52.9K
31

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 14


نوال ڈریسنگ کے آگے کھڑی تیار ہو رہی تھی۔ وہ بالوں میں برش کر رہی تھی۔ زاویان صوفے پر بیٹھا موبائل یوز کر رہا تھا۔ اس کی نظریں بار بار بھٹک کر نوال پر جا رہی تھیں۔
وہ اس کی توجہ اپنی طرف کھینچ رہی تھی۔
اسے بار بار نوال پر عرشیہ کا گمان ہو رہا تھا۔ اسے لگ رہا تھا عرشیہ اس کے پاس ہے۔ وہ بےخود ہوتا کھڑا ہوا۔ وہ اس کی طرف بڑھنے ہی لگا تھا۔ جب آئرہ لڑکھڑاتے قدم اٹھاتی اس کی طرف آئی۔
” وال۔۔۔” آئرہ اس کی ٹانگوں سے چپک گئی۔
” جی وال کی جان۔” نوال نے جھک کر اسے گود میں اٹھایا۔
زاویان ہوش کی دنیا میں واپس آیا۔ وہ سر جھٹک کر رہ گیا۔
” کتنی دیر لگے گی؟”
” جی تیار ہوں۔”
” تم نہیں بچے۔” زاویان نے چڑتے ہوئے کہا۔
” بچے بھی تیار ہیں۔ کیوں ٹھیک نہیں لگ رہے؟”
” تمہارے پاس پانچ منٹ ہیں جلدی کرو۔” زاویان حکم دیتا باہر نکل گیا۔
پیچھے نوال اسے دیکھ کر رہ گئی۔
زاویان اس کی طرف بار بار کھنچ رہا تھا۔ اس لیے وہ باہر آ گیا۔
” وہ عرشیہ نہیں ہے زاویان۔ وہ عرشیہ نہیں ہے۔ تم عرشیہ کے ساتھ بےوفائی نہیں کر سکتے۔” زاویان تیزی سے سیڑھیاں اتر کر نیچے آ گیا۔
” بابا میں کیسی لگ رہی ہوں؟” عنایہ سیڑھیاں چڑھتی اوپر آ رہی تھی۔ زاویان کو دیکھ کر چہکی۔
” میری بیٹی ہمیشہ کی طرح بہت بیوٹیفل لگ رہی ہے۔ بالکل پرنسس لگ رہی ہے۔”
” دادو تیار ہو گئیں؟”
” جی وہ آپ کا اور آئرہ کا ویٹ کر رہی ہیں۔”
” اوکے جاؤ مما اور آئرہ کو لے کر آؤ۔”
” وہ مما نہیں ہے بابا۔” عنایہ نے چلاتے ہوئے کہا۔
” اوکے نہیں ہے جاؤ آئرہ اور نوال کو لے کر آؤ۔”
” بابا نوال ہمارے ساتھ نہیں جائے گی۔ وہ تو ہماری پھوپھو ہیں۔”
” بالکل یار وہ پھوپھو آپ کی ہیں لیکن وہ پھوپھو کی دوست بھی تو ہے۔”
وہ عنایہ کا موڈ خراب نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اس لیے عنایہ کو اوپر بھیجنے کا ارادہ ترک کر گیا۔
نوال اور آئرہ نیچے آتی دکھائی دیں۔
کچھ دیر بعد ہاشمی ہاؤس کے سبھی مکین اپنی اپنی گاڑیوں میں بیٹھ کر زوباریہ کے گھر کے لیے نکل گئے۔
——————
زوباریہ کامران اور اس کے سسرال والوں نے ان کا پرتپاک ویلکم کیا۔
کامران کا ایک چھوٹا بھائی جبران اور ایک چھوٹی بہن جویریہ تھی۔ سبھی نے ڈرائنگ روم میں جگہ سنبھال لی۔
نوال بھی کچھ دیر وہیں بیٹھی رہی۔ نوال زوباریہ کے بارے میں پوچھتی کچن میں آ گئی۔
زوباریہ کے سسرال والے بہت اچھے تھے۔
بچے بھی زوباریہ کے بچوں کے ساتھ کھیلنے لگے۔
نوال وقتاً فوقتاً انہیں دیکھ رہی تھی۔
زوباریہ کے بےحد منع کرنے کے باوجود نوال زوباریہ کے ساتھ مدد کروانے لگی۔
زوباریہ کی نند جویریہ بھی بہت ملنسار تھی۔ وہ تینوں کچھ ہی دیر میں گھل مل گئی تھیں۔ وہ تینوں کھسنے کی تیاری کے ساتھ ساتھ باتیں بھی کر رہی تھیں۔
” نوال بھابھی زاویان بھائی کو اپ کے ہاتھ کا کءا پسند ہے؟”
” ابھی تک تو جو بنایا ہے۔ سبھی کھا لیتے ہیں۔” نوال نے ڈپلومیسی سے کام لیا۔
” یہ بات۔۔۔ شوہر ہو تو زاویان بھائی اور کامی بھائی جیسا۔ ایک دم رومینٹک۔” جویریہ نے ایکسائٹڈ ہوتے ہوئے کہا۔
” بالکل بھی نہیں۔ اپنے لیے ہمیشہ بہترین مانگتے ہیں۔ ضروری نہیں جو دکھتا ہے ہمیشہ وہی سچ ہو۔
نوال نے زوباريہ کی بات سے اتفاق کرتے ہوئے سر اثبات میں ہلایا۔
” اپ کا مطلب ہے تو امی بھائی اچھے شوہر نہیں ہیں؟” جویریہ نے صدمے سے پوچھا۔
نہیں کامی میں بہت اچھے ہیں لیکن ہو سکتا ہے اللہ تعالی تمہیں کامی سے بھی بہترین دینا چاہتے ہیں تو تم کم کیوں مانگو۔
ہمم بھابھی اپ کی بات میں دم تو ہے
” تمہارے کبابوں میں بھی دم باقی رہے اس لیے دھیان سے فرائی کرو۔” زوباریہ نے شرارت سے کہا۔
وہ تینوں ہنسنے لگی۔
” تم نے رائتہ بنا لیا؟” زوباریہ نے یاد آنے پر پوچھا۔
” بھول گئی سوری بھابھی۔”
چھوڑو یہ میں کرتی ہوں تم رائتہ تیار کرو۔” نوال نے مسکراتے ہوئے کہا۔
وہ کباب فرائی کر رہی تھی جب بچوں کے ساتھ کھیلتی آئرہ کے رونے کی آواز پر وہ باہر کی طرف بھاگی۔
زوباریہ اور جویریہ بھی اس کے پیچھے تھیں۔
” آئرہ میری جان کیا ہوا؟” نوال نے جھک کر اسے اٹھایا اور چپ کروانے لگی۔
آئرہ روتے ہوئے نوال کے سینے میں منہ چھپا گئی۔
” اب کیا فائدہ ہے تمہارے اس جھوٹے پیار کا۔ تمہیں فرصت ملے تو تم اسے دیکھو۔ باتیں جتنی مرضی کروا لو بناؤ سنگھار جتنے مرضی کروا لو۔ مگر آئرہ کو دیکھنے کا نہ کہو۔ تم یہاں اسی کے لیے لائی گئی ہو۔ یہ بات کیوں بھول جاتی ہو؟” زاویان نے آئرہ اس کی ہاتھ سے چھین لی اور اسے چپ کروانے لگا۔
” کیا ہوا ہے؟” زوباریہ نے فوراً پوچھا۔
” مما وہ ہم بھاگ رہے تھے۔ یہ بھی ہمارے ساتھ بھاگ رہی تھی۔ اس کو اس نے دھکا دے دیا۔” احمد نے فخر کی طرف اشارہ کیا۔
” میں نے جان کر دھکا نہیں دیا۔ مما یہ خود گر گئی۔” فخر نے اپنی صفائی دی۔
” چھوٹی بہن ہے پیار سے کھیلتے ہیں۔” زوباریہ نے سمجھایا۔
زاویان آئرہ کو ساتھ لگائے ڈرائنگ روم میں چلا گیا۔
پیچھے نوال وہیں کھڑی آنسو بہاتی رہی۔
نوال کی وہاں سے جانے کی ہمت ہی نہ ہوئی۔ اس کی آنکھوں سے آنسوں لڑیوں کی صورت بہہ رہے تھے۔ نوال نے آہستگی سے اپنی جیولری اتار دی۔
کوئی فرق نہیں تھا اسامہ اور زاویان میں۔ دونوں کو ہی سپنی بیوی کی عزت رکھنی نہیں آتی تھی۔ اسی لیے وہ اس تجربے کو زندگی میں دوبارہ دہرانا نہیں چاہتی تھی۔
جویریہ نے ہق دق نوال کے ساتھ پیش آنے والا رویہ دیکھا۔
” بھابھی صحیح کہتی ہیں ہمیشہ جو دکھتا ہے وہ پوتا نہیں ہے۔” جویریہ نے خود کلامی کی۔
نوال خاموشی سے اٹھ کر کچن میں آ گئی۔ اس کا دل ہر چیز سے اچاٹ ہو گیا تھا۔
اب کی بار نوال بالکل چپ تھی۔ زوباریہ اور جویریہ باتیں کر رہی تھیں۔
نوال نے اپنے بالوں کا جوڑا بنا لیا۔
” کھلے رہنے دو اچھے لگ رہے ہیں۔” زوباریہ نے دوستانہ لہجے میں ٹوکا۔
” گرمی لگ رہی ہے۔” نوال نے بے بسی سے کہا۔
” یار تو تم چھوڑو اسے اندر بیٹھ جاؤ۔”
” میں ٹھیک ہوں اٹس اوکے۔” نوال نے مدہم مسکراہٹ لیے کہا۔
” میں نے تمہیں کاموں میں ہی لگا لیا۔” زوباریہ نے ملال سے کہا۔
نوال نے پھیکی مسکراہٹ لیے سر نفی میں ہلایا۔
کچھ دیر میں کھانا بھی لگ چکا تھا۔
” آئرہ بیٹا آؤ کھانا کھائیں۔” نوال نے مسکراتے ہوئے بازو کھولے۔
” رہنے دو میں خود کھلا دوں گا۔ دیکھا میں نے تم کتنی ذمے دار ہو۔” زاویان نے انتہائی روڈلی کہا۔
” زاویان۔۔۔” نصار صاحب نے ٹوکا۔
” زاویان ریلیکس بچوں کے ساتھ بیٹھے گی تو کھا لے گی ایزی ہو جاؤ۔” کامران نے ہلکے پھلکے انداز میں کہا۔
” بیٹا بیٹھو کھانا ٹھنڈا ہو رہا ہے۔” زوباریہ کی ساس نے انتہائی محبت سے کہا۔
نوال بیٹھ گئی۔ اس کے حلق سے ایک نوالا نہیں اترنا تھا۔
کوئی فرق نہیں تھا۔ اسامہ اور زاویان میں وہ ایک بار پھر سے پھنس گئی تھی۔ بےقدرے زاویان کے ہاتھ میں پھنس گئی تھی۔
” نوال بھابھی آپ یہ ٹرائے کریں۔ آپ کھانا تو ڈالیں۔” جویریہ نے لگاوٹ سے کہا۔
نوال نے سر ہلاتے ہوئے پلیٹ میں تھوڑا سا نکال لیا۔
” کھانا ٹھیک سے کھاؤ چھوڑو ساری باتیں تم دونوں۔” زوباریہ نے محبت سے چکن پیس اس کی پلیٹ میں رکھا۔
سب اپنے اپنے تیئں ان دونوں کا موڈ ٹھیک کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔
آئرہ زاویان کے سینے سے سر ٹکائے نوال کو دیکھ رہی تھی۔
مرد حضرات اپنا باتوں میں مصروف ہو گئے تھے۔ خواتین اپنا باتوں میں لگ گئی تھیں۔
” آئرہ پھوپھو کے پاس آؤ۔” زوباریہ نے بانہیں پھیلا کر بلایا۔ أئرہ جھٹ اس کی گود میں جانے کو لپکی۔
زاویان نے بھی جانے دیا۔
زوباریہ نے آئرہ کو گود میں لیتے ہی پیار کیا اور نوال کی طرف بڑھایا۔
” چلو بھئی اپنی بیٹی کو کھانا کھلاؤ۔”
نوال نے فوراً أئرہ کو تھام لیا اور چھوٹے چھوٹے نوالے کھلانے لگی۔
زاویان نے زوباریہ کو گھورا۔
جسے زوباریہ نے نظر انداز کیا۔
باقی کی محفل خوشگوار ماحول میں ہی اختتام پذیر ہوئی۔
” ماما زاویان کو سمجھائیں تھوڑا تو ہلکا ہاتھ رکھے۔
میں جہاں پاؤں رکھوں کامی وہاں ہاتھ رکھتا ہے اور زاویان کس طرح سے بات کر رہا تھا۔”
” اسے کہیں یہ مت بھولے یہ دوسری شادی آپ کے بیٹے کی بھی مجبوری تھی۔”
” یہ تو یہ بچے خوش قسمت ہیں کہ نوال نے انہیں کھلی بانہوں سے ایکسیپٹ کیا ہے ورنہ سوتیلی ماں دل میں اتنی وسعت نہیں رکھتی۔”
” میں پھر سے بات کروں گی۔” کلثوم بیگم پورچ کی طرف بڑھ گئیں۔
——————-
زاویان کی گاڑی سڑکوں پر رواں دواں تھی گاڑی میں خاموشی چھائی ہوئی تھی۔
عنایہ پچھلی سیٹ پر اور آئرہ نوال کی گود میں سو چکی تھی۔
گاژی کے ہاشمی ہاؤس کے پورچ میں رکتے ہی نوال آئرہ کو ساتھ لگائے گاڑی سے اتری جبکہ زاویان عنایہ کو گود میں اٹھا کر گاڑی سے اترا اور اندر کی جانپ بڑھ گیا۔ دونوں ساتھ ساتھ چل رہے تھے لیکن معلوم ایسا ہو رہا تھا۔ جیسے دونوں اپنے اپنے تئیں اکیلے ہیں۔
کمرے میں آتے ہی نوال نے آئرہ کو بیڈ پر لٹا دیا اور خود کپڑے چینج کرنے چلی گئی۔
زاویان نے عنایہ کو بھی بیڈ پر لٹا دیا اور خود بھی نیم دراز ہو گیا۔
نوال ڈریسنگ روم سے نکلی اور وارڈروب سے عنایہ اور آئرہ کے کپڑے لے کر بیڈ پر آئی۔
وہ خاموشی سے ان کے کپڑے چینج کرنے لگی۔ یہ وہی کپڑے تھے ۔ جو نوال ان کے لیے مال سے خرید کر لائی تھی۔
” وہ چاہے جتنی بھی محبت دے لیکن ان بچوں کو اور ان کے باپ کو اس کی کوئی بھی کاوش نظر نہیں آنی تھی۔”
” مرد کوئی بھی ہو اسامہ یا چاہے زاویان اپنی عورت کی عزت مجمعے میں کرنا نہیں جانتے۔
کیوں یہ عورتیں ایک بار اپنے مرد کو اس طرح ذلیل نہیں کرتیں؟ کرنا چاہئے تاکہ انہیں بھی پتا ہو کہ عورت بھی سینے میں دل رکھتی ہے۔”
نوال نے اذیت سے سوچا۔
وہ دونوں بچوں کے کپڑے چینج کر چکی تھی۔
زاویان خاموشی سے اس کی حرکات و سکنات دیکھ رہا تھا۔
آج نوال کو کتنے برے طریقے سے بےعزت کر دیا۔ اب تک اس نے نوال کے کسی بھی عمل میں کوئی جھول دیکھا تو نہ تھا پھر کیا ضرورت تھی اس سے اتنا روڈ ہونے کی؟ زاویان کو کس چیز سے مسئلہ تھا؟ اس کے تیار ہونے پر یا اس پر عرشیہ کا گمان ہونے پر،؟ تو اس میں نوال کی تو کوئی غلطی نہیں تھی۔ غلطی تو اس کی بھی نہیں تھی۔” زاویان نے اپنی سوچوں سے تنگ آ کر سر جھٹکا۔
ہاتھ بڑھا کر دراز سے کچھ نکالا۔ جو وہ نوال کو دینے کا ارادہ رکھتا تھا اور وہ نہیں دے پایا تھا۔
نوال اپنی جیولری ڈریسنگ میں سنبھال رہی تھی۔
” کیا ضرورت تھی اتنا تیار ہونے کی؟ خوامخواہ اتنی ذلت اٹھانی پڑی۔” نوال کی آنکھیں آنسوؤں سے بھرنے لگیں۔ جسے اس نے بےدردی سے رگڑ ڈالیں۔
” یہ تمہاری چین۔”
” یہ آپ کے پاس؟” نوال وہ چین دیکھ کر حیران ہوئی۔
” تمہیں اس دن ہاسپٹل پہنچانے والا میں ہی تھا۔” زاویان نے پلٹتے ہوئے کہا اور ڈریسنگ روم میں گھس گیا۔ جانتا تھا وہ یہ سن کر ہرٹ ہو گی اور اس سے زیادہ اسے دیکھنے کی ہمت نہیں تھی۔
وہ شاکڈ سی اسے جاتا دیکھ رہی تھی۔
” اس سب کے باوجود اس شخص کا یہ رویہ۔” نوال کی آنکھوں سے آنسوں ایک بار پھر بے مول ہوئے۔
——————-
” زوبی یار تم زاویان کو سمجھانا نوال پر ہلکا ہاتھ رکھے۔ میں مانتا ہوں اس کے بچوں کو لے کر کچھ خدشات ہیں اور ہونے بھی چاہئیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ نوال کو انسان نہ سمجھے۔ ہر انسان اپنی سیلف ریسپیکٹ رکھتا ہے۔ اگر آج وہ خود سے بچوں کو دیکھ رہی ہے تو اس کی عزت کا خیال رکھے۔ کل کو وہ زاویان کے رویے کے باعث قدم پیچھے لے بھی سکتی ہے۔”
” صحیح کہہ رہے ہو میں نے بھی ماما سے کہا کہ اسے سمجھائیں۔ تم نے تو ابھی وہ سنا ہی نہیں جو میں نے اور جویریہ نے سنا ہے۔”
” کیا مطلب کیا ہوا تھا؟”
” آئرہ گر گئی تھی نا تو۔۔” اس کے بعد زوباریہ ساری بات بتاتی چلی گئی۔
” حد کرتا ہے زاویان کون سا بچہ نہیں گرتا؟ تم نہیں گری میں نہیں گرا یا ہمارے بچے نہیں گرتے؟”
” تمہیں نہیں پتا؟ پھر کیوں کہہ رہے تھے؟ مجھے تو لگا اس کی آواز ڈرائنگ روم تک گئی یے۔”
” ڈنر ٹیبل پر اس کا رویہ سب کے سامنے تھا۔ میں نے اس لیے کہا۔ تم بھی سوچ رہی ہو گی کہ ہمدردی آ رہی ہے اس غیر لڑکی سے؟” کامران نے آخر میں شرارت سے چھیڑا۔
” مجھے پتا ہے کامی صرف میرا ہے اور اگر یہ آنکھیں کہیں اور گئیں تو تمہارے بچے تمہیں سیدھا کر لیں گے۔” زوباریہ نے اس کے سینے پر مکا مارتے ہوئے کہا۔
” دھمکی لگا ہی دی۔” کامران نے ہنستے ہوئے چھیڑا۔”
” تمہیں میں واقعی ایسا لگتا ہوں؟” کامران نے تجسّس سے پوچھا۔
” اوںہوں۔۔”
” مجھے صرف وہ بیچاری ٹائپ لگتی ہے۔ اس شادی کے بعد بھی اس کے چہرے پر کوئی چمک نہیں تھی۔ انفیکٹ مجھے تو لگتا ہے اس نے یہ شادی ہی صرف بچوں کے لیے کی ہے۔ زاویان پر تو وہ نظر بھی نہیں ڈالتی۔”
” میں نے بھی یہی نوٹ کیا ہے۔” زوباریہ نے تائید کی۔
” ہو سکتا ہے زاویان نے تھوڑی دیر پہلے ڈانٹا تھا تو اس لیے زاویان کو نہ دیکھا ہو۔” زوباریہ نے نقطہ اٹھایا۔
” چانسز کم ہیں تم زاویان سے بات کرو۔ ابھی تو وہ بچوں کو بہت محبت سے دیکھ رہی ہے اور زاویان کا تو سمجھو جیک پاٹ لگا ہے اور ضروری نہیں ہر بار قسمت مہربان ہو۔ زاویان اپنا رویہ ٹھیک کرے گا تو ہی یہ رشتہ آگے بڑھ پائے گا۔”
زوباریہ نے سر اثبات میں ہلایا۔
——————-
جاری ہے