Muhabat Mera Junoon by Noor NovelR50442 Muhabat Mera Junoon Episode 8
Rate this Novel
Muhabat Mera Junoon Episode 8
Muhabat Mera Junoon by Noor
بہت پیاری لگو کی کالے جوڑے میں
میرا دل چاہتا ہے تمہیں میرے سوا کوئی نا دیکھے
تمہارا سارم
وہ پریشان ہو گئی تھی پڑھ کے کون سارم اور اسے کیسے پتا میں نے کالا جوڑا پہنا ہے اففففففففف وہ ڈر گئی تھی
مسج اس دن آیا تھا جس دن اس نے وہ سوٹ خریدا تھا اور گل نور نے پڑھا آج تھا۔
اس نے تو ڈر کے مارے فون ہی بند کر دیا تھا ۔
اس کو میرا نمبر کہاں سے ملا وہ سوچ رہی تھی اتنے میں اس کی اماں کمرے میں داخل ہوئی گل بیٹا کر لی علیزے سے بات ان کی بات سن کے وہ چونکی کے اس نے تو علیزے سے بات کرنی تھی ۔
جی امی بس کرنے لگی ہوں فون
وہ بہت تھک بھی گئی تھی پہلے ہی حمزہ اور اس ولید کی وجہ سے پریشان تھی اور اب یہ سارم
اس نے اب علیزے کو فون ملایا ۔۔۔۔۔۔۔۔!
دوسری بیل پر فون اٹھا لیا گیا
السلام علیکم!
وہ علیزے کے بجائے اس کی اماں کی آواز سن کر چونکی تھی ۔
انہوں نے بات کی گل سے پانچ منٹ بات کرنے کے بعد وہ فون رکھ چکی تھی
اب تو وہ علیزے کا سن کر اور زیادہ پریشان ہو گئی تھی اس نے اپنی اماں کو بھی ساری بات بتا دی تھی
اوہ ہ ہ بیٹا یہ تو بہت برا ہو سنتے ہی وہ بولیں
امی مجھے جانا چاہیے علیزے کے پاس
مگر بیٹا کل حنا کا ولیمہ ہے اور تمہاری چچی کہاں جانے دیں گیں ۔
امی کونسا وہ ہمیں ولیمہ پر لے کے جائیں گے جب وہ وہاں جائیں گے میں تب چلی جاؤں گی
نہیں تمہارے لقمان چچا کہہ رہے تھے کے ہم بھی ساتھ جائیں ورنہ لوگ طرح طرح کے سوال کریں گے
اچھا سہی ہے ان کو تو اپنی پڑی رہتی ہے ہمیشہ امی میں آپ سے ایک بات کرنا چاہتی ہوں
میرے ایگزامز بھی ختم ہو گئے ہیں میں آگے پڑھنا چاہتی ہوں
مجھے سکالرشپ بھی مل جائے گی میں پارٹ ٹائم جاب کر لوں گی
گل نور بیٹا یہ کیا کہہ رہی ہوں تم تمہاری چچی تمہیں آگے کہاں پڑھنے دیں گی اس بات کو ہم پھر کریں گے ۔
ابھی سو جاؤ پھر صبح جلدی اٹھنا ہے جاؤ چینج کر لو اور سو جاؤ شاباش ۔
اپنی ماں کی بات سن کے گل کی آنکھوں سے آنسوں نکل آئے تھے
وہ پڑھنا چاہتی تھی اس کی خواہش تھی کے وہ پڑھ لکھ کے کچھ بن جائے اور پھر اپنی ماں کا سہارا بنے اسے وہ سب خوشیاں دے جس سے وہ محروم رہیں اب تک مگر وہ کیا کرتی وہ مجبور تھی وہ تو بیچاری چاہ کے بھی کچھ نہیں کر سکتی تھی۔
___________
سارا دن وہ کام میں مصروف رہی تھی
عائشہ کہاں جارہی ہو تم بات سنو گل نے عائشہ کو بلایا
اور علیزے کے بارے میں سب بتا دیا
میں سوچ رہی ہوں ہمیں جانا چاہیے اس کے پاس گل نے سوچا تھا کے عائشہ کے بہانے اسے بھی جانے کی اجازت مل جائے گی ۔
ہاں ٹھیک ہے ہم کل چلیں گے عائشہ یہ کہتے ہوئے چلی گئی ۔
شکر ہے
اب وہ سارے کام ختم کر کے اپنے کمرے میں جانے لگی کے ایک آواز پر وہ واپس پلٹی
گل کچھ زیادہ ہی پر نہیں نکل رہے تمہارے
کیا ہوا چچی اس نے پوچھا تھا
اتنا تیار کیوں ہوئی تھی تم بارے میں آج ولیمہ میں مجھے بلکل سادہ نظر آؤ تم آئی سمجھ ذرا سی چھوٹ کیا دے دی ہواؤں میں اڑنے لگیں ہیں میڈم
گل کو ان کی بات بہت بری لگی تھی
چچی اگرآپ کہیں تو میں ولیمہ میں نہیں جاتی
ارے بس بس اب ذیادہ بولنے کی ضرورت نہیں جاؤ جا کر تیار ہو اور میری بات ذہن میں رکھنا میرے سامنے زبان نا چلایا کرو۔
![]()
![]()
___________
اس کی ماں نے اسے صبر کرنا ہی سکھایا تھا ہمیشہ سے یہی وجہ تھی کے ہمیشہ وہ چپ کر جاتی تھی اس میں برداشت تھی حالات نے اسے یہ سب برداشت کرنا سکھا دیا تھا۔
مگر جب اس کی برداشت سے باہر ہو جاتا تھا سب وہ رو دیتی تھی اس کے علاوہ وہ کر بھی کیا سکتی تھی۔
وہ سب تیار تھے سب جا چکے تھے گل اور اس کی ماما اور عائشہ حمزہ کے ساتھ تھے گاڑی میں حمزہ کی تو گل پر سے نظر ہی نہیں ہٹ رہی تھی
افف گل تم کتنی پیاری ہوں ۔
گل میں جلد ہی تمہیں اپنا بنا لوں گا وہ سوچ کر مسکرایا۔
ولیمہ بھی ہو گیا تھا ولیمہ میں سب کی نظریں حمزہ اور گل پر تھیں
اکثر رشتہ داروں نے سوال بھی کیا تھا کے ان کی شادی کر دی ہے کیا ماشاءاللہ بہت پیاری جوڑی ہے۔
گل وہ سب سوچ رہی تھی
حمزہ اور میری شادی
میں کبھی اس انسان سے شادی نہیں کر سکتی جو میرے لیے لڑ نہیں سکا یہ کیسی محبت ہوئی جس میں وہ مجھے روز ذلیل ہوتے ہوئے دیکھتا ہے
اسے تکلیف نہیں ہوتی کیا
وہ بس دعوے کرتا ہے
وہ بھی سب کی طرح ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
مجھے بہت تکلیف ہوتی ہے سمیر میں اس کو اس حال میں نہیں دیکھ سکتا
میں جلد ہی اس کو سب بتا دوں گا
سب کچھ جو اس کا ہے اس کے نام کر دوں گا وہ کمرے میں سمیر سے باتوں میں مصروف تھا سمیر حمزہ کا بہت اچھا دوست تھا
شادی کے دنوں وہ حمزہ کے گھر ہی تھا
اچھا حمزہ اب میں چلتا ہوں کل ملیں گے
اس نے باہر جانے کے لیے دروازہ کھولا تھا کے سامنے حمزہ کی امی کو دیکھ کر حیران ہو گیا تھا ۔
میں حمزہ کو دودھ دینے آئی تھی
اچھا آنٹی اب میں چلتا ہوں سمیر تو چلا گیا تھا
حمزہ کو ڈر تھا کے کہی اس کی ماں نے سب سن نا لیا ہو .
وہ دودھ دے کر چلیں گئی تھی .
شاید انہوں نے کچھ نا سنا تھا .
![]()
![]()
___________
گل نور اور عائشہ ہاسپٹل گئی تھیں
ڈرائیور کے ساتھ عائشہ تم گاڑی میں بیٹھو میں روم کا پتا کر کے تمہیں بلاتی ہوں باہر بہت گرمی ہے تم کیسے انتظار کروں گی
وہ باہر نکل کر ریسیپشن کی طرف جا رہی تھی کے اس کی کسی سے ٹکر پھر سے ہوئی
اس نے سامنے دیکھا تو وہ وہی شخص تھا
آپ پاگل ہیں کیا اندھے ہیں ہر وقت ٹکراتے رہتے ہیں
حد ہی ہو گئی ہے وہ شخص اس کی باتیں سن رہا تھا اور اسے دیکھے جا رہا تھا ۔
اب ہٹیں میرے راستے سے ہٹیں بھی کیا ہوا ایسے کیوں دیکھ رہے ہیں
اوہ ہ ہ اچھا میرے خیال سے آپ بول نہیں سکتے گل کی بات سن کے اس نے اثبات میں سر ہلایا
اور اپنی جیب سے ایک پرچی نکال کے گل کو دے کر باہر کی طرف چلا گیا ۔
ارے رکیں تو یہ کیا ہے اس کے بولنے سے پہلے وہ جا چکا تھا
گل نور نے پرچی کھول کر دیکھی
جس پر لکھا تھا
آپ جب سامنے ہوتی ہیں میں بولنا بھول جاتا ہوں
آپ کا سارم
گل تو اب ڈر گئی تھی تھوڑی دیر کے لیے وہی کھڑی سوچتی رہی یہ کیا کون تھا ہو کیا رہا ہے اففففففففف اللّٰہ وہ کھڑی سوچوں میں گم تھی ۔
گل نور اس کے کندھے پر کسی نے ہاتھ رکھا تھا
وہ ڈر گئی تھی نہی چھوڑو مجھے اس نے ذور سے بولا
گل کی بچی کیا ہو گیا ہے پاگل ہو گئی ہو
عائشہ تم وہ حیرانی سے عائشہ کو دیکھنے لگی
ہاں میں!
ہاں کب سے انتظار کروا رہی ہو کمرہ ملا کے نہیں ۔
جی وہ بس مل گیا ہے ایک بار کنفرم کر لو وہ یہ کہتے ریسیپشن پر گئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ دونوں علیزے کے پاس بیٹھیں تھیں علیزے کی ماما اور پھوپھو بھی وہاں موجود تھے
آج ڈسچارج کر دیں گے علیزے کو ڈاکٹرز کہہ رہے تھے ۔
علیزے اب کیسی ہو عائشہ نے پوچھا تھا علیزے کی ماما کو ڈاکٹر نے بلایا تھا وہ وہاں چلی گئیں تھیں اور اس کی پھوپھو بھی ان کے ساتھ گئیں تھیں ۔
عائشہ کا فون بجا اور وہ اٹھ کر فون سننے باہر چلی گئی تھی ۔
علیزے یہ کیا کیا تم نے نور اب اس سے مخاطب تھی ۔
نور وہ رونے لگی تھی گل کو دیکھ کر
علیزے کیا ہوا ہے رو کیوں رہی ہو
رووحان نے بچایا ہے مجھے نور ورنہ وہ حارث وہ بولنے ہی لگی تھی کے عائشہ کمرے میں داخل ہوئی تو وہ چپ ہو گئی ۔
گل نور اب پانی پینے کا کہہ کے اٹھ کر باہر گئی تھی کیوں کے کمرے میں جو بوٹل تھی وہ ختم ہو گئی تھی۔
روحان کو دیکھ کر وہ رک گئی
السلام علیکم روحان بھائی
وہ گل نور کو ایسے سامنے دیکھ کر چونکا تھا اور بھائی کہنے پر تو اور ذیادہ چونکا تھا
