52.9K
31

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 6

چار دن ہو چکے تھے اسے کراچی سے آئے۔ اس بیچ میں زاویان کو ایک بار بھی وہ لڑکی یاد نہیں آئی تھی۔ عنایہ اور آئرہ سے پہلے یا بعد میں اسے کچھ یاد نہیں رہتا تھا۔ ان کی موجودگی ہی اس کے لیے سب کچھ تھی۔ ان چار دنوں میں وہ لڑکی اس کے زہن کے پردے سے مکمل طور پر محو ہو چکی تھی۔
وہ اپنے آفس میں راکنگ چیئر پر بیٹھا فائل سٹڈی کر رہا تھا اور ایل ای ڈی پر نیوز چینل لگا ہوا تھا۔
” ناظرین ہم آپ کو دکھاتے چلیں براہ راست گلستان جوہر کے ایک فلیٹ میں ایک لڑکی کی لاش ملی ہے۔ جس کو تشدد کا نشانے بنانے کے بعد بے رحمی سے قتل کر دیا گیا۔”
زاویان نے جھٹکے سے سکرین کی طرف دیکھا۔۔
اسے کراچی کی سڑک پر ملی وہ لڑکی یاد آئی۔
” وہ کیسے بھول سکتا تھا اسے؟ اسے ہوش آ گیا ہو گا؟ اس کے گھر والے پہنچ گئے ہوں گے؟” زاویان نے اپنا ماتھا مسلا۔
زاویان نے میکانکی انداز میں اپنا موبائل اٹھایا اور کراچی کے لیے اپنی ٹکٹ بک کروائی اور ایئرپورٹ کے لیے نکل گیا۔
زاویان کی کمپنی کی مختلف شہروں کی ٹکٹس ہولڈ پر ہوتی تھیں۔ ڈیٹ اور ٹائم وقت پر کنفرم کر لیا جاتا تھا۔ اس لیے زاویان کو کوئی مشکل درپیش نہ آئی۔
آفس سے ایئرپورٹ وہاں سے کراچی اور پھر ہاسپٹل پہنچنے تک کا سفر اس نے میکانکی انداز میں طے کیا۔
خود کو ہاسپٹل کے کوریڈور میں چلتا دیکھ کر اس کی آنکھیں کھلیں۔ اس کے حواس کام کرنا شروع کیے۔
جب وہ یہاں پہنچ ہی گیا تھا تو وہ اس لڑکی سے مل لے کیونکہ کراچی میں تو اسے آج کوئی کام نہیں تھا۔ اس بات سے انجان کے وہ اپنے آفس سے یہاں اسی لڑکی کے لیے تو آیا ہے۔
وہ اس لڑکی کے روم میں گیا تو وہاں کسی اور پیشنٹ کو دیکھ کر معذرت کرتا وہاں سے نکل آیا۔
” یہاں ایک پیشنٹ ایڈمٹ تھی۔ جس کے پیٹ پر چاقو مارا گیا تھا۔ وہ کون سے روم میں ہے؟” زاویان نے پاس سے گزرتی نرس کو روک کر پوچھا۔
” وہ ابھی ڈسچارج ہوئی ہے۔ آپ کو باہر نہیں ملی؟” نرس نے سنجیدگی سے بتایا۔
زاویان نے سر نفی میں ہلایا۔
” اس کے گھر والے آ گئے تھے؟”
” نہیں سب کے فون ہی بند تھے۔”
” اس نے بل کیسے پے کیا؟ اس کے پاس تو پیسے نہیں ہوں گے۔” زاویان نے عام سے انداز میں پوچھا۔
” اپنی چین ڈاکٹر کے پاس گروی رکھوا گئی ہے۔”
” کیا میں ڈاکٹر سے مل سکتا ہوں؟”
” جی ڈاکٹر اپنے روم میں ہی ہیں۔”
” ان کا روم کس طرف ہے؟”
” یہاں سے رائٹ جا کر چوتھے نمبر کا روم ہے۔”
” تھینک یو۔۔”
کچھ دیر بعد زاویان ڈاکٹر کے روم کے باہر تھا۔ دروازے پر ناک کر کے اجازت ملنے پر وہ اندر داخل ہوا۔
رسمی علیک سلیک کے بعد وہ چیئر سنبھال کر بیٹھ گیا۔
” ڈاکٹر صاحبہ وہ پیشنٹ جسے اس دن ایمرجنسی میں لایا گیا تھا۔ اس پر قاتلانہ حملہ ہوا تھا۔ اس کی طبیعت اب کیسی ہے؟”
” ظاہری زخم کے ساتھ زہنی زخم بھی اسے ملے ہیں۔ گھر والوں نے فون نہیں اٹھایا۔ وہ ڈسچارج ہو گئی ہے۔”
” ڈاکٹر مجھے پتا چلا ہے کہ وہ چین آپ کے پاس چھوڑ گئی یے۔”
” ظاہر ہے مسٹر ہاشمی ہاسپٹل کے کچھ قائدے اور قانون ہیں۔ جس کے مطابق بل کے بغیر کوئی پیشنٹ ڈسچارج نہیں ہو سکتا۔ یہ ایک پرائیویٹ ہاسپٹل ہے کوئی خیراتی ادارہ نہیں۔ اس نے کہا تھا کہ گھر پہنچ کر پیسے بھجوا دے گی اور چین لے جائے گی لیکن ہاسپٹل کا کوئی ایسا رول نہیں ہے تو میں نے اس کی مدد کر دی اور کچھ پیسے اسے دے دیے۔ جس سے وہ اپنے ہاسپٹل کا بل پے کر کے چلی گئی۔”
” کتنا خرچہ آیا ہے اس لڑکی کے علاج میں؟”
ڈاکٹر نے بتا دیا۔
زاویان نے چیک کاٹ کر ڈاکٹر کی طرف بڑھایا۔
” وہ چین مجھے دے دیں۔ وہ چین میں اس لڑکی تک پہنچا دوں گا۔”
ڈاکٹر نے بیگ سے چین نکال کر زاویان کی طرف بڑھائی۔
” آپ اس لڑکی کو جانتے ہیں؟”
” بالکل بھی نہیں لیکن ڈھونڈنے نکلو تو خدا مل جاتا ہے۔” زاویان نے وہ چین تھامتے ہوئے کہا۔
گولڈ کی وہ خوبصورت سی چین جس کے سینٹر میں تین پرلز چمک رہے تھے۔

وہ چین لیے ڈاکٹر کے روم سے باہر آ گیا اور واپسی کے سفر پر گامزن تھا۔

” کیوں بابا؟”
” کیونکہ بیٹا آپ لوگوں کو مما چاہیے تھیں تو میں آپ کی مما کو لے آیا ہوں اور مما تو بچوں کے ساتھ ہی ہوتی ہیں۔” زاویان نے قائل کرنا چاہا۔
زاویان نے اب تک نظر اٹھا کر بھی نوال کی طرف نہیں دیکھا تھا۔ وہ عنایہ سے مخاطب تھا۔
نوال آئرہ کا ڈائپر چینج کر کے اسے گود میں اٹھا چکی تھی۔
” لیکن یہ ہماری مما نہیں ہے۔ اس لیے یہ اس کمرے کے علاؤہ کہیں بھی چلی جائے۔” عنایہ نے غصے سے کہا۔
نوال دونوں باپ بیٹی کے مذاکرات سن رہی تھی کہ وہ دونوں باپ بیٹی کیا فیصلہ کرتے ہیں؟
” آپ کی مما اللہ تعالیٰ کے پاس چلی گئی ہیں۔ اس لیے میں آپ کے لیے دوسری مما لایا ہوں۔”
” مجھے دوسری نہیں اپنی مما چاہیے تھیں بابا ” عنایہ نے روتے ہوئے کہا۔
زاویان نے اس کے آنسو صاف کیے اور اسے اپنے سینے سے لگایا۔
” تم چلی جاؤ یہاں سے۔” عنایہ جھٹکے سے نوال کی طرف بڑھی۔
اس نے نوال کو زور سے دھکا دیا۔
نوال اپنا توازن برقرار نہ رکھ سکی اور اس کا پاؤں بیڈ سے ٹکرایا۔ اس سے پہلے وہ لڑکھڑا کر زمین بوس ہوتی زاویان کے مظبوط بازوؤں نے اسے تھام لیا۔
زاویان کی نظریں ایک بار اٹھیں تو جھپکنا بھول گئی تھیں۔ اس کا ایک ہاتھ نوال کی کمر کے گرد اور دوسرا ہاتھ آئرہ پر تھا۔
اگر وہ بروقت نوال کو نہ پکڑتا تو نوال اور آئرہ دونوں زمین بوس ہوتیں۔
نوال نے دھکا لگنے سے آئرہ پر گرفت مضبوط کی اور خوف سے اس کی آنکھیں بند تھیں۔
جب کہ آئرہ جھٹکا لگنے سے ایک بار رونا شروع ہوئی تو چپ نہ کی۔
زاویان نے نوال کو دیکھا تو جھٹکوں میں آ گیا۔
یہ چہرہ تو وہ کب سے تلاش رہا تھا۔ کتنا ڈھونڈا تھا اسے اور آج وہ اس کے رو برو تھی۔ اس کے کمرے میں اس کی بیوی کی حیثیت سے۔۔ نہیں اس کے بچوں کی ماں کی حیثیت سے۔
” تم ٹھیک ہو؟” زاویان نے اسے سیدھا کھڑا کیا۔
نوال نے آہستگی سے آنکھیں کھولیں۔ اپنے آپ کو محفوظ محسوس کر کے سر اثبات میں ہلایا۔ وہ آئرہ کو چپ کروانے لگی۔ جو آج کم از کم چپ کرنے کا ارادہ نہیں رکھتی تھی۔
” آئندہ اگر گرنے کا ارادہ ہو تو میری بیٹی کو مت اٹھانا اور میری بیٹی کو اٹھا لو تو قدم پھونک پھونک کر رکھنا۔ آئرہ پر آنچ بھی آئے یہ بات میں برداشت بھی نہیں کروں گا۔” زاویان نے سخت لہجے میں کہا۔
نوال احانت کے احساس سے نظریں بھی نہ اٹھا سکی۔ جس کا چہرہ شرمندگی سے سرخ ہو رہا تھا۔ اسی لمحے اسے احساس ہوا کہ اس کے پاس تو دوپٹہ ہی نہیں ہے۔ وہ دوپٹہ اٹھانے کے لیے فوراً پلٹی۔
” کچھ کہا ہے میں نے؟” زاویان نے دھاڑتے ہوئے کہا۔
” جی آئندہ خیال رکھوں گی۔” نوال نے دوپٹہ کندھوں پر پھیلاتے ہوئے کہا۔
زاویان کو اس کے ہاتھوں کی حرکت سے اندازہ ہوا کہ وہ دوپٹہ کے لیے گئی تھی۔
زاویان نے سر جھٹکا اور گہری سانس خارج کی۔
” عنایہ میری جان میری بات سنو یہ یہیں رہے گی آئرہ کو سنبھالنے کے لیے۔ وہ بہت چھوٹی ہے تنگ کرتی ہے۔ رات کو روتی ہے۔ اس کو فیڈر چاہیے ہوتا ہے۔ اس کا ڈائپر بھی تو چینج کرنا ہوتا ہے۔
اور آپ نے ہی تو کہا تھا کہ آپ کو مما چاہیے۔”
” بابا مجھے میری مما چاہیے تھیں یہ نہیں۔”
” آئرہ کے لیے برداشت کر لو۔”
” اوکے لیکن یہ میرے روم میں نہیں آئے گی۔”
” ڈن بالکل نہیں آئے گی۔”
” میری وارڈروب کو بھی ہاتھ نہیں لگائے گی۔”
زاویان نے گہری سانس لی اور نوال کی طرف دیکھا۔ جو ٹہلتے ہوئے آئرہ کو چپ کروا رہی تھی۔
” عنایہ بیٹا یہ تو اس کی ذمے داریوں میں شامل ہے۔ آپ کا اور آئرہ کا مکمل خیال رکھنا۔ آپ دونوں کا ہر کام اس کی ذمے داری ہے۔”
وہ دونوں باپ بیٹی ایسے بات کر رہے تھے۔ جیسے وہ ان کی زندگی میں ماں کی حیثیت سے نہیں بلکہ کسی کیئر ٹیکر کی طرح لائی گئی ہے۔
نوال کو دکھ ہوا۔
” ٹھیک ہے بابا یہ ہمارا کام کر کے چلی جائے گی۔ ہم سے بات نہیں کرے گی۔”
” اوکے ایسا ہی ہو گا اگر آپ کو اور آئرہ کو اس سے کوئی بھی کمپلین ہو تو آپ دونوں مجھے بتاؤ گے۔ میرے لیے سب سے اہم آپ دونوں ہو اور کچھ بھی نہیں۔”
نوال کو لگا شاید وہ اسے جتا رہا ہے۔
وہ اس کے لیے اہم ہونے کے خواب لے کر بھی نہیں آئی تھی۔
آئرہ سو چکی تھی۔
” اس کو کہاں لٹانا ہے؟”
” بیڈ پر لٹا دو۔”
” اوکے۔” نوال نے اسے بیڈ پر لٹا دیا اور آہستہ آہستہ تھپکنے لگی۔
” عنایہ بیٹا آپ کہاں سوؤ گی؟”
” کہا نا میرے سے بات نہیں کرو گی۔ تمہیں ایک بار کی بات سمجھ نہیں آتی۔”
” اوکے چلو میں آپ کو سلاتا ہوں۔” زاویان عنایہ کو گود میں اٹھا کر کمرے سے اٹیچڈ گلاس ڈور کھول کر عنایہ کے روم میں چلا گیا۔
نوال خاموشی سے ان دونوں باپ بیٹی کو دیکھتی رہی۔
گلاس ڈور کے پار سارا منظر واضح تھا۔ زاویان اس کے سر پر بیٹھا اس سے کچھ کہہ رہا تھا۔ جو عنایہ بہت ہی غور سے مسکراتے ہوئے سن رہی تھی۔
کچھ دہر بعد عنایہ سو چکی تھی۔ زاویان نے اس کے ماتھے پر محبت سے بوسہ دیا اور اس کا بلینکٹ ٹھیک کیا۔
وہ اپنے روم میں واپس آ گیا۔
جہاں نوال کمرے کے وسط میں ہی کھڑی اس کی منتظر تھی۔
” کھانا لاؤں آپ کے لیے؟”
” تم صرف میرے بچوں کی ماں کی حیثیت سے لائی گئی ہو۔ میری ذات میں دلچسپی لینے کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر ایسا کوئی خواب لے کر آئی ہو تو ابھی بھی وقت ہے جا سکتی ہو۔”
” کسی کو کھانا دینے سے ذات میں دلچسپی لینا نہیں ہوتی۔ میں اپنے لیے چائے بنانے جا رہی تھی اسی لیے پوچھ لیا۔”
” بہت شکریہ آئندہ اس احسان کی بھی ضرورت نہیں ہے۔”
” خیال رکھوں گی۔” زاویان واش روم کی جانب بڑھ گیا۔

نوال باہر آ گئی۔

” ہاشمی ہاؤس دو منزلہ عمارت پر محیط ایک بہت ہی خوبصورت گھر ہے۔ جس کا ایک ایک کونہ نہایت خوبصورتی سے سجایا گیا ہے۔
اوپر زاویان کے کمرے کے علاؤہ اور بھی کمروں کے دروازے تھے لیکن نوال نہیں جانتی تھی کہ وہ کس کے استعمال میں ہیں؟
وہ نیچے آ گئی۔
نچلا پورشن بھی بہت خوبصورت اور نفیس تھا۔ لاؤنچ کافی بڑا اور کشادہ تھا۔ وہ ارد گرد نگاہیں دوڑاتی آگے بڑھی۔
نیچے ایک طرف ڈائننگ ہال تھا، ایک طرف لاؤنچ بنا ہوا تھا۔ ایک طرف گلاس ڈور کے ذریعے ڈرائنگ روم کو راستہ جاتا تھا۔
وہ کچن ڈھونڈنے لگی۔ جو اسے ایک کونے پر ڈائننگ ہال کے ساتھ بنا نظر آ گیا۔
وہ وہاں چلی آئی۔
کچن میں آتے ہی اس نے فریج کا ڈور کھولا اور دودھ نکالا اور اپنے لیے چائے بنانے لگی۔
اس کی آنکھیں بار بار برس رہی تھیں۔ جسے وہ باقاعدہ صاف کر رہی تھی لیکن آج پھر اس کی آنکھیں بغاوت کر رہی تھیں۔
چائے بنا کر وہ باہر نکلی تو اسے کلثوم آنٹی نظر آئیں۔
” کچھ چاہیے تھا بیٹا؟”
” آنٹی چائے چاہیے تھی۔ وہی بنانے آئی تھی۔ آپ پیئیں گی؟” نوال نے آواز کے بھیگے پن پر قابو پایا۔
” نہیں تم پیو۔ کچھ بھی چاہیے ہو بلا جھجک لے سکتی ہو۔ یہ تمہارا اپنا گھر ہے۔”
نوال مسکرا دی۔
” زاویان کے لیے نہیں بنائی؟”
” پوچھا تھا پر انہوں نے منع کر دیا۔”
” حد کرتا ہے نئی دلہن کو کمپنی ہی دے دیتا۔ ایسے ہی ہیں یہ تینوں موڈ کے۔
کوئی بات نہیں تم جاؤ۔” کلثوم بیگم نے اس کا بازو تھپتھپایا۔
نوال ارادہ تو کچھ دیر لان میں جا کر ٹہلنے کا رکھتی تھی لیکن کلثوم بیگم کی موجودگی کی وجہ سے ارادہ ترک کر دیا اور اوپر کی جانب بڑھ گئی۔
کلثوم بیگم نے دکھ سے نوال کو اوپر جاتا دیکھا۔ وہ جانتی تھیں کہ نوال ان کے سامنے اپنا بھرم رکھ رہی ہو گی۔ زاویان نے اس کے ساتھ اچھا رویہ نہیں رکھا۔
نوال کمرے میں آئی تو سامنے ہی زاویان کو بیڈ پر نیم دراز پایا۔ جو بلو کلر کی ہالف سلیوز نائٹ ٹی شرٹ اور بلو ہی ٹراؤزر میں ملبوس، بکھرے بال لیے اپنے موبائل پر مدھم آواز میں کوئی ویڈیو دیکھ رہا تھا۔
زاویان نے اس کو آتا دیکھا تو اس کے چہرے کے تاثرات پتھریلے ہو گئے۔ بھوری آنکھوں میں سرد مہری اور بیگانگی لیے، ستواں ناک پر غصہ طاری کیے، سفید رنگت پر اشتعال کی سرخی لیے اب اس کے لبوں سے ادا ہونے والے لفظ پتھر یا کنکر کس کا کام کرتے یہ نوال کو اس کے بولنے پر ہی پتا چلنا تھا۔
” بات سنیں میں ٹیرس میں چلی جاؤں؟” نوال نے بیڈ کے فٹ کراؤن کے پاس کھڑے ہو کر مدہم لہجے میں پوچھا۔
وہ اسے اس بات پر ڈانٹنے لگا تھا کہ اس کے منع کرنے کے باوجود وہ منہ اٹھا کر اس کے لیے چائے لے آئی۔ اس کی بات سن کر اپنا غصہ دبا گیا۔
” میری ذات میں دلچسپی لینے کے علاؤہ اور میرے بچوں کی ذات کے حوالے سے منہ موڑنے کے علاؤہ تم اپنی ذات کے حوالے سے اس کمرے میں آزاد ہو۔ جو چاہو کرو۔ میرے بچوں کو ڈسٹرب نہیں کرو گی۔
لیکن اس کمرے سے باہر تم اپنے ایک ایک قدم کا جواب دینے کی پابند ہو کیونکہ تمہارا نام اب میرے ساتھ جڑ گیا ہے۔” زاویان نے ٹھنڈے ٹھار لہجے میں چبا چبا کر کہا۔
نوال کی آنکھیں ڈبڈبا گئیں۔
نوال نے سر اثبات میں ہلایا اور تھکے قدموں سے گلاس سلائڈنگ ڈور دھکیل کر ٹیرس میں آ گئی۔

” اتنی باتیں سنانے کی کیا ضرورت تھی؟ ہاں یا نہ کہہ دیتے۔” آنسو تواتر سے بہہ رہے تھے۔

وہ بیڈ کے وسط میں سرخ عروسی جوڑا پہنے محو انتظار تھی۔ یہ کمرہ بہت بڑا نہیں تھا درمیانہ ہی تھا۔ کمرہ خوبصورت سرخ گلابوں سے سجایا گیا تھا۔ پھولوں کی بھینی بھینی خوشبو کمرے کے چہار سو پھیلی ہوئی تھی۔
دروازہ کھول کر وہ قدم قدم چلتا آیا۔ بیڈ پر اس کے برابر جگہ بنا کر بیٹھا۔
وہ سمٹ کر بیٹھ گئی۔ اس کا دل تیزی سے دھڑکنے لگا۔
” یہ آج چاند زمین پر کیسے اتر آیا۔” اسامہ نے مسکراتے ہوئے اس کا من موہنی چہرہ دیکھا۔
سرخ رنگ کے کامدار عروسی لہنگے میں نوال کی آج چھب ہی نرالی تھی۔
اسامہ نے اس کا ہاتھ پکڑ کر لبوں سے لگایا۔
نوال خود میں سمٹ گئی۔ اسامہ اس کی زندگی میں آنے والا پہلا مرد تھا۔ یہ لمس اس کے لیے ایک نیا احساس تھا۔ اسامہ نے آگے بڑھ کر اسے اپنے سینے سے لگایا۔ کچھ لمحے یونہیں سرک گئے۔ اسامہ نے اس کے ماتھے پر لب رکھے ہی تھے کہ اسی لمحے کمرے کا دروازہ زور زور سے بجنے لگا۔
” بھائی امی کی طبیعت خراب ہو گئی ہے جلدی دروازہ کھولیں۔”
” یااللہ خیر کیا ہوا؟ ابھی تو ٹھیک تھیں۔” اسامہ نے نوال کو جھٹکے سے پیچھے کیا اور دروازے کی طرف بڑھا۔
نوال ہق دق یہ سب دیکھتی رہ گئی۔
اسامہ نے بیتابی سے دروازہ کھولا اور بغیر اس کی طرف دیکھے باہر نکل گیا۔
زارا کی نظر جب سجی سنوری نوال پر پڑی تو آنکھ مار کر دروازہ بند کر کے چلی گئی۔
لمحے منٹوں میں اور منٹ گھنٹوں میں بدل گئے لیکن اسامہ واپس نہ آیا۔
نوال اب انتظار کرتی تھک گئی تھی تو بالآخر بیڈ کراؤن سے کمر ٹکا لی۔ اسی انتظار میں اسے نیند آنے لگی اور اس کی آنکھ لگ گئی۔
فجر کی اذانوں کے وقت کمرے کا دروازہ کھول کر اسامہ اندر داخل ہوا۔
” نوال.. نوال..” اسامہ نے اسے ہلایا۔
وہ ہڑبڑا کر سیدھی ہوئی۔
” آپ آ گئے؟ آنٹی کیسی ہیں؟”
” تم نے چینج نہیں کیا؟” اسامہ نے بیگانگی سے پوچھا۔
اس نے نوال کے سوال کو اگنور کیا۔
” میں آپ کا ویٹ کر رہی تھی۔ کافی دیر لگا دی۔”
” میری زندگی میں میری ماں اور بہنوں کی بہت اہمیت ہے۔ اگر میرے دل میں خاص مقام حاصل کرنا چاہتی ہو تو ان کا خیال رکھنا۔ ان کو تکلیف نہیں پہنچنی چاہیے۔” اسامہ بےرخی سے کہتا واش روم میں گھس گیا۔
پیچھے نوال ہونقوں کی طرح اس کی پشت کو تکتی رہ گئی۔