائی جان وہ نمبر اس نرس کا ہی ہو گا۔”
” ہم کراچی میں تھے تم سے ملنے گئے تھے۔ تم ہمیں وہاں نہیں ملی تھی۔ ہم بہت پریشان ہو گئے تھے۔ پولیس میں تمہاری گمشدگی کی رپورٹ درج کروائی تھی۔ آج ہی واپس آئے ہیں۔” شاہ رخ نے وضاحت دی۔
” آئی ایم سوری بھائی جان میں نے وہ چین اس ڈاکٹر کے پاس گروی رکھوا دی ہے۔ میرے پاس پیسے نہیں تھے۔ ہاسپٹل کا بل دینا تھا اور واپس آنا تھا۔”
” کوئی بات نہیں بیٹا کچھ بھی تم سے زیادہ قیمتی نہیں ہے۔” عامر نے پیار سے کہا۔
” نائمہ کچھ کھانے کو لاؤ۔” احمر نے سنجیدگی سے کہا۔
نائمہ سر ہلا کر چلی گئی۔
” آئی ایم سوری ماما میں نے بہت کوشش کی کہ آپ کی تربیت پر کوئی انگلی نہ اٹھے۔ میں ہار گئی۔ طالاق کا دھبہ لے کر پھر یہیں آ گئی۔” عظمیٰ بیگم کے سینے سے لگی وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔
عظمیٰ بیگم بھی شدت رونے لگیں۔ کیا عمر تھی ان کی بیٹی کی جو وہ طالاق دھبہ لے کر ان کے در پر آ گئی تھی۔
” نوال بیٹا تم نے ہمیں یہ سب پہلے کیوں نہیں بتایا۔” احمر نے تکلیف سے پوچھا۔
” بھائی صاحب میں نے سوچا میں اپنی محبت اور وفا سے اسے جیت لوں گی لیکن میں غلط تھی۔”
” بیٹا ہمارے لیے تم خاص ہو اگر تمہیں کچھ ہو جاتا تو پھر ہم کیا کرتے؟” احمر نے سنجیدگی سے سمجھایا۔
” یار نوال فائدہ ایسی محبت اور دوستی کا جب تم مجھے اپنی تکلیف نہیں بتاؤ گی؟” شاہ رخ نے تاسف سے پوچھا۔
” آئی ایم سوری۔” نوال نے تکلیف سے کہا۔
” ایک لگے گی اگر اب سوری کہا۔” شاہ رخ نے مصنوعی خفگی سے کہا۔
سب کی آنکھیں نم تھیں. سبھی اس کی تکلیف میں تکلیف محسوس کر رہے تھے۔
” ماما وہ سفاک انسان اپنی اولاد کا بھی قاتل ہے۔”
” کیا وہ یہ بات جانتا تھا؟” ثانیہ نے کرب سے پوچھا۔
” اس بار بھی وہ یہ بات جانتا تھا۔” نوال نے اذیت سے کہا۔
” نوال پچھلی بار تمہیں سیڑھیوں سے دھکا اس نے دیا تھا؟” ثانیہ نے صدمے سے پوچھا۔
” ہاں۔۔”
” نوال تمہیں یہ بات پہلے بتانی چاہیے تھی۔ اگر تم یہ پہلے بتاتی تو یہ سب نہ ہوتا۔ وہ ٹھیک ہو ہی نہیں سکتا تھا بلکہ تمہاری خاموشی نے اس کی ہمت بڑھائی اور آج اس نے تمہیں بے رحمی سے مار کر سڑک پر پھینک دیا۔” مختار صاحب نے افسوس سے کہا۔
” چلیں چھوڑیں ساری باتیں۔ اس وقت ہمارے لیے یہ معنی رکھتا ہے کہ ہماری نوال ہمارے سامنے ہے۔ اب نوال کو کچھ کھلائیں۔” نائمہ بھابھی نے ماحول کو ریلیکس کیا۔
” نوال ریلیکس ہو جاؤ کھانا کھاؤ بیٹا۔” احمر نے محبت سے کہا۔
” مجھے بھوک نہیں ہے درد بہت ہو رہا ہے۔”
” تھوڑا سا کھا لو پھر ڈاکٹر کو بھی دکھاتے ہیں۔” کلثوم بیگم نے محبت سے کہا۔
بمشکل چند نوالے کھا کر اس نے پلیٹ پیچھے کھسکا دی.
” کہاں درد ہے بیٹا؟” مختار صاحب نے نرمی سے پوچھا۔
نوال انہیں حرف بہ حرف ساری بات بتاتی چلی گئی۔
” ثانیہ نوال کو اندر لے جاؤ اور چینج کروا دو پھر اسے ڈاکٹر کے لے کر چلتے ہیں۔” مختار صاحب نے سنجیدگی سے کہا۔
ثانیہ سر ہلاتی نوال کو لے کر اندر کی جانب بڑھ گئی۔
پولیس وین کے سائرن کی آواز سب کو چونکا گئی۔ پورے محلے میں سائرن کی آواز نے رہائشیوں کو متحرک کر دیا۔
پولیس وین نے رکتے ہی اسامہ کے گھر کا دروازہ زور زور سے دھڑدھڑایا۔
” کون ہے بھئی؟” شہناز دروازے کی طرف بڑھی۔
” اماں پولیس تو نہیں؟” زارا نے ڈر کر پوچھا۔
اسامہ یہ بات سنتے ہی پچھلے دروازے کی طرف بھاگا۔
دروازہ کھلتے ہی زارا کے شک کی تصدیق ہو گئی۔
” پولیس۔۔۔”
” اسامہ کو بلائیں ہم اسے لینے آئیں ہیں؟” انسپیکٹر نے سنجیدگی سے کہا۔
اسامہ کے اوسان خطا ہونے لگے۔
جاری ہے
