No Download Link
Rate this Novel
Episode 7
آنسو تواتر سے رخساروں کو بھگو رہے تھے۔
” کہاں تھی وہ؟”
اسامہ کی زندگی میں اس کی ماں اور بہنیں اہم تھیں۔ اس کی کوئی گنجائش نہیں تھی اور زاویان کی زندگی میں اس کے بچے اہم تھے۔ وہ کہاں تھی؟ دونوں مردوں کی زندگی میں اس کی کوئی حیثیت نہیں تھی۔ اس کی کہیں کوئی گنجائش نہیں نکلتی تھی۔
ایک بار پھر بےقدری اس کا مقدر ٹھہری تھی۔
یقیناً اسی میں کوئی کمی تھی جو وہ کسی کے دل میں کوئی محبت پیدا نہیں کر پاتی تھی لیکن خیر یہ تو بچے ہیں۔ بچوں کے دلوں میں جگہ بنانا اتنا مشکل نہیں ہو گا۔ میں کر لوں گی پھر سب ٹھیک ہو جائے گا۔ جہاں تک رہی بات زاویان کی تو ان کی زندگی میں تو وہ ویسے بھی دلچسپی لینے کا ارادہ نہیں رکھتی تھی۔ محبت کے پیچھے بھاگنا صرف رسوائی ہے اور وہ زاویان کے پیچھے نہیں بھاگے گی۔ اسے بچے چاہیے تھے اور وہ مل گئے۔ اب بس ان کا دل جیتنا ہے۔
نوال نے سیاہ آسمان کو دیکھتے ہوئے سوچا۔ رات کے اس پہر ٹھنڈی ہوائیں چل رہی تھیں۔ آسمان سیاہ بادلوں سے دھکا ہوا تھا۔ اس سیاہ آسمان پر چاند پوری آب و تاب سے چمک رہا تھا۔ ننھے ننھے تارے جگمگا رہے تھے۔ نیچے لان اس وقت خالی پڑا تھا لیکن اس وقت کی خاموشی اور چہار سو پھیلا سکوت نوال کو بہت بھلا لگ رہا تھا۔ نوال کو اس پہر لگتا تھا جیسے یہ سب اس کی تنہائی کے ساتھی ہیں کیونکہ اس کی زندگی میں تنہائی بہت گہری تھی۔ جو شاید کوئی ختم نہیں کر سکتا تھا۔ نوال کو ایسا لگتا تھا کہ اس رات کو بھی نوال کی طرح سب اکیلے چھوڑ دیتے ہیں۔
دوپٹے کے پلو سے چہرہ رگڑتی وہ اندر آ گئی۔ کپ ٹیبل پر رکھتی وہ آئرہ کی طرف بڑھی۔
اس نے جھک کر اس کے گال پر بوسہ دیا۔ اسی لمحے زاویان نے کروٹ بدلی اور آئرہ پر ہاتھ رکھا۔ نوال اس پر بلینکٹ ٹھیک کر رہی تھی۔ اس کا ہاتھ زاویان کے ہاتھ تلے دب گیا۔
زاویان نے جھٹ آنکھیں کھولیں۔
” تم یہاں کیا کر رہی ہو؟” زاویان نے غصیلے لہجے میں پوچھا۔
” پلیز آرام سے بات کریں آئرہ سو رہی ہے۔ وہ ڈر جائے گی۔ میں اس کو دیکھ رہی تھی۔” نوال نے سرگوشی نما کہا۔
” صرف اس کو ہی دیکھنا اس سے آگے کے خواب نہ پالنا۔” زاویان دھیمی آواز میں غرایا۔
نوال اسے صرف دیکھ کر رہ گئی۔
نوال نے اس کے ہاتھ کے نیچے دبا اپنا ہاتھ آہستگی سے نکال لیا۔
وہ چپ چاپ اس کے سامنے سے ہٹ گئی۔
وہ جا کر صوفے پر بیٹھ گئی۔ دوپٹہ اتار کر ایک طرف رکھا اور لیٹ گئی۔ اس کی آنکھیں ایک بار پھر آنسوؤں سے بھرنے لگیں۔
اسی آنسوؤں کی برسات میں اس پر نیند کب مہربان ہوئی اسے پتا نہ چلا۔
عرشیہ بیڈ پر دلہن بنی بیٹھی تھی۔ چہرے کو گھونگھٹ سے چھپائے زاویان ہاشمی کی منتظر تھی۔۔ زاویان نے خاص فرمائش کی تھی کہ وہ اپنے عجلہ عروسی میں گھونگھٹ نکالے خالص روایتی دلہنوں کی طرح اس کا انتظار کرے۔
زاویان نے کمرے آ کر اپنی شیروانی اتاری اور صوفے پر اچھال دی۔ اب وہ سفید کرتا شلوار میں ملبوس تھا۔
وہ بیڈ پر دھڑام سے ڈھیر ہو گیا۔
” آج میں بہت تھک گیا ہوں۔”
زاویان نے مسکراتے ہوئے اس کے گھونگھٹ میں چھپے چہرے کو دیکھا۔
” تم کہاں تھک گئے؟ تم سے زیادہ میں تھکی ہوں۔ صبح سے رسمیں پھر سیلون پھر شوٹ پھر ایونٹ پھر رسمیں پھر تمہارا لمبا انتظار۔” عرشیہ نے گھونگھٹ الٹا دیا اور ٹانگیں کھول لیں۔
” یار یہ میں نے اٹھانا تھا۔”
” تم تو آ کر آرام کر رہے ہو میں نے تمہیں دو دن سے نہیں دیکھا۔”
” میں نے پکچر بھیجی تو تھی۔”
” مائی ڈیئر ہسبینڈ وہ پکچر تھی۔ میں تمہارے روبرو تو نہیں تھی۔
آنکھوں کی پیاس تو دیدار یار سے براہ راست بجھتی ہے۔”
زاویان اٹھ کر بیٹھ گیا۔
” تم اتنی محبت نچھاور کرو گی تو تمہارے لیے ہی مشکل ہو جائے گی۔”
عرشیہ کی کھنکتی ہنسی پورے کمرے میں گونجی۔
” یار میں نے تمہیں کہا بھی تھا کہ تم آج کے دن تھوڑا شرماتی لجاتی گھونگھٹ اوڑھ کر رکھتی میں گھونگھٹ اٹھاتا۔ تمہاری تعریفوں میں پل باندھتا اینڈ سو آن۔”
” اوہ مائی ڈیئر ہسبینڈ دل چھوٹا نہ کرو چلو شروع ہو جاؤ۔” عرشیہ نے گھونگھٹ دوبارہ ڈالا۔
زاویان بھی الرٹ ہوا۔
زاویان نے آہستگی سے گھونگھٹ اٹھایا۔
اس کی آنکھوں میں والہانہ محبت کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر موجزن تھا۔
” آئی لو یو۔”
عرشیہ کی آنکھیں خودبخود جھک گئیں۔
” آئی لو یو سو مچ عرشی۔ تم میری زندگی میں آنے والی پہلی لڑکی ہو اور تمہارے بغیر میں جینے کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔” عرشیہ کا ہاتھ پکڑ کر اس نے اپنے دل کے مقام پر رکھا۔
” اللہ کے بعد یہ دل تمہارا ہی نام لیتا ہے اور تمہارے لیے ہی دھڑکتا ہے۔ کیا تم میری دھڑکنوں کے شور کو سن سکتی ہو؟”
عرشیہ نے دانتوں تلے لب دبائے۔ کچھ لمحے سوچا پھر آگے بڑھی اور اس کے گال پر بوسہ دیا۔
” آئی لو یو ٹو زاوی۔”
زاویان کو اپنے گال پر نرم لمس محسوس ہوا۔
” میں تمہاری زندگی میں آنے والی آخری لڑکی ہوں گی اور بے وفائی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور اگر تم نے بے وفائی کی تو تمہارے خواب میں آ کر تمہیں تنگ کیا کروں گی۔”
” خواب میں کیوں؟” زاویان حیران ہوا۔
” کیونکہ میری زندگی میں یہ ممکن نہیں۔ تم میرے مرنے کے بعد ہی یہ ہمت کر سکتے ہو۔” عرشیہ نے انگلی اٹھا کر کہا۔
” نہیں عرشی تمہارے بغیر تو سانسیں بھی ختم ہو جائیں گی۔ میری سانسیں اور میری زندگی تمہاری موجودگی کی محتاج ہیں۔” زاویان نے اس کی ناک سے ناک ٹکرائی۔
” میں چاہتا ہوں ان آنکھوں میں ہر لمحہ میرا عکس ہی جگمگائے۔” زاویان نے باری باری اس کی دونوں آنکھیں چوم لیں۔
” اور جب تم ان لبوں سے زاوی کہتی ہو تو میں کسی اور ہی دنیا میں پہنچ جاتا ہوں۔” زاویان اس کے لپسٹک سے سجے سرخ ہونٹوں پر جھکا۔
عرشیہ نے اس کے گلے میں بانہیں ڈال لیں اور آنکھیں موند گئی۔
زاویان آئرہ کے رونے کی آواز پر ہوش کی دنیا میں آیا۔
وہ آئرہ کو تھپکنے لگا۔
” میں نے تم سے بے وفائی نہیں کی عرشی۔ میں ایسا کر ہی نہیں سکتا۔ میرا دل بھی تمہارے ساتھ منوں مٹی تلے دفن کر دیا گیا تھا۔ یہ دنیا کو نظر آنے والا زاویان ہاشمی عنایہ اور آئرہ کا باپ ہے۔ جسے عنایہ اور آئرہ کے لیے یہ قدم اٹھانا پڑا۔ میں تم سے بے پناہ محبت کرتا ہوں اور بےحساب محبت کرتا ہوں اور کرتا رہوں گا۔ میں بچوں کے لیے اسے لایا ہوں۔ ہمارے بچوں کو ماں کی ضرورت تھی۔ اس سے آگے یہ کچھ بھی نہیں ہے۔ میری اور تمہاری محبت کے درمیان یہ کبھی نہیں آئے گی۔ میں اسے آنے ہی نہیں دوں گا۔” زاویان عرشیہ کی تصویر کو دیکھتے ہوئے اسے یقین دلا رہا تھا۔
زاویان نے نوال کو دیکھا۔ جو کب کا سو چکی تھی۔ یہ لڑکی اسے بے سکون کر کے اس کی عرشیہ کا چین اڑا کر کیسے اتنی پُرسکون ہو سکتی تھی۔
نوال ہڑبڑا کر اٹھی۔ زاویان اس پر جھکا اس کے بازو کو جھنجھوڑ رہا تھا۔
وہ شاید نہیں یقیناً اسے اٹھا رہا تھا۔
” جی۔۔” نوال ہڑبڑا کر سیدھی ہوئی۔
” کیا جی؟ دیکھو کتنا خوبصورت میوزک بج رہا ہے۔ اسے میں نے چپ کروانا ہے؟ تو تم یہاں کس لیے آئی ہو۔”
نوال نے آئرہ کو گود میں اٹھایا۔
” عامر نے تمہیں بتایا نہیں تھا مجھے اپنے بچوں کے لیے ماں چاہیے تھی۔ سوچ لو اگر تم یہ نہیں کر سکتی تو ابھی بھی وقت ہے جا سکتی ہو۔ ڈرائیور نیچے ہی ہے چھوڑ آئے گا۔”
نوال کی آنکھیں پھر بھرنے لگیں۔
آئرہ کا ڈائپر چینج کرنا تھا۔ نوال ڈائپر چینج کرنے کے لیے ڈائپر لینے کے لیے آگے بڑھی۔
زاویان نے خون خوار نظروں سے نوال کی طرف دیکھا۔
” اتنی جلدی اکتا بھی گئی؟” زاویان نے تیر چلایا۔
ڈائپر نکال کر نوال جب پلٹی تو زاویان خاموش ہو گیا۔
نوال نے کچھ لمحے اسے دیکھا۔
” جلدی کرو وہ عنایہ کو اٹھا دے گی۔”
نوال نے سر جھٹکا۔
” آپ لیٹ جائیں۔”
” کیوں کیا مسئلہ ہے تم نا اپنے کام سے کام رکھو۔ صرف اس پر دھیان دو۔ میں جاگوں یا سوؤں تمہارا چیپٹر نہیں ہے۔”
نوال نے دوپٹہ اتار کر ایک طرف رکھا۔ اس کا دوپٹے سے بے نیاز سراپا اس کی آنکھوں کے سامنے تھا۔
زاویان کو اس کی بات اب سمجھ آئی تھی۔ زاویان نے نگاہیں پھیریں اور آنکھیں بند کر کے لیٹ گیا۔
ڈائپر چینج کر کے نوال آئرہ کے لیے دودھ بنانے کے لیے فیڈر اور دودھ نکالنے لگی۔
کیونکہ اب آئرہ کا سونے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔
آئرہ کھیلنے لگی۔
” بات سنیں۔۔”
زاویان نے کوفت سے آنکھیں کھولیں۔ وہ اب دوپٹہ لے چکی تھی۔
” آئرہ دودھ کے کتنے چمچ لیتی ہے؟”
” ڈال کر دیکھ لو کتنا لیتی ہے؟ ماں تو تم ہو میں تھوڑی ۔ اب مجھے مت بلانا۔” زاویان نے کھردرے لہجے میں کہا اور اپنی آنکھوں پر بازو رکھ لیا۔
” ویسے تم شازیہ سے پوچھ نہیں سکتی تھی؟” کچھ دیر بعد زاویان نے کڑوے انداز میں پوچھا۔
” وہ مجھے بتائے بغیر چلی گئی۔ اس نے مجھے پوچھنے کا موقع ہی نہیں دیا۔”
زاویان نے استہزائیہ نظروں سے دیکھا۔ جیسے یقین نہ آیا ہو۔
” تم سارے ہی ان سے جان چھڑاتے ہو۔”
” مجھ پر رائے قائم کرنے میں آپ نے بہت جلدی نہیں کی؟” نوال نے سادگی سے پوچھا۔
” تو پھر اب تم طے کرو نا کیونکہ تم اس کی ماں ہو تاکہ مجھے رائے قائم کرنے کا موقع ہی نہ ملے۔”
نوال نے سر خم کیا۔
آئرہ فیڈر پی رہی تھی اور نوال اس کے بالوں میں انگلیاں چلا رہی تھی۔
” ٹھیک کہا آپ نے میں نے یہ اس لیے پوچھا کہ یہ چھوٹے چھوٹے ایکسپیریمنٹس اس کی روٹین اور موڈز کو ڈسٹرب نہ کریں۔ اب سے میں ہی طے کروں گی۔”
” میرے بچوں کے زندگی کے فیصلوں میں تم خودمختار زیادہ جلدی نہیں ہو رہی؟”
” ٹھیک ہے پھر میں آپ کو ہی مخاطب کروں گی چاہے آپ کو کتنا ہی برا کیوں نہ لگے۔”
” یہی پرابلم ہوتی ہے جن لڑکیوں کی دوسری شادی ہو وہ ایسے ہی بحث پر اتر آتی ہیں۔ اسی لیے ڈیوورس ہوئی ہے؟” زاویان نے طنز کا تیر چلایا۔
نوال کی آنکھیں لمحے میں آنسوؤں سے بھر گئی۔
زاویان کو بول کر احساس ہوا کہ اسے سڑک سے اٹھا کر ہاسپٹل پہنچانے والا وہی تو تھا۔
زاویان نے گہری سانس لی اور آنکھوں پر پھر سے بازو رکھ لیا۔
