52.9K
31

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 5

وہ ہاسپٹل پر اپنا زخمی وجود اور دل لیے اپنے سود و زیاں کے شمار میں محو تھی۔ تاروں میں جکڑا وجود لیے ذہنی اور جسمانی اذیت حد سے سوا تھی۔ اس کے لیے فیصلہ کرنا مشکل تھا کہ اس کے جسم پر زخم زیادہ ہیں یا دل پر۔ اسامہ نے اس کی یہ اولاد بھی چھین لی تھی۔ وہ ہر بار اسے دوہری تکلیف میں مبتلا کرتا تھا۔ شادی کا یہ تجربہ کم از کم نوال مختار کے لیے خوش گوار نہیں تھا۔
وہ اپنی سوچوں میں مگن تھی جب کوئی شخص گلا کھنکار کر کمرے میں داخل ہوا۔
” محترمہ ہمیں آپ کا بیان لینا ہے۔ میں انسپیکٹر امجد ہوں اور امید کرتا ہوں کہ آپ ہمارے ساتھ تعاون کریں گی۔ حادثے میں آپ کے ساتھ جو کچھ بھی پیش آیا وہ حرف بہ حرف سچ بتائیں گی۔ وہ کون ہے؟ اور اس نے آپ کے ساتھ کیوں یہ سب کیا؟ اس کی آپ کے ساتھ کیا دشمنی تھی؟”
” اسامہ میرا شوہر۔۔۔
ہماری گھریلو لڑائی پر وہ مجھے مارتا پیٹتا گھر سے باہر لے آیا۔ گاڑی میں بہت دور لے جا کر کہاں مجھے نہیں پتا مجھ میں بولنے کی، مزاحمت کرنے کی ہمت نہیں تھی۔ میں مار کھا کھا کر نڈھال ہو چکی تھی۔ اس وقت اس نے مجھے طالاق دی اور پھر چاقو سے مار کر مجھے چلتی گاڑی سے سڑک پر دھکا دے دیا۔”

” کس قسم کی گھریلو لڑائی ہوئی تھی؟”

” بھابھی مجھے پیسے چاہیے۔” زارا نے آ کر نوال سے فرمائش کی۔
کمرے میں جھاڑو لگاتی نوال نے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔
” زارا میرے پاس پیسے نہیں ہیں۔”
” کیوں نہیں ہیں؟ مجھے شاپنگ کرنی ہے۔ بھائی نے آپ کا موبائل بھی تو بیچا ہے۔”
” زارا اسامہ نے موبائل بیچا ہے لیکن پیسے مجھے نہیں دیے۔”
” تو آپ ان کے والٹ سے نکال لیں۔”
” زارا تم تو ایسے کہہ رہی ہو جیسے ان کو جانتی نہیں ہو۔ وہ بہت غصہ کریں گے۔”
” مجھے نہیں پتا بھابھی آپ مجھے ان کے والٹ سے پیسے نکال کر دیں گی۔ میری دوست کی برتھ ڈے ہے مجھے اس کے لیے گفٹ لینا ہے۔ کیا آپ میرے لیے اتنا سا بھی نہیں کر سکتیں؟”
” کیوں نہیں کر سکتی؟ تم میری چھوٹی بہن کی طرح ہو لیکن یار تم اسامہ کے مزاج کو اچھی طرح سے جانتی ہو۔ وہ تمہیں کچھ نہیں کہیں گے۔ ان کا سارا نزلہ مجھ پر گرے گا۔”
زارا نے خونخوار نظروں سے جھاڑو لگاتی نوال کو دیکھا اور پاؤں پٹختی وہاں سے انتقام لینے کا عزم لیے کمرے سے نکل گئی۔

” تمہیں تو میں بتاؤں گی نوال ڈارلنگ۔ تمہیں آج بھائی سے جوتے نہ پڑوائے نا تو میرا نام بھی زارا نہیں۔”

” تم نے میری بہن کو کیا کہا تھا میرے بارے میں؟” اسامہ نے اسے زور دار تھپڑ رسید کیا۔
” میں نے کچھ بھی تو نہیں کہا۔”
” تو میری بہن جھوٹ بول رہی ہے؟ میں تمہیں نفسیاتی لگتا ہوں؟ تم نے اسے یہ کیوں کہا ہے کہ میں نے تمہیں مارا ہے۔”
” میں کیوں کہوں گی جب آپ ان کی باتوں میں آ کر دوبارہ مجھے ماریں گے۔”
اسامہ نے اسے بالوں سے پکڑ کر جھٹکا دیا اور الٹے ہاتھ کا تھپڑ مارا۔ وہ زمین پر جا گری۔
اسامہ نے یہیں بس نہیں کی تھی۔ اس نے اسے لاتوں اور ٹھڈوں کی نوک پر رکھ لیا۔
وہ درد سے بلبلاتی رہی۔
وہ مار کھاتے کھاتے نیم مردہ حالت میں تھی لیکن اسامہ نہیں رکا تھا۔
” اوئے اسامہ بس کر دے مر جائے گی۔” کمرے کے باہر سے تماشا سنتی شاہدہ بیگم کو جب اس کی آوازیں آنا بند ہوئیں تو کمرے میں دوڑی آئیں۔
” اماں یہ زارا کو کہتی ہے میں اسے مارتا ہوں غصہ کرتا ہوں۔” اسامہ نے ایک لات مارتے ہوئے کہا۔
” دو اور لگانی تھی جھوٹ بولتی ہے۔” شاہدہ بیگم اس بات کو نظر انداز کیے کہ وہ ابھی بھی یہی کر رہا تھا۔
” میں اس کے ساتھ مزید نہیں رہ سکتا۔” اس نے اسے بالوں سے کھینچ کر اٹھایا۔
” کیا کر رہا ہے؟” شاہدہ بیگم نے اس کو اس کے ساتھ گھسٹتا دیکھا تو پوچھ بیٹھیں۔
” میں اس کنگال کے ساتھ نہیں رہ سکتا۔ جان چھڑا رہا ہوں۔”
اسامہ نے اس کے بےجان وجود کو گاڑی میں پٹخا اور ڈرائیونگ سیٹ سنبھال لی۔
گاڑی ہوا سے باتیں کر رہی تھی۔ جو کہ اسامہ کے اشتعال کو ظاہر کر رہا تھا۔
اسامہ گھر سے بہت دور گاڑی لے آیا تھا۔
اسامہ نے جیب سے چاقو نکالا۔
” اب وقت آ گیا ہے کہ تیری اس منحوس شکل سے چھٹکارا پا لیا جائے۔” اسامہ نے موڑ کاٹتے ہوئے اس کے پیٹ میں بے رحمی سے وار کیا۔
نوال کی دل دہلا دینے والی چیخیں گونجیں۔
” میں اسامہ پورے ہوش و حواس میں تمہیں نوال مختار طالاق دیتا ہوں۔” چاقو کا دوسرا وار بھی کر دیا۔
اسامہ نے چلتی گاڑی سے طالاق دیتے ساتھ اسے دھکا مار کر پھینک دیا۔

اس کی تیز رفتار گاڑی لمحوں میں غائب ہو گئی۔

” آپ کا نام کیا ہے؟”
” نوال مختار۔”
” آپ کے گھر والے کہاں ہیں؟”
” وہ اسلام آباد میں ہیں۔”
” وہ کیوں نہیں آئے؟”
” انہیں ابھی نہیں پتا۔”
” یہ لو میرج تھی؟”
” نہیں ارینج میرج تھی۔ پہلے اسامہ اور اس کی فیملی بھی اسلام آباد میں ہی رہتی تھی۔ اسامہ کی جاب یہاں لگ جانے کی وجہ سے ہم اسلام آباد سے یہاں شفٹ ہو گئے لیکن کچھ ہی مہینوں میں اسامہ نے جاب چھوڑ دی۔”
” کیوں چھوڑی تھی؟”
” اس کا اپنے کسٹمرز کے ساتھ رویہ اچھا نہیں تھا۔”
” کیا آپ کے گھر والے جانتے ہیں کہ اسامہ آپ پر ہاتھ اٹھاتا رہا ہے؟”
” نہیں۔”
” کیوں؟”
” میں نے انہیں نہیں بتایا۔”
” کیوں؟”
” انہیں تکلیف پہنچتی اس لیے۔”
” اب تکلیف نہیں پہنچے گی جب انہیں پتا چلے گا کہ آپ پر قاتلانہ حملہ ہوا ہے اور آپ کو طالاق ہو گئی ہے۔”
” تکلیف تو اب بھی ہو گی لیکن مجھے لگا تھا کہ میں اپنی محبت اور وفا سے اسے تبدیل کر دوں گی اور میری زندگی ٹھیک ہو جائے گی۔ میں نے کبھی بھی یہ نہیں سوچا تھا کہ ان سب کا اختتام اتنا بھیانک ہو گا۔”
” مس نوال ان پیپرز پر سائن کر دیں۔ تاکہ اسامہ کے خلاف آپ کی ایف آئی آر درج کی جا سکے۔”
نوال نے پیپرز پر سائن کر دیے۔
” میں امید کرتا ہوں آپ کو انصاف دلانے کی پوری کوشش کریں لیکن اس میں آپ کا تعاون درکار ہے۔”
” اسامہ کی گاڑی کا نمبر اور اس کے گھر کا ایڈریس بتا دیں۔”
نوال نے بتا دیا ساتھ اسامہ کا نمبر بھی۔
” اس سے پہلے کبھی ایسا لگا کہ اسامہ آپ کو مارنے کی کوشش کر سکتا ہے۔”
” وہ اس سے پہلے بھی مجھے مارنے کی کوشش کر چکا ہے۔ ایک بار وہ مجھے سیڑھیوں سے دھکا دے چکا۔”
” تو آپ نے سیریس کیوں نہیں لیا۔ کبھی اس کی کوئی کوشش کامیاب بھی تو ٹھہر سکتی تھی۔”
” میں نے بتایا نا انسپیکٹرز مجھے لگا تھا میں اسے ٹھیک کر لوں گی۔” نوال نے دکھ سے کہا۔
انسپیکٹر امجد نے سر اثبات میں ہلایا۔
” ہمیں کچھ اور پوچھنا ہوا تو ہم آپ کو دوبارہ زحمت دیں گے۔”
نوال نے سر اثبات میں ہلا دیا۔
انسپیکٹر امجد کے چلے جانے کے بعد آنسو بے آواز اس کی پلکوں کی باڑ توڑ کر بہتے چلے گئے۔
نرس اس کی ڈرپ چیک کرنے آئی۔
” سسٹر کیا آپ مجھے ایک فیور دیں گی؟”
” بولیں؟”
” موبائل مل سکتا ہے آپ کا مجھے اپنے گھر کال کرنی ہے۔”
سسٹر شائستہ نے اپنا موبائل پاکٹ سے نکال کر اس کی طرف بڑھایا۔
” میں معذرت خواہ ہوں میرے پاس زیادہ بیلنس نہیں ہے لیکن آپ کی مدد کرنے کے لیے تیار ہوں۔ محدود تنخواہ میں گھر کے اخراجات اور بچوں کے خرچوں کے بعد اتنے پیسے نہیں بچتے کہ اس طرح کی آسائشیں ہم لے سکیں۔”
” کوئی بات نہیں سسٹر جیسے ہی میرے بھائی کو پتا چلے گا کہ میں اس نمبر سے کال کر رہی ہوں وہ خود کال بیک کریں گے۔ میں آپ کی بہت ممنون اور مشکور ہوں کہ آپ میری مدد کر رہی ہیں۔”
نوال نے کانپتے ہاتھوں سے موبائل تھاما۔
وہ ماما بابا کو کال نہیں کر سکتی تھی۔ وہ زیادہ پریشان ہو جاتے۔ شاہ رخ بیسٹ آپشن تھا۔ وہ اس سے تین سال بڑا تھا۔ شاہ رخ سے اس کی دوستی بہت زیادہ تھی۔ وہ اپنی ہر بات ہر پرابلم شاہ رخ سے بلا جھجک شیئر کرتی تھی۔ وہ کانپتے ہاتھوں سے شاہ رخ کا نمبر ڈائل کرنے لگی۔ ڈائل کرتے ہی فون کان سے لگایا۔ دل تیز تیز دھڑک رہا تھا۔ وہ نہیں جانتی کہ وہ اسے کیا کہے گی لیکن بس وہ کال اٹھا لے۔ وہ جانتی تھی کہ اگر وہ کوئی بات نہ بھی کر سکی تو اس کا بھائی پھر بھی اس کے پاس دوڑا چلا آئے گا۔ آنسو ٹپ ٹپ بہنے لگے۔
یہ کیا موبائل آف کیوں تھا؟ ایک بار دو بار تین بار کوشش کے بعد بھی موبائل آف ہی تھا۔
” کہاں چلے گئے ہو شاہ رخ؟” آنسوؤں کی رفتار میں تیزی آ گئی۔
بہتی آنکھوں سے اس نے بھائی جان کا نمبر ڈائل کیا۔ وہ سب سے بڑے تھے۔ نوال ان کے لیے اولاد کی طرح تھی۔ نوال کی آنکھوں سے گرنے والے آنسو بھائی جان اپنی ہتھیلیوں میں لے لیتے تھے اور وہ اس سے اتنا پیار کیوں نہ کرتے؟ وہ اس سے چودہ سال بڑے تھے۔ فون کان سے لگایا۔
بھائی جان کا موبائل بھی آف تھا۔
نوال سسکیوں سے رونے لگی۔ ” سب کہاں چلے گئے؟ سب مجھے بھول گئے۔ سب نے مجھے چھوڑ دیا۔ اسامہ کے ساتھ ساتھ سب نے مجھے تنہا کر دیا۔” نوال نے روتے ہوئے سوچا۔
سسٹر نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
” روئیں مت سب ٹھیک ہو جائے گا۔”
” میرے پاس پیسے نہیں ہیں میں کیا کروں گی؟ میں نے گھر واپس جانا ہے۔”
” اگر ابھی ان دونوں نمبروں سے کال آئے تو کہیے گا نوال کو ان کی ضرورت ہے۔ آپ ان کو ایڈریس بھی بتا دیجیے گا۔” نوال نے روتے ہوئے کہا۔

سسٹر اس کا کندھا تھپتھپاتی وہاں سے چلی گئی۔

عامر اور شاہ رخ نوال کے گھر کے باہر کھڑے تھے۔
” وہ گھر کے اندر نہیں ہے اور انہیں وہاں سے مایوس لوٹا دیا جائے گا۔” شاہ رخ کے دل نے دہائی دی۔
اسے یہ گھر نوال کی غیر موجودگی کا احساس دلا رہا تھا۔ وہ واقعی ٹھیک نہیں ہے۔ عامر کا دل کرلایا۔
اپنی سوچوں کو جھٹک کر شاہ رخ نے ڈور بیل پر ہاتھ رکھا تو اٹھانا ہی بھول ہی گیا۔
” کون ہے بھائی؟
پہیے نہیں لگے میرے پیروں میں۔۔
آ تو رہا ہوں۔۔
آج تم بیل توڑ دو۔۔
کیا ہو گیا کون سی آفت آن پڑی کہ ہاتھ اٹھانا ہی بھول گئے۔” اسامہ نے غصے سے چیختے باتیں سناتے دروازہ کھولا۔
عامر نے شاہ رخ کا ہاتھ تھام کر کندھا تھپتھپایا۔
دروازہ کھولتے ہی اسامہ عامر اور شاہ رخ کو دیکھ کر گڑبڑا گیا۔
” آپ لوگ؟ یہاں کیا کر رہے ہیں؟” اسامہ نے ماتھے پر آیا پسینہ صاف کیا۔
” نوال سے ملنے آئے ہیں۔ اندر آنے کا نہیں کہو گے؟” عامر نے سہولت سے کہا۔
” نوال یہاں نہیں ہے تو آپ لوگ اندر آ کر کیا کریں گے؟”
” کہاں ہے وہ؟” شاہ رخ نے ضبط سے مٹھیاں بھینچ لیں۔
” بھاگ گئی اپنے عاشق کے ساتھ۔ میرے اور تم لوگوں کے منہ پر کالک مل کر دوڑ گئی۔”
شاہ رخ نے زوردار مکا جڑا۔
عامر نے غصے میں آ کر اس کا گریبان پکڑ لیا۔
” کیا بکواس کر رہے ہو اسامہ ہماری نوال ایسی نہیں ہے۔ یہ بات تم بہت اچھے سے جانتے ہو۔ کیا کیا ہے تم نے ہماری معصوم بہن کے ساتھ؟”
اسامہ سنبھل چکا تھا۔ گریبان جھٹک کر چھڑوایا اور عامر کو دور دھکا دیا۔ جسے شاہ رخ نے فوراً تھامنا چاہا۔
” میں کمزور نہیں ہوں شاہ رخ۔” عامر نے ہاتھ کھڑا کر کے شاہ رخ کو روک دیا۔
” ایک بات یاد رکھنا اسامہ اگر میری بہن کا بال بھی بیکا ہوا تو میں تمہیں زمین میں گاڑ دوں گا۔”
” ڈھونڈ ہم نوال کو لیں گے لیکن اب تم اپنی بربادی کے دن گننا شروع کرو۔” عامر نے ایک ایک لفظ چبا کر کہا اور تن فن کرتا وہاں سے نکل گیا۔
شاہ رخ بھی اس کے پیچھے تھا۔
دونوں نے باہر آ کر گہری سانس لی۔
” اب کیا ہو گا بھائی جان ہم نوال کو کہاں ڈھونڈیں گے؟”
آپ کو کیا لگتا ہے وہ کہاں ہو گی؟ وہ تو کراچی میں کسی کو نہیں جانتی۔” شاہ رخ عامر کے گلے لگ گیا۔ بے اختیار بہت سے آنسو ٹوٹ اس کی آنکھوں سے بہہ نکلے۔ عامر نے اس کی پیٹھ تھپکی۔
” ڈھونڈ لیں گے۔ جب سب دروازے بند ہو جاتے ہیں تو اللہ ایک دروازہ ضرور کھولتا ہے۔ بس امید کا دیا جلائے رکھو۔” شاہ رخ کی پیتھ تھپکتے عامر کی نظر اسامہ کے گھر کے برابر والے گھر پر پڑی۔ جس کی کھڑکی سے ایک عورت جھانک رہی تھی۔ گردن نکال کر اس نے اسامہ کے گھر کے دروازے کے بند ہونے کی تصدیق کی اور پھر اشارے سے عامر کو اپنے قریب آنے کا اشارہ کیا۔
عامر نے شاہ رخ کو پیچھے کرتے ادھر چلنے کا اشارہ کیا۔
اس عورت کو شور شرابہ سے اتنا اندازہ ہو گیا تھا کہ اسامہ کی کسی سے جھڑپ ہوئی ہے اور ان دو مردوں کو آتا وہ عورت دیکھ چکی تھی۔ ان کے حلیے سے اسے یہ بھی اندازہ ہو چکا تھا کہ یہ لوگ اچھے کھاتے پیتے اور باعزت گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں۔
” جی محترمہ۔” عامر نے مہذب انداز میں بولنے کا اشارہ کیا۔
” آپ نوال کے کیا لگتے ہیں؟”
عامر اور شاہ رخ کے کان کھڑے ہوئے۔
” آپ نوال کو کیسے جانتی ہیں؟”
” بہو ہے ان کے گھر کی، اسامہ کی بیوی۔”
” بھائی ہیں اس کے۔ اس سے ملنے آئے تھے۔ آپ کچھ جانتی ہیں؟” عامر نے پوچھا۔
” بہت کچھ مجھے نہیں آپ کو پتا ہونا چاہیے تھا۔ کہاں بیاہ دیا تھا بہن کو؟ پلٹ کر خبر ہی نہ لی۔ بہت مار پیٹ کرتا تھا اس بیچاری پر۔ ملازموں کی طرح کام کرواتے تھے۔ چار دن پہلے اس بیچاری کو مار پیٹ کر گھسیٹتا ہوا لے کر گیا تھا۔ رات کو جا کر گھر آیا۔”
” نوال کیسی تھی؟ ٹھیک تھی؟” شاہ رخ نے تڑپ کر پوچھا۔
” کہاں اس کو لے کر ہی نہیں آیا۔ پوچھا تو کہنے لگا میکے چلی گئی ہے۔”
” شکریہ محترمہ اگر آپ سے یہ سوال پولیس پوچھے گی تو کیا آپ انہیں بتا سکتی ہیں؟”
” ہاں لیکن میرا نام نہ آئے۔ محلے داری کا معاملہ ہے۔ اچھی لڑکی ہے شریف النفس ہے مل جائے تو اسے دوبارہ یہاں نہ بھیجنا۔”
عامر نے سر اثبات میں ہلایا۔
” اللہ آپ کی مدد کرے اور بچی آپ لوگوں کو جلد مل جائے۔”
” آمین۔” دونوں کے دلوں سے نکلا۔
عامر نے والٹ سے کچھ نوٹ نکالے اور اس عورت کی طرف بڑھائے۔
” نہیں میں نے یہ اس لیے نہیں بتایا۔ میں بس اس بچی کی مدد کرنا چاہتی تھی۔”
” بہت شکریہ۔” عامر اور شاہ رخ باہر کی طرف بڑھ گئے۔
دونوں کے دماغ تیزی سے کام کر رہے تھے۔
” اس کا مطلب ہے اسامہ نے نوال کو کہیں چھوڑا ہے جان بوجھ کر اپنی مرضی سے۔” عامر نے تبصرہ کیا۔
” ہمم بھائی جان پہلے اس نے افواہ اڑائی کہ وہ میکے گئی ہے۔ ہمیں دیکھ کر وہ بدحواس ہو گیا اور کہہ دیا بھاگ گئی ہے۔ شاید اسے لگا تھا کہ ہم کبھی نوال کا پوچھنے نہیں آئیں گے۔”
” ہمم لیکن اسے غلط لگا تھا ہم اپنی بہن کے لیے کیوں نہ آتے؟”
” مجھے افسوس ہے کہ اس نے ہمیں کبھی کچھ نہیں بتایا۔ کیا کبھی تمہیں اس نے کچھ بتایا؟” عامر نے کھوجتے ہوئے پوچھا۔
” نہیں بھائی جان مجھے افسوس ہے ایسی محبت ایسی دوستی پر کہ اس نے کچھ بھی شیئر نہیں کیا۔” شاہ رخ نے دکھ سے کہا۔ اگر اس کے بس میں ہوتا تو وہ بہن کو کبھی یہاں تکلیف میں نہ چھوڑتا۔
عامر نے اپنا موبائل آن کیا۔ موبائل آن کرتے ہی کال نوٹیفکیشنز آنے لگی۔
بہت سارے نمبرز سے کالز آئی ہوئی تھیں۔ وہ ایک بزنس مین تھا۔ اتنے نمبرز سے کال آنا نارمل تھا۔ کھٹکا تو عامر وہاں تھا جہاں کراچی کا نمبر دیکھا۔
” یہ کس کا نمبر ہے؟” عامر بڑبڑایا۔
” کہیں نوال تو نہیں؟” عامر اور شاہ رخ نے ایک دوسرے کو دیکھا اور نمبر ڈائل کیا۔
بیلز جاتی رہیں۔ کچھ بیلز کے بعد کال اٹھا لی گئی۔
” ہیلو۔۔۔ “
” جی کون؟” عامر نے سنجیدگی سے کہا۔
” کال تو آپ نے کی ہے۔” انجانی مردانہ آواز ابھری۔
” یہ کس کا نمبر ہے؟” عامر نے سنجیدگی سے پوچھا۔
” بھائی آپ کو کس سے بات کرنی ہے؟” اس شخص کی ناراض آواز ابھری۔
عامر کا دل مٹھی میں آ گیا۔
” آپ کے نمبر سے کال آئی تھی۔”
” نہیں بھئی کوئی کال نہیں کی۔ ہم تو آپ کو جانتے بھی نہیں ہیں۔” اس شخص نے اکتاتے ہوئے کہا۔
” معاف کیجیے گا۔” عامر نے فون بند کر دیا۔

” رانگ نمبر تھا۔” عامر نے دل مسوستے ہوئے کہا۔

” آج آپ کو ڈسچارج کر دیا جائے گا۔ آپ سے ملنے کوئی بھی نہیں آیا۔” ڈاکٹر نے اس کی فائل دیکھتے ہوئے کہا۔
” میں نے کانٹیکٹ کرنے کی کوشش کی ہے لیکن کسی سے کانٹیکٹ نہیں ہو سکا۔” نوال نے بجھے دل سے کہا۔
” ڈاکٹر کیا آپ میری مدد کر سکتی ہیں؟”
” جی کہیے۔”
” ڈاکٹر میرے پاس پیسے نہیں ہیں۔ میں ہاسپٹل کا بل پے نہیں کر پاؤں گی۔”
” اس میں میں آپ کی کیا مدد کر سکتی ہوں؟ آپ کو بل پے کرنا ہو گا۔ یہ پرائیویٹ ہاسپٹل ہے۔ یہاں سے آپ کو ایسے نہیں جانے دیں گے۔ آپ دوبارہ اپنی فیملی سے کانٹیکٹ کرنے کی کوشش کریں۔”
” ڈاکٹر آپ میری یہ چین رکھ لیں۔”
” مس نوال ایسے نہیں ہوتا۔ کاؤنٹر پر یہ دے کر بات نہیں بنے گی۔”
” ڈاکٹر یہ آپ اپنے پاس رکھ لیں۔ مجھے اس کے بدلے کچھ پیسے دے دیں۔ جس سے میں ہاسپٹل کا بل پے کر کے چلی جاؤں۔ میں آپ کو پہنچ کر پیسے بھجوا دوں گی اور اپنی چین واپس منگوا لوں گی۔”
” اگر میں نہ بھی بھیج سکی تو چین تو آپ کے پاس ہے۔ یہ خالص گولڈ ہے چاہیں تو چیک کروا کر اپنی تسلی کر لیں۔”
ڈاکٹر کچھ لمحے نوال کو دیکھتی رہی پھر اس کے ہاتھ میں پکڑی وہ چین تھام لی۔
اور کچھ پیسے اسے دے دیے تاکہ اسے جانے میں آسانی ہو سکے۔
” آپ اپنا کارڈ دے دیں تاکہ مجھے آپ سے کانٹیکٹ کرنے میں آسانی ہو۔” نوال نے وہ خوش ہوتے ہوئے پیسے پکڑ لیے۔۔
ڈاکٹر نے اس کی طرف کارڈ بڑھایا اور اس کے ڈسچارج پیپرز تیار کروائے۔
نوال ہاسپٹل کی فارمیلیٹی پوری کرتی شکستہ قدموں سے ہاسپٹل سے نکل آئی۔
باہر نکلتے ہوئے کچھ یاد آنے پر پلٹی۔
” سسٹر اس نمبر سے کوئی کال آئی تھی؟”
” نہیں میرا موبائل آج میرے شوہر کے پاس ہے میں نے اسے بتا دیا تھا۔ اگر آئے گی تو وہ بتا دے گا۔۔”
” اگر ان نمبرز سے کال آئے تو کہیے گا نوال آپ کا انتظار کر رہی تھی۔ وہ گھر واپس آ رہی ہے۔” نوال نے بجھے دل سے کہا اور پلٹ کر باہر آ گئی۔
نوال نے یہ غور ہی نہ کیا کہ عامر اور شاہ رخ ایمرجنسی وارڈ میں کھڑے ہیں اور ہر پیشنٹ کو چیک کر رہے ہیں۔
نوال باہر نکل آئی۔ دن چڑھا ہوا تھا۔ سورج آب و تاب سے چمک رہا تھا پر شاید اس کی زندگی کی روشنیاں بجھ چکی تھیں۔
سر پر دوپٹہ جمائے ناک پر نقاب کی صورت میں دوپٹہ ٹکائے اپنا چہرہ چھپائے وہ جلد از جلد یہاں سے نکل جانا چاہتی تھی کہ کہیں اسامہ اسے زندہ نہ دیکھ لے۔ تیز تیز چلتی اب وہ ہانپنے لگی تھی۔ پیٹ میں الگ درد کی ٹیسیں اٹھ رہی تھیں۔
نوال نے چنگچی کا انتخاب کیا اور اسے اسٹیشن جانے کا کہا۔ اس کے پاس پیسے تھے لیکن وہ اس طرح سے رکشے میں نہیں خرچ کرنا چاہتی تھی۔ اسے معلوم نہیں تھا کہ ٹرین کی ٹکٹ کتنے کی ہو گی کیونکہ اس نے کبھی ٹکٹس نہیں لی تھیں پھر اسے راستے کے لیے پیسے چاہیے تھے پھر اسلام آباد پہنچ کر گھر جانے کے لیے پیسے چاہیے تھے۔ اس کے لیے ضروری تھا کہ وہ پیسے بچا کر رکھتی۔
اپنی سوچوں کے تانے بانے بننے میں وہ اتنی محو تھی کہ کب اسٹیشن آیا اسے نہیں پتا چلا۔
کینٹ سٹیشن پہنچ کر اس نے کراچی سے اسلام آباد کی ٹکٹ بک کروائی۔ جو اب سے چار گھنٹے بعد اسلام آباد کے لیے نکلنی تھی۔ وہ کافی دیر اسٹیشن پر کھڑی رہی۔ اسٹیشن پر اتنا رش تھا کہ بیٹھنے کی تو دور کھڑے ہونے کی جگہ نہ تھی۔ اسٹیشن پر بھانت بھانت کی بولیاں سنائی دے رہی تھیں۔ کافی دیر وہیں کھڑی انتظار کرتی رہی۔ تھک ہار کر پانی کی طلب میں اس نے ارد گرد نگاہیں دوڑائیں تو ایک ٹک شاپ نظر آئی۔ وہاں سے پانی کی بوتل لی اور پانی پیا۔ بینچ کے ملتے ہی بیٹھ کر انتظار کرنے لگی۔ دل میں خوف الگ تھا کہ کہیں اسامہ نہ آ جائے۔ حالانکہ اسامہ نے یہاں کہاں آنا تھا اور کیوں آنا تھا؟ اپنی طرف سے تو وہ نوال کا کام تمام کر ہی چکا تھا۔
آنکھوں سے بہتے آنسوں تواتر سے بہہ رہے تھے۔ ٹرین کے سائرن پر اسے پتا چلا کہ ٹرین چوتھے پلیٹ فارم پر آ رہی ہے۔ وہ تیزی سے اٹھی اور چوتھے پلیٹ فارم پر جانے کے لیے سیڑھیاں ڈھونڈیں جو کچھ دور تھیں۔ وہ تیز تیز قدموں سے چل رہی تھی۔ اس کی حالت اب بہت بری تھی۔ درد سے وہ چور تھی لیکن جلد از جلد پلیٹ فارم تک پہنچ جانا چاہتی تھی۔ پلیٹ فارم پر پہنچ کر ٹرین میں چڑھ گئی اور اپنی سیٹ ملتے ہی بیٹھ گئی اور گہری سانس لی۔ یہ ایک ایکانومی کلاس کا ڈبہ تھا۔ نوال کے کیبن میں چھ سیٹیں تھیں۔ اس کی سیٹ ایک فیملی کے ساتھ تھی۔ اسے تو ٹکٹ لیتے ہوئے یہ بھی خیال نہیں آیا تھا کہ فیملی کے ساتھ سیٹ کا کہے۔ وہ اتنی بدحواس تھی کہ بس اس شہر سے نکلنا چاہتی تھی۔ دوسری وجہ یہ بھی تھی کہ اس طرح کبھی تنہا سفر اس نے نہیں کیا تھا۔ وہ تو اپنی دوستوں کے گھر شاہ رخ کے بغیر نہیں جاتی تھی۔ اس کے بھائیوں نے اسے نازوں سے پالا تھا۔ اس طرح کے کام وہ خود کرتے تھے تو اسے کیا پتا کہ ان باتوں کا دھیان رکھتے ہیں۔ یہ تو قدرت نے اس پر رحم کیا تھا کہ اس کیبن میں فیملی تھی۔ جن میں دو مرد دو عورتیں اور ایک بچہ تھا۔ جو کہ تقریباً سات آٹھ سال کا تھا۔

ٹرین اپنے سفر پر گامزن ہونے کو تیار تھی۔

جاری ہے