Muhabat Mera Junoon by Noor NovelR50442 Muhabat Mera Junoon Episode 9
Rate this Novel
Muhabat Mera Junoon Episode 9
Muhabat Mera Junoon by Noor
وعلیکم السلام !
آپ یہاں؟
اس نے گل سے سوال کیا تھا
جی وہ علیزے سے ملنے آئی تھی گل نور نے جواب دیا ۔
اچھا اچھا ٹھیک
کیا آپ مجھے بتائیں گے کے علیزے نے ایسا کیوں کیا ؟
میں نہیں جانتا روحان انجان بن رہا تھا ۔
دیکھیں میں حارث کے بارے میں سب جانتی ہوں آپ بتا سکتے ہیں مجھے علیزے بھی مجھے بتانے ہی والی تھی مگر میری کزن عائشہ کمرے میں آگئی۔
گل نور کو روحان نے ایک نظر دیکھا تھا۔
اور پھر ساری بات بتا دی تھی۔
چلیں اب میں چلتی ہوں بہت شکریہ یہ کہتے ہی وہ کمرے میں چلی گئی ۔
تھوڑی دیر وہاں بیٹھنے کے بعد وہ گھر کے لیے روانہ ہو گئے تھے۔
![]()
![]()
___________
سارم کیا ہوا ایسے کیوں منہ لٹکائے بیٹھے ہو ؟
سمیر سارم سے مخاطب ہوا تھا
کچھ بھی نہیں یار
چلیں اب گھر اب تو وہ بھی چلی گئی ہے
ہمممممم چلو
کیا ہوا ہے سارم سمیر نے دوبارہ پوچھا
وہ کسی لڑکے کے ساتھ بیٹھی تھی باتیں کر رہی تھی
مجھ سے برداشت نہیں ہوتا میں نہیں دیکھ سکتا اسے کسی اور کے ساتھ ارے سارم کیسی باتیں کر رہا ہے
تمہیں گل نور پر یقین نہیں ہے کیا؟
خود سے بھی ذیادہ بھروسہ ہے اس پر مجھے سارم نے جواب دیا
تو بس پھر فکر کیسی چلو اب چلیں چل کے کچھ کھاتے ہیں سمیر نے کہا تو دو دونوں اٹھ کر باہر کی طرف چل دیے
___________
اوہ کیا ہوا لقمان چچا کیا ہوا ہے آپ کو
اٹھیں۔
بابا اٹھیں کیا ہوا ہے بھائی بھائی عائشہ آوازیں لگا رہی تھی ۔
لقمان صاحب کو ہاسپٹل لے جایا گیا سب بہت پریشان تھے مگر ان کی زوجہ کے چہرے کے تاثرات دیکھ کر لگتا تھا انہیں کوئی فکر نہیں ہے۔ وہ ڈاکٹر کے کمرے میں موجود تھا
انہیں علاج کے لیے امریکہ کے جائیں
ابھی سٹارٹنگ ہے ان کے ٹھیک ہونے کے چانسز ہیں آپ انہیں جتنا جلد ہو سکے لے کے جا سکتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ٹکٹس بک ہو گئیں تھیں
وہ بہت اداس تھا گل نور کے لیے بہت فکر مند تھا وہ گل نور کو یوں اپنی ماں کے رحم و کرم پر چھوڑ کر جا رہا تھا۔
آج شام کو ان لوگوں نے روانہ ہونا تھا صبح سے بہانے ڈھونڈ رہا تھا کے گل نور سے کسی طرح بات ہو جائے
مگر اب شام ہونے کو تھی
وہ تیار تھا۔
گل نور کام میں مصروف تھی بہت گل نور کے دل میں بھی ایک عجیب سی بے چینی تھی جسے وہ خود محسوس نا کر سک رہی ۔
گل نور کی نظر اس پر پڑی تھی اس نے بھی گل کو دیکھا تھا ایسا لگ رہا تھا جیسے کہنا چاہ رہا ہو اپنا خیال رکھنا ۔
وہ لوگ جاچکے تھے گھر میں صرف کچھ لوگ ہی رہ گئے تھے گل نور بھی کافی اداس تھی ۔
اداس ہونا نہیں چاہیے تھا مگر وہ اداس تھی
سارے کام کر کے اب وہ اپنے کمرے میں آ گئی تھی۔
![]()
![]()
___________
علیزے کو ڈاکٹرز نے ڈسچارج کر دیا تھا اب وہ کافی حد تک سنبھل گئی تھی ۔
اور اب وہ کافی بہتر بھی تھی ۔
گھر میں بہت اداس رہنے لگی تھی
گھر کا کوئی فرد بھی علیزے نے جو کیا اس کی وجہ نا جان سکا تھا ۔
گھر میں علیزے اور روحان کے رشتہ کی باتیں چلتی رہتی تھیں ۔
جس سے وہ دونوں واقف تھے۔
آج پھر گھر پر فضیلت پھپھو آئیں تھیں ظہر کا ٹائم تھا روحان بھی ساتھ تھا۔
علیزے کو سلام کر کے اس نے جائے نماز مانگی تھی وہ لیٹ ہو گیا تھا نماز کو تبھی اس نے گھر میں پڑھنا مناسب سمجھا علیزے نے اسے جائے نماز دی آپ یہی لاؤنچ میں پڑھ لیں ۔
وہ نماز پڑھنے لگا تھا علیزے اسے دیکھ رہی تھی ۔
وہ بہت خوبصورت لگ رہا تھا نماز پڑھتے ہوئے۔
مرد کی خوبصورتی دیکھنی ہو تو اسے نماز پڑھتا ہوا دیکھو_______اسے گل نور کی بات یاد آئی جو اس نے کی تھی
علیزے سوچ رہی تھی نماز کیوں نہیں پڑھتی میں
میں بھی تو مسلمان ہوں اس نے خود سے سوال کیا پھر میں کیوں نہیں پڑھتی نماز
کیا مجھے نماز معاف ہے وہ سوچنے لگ
گل نور نماز پڑھ کے ابھی فارغ ہوئی تھی
چچی کمرےےے میں داخل ہوئی
گل باہر سمیر آیا کچن کا سب تمہیں پتا ہے جو منگوانا ہے اسے بتا دو یہ کہتے ہوئے وہ باہر چلی گئیں
سمیر کو سب بتا کے وہ واپس آ رہی تھی کے گل کو کچھ آوازیں سنائی دیں
شکر ہے آپ کی بیماری کا ناٹک کام کر گیا لقمان صاحب ورنہ حمزہ نے تو ساری جائیداد اس لڑکی گل کے نام کر دینی تھی اس گل کو بھی ساری سچائی پتا چل جانی تھی ۔
پاگل ہے حمزہ جو اس لڑکی کے پیچھے بھاگتا ہے گل اتنا سن کے وہاں سے چلی گئی تھی ۔
کیسی سچائی کی بات کر رہیں تھیں چچی وہ سوچ رہی تھی۔
حمزہ ایسا کیوں کرتا
وہ مجھ سے محبت نہیں ایسا نہیں ہو سکتا چچی کی باتوں نے اسے سوچنے پر مجبور کر دیا تھا۔
اگلی صبح وہ چچی کے کمرے میں کھڑی تھی
مجھے آپ سے کچھ بات کرنی ہے ؟
ہاں بولو کیا ہو گیا اب چچی نے کہا تو گل نور نے اپنی بات شروع کی
میں جاب کرنا چاہتی ہوں
پلیز مجھے جاب کرنے دیں میں سکول میں ٹیچنگ کرنا چاہتی ہوں پلیز مجھے اجازت دیں دیں میں سارے کام ویسے ہی کروں گی جیسے پہلے ہوتے ہیں آپ کو کبھی شکایت کا موقع نہیں دوں گی پلیز چچی ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کچھ سوچنے کے بعد وہ بولیں ٹھیک ہے مگر تم سارے کام ویسے ہی کرو گی جیسے پہلے کرتی ہو آئی سمجھ اب جاؤ جا کے چائے بنا کے لاؤ ۔
بہت شکریہ یہ کہتے ہی وہ وہاں سے چلی گئی
وہ کچن میں کھڑی چائے بنا رہی تھی
گل مجھے بھوک لگی ہے کچھ بنا دو عائشہ کچن میں داخل ہوئی ۔
کیا کھاؤ گی ؟ گل نے پوچھا
سینڈوچ بنا دو
ٹھیک ہے میں بنا دیتی ہوں گل نے مسکرا کے جواب دیا
کیا بات ہے آج اتنی خوش کیوں ہو ؟
عائشہ نے گل کی مسکراہٹ دیکھ کر پوچھا
وہ چچی نے مجھے ٹیچنگ کی اجازت دے دی ہے
اوہ ہ ہ ہ اچھا وہ اس کی بات سن کر منہ بناتی ہوئی بولی اور وہاں سے یہ کہتے ہوئے چلی گئی کے جلدی کرو مجھے بہت بھوک لگی ہے ۔
________________________________________
امی آپ نے گل کو اجازت کیوں دی ہے آپ کو پتا ہے کے جاب کرے گی تو اس کے پر نکل آئیں گے
ارے عائشہ کوئی نہیں چھوٹی چھوٹی چیزوں کے لیے جو پیسے مانگتی ہے آئے روز اب اپنا خرچہ خود کرے گی اچھا ہے ہماری جان چھوٹ جائے گی۔
ہمم سہی جیسا آپ کو ٹھیک لگے امی
اچھا آج میری دوست کی برتھ پارٹی ہےمیں کیٹ آؤں گی فکر نا کیجیے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
اوکے میری جان خوب انجوائے کرنا ۔
حمزہ بھائی کو کال کی تھی آپ نے کیسے ہیں وہ
ٹھیک ہے حمزہ
پوچھ رہا تھا تمہارا بھی کے کیسی عائشہ
پھر کیا کہا آپ نے؟
![]()
![]()
___________
وہ بہت خوش تھی ۔
علیزے کو بتانے کے لیے اس نے موبائل اٹھایا تھا
جس پر اسی نمبر سے میسج دیکھ کر چونک گئی
دوستی کرو گی مجھ سے گل نور ؟
سارم
اسے یاد آیا سارم
جس کو وہ بھول ہی گئی تھی کون ہے یہ سارم وہ ڈر گئی
میں تمہیں بہت چاہتا ہوں گل نور
اس کو میرا نام بھی پتا ہے وہ پریشان ہوئی تھی
اففففففففف علیزے اس نے سوچا علیزے سے شئیر کرے
اس نے علیزے کو فون ملایا
کیسی ہو علیزے ؟
میں ٹھیک ہوں گل تم سناؤ
اوہ ہ ہ واہ گل نور میں بھی ٹیچنگ کا ہی سوچ رہی ہوں
وہ دونوں باتیں کرنے لگیں
![]()
![]()
___________
گل نور کی تصویر اس کے ہاتھ میں تھی ہر وقت وہ اسے دیکھتا تھا
اففففففففف یہ کیسی آزمائش ہے یار میں نہیں رہ سکتا تمہارے بغیر گل نا آوز سنی تمہاری میں نے نا میں نے تمہیں دیکھا قریب سے وہ تصویر سے باتیں کر رہا تھا۔
اس نے اب سمیر کو کال کی حال چال پوچھنے کے بعد اب وہ اس سے کچھ کہہ رہا تھا
حمزہ تو پاگل ہو گیا
میں وڈیو بنا کے کیسے بھیجوں اسے شک ہو جائے گا ۔
نہیں ہوتا شک بس میں اس کو سننا چاہتا ہوں اس کو دیکھنا چاہتا ہوں
تو کل صبح ہی گھر جائے گا اور جو کہا وہ کرے گا ۔
محبتیں تمہاری رل ہم گئے ہیں وہ بولا تھا۔
گل آپی مارے گی مجھے کل ہائے اللہ سمیر کیا کیا بول رہا تھا
حمزہ اس کی باتوں پر ہس رہا تھا ۔
