Muhabat Mera Junoon by Noor NovelR50442 Muhabat Mera Junoon Episode 6
Rate this Novel
Muhabat Mera Junoon Episode 6
Muhabat Mera Junoon by Noor
حمزہ کی بات کو گل نور نے ان سنا تو کر دیا تھا مگر اسے بھی ولید کچھ عجیب سا لگا تھا وہ انہی سوچوں میں گم تھی کے ولید کچن میں داخل ہوا
چچچچ چی تم سے کتنا کام کرواتے ہیں نا یہ لوگ ولید کی آواز پر وہ ڈر گئی تھی ۔
آپ یہاں کیا کر رہے ہیں گل نور نے سوال کیا
ارے بھئی کزن ہو تم میری میں تمہارا حال پوچھنے آیا ہوں ۔
میں ٹھیک ہوں آپ جائیں یہاں سے گل نے جواب دیا
اتنی بے رخی اچھی نہیں ہے گل نور ولید کی بات پر گل جو غصہ آیا اور وہ چائے اٹھا کر باہر کی جانب بڑھ گئی ۔
![]()
![]()
___________
روحان نماز پڑھ کے بیٹھا ہی تھا کے اسے کچھ یاد آیا
میرا موبائل اس نے ادھر ادھر دیکھا
سامنے صوفے پر اسے موبائل پڑا نظر آیا وہ اب کسی کو کال کرنے لگا تھا ۔
السلام علیکم !
دیکھو علیزے میں تمہیں جو بتانے جا رہا ہوں وہ تمہارے لیے بہت ضروری ہے تمہیں کیڈنیپ اس حارث نے کروایا تھا
وہ حارث چاہتا تھا کے تمہیں کیڈنیپ کر کے تمہارے والدین سے اچھی رقم مانگے
اس کا شروع سے یہی مقصد تھا
باقی بات میں تمہیں تم سے مل کر بتاؤ گا
اوہ اس وقت پولیس کی حراست میں ہے
علیزے صرف روحان کو سن رہی تھی سمجھدار بنو علیزے
محبت ایسے تھوڑی ہوتی ہے تم کیسے اس کی باتوں میں آ گئی تمہیں تو میں کافی سمجھدار سمجھتا تھا چلو میں اب فون رکھتا ہوں یہ کہہ کے اس نے فون رکھ دیا کیونکہ وہ علیزے کی حالت سے واقف ہو چکا تھا۔
علیزے روحان کے الفاظ یاد کر کے پھوٹ پھوٹ کر رو دی اسے یقین نہیں آرہا تھا کے یہ سب کیسے ہو گیا اسے حارث کی باتیں یاد آ رہی تھی
میں تم سے بہت محبت کرتا ہوں میں تمہیں کبھی دھوکہ دینے کا سوچ بھی نہیں سکتا علیزے تم میرا سب کچھ ہو ۔
دوسری طرف اسے گل نور کی باتیں یاد آنے لگیں
علیزے وہ محبت نہیں کرتا یار محبت کرتا تو اب تک نکاح کر چکا ہوتا محبت کو حلال بنا چکا ہوتا
علیزے کو لگا تھا وہ پاگل ہو جائے گی وہ رونے لگی تھی
____________
علیزے علیزے بیٹا دروازہ کھولو علیزے کیا ہوا ہے بیٹا دروازہ کھولو نسریں بیگم بھی کافی پریشان ہو گئی تھی گھر میں ان کے علاوہ کوئی تھا بھی نہیں
علیزے کے بابا بھی شہرستان باہر گئے ہوئے تھے ۔
نسرین بیگم نے روحان کو فون کیا اور بلایا اور اسے سب کچھ بتایا.
( نا محرم کی محبت
کیا ہے اس میں آخر کیا ہے میں خود بہت سوچتی ہوں اس بارے میں ہم سب بھول جاتے ہیں اپنے ماں باپ کو بھی بھول جاتے ہیں
ہم سب بھول ہی تو جاتے ہیں
سوچنے کی بات ہے جو شخص جسے آئے ہوئے ہماری زندگی میں کچھ مہینے نہیں ہوئے ہم اس کے لیے جان دینے کو بھی تیار ہو جاتے ہیں
آخر کیوں ایسا کیوں
ذرا سوچیں!
محبت کے اگر سو حصہ کیے جائیں تو نناویں حصوں کے حقدار د والدین ہیں
ہم اُنہیں کو بھول جاتے ہیں
جنہوں نے ہمیں اس قابل بنایا ۔
انسان کی عزت اس کے اپنے ہاتھ میں ہے
محبت کیا ہوتی ہے محبت
محبت بہت ہی پاک صاف رشتہ کا نام ہے
نا محرم کی محبت رسوائی کے سوا کچھ نہیں ہوتی
یہ لوگ دو چار پیار کی باتیں تو کر سکتے ہیں مگر ایسے لوگ آپ کو عزت اور محبت نہیں دے سکتے
کبھی بھی کسی نامحرم کی محبت پر یقین نا کریں ۔
میری بہنوں محبت کرتا ہے تو نکاح کر لے گا ۔حرام رشتے میں برکت ہو ہی نہیں سکتے ۔جس سے اللّٰہ نے منع کیا ہے۔
کبھی سوچا ہے ہر مرد یہی چاہتا ہے کے اس کی بہن بیٹی کا کسی سے کوئی غلط رشتہ نا ہو
کبھی اپنے اس محبوب سے پوچھیے گا کیا تمہاری بہن بھی کسی سے محبت کرتی ہے پھر دیکھیے گا وہ کیا کہتا ہے
جو اپنی بہن کو ایسا کرنے نہیں دے سکتا ہے وہ آپ کی محبت کو کیسے محبت نہیں کرتا وہ جسٹ وقت گزارتا ہے
پتا ہے مرد یہ نہیں سوچتے ہیں کے کے میں اس کو دھوکا دے رہا ہوں اس کے جذبات سے کھیل رہا ہو
وہ ہمیشہ یہ سوچتے کے اس نے ماں باپ کی عزت نہیں رکھی ہے میری کیا رکھے گی۔
میں یہ نہیں کہتی کے میں محبت کرنا گناہ ہے
جس سے محبت کرو اسے حلال بناؤ اس سے نکاح کرو
جو پسند ہو اسے نکاح کرو
اگر پسند ہے تو اس کے ماں باپ کے پاس جاؤنا کے حرام تعلق بناؤ ۔
محبت کرنا گناہ نہیں ہے لیکن محبت میں ناجائز راستہ اختیار کرنا گناہ ہے۔۔۔اللہ کی بنائی ہوئی حدوں کو توڑنا گناہ ہے۔۔۔اور جو محبت ہماری آخرت تباہ کر دے وہ محبت کیسےجائز ہو سکتی ہے۔۔۔؟
سوچیے گا ضرور!
محبتِ خداوندی کا ایک عجیب انداز:
حدیث میں آتا ہے کہ اگر ستر ماؤں کی محبت جمع کی جائے تو یہ محبت تھوڑی ہے اللہ کو اپنے بندوں سے محبت زیادہ ہے۔۔
جس رب کریم کو بندوں سے اتنا پیار ہے اس نے حرام تعلق سے منع کیا ہے اسے گناہ قرار دیا تو کوئی تو بات ہو گی نا۔
میری دعا ہے اللہ ہم سب کو ہدایت دے
آخر پر یہی کہوں گی
محبت وہی ہے جو محرم سے ہو
اگر کسی سے محبت ہو تا نکاح کر لو
میری لڑکوں سے گزارش ہے کے کسی کی بہن ماں بیٹی کی عزت سے کھیلنے سے پہلے سوچ لیں مکافات عمل اٹل ہے
اللّٰہ سب کو محفوظ رکھے
میں یہ نہیں کہتی سب ایک جیسے ہوتے ہیں
کسی کو کوئی بات بری لگی تو معذرت)
روحان بھی آ چکا تھا اب کمرے کا دروازہ توڑ دیا گیا تھا
جبکہ علیزے اپنے بیڈ پر بیہوش پڑی تھی
علیزے میری بچی نسرین بیگم اس کی طرف لپکی
علیزے آنکھیں کھولو روحان یہ آنکھیں نہیں کھول رہی
وہ رونے لگیں تھیں
وہ لوگ اب علیزے کو ہسپتال لے گئے تھے ۔
_________
مہندی کی تقریب بڑے ذور و شور سے جاری تھی
حمزہ نے سفید شلوار قمیض اور ساتھ میں پیلے رنگ کا مفلر گلے میں ڈالا ہوا تھا
ساری لڑکیوں کی نظر حمزہ پر تھی جب کہ حمزہ کو جس کا انتظار تھا وہ پتا نہیں کہا گم تھیگل سارے کام کر کے اب تیار ہو رہی تھی
گل بیٹا جلدی کرو سارے مہمان آ چکے ہیں
جی امی بس دو منٹ اور آپ جائیں میں آتی ہوں
جلدی آ جانا
وہ تیار ہو چکی تھی
کہاں رہ گئی یہ گل حمزہ کو اب بے چینی ہونے لگی تھی ۔
اتنے میں اسے سامنے سے گل آتی دکھائی دی پیلے رنگ کا فراک پہنے ہوئے جو اس پر بہت خوبصورت لگ رہا تھا
حمزہ نے اسے دیکھا تو دیکھتا ہی رہ گیا
گل اس کے ساتھ سے گزر کر آگے چلی گئی ۔
جب کے حمزہ وہی کھڑا خیالو میں گم تھا
حمزہ چلو آؤ ڈانس کرتے ہیں سمیر نے حمزہ سے کہا
حمزہ نے سمیر کی بات کا کوئی جواب نا دیا
اوئے مجنوں کہا گم ہو میں کچھ کہہ رہا ہوں سمیر نے پھر کہا تو وہ کہی ہوش میں آیا۔
مہندی کا فنکشن ہو گیا تھا
حنا اور باقی سب کزنز کمرے میں تھی
ہمیشہ کی طرح گل کچن میں تھی سب کے لیے چائے بنا رہی تھی
ولید گل کو کچن میں دیکھ کر کچن میں داخل ہوا
آپ تو بہت پیاری لگ رہی تھی آج کزن جی
گل نور نے ولید کی بات کو نظر انداز کیا اور کوئی جواب دیا
وہ گل کی طرف بڑھا تھا اتنا بھی نظر انداز نا کرو ہمیں
ولید تمہیں باہر پھوپھو بلا رہی ہیں
حمزہ نے ولید سے کہا تو وہ باہر چلا گیا
یہ کیا کر رہا تھا یہاں ؟
گل نور سے حمزہ نے سوال کیا
مجھے کیا پتا آپ پوچھ لیں اس سے گل نور نے جواب دیا
تمہیں کہا تھا دور رہو اس سے
حمزہ آپ پاگل ہو گئے ہیں کیوں حق جتاتے ہیں مجھ پر اس کو میں نے تھوڑی بلایا تھا خود آیا ہے وہ
خدا کے لیے ایسی حرکتیں مت کیا کرو
گل میں محبت کرتا ہوں تم سے
کیسی محبت حمزہ
آپ کی نظر میں محبت مذاق ہے کیا
کیسی محبت کرتے ہیں آپ حمزہ یہ محبت تو نہیں ہے
ہم کس حال میں ہیں کبھی سوچا ہے آپ نے حمزہ
بس یہی کہتے ہیں محبت کرتا ہوں
یہ کیسی محبت ہے جو محبوب کو تکلیف میں دیکھتی ہر وقت پلیز چلے جائیں یہاں سے خدا کے لیے
وہ جا چکا تھا
گل نے پتا نہیں کیوں اسے اتنا سب سنا دیا تھا وہ سوچ رہی تھی
