52.9K
31

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 29


سبھی چائے سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ جب عنایہ اور آئرہ دوڑتی ہوئیں نوال کے پاس آئیں۔
” مما اب تو بھائی لا دیں نا پلیز۔” عنایہ نوال کے کان میں گھسی سرگوشیاں کر رہی تھی۔
” اب تو میں مما بھی کہہ رہی ہوں پلیز۔” عنایہ نے منانا چاہا۔
” نہیں نہیں نایہ چپ۔” آئرہ نے منہ پر انگلی رکھ کر عنایہ کو وارن کیا۔
” یہ ہمارا سیکریٹ ہے نا مما؟” آئرہ نے حامی چاہی۔
” بالکل یہ میرا عنایہ اور آئرہ کا سیکرٹ ہے۔” نوال نے ان دونوں کو رازداری سے کہا۔
” کیا ہوا ہے؟” زاویان بھی چوکنا ہوا۔
” کچھ نہیں کچھ نہیں یہ ہمارا سیکرٹ ہے۔” آئرہ ماں کی چمچی بنی چلانے لگی۔
” آئرہ بابا کے بغیر کیا سیکرٹ؟” عنایہ نے زچ ہوتے ہوئے کہا۔
” کیا ہوا کیا چاہیے میری پرنسس کو؟” زاویان نے عنایہ کو گود میں بٹھایا۔
” بابا ہمیں بھائی چاہیے پر مما ہمیں نہیں لا کر دے رہیں۔ جب کہ میں نے انہیں اب تو مما بھی کہہ دیا ہے۔” عنایہ نے لاڈ سے باپ کے گلے میں بانہیں ڈالیں۔
نوال برے طریقے سے گڑبڑا گئی۔
” تچی نایہ۔” آئرہ نے ناراضگی کا اعلان کیا اور نوال کی گود میں چڑھ کر بیٹھ گئی۔
سبھی دبا دبا ہنسنے لگے۔
مختار صاحب اور ان کی فیملی مطمئن تھی۔ ان کی بیٹی اور بہن کو خوشیاں مل گئی تھیں۔
ان کی نوال کا گھر بس گیا تھا۔ خوشیوں نے اس کا آنگن بھی دیکھ لیا تھا۔
” بھائی بھی آ جائے گا ڈونٹ وری جاؤ کھیلو۔” زاویان نے عنایہ کو پیار کیا اور وہاں سے بھیج دیا۔
” تھینک یو بابا۔” عنایہ نے زاویان کے گال پر پیار کیا اور آئرہ کو لے کر کھیلنے چلی گئی۔
” ہمالا بھی بھائی آ جائے گا جی۔ ہمالے بابا نے پرامش تیا ہے۔” عنایہ اور آئرہ کی چہکتی ہوئی آواز آئی۔ یقیناً باہر بھائی نہ ہونے کی لڑائی ہو رہی تھی۔
سبھی مسکرا دیے۔
” کیا کہا تھا بیگم؟ اپنی آئرہ جیت گئی۔” کامران نے زوباریہ کے کان میں سرگوشی کی۔
زوباریہ بھی مسکرا دی۔
سبھی لوگ گپ شپ میں مصروف تھے۔ جب جبران کی کمی محسوس کرتے کامران نے جویریہ کو اسے لینے کے لیے بھیجا۔
——————–
جویریہ جبران کو ڈھونڈتی ہوئی لان میں آئی۔ جو لان کے ایک کونے میں فون پر کسی سے محو گفتگو تھا۔
” جیبو۔۔
جیبو۔۔۔ کامی بھائی بلا رہے ہیں۔ تم کیا ہر جگہ ہر وقت فون پر لگے رہتے ہو؟” جویریہ نے اسے لتاڑا۔
” اور تم ہر جگہ ہر وقت میری دادی بنی رہتی ہو۔” جبران نے اس کے سر پر چپت رسید کی اور اندر کی طرف تیزی سے قدم بڑھائے۔
جویریہ بھی اس کے پیچھے لپکی۔
شاہ رخ لان میں جویریہ کے پیچھے ہی آیا تھا۔ بھاگ کر اندر آتی ہوئی جویریہ سے بری طرح سے ٹکر ہوئی۔ اگر وہ بروقت جویریہ کو نہ پکڑتا تو وہ یقینا زمین بوس ہوتی۔
جویریہ نے گرنے کے خوف سے شاہ رخ کے کندھوں سے شرٹ کو پکڑ لیا۔ جب کہ شاہ رخ کا ایک ہاتھ جویریہ کی کمر پر حمائل تھا اور دوسرے ہاتھ سے اس کے بازو پر گرفت مضبوط تھی۔
وہ کچھ لمحے جویریہ کا من موہنی چہرہ دیکھتا رہا۔ جب جویریہ نے اپنی پوزیشن پر قابو پاتے ہوئے اس سے اپنا آپ جھٹکے سے چھڑوایا۔
” کیا تم دیکھ کر نہیں چل سکتے؟” جویریہ نے شاہ رخ پر چڑھائی کر دی۔
” کیا تم گھر کو میدان جنگ سمجھ کر چلنا بند نہیں کر سکتی؟” شاہ رخ بھی پیچھے نہ رہا۔
” آنکھیں ہیں یا بٹن کبھی تو استعمال کیا کرو۔” جویریہ نے سرتاپا سلگتے ہوئے پھر حملہ کیا۔
” یہ آنکھیں جب تمہیں دیکھ لیتی ہیں تو پھر اپنے اصل کام سے انکاری ہو جاتی ہیں۔” شاہ رخ نے دل موہ لینے والی مسکراہٹ سے کہا۔
” تم مجھے دیکھ ہی کیوں رہے تھے؟” جویریہ نے کڑے تیور لیے پوچھا۔
” میں تم سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ تم میرے بارے میں کیا رائے رکھتی ہو؟” شاہ رخ نے دلچسپی سے پوچھا۔
” میں نے تم سے کہا تھا تمہارے بارے میں میری رائے کی کوئی اہمیت نہیں۔ میرے بارے میں ہر فیصلہ میرے گھر والے کریں گے۔ اگر تم واقعی سیریس ہو تو اپنے گھر پر بات کرو مجھ سے فلرٹ نہ کرو۔” جویریہ نے لہجے کو مضبوط رکھتے ہوئے کہا اور اندر کی طرف قدم بڑھائے۔
” ایک بار گرین سگنل تو دو۔” شاہ رخ نے پیچھے سے آواز لگائی۔
جویریہ نے ہاتھ جھلایا۔
جب اچانک اندر جاتے جاتے جھٹکے سے پلٹی اور بڑی جان لیوا مسکراہٹ سے شاہ رخ کو دیکھا۔ جو اسے ہی دیکھ رہا تھا۔ نظریں ملنے پر وہ گڑبڑا کر اندر کی طرف بڑھ گئی۔
شاہ رخ اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر بس اپنی دھڑکنیں شمار کرتا رہ گیا۔
——————–
” تھینک یو زاویان۔” نوال نے مدہم آواز میں کہا۔
” یور ویلکم مسز زاویان لیکن مجھے کسی اور انداز میں تھینک یو چاہیے ایسا سوکھا پھوکا بالکل بھی نہیں۔” زاویان نے نخرے سے کہا۔
” زاویان اب آپ کے نخرے دن بدن بڑھتے جا رہے ہیں۔” نوال نے آنکھیں دکھاتے ہوئے کہا۔
” اسی لیے تاکہ تم اٹھاؤ۔” زاویان نے اسے شرم دلانی چاہی۔
نوال نے آنکھیں دکھائیں اور اٹھ کر کچن کی طرف بڑھ گئی۔
ڈنر بھی تیار ہو چکا تھا۔
نصار صاحب زاویان اور ان کی فیملی نے محبت اور میزبانی کے فرائض انجام دیتے ہوئے سبھی مہمانوں کو ڈنر کروایا۔
ڈنر کے بعد میٹھے اور چائے کا دور بھی چلا۔
مختار صاحب اور اسلم صاحب کی بھی بہت اچھی دوستی ہو چکی تھی۔
سبھی نے ایک خوشگوار شام ایک دوسرے کے ساتھ گزاری۔
——————–
ہاشمی ہاؤس کے لاؤنج میں صرف گھر کے مکین موجود تھے۔ سبھی مہمان اپنے اپنے گھروں کو جا چکے تھے۔ آئرہ نوال کے کندھے پر سر رکھے سو رہی تھی۔ عنایہ نوال کے بازو سے لگی ہوئی تھی اور نیند کی تیاریوں میں تھی۔
” عنایہ بیٹا اب سوتے ہیں صبح سکول بھی جانا ہے۔” نوال نے اس کے بال پیچھے کیے اور اٹھنے لگی۔
” زاویان مجھے تم سے بات کرنی ہے۔” نصار صاحب نے زاویان کو روکا۔
نوال بچوں کو لے کر چلی گئی۔
” زاویان کہاں رہ گئے تھے؟ ہر سنڈے کو تم نوال کو تنہا گھر میں کیوں چھوڑ جاتے ہو؟ اس کی فیملی بھی آئی تھی۔ کتنا اوڈ لگتا ہے؟” نصار صاحب نے بات کا آغاز کیا۔
” بابا میں عرشیہ کے گھر گیا تھا عریشہ سے بات کرنے۔” زاویان نے بتایا۔
” بچوں کو کیوں لے کر گئے تھے؟ کل وہیں سے تو آئے تھے۔” کلثوم بیگم نے ناراضگی سے کہا۔
” ماما اسی لیے لے کر گیا تھا کیونکہ عریشہ ہی بچوں کا برین واش کر رہی تھی کہ وہ نوال کو ماں ایکسیپٹ نہ کریں سو اس لیے بہت ضروری تھا کہ عریشہ ہی انہیں یہ سمجھائے اور قائل کرے کہ نوال سے بہترین ماں انہیں نہیں مل سکتی۔”
” وہ کل رات روتی رہی ہے کیونکہ بچوں نے کافی مس بیہیو کیا تھا۔ بابا پانی سر سے گزر چکا تھا۔ میں عنایہ کو سمجھاتا تھا تو وہ میرے ہی خلاف ہو رہی تھی۔ زندگی کو ڈگر پر لانے کے لیے یہ سب کرنا بہت ضروری تھا۔”
” عریشہ سے جب بات کی تو وہ بہت شرمندہ ہوئی۔ اس نے مجھ سے بچوں کو سمجھانے کا وعدہ کیا اور پھر یہاں آنے کی بھی کافی ضد کی تاکہ وہ نوال سے بھی معافی مانگ سکے۔”
” کامران اور مختار انکل کی فیملی کو میں نے ہی بلایا تھا کیونکہ مجھے اندازہ تھا کہ آج کا دن نوال کے لیے بہت خاص ہو گا تو جو لوگ نوال کے غم میں گھل رہے ہیں۔ وہ بھی تھوڑا مطمئن ہو جائیں۔” زاویان نے مدہم مسکراہٹ سے کہا۔
” بہت اچھا کیا۔” نصار صاحب نے سراہا۔
نصار صاحب اور کلثوم بیگم مطمئن انداز میں مسکرا دیے۔
” اب تم بھی جا کر آرام کرو اور اب میں تمہیں اسے ڈپٹتے نہ دیکھوں۔” نصار صاحب نے آنکھیں دکھاتے ہوئے رعب سے کہا۔
زاویان دھیرے سے ہنس دیا اور سر اثبات میں ہلاتا سیڑھیاں عبور کر گیا۔
زاویان جب کمرے میں آیا تو نوال بچوں کے روم میں تھی اور ان دونوں کو کہانی سنا رہی تھی۔ آئرو بےبی بھی نیند سے بیدار ہو چکی تھی۔
” آپ دونوں اب تک سوئے نہیں؟” زاویان نے ان کے پاس بیٹھتے ہوئے پوچھا.
” بابا مما آج ہمارے پاس سوئیں گی۔” عنایہ نے اعلان کیا۔
” بالکل آج میں اپنے بچوں کے پاس سوؤں گی۔” نوال نے ہنستے ہوئے کہا۔
زاویان نے نوال کو آنکھیں دکھائیں۔
” نایہ بابا ناج ہو جائیں گے۔” آئرہ نے احساس دلایا۔
” بابا آپ بھی یہیں آ جائیں۔” عنایہ نے مسکراتے ہوئے کہا۔
زاویان نے دونوں کو پیار کیا۔
” میں بھی سو جاؤں گا پہلے آپ سو جاؤ۔” زاویان نے مسکراتے ہوئے کہا۔
” بابا ابھی ہم نہیں سوئیں گے۔ ابھی ہم سٹوری سن رہے ہیں۔” عنایہ نے زاویان کی معلومات میں اضافہ کیا۔
” باقی کی سٹوری کل۔” زاویان نے حکمیہ کہا۔
” بابا پلیز مما بہت اچھی سٹوری سنا رہی ہیں۔ آپ بھی سنیں۔” عنایہ نے ریکؤیسٹ کی۔
” نایہ شبح کول جانا ہے شو جاؤ۔” آئرہ نے بڑی بہنوں کی طرح سمجھایا۔
” مما اٹھا لیں گی مما بہت اچھی ہیں۔” عنایہ نے محبت سے نوال کے گال چومے۔
نوال نے سٹوری بک بند کر کے زاویان کو پکڑائی اور عنایہ اور آئرہ کو پیار کرتی ان دونوں کو لٹا دیا۔
” آپ دونوں سو جاؤ میں یہیں پر ہوں۔” نوال انہیں سلانے کے لیے ان کے پاس ہی لیٹ گئی۔
آئرہ اس کے کنگن کے ساتھ کھیلنے لگی۔
ان دونوں کے سو جانے کے بعد زاویان نے نوال کا کندھا ہلایا۔ جو شاید خود بھی نیند میں جانے کی تیاریوں میں تھی۔
” اب بچوں کے بابا کا ٹائم ہے۔” زاویان نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اٹھایا اور اپنے کمرے میں لے آیا۔
——————–
زاویان نوال کی گود میں سر رکھے آنکھیں موندے لیٹا تھا۔ نوال کا ہاتھ اس کے بالوں میں آہستہ آہستہ تھرک رہا تھا۔
” آج کا دن کیسا رہا؟” نوال نے اپنائیت سے پوچھا۔
” اللہ کا نام لو دوپہر تک تمہارے ساتھ ہی رہا ہوں۔ تمہارے نرگسی کوفتے بھگتا کر ہی گیا ہوں” زاویان نے بلبلاتے ہوئے آنکھیں کھولیں۔
نوال کھلکھلا کر ہنسنے لگی۔
” ہاں میں دوپہر تک تمہارے ساتھ ہی تو تھا۔ سوتا رہا ہوں ناشتے کی بجائے لنچ کیا ہے اور پھر چلا گیا ہوں۔ تم سر پر نہیں تھی اس لیے بہت اچھا دن گزرا۔” نوال نے ہنستے ہوئے کہا۔
زاویان بھی ہنسنے لگا۔
” کامران بھائی بھی کافی ناراض تھے۔” نوال نے بتایا۔
” کیوں کیا ہوا؟” زاویان حیران ہوا۔
” پتا نہیں لیکن انہیں بھی آپ کی غیر موجودگی زیادہ اچھی نہیں لگی۔” نوال نے اس کی معلومات میں اضافہ کیا۔
“اوہ تو یعنی تمہارے کامران بھائی صاحب کو بھی یہی شکایت ہے تو اب سے ہر سنڈے میں تمہارے پلو سے بندھ کے بیٹھا رہوں گا۔” زاویان نے اس کا پلو اپنی کلائی سے باندھا۔
نوال ہنس پڑی۔
” تھینک یو زاویان آج کی ڈیٹ میں کبھی نہیں بھولوں گی۔” نوال نے سچائی سے کہا۔
” صرف آج کی کل کی نہیں؟ میں نے کل تمہاری خاطر اتنی امپورٹنٹ میٹنگ چھوڑی تھی۔” زاویان نے اہمیت جتائی۔
” رات میں کون سی میٹنگ ہوتی ہے؟” نوال نے آنکھیں دکھائیں۔
” میں کل رات کی نہیں کل دن کی بات کر رہا ہوں۔” زاویان نے ہنستے ہوئے بتایا۔
نوال بلش کر گئی۔
زاویان ایک بار پھر ہنس پڑا۔
” میں نے تمہیں یہ بھی کہا تھا کہ مجھے سوکھا تھینک یو نہیں چاہیے۔” زاویان نے منہ بناتے ہوئے کہا۔
نوال نے شرماتے ہوئے اس کی آنکھوں پر آہستگی سے ہاتھ رکھا۔
زاویان کی حسیات الرٹ ہوئیں۔
نوال اس کے چہرے پر جھکی اور اس کی ٹھوڑی پر نرم اور پرحدت لبوں کا لمس چھوڑا۔
نوال پیچھے ہوئی۔
زاویان نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا اور فوراً اٹھ بیٹھا۔
نوال سٹپٹا گئی۔
” آپ کو کیا ہوا؟” نوال نے دہکتے چہرے سے پوچھا۔
” مجھے بھی تمہارا شکریہ ادا کرنا ہے۔” زاویان اس کے چہرے پر جھکا اور اس کے نرم لبوں کو اپنے لبوں کی گرفت میں لے لیا۔
آزادی ملتے ہی نوال اس کے سینے پر سر ٹکا گئی اور گہری گہری سانسیں لینے لگی۔
دونوں ہی اپنی اپنی جگہ مطمئن تھے۔
زاویان نے اس کے گرد بازو حمائل کیے۔
نوال اپنے رب کا جتنا شکر ادا کرتی کم تھا۔
بلا شبہ ہر تکلیف کے بعد آسانی ہے۔ ہر رات کے بعد دن آتا ہے۔ نوال کی بے تحاشہ تکالیف اور آنسوؤں کے بعد اللہ نے اسے زاویان کی صورت میں ایک بہت اچھا ہم سفر دیا تھا۔ اس کی زندگی جنت بن گئی تھی۔
نوال نے اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے اس کے کندھے پر بوسہ دیا اور اس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اس کے ساتھ لگ گئی۔
زاویان نے اسے کندھوں سے پکڑ کر سیدھا کیا۔
” کیا سوچ رہی ہو؟” زاویان نے سمجھنے کی کوشش کی۔
” اللہ کا شکر ادا کر رہی تھی۔” نوال نے مسکراتے ہوئے کہا۔
” وہ تو پھر مجھے بھی کرنا چاہیے۔” زاویان نے شرارت سے کہا۔
” بلاشبہ۔” نوال اس کی سوچوں سے انجان قائل نظر آئی۔
” آؤ پھر مل کر شکر ادا کرتے ہیں۔” زاویان اس کے چہرے پر جھکا۔
” زاویان ایسے نہیں۔” نوال نے ہنستے ہوئے اس کے سینے پر ہاتھ رکھ کر اسے روکا۔
” شکر ادا کرنے والے کو نہیں روکتے۔” زاویان نے اپنے سینے سے اس کا ہاتھ ہٹا کر اپنی مضبوط گرفت میں لیا اور اس پر چھا گیا۔
——————-