Muhabat Mera Junoon by Noor NovelR50442 Muhabat Mera Junoon Episode 12
Rate this Novel
Muhabat Mera Junoon Episode 12
Muhabat Mera Junoon by Noor
وہ کمرے میں بند تھی اب اسے سمجھ آیا تھا کے اس نے اتنی رات کو عامر کے گھر جا کے غلطی کر دی ہے اس کے پاس رونے کے سوا کوئی اور راستہ نا تھا ۔
اتنے میں کمرے کا دروازہ کھلا اس نے نظریں اوپر اٹھا کر دروازے کی طرف دیکھا
گل نور اس کے منہ سے بس اتنا ہی نکلا تھا ۔
ہاہاہاہاہاہاہاہاہا بیچاری آئی تھی تمہیں بچانے خود پھس گئی وہ ایک اور بار ہنسا تھا گل نے ایک غصہ بھری نگاہ سے اس کی طرف دیکھا
ارے ارے غصہ کیوں ہوتی ہو حسین پری وہ اس کے قریب آنے لگا تھا
دیکھو میرے قریب مت آنا گل نور چلائی تھی وہ اور قریب آنے لگا تھا
میرے قریب مت آنا وہ زور سے بولی اس کی نظر ٹیبل پر پڑے گلدان پر تھی جو تھوڑے ہی فاصلے پر تھا
اس نے گلدان اٹھایا اور عامر کے سر میں ذور سے مار دیا
گلدان بہت زور سے لگا تھا عامر کے سر میں جس کی وجہ سے وہ بیہوش ہو گیا تھا
عائشہ کے ہاتھ بندھے تھے منہ پر پٹی بندھی تھی اس نے جلدی سے اسے کھولا عائشہ حیرانی سے گل کی طرف دیکھ رہی تھی ۔
عامر بیہوش ہو گیا تھا ۔
اس نے اب عائشہ کو کھول دیا گل اس کا فون اس نے بولا تھا
عامر کا فون اس کے ہاتھ میں ہی تھا جو اس کے گرنے پر عامر کے ہاتھ سے چھوٹ گیا تھا
عائشہ اٹھی اور فون اٹھایا
ہمیں یہاں سے نکلنا ہو گا اس سے پہلے کے اسے ہوش آ جائے گل نور بولی عائشہ نے فون اٹھا لیا تھا۔
اور وہ زیور بھی جو وہ اپنی ماں کے چوری کر کے لائی تھی۔
_______________
رات کے تین بج گئے تھے ۔وہ گھر سے باہر نکل آئیں تھی مگر گھر واپسی جانے کا کوئی راستہ نا تھا اس سنسان جگہ پر کوئی واپسی کا راستہ نا تھا کوئی سواری نہیں تھی وہ دونوں کافی پریشان تھی
گل کے پاس اس کا فون تھا
وہ اس وقت کس کو فون کرتی علیزے اسے یاد آیا علیزے اس نے علیزے کو فون کیا
عائشہ علیزے میری بہت اچھی دوست ہے تم فکر مت کرو وہ ابھی آ جائے گی
عائشہ بے یقینی کے عالم میں گل کو دیکھ رہی تھی وہ کچھ بول نہیں رہی تھی
گل نور کیا ہوا وہ فون نہیں اٹھا رہیگل نور نے جواب دیا تو وہ دونوں پریشان ہو گئیں تھیں
گل نور دوبارہ کرو کیا پتا اٹھا کے اس نے پھر سے بولا گل نے دوبارہ فون کیا چھوتی بیل پر فون اٹھا لیا گیا تھا
گل نے علیزے کو سب بتا دیا تھا
تم پریشان نہیں ہو میں 10 منٹ میں تمہارے پاس ہونگی علیزے نے گل نور کو تسلی دی تھی ۔
( عامر عائشہ کا بوائے فرینڈ تھا ۔عائشہ اور عامر کی ساتھ تصویریں تھیں ۔
عامر عائشہ کو بلیک میل کرتا تھا پیسے مانگتا تھا اگر پیسے نا دیے تو سب گھر والوں کو دکھا دے گا کہتا تھا ۔عائشہ پانچ لاکھ جو عامر نے اسے دیے تھے وہ اسے دینے گئی تھی اس بار عائشہ کو اس نے لیٹ نائٹ بلایا تھا اور وہ بھی بنا کچھ سوچے سمجھے چلی گئی تھی ۔اس نے عائشہ کو کیڈنیپ کر کے گھر والوں سے کافی بھاری رقم مانگنے کا سوچ رکھا تھا )
![]()
![]()
___________
علیزے آ گئی تھی وہ سب اب گاڑی میں تھے علیزے نے عائشہ اور گل نور کو گھر چھوڑا صبح کے چار بج گئے تھے
شکر ہے ابھی کوئی اٹھا نہیں تھا
گھر پہنچ کے عائشہ اپنے کمرے میں چلی گئی
گل نور ابھی کمرے میں جا رہی تھی کے اس کی امی کی آوز پر وہ رک گئی
کہاں تھی تم ؟
اس کی ماں نے اس سے سوال کیا امی کہی نہیں یہی تھی میں پانی پینے آئی تھی گل سے جھوٹ بھی سہی سے نا بولا گیا ۔اس وقت اس کی امی چپ ہوگئیں اور سے چائے کا بول کے وہاں سے چلی گئیں ۔
مگر ان کی نظروں سے لگتا تھا انہیں سب معلوم ہو چکا ہے ۔![]()
![]()
![]()
___________
وہ اب عائشہ کے کمرے میں تھی اسے چائے دینے گئی تھی
گل نور تمہارا بہت بہت شکریہ عائشہ رونے لگی تھی
گل تم بہت اچھی ہو مجھے معاف کر دو ۔
تم نے مجھے بچایا گل پلیز مجھے معاف کر دو میں نے آج تک جو بھی تمہارے ساتھ کیا مگر پھر بھی تم نے مجھے بچایا عائشہ پھر سے رونے لگی ۔نہیں عائشہ تم میری بہنوں جیسی ہو اب یہ چائے اور بسکٹ کھا لو میں چلتی ہوں مجھے فجر بھی پڑھنی ہے میں شام کو تم سے ساری بات کروں گی
ٹینشن مت لینا تم بلکل بھی اور اپنا خیال رکھنا گل نور یہ کہتے ہی کمرے سے چلی گئی ۔
___________
وہ سکول میں بیٹھی سوچوں میں گم تھی ۔
ایسی بھی کون سی بات ہے کے چچی فورن سے میری بات مان گئیں تھیں میں نے تو جھوٹ بولا تھا کے میں جانتی ہوں مگر چچی تو وہ سوچ رہی تھی کے آخر ایسی کون سی بات ہے ۔
کن سوچوں میں گم ہوں لڑکی علیزے کے آواز پر اس نے پیچھے مڑ کے دیکھا
تمہارا بہت بہت شکریہ علیزے تم بہت اچھی ہو کل تم نا ہوتی تو پتا نہیں کیا ہو جاتا ۔
گل نور اللہ سے دعا مانگی تھی تم نے مشکل میں ؟
گل نور نے اثبات میں سر ہلایا
تو گل نور شکریہ میرا نہیں اللّٰہ کا ادا کرو
علیزے کی بات پر گل نور خاموش ہو گئی ۔
وہ تو میں نے سب سے پہلے کیا تھا تھوڑی دیر بعد وہ بولی ۔
گل نور تمہیں ایسے نہیں جانا چاہیے تھا اس کے پیچھے مگر علیزے وہ مشکل میں تھی میں کیسے رہ سکتی تھی ۔
گل نور اکیلے نا جاتی کسی کو ساتھ بلا لیتی مجھے فون کر دیتی سارم کو بلا لیتی میں ۔۔۔۔۔۔اس وقت اتنا وقت نہیں تھا علیزے وہ بولی اور پھر چپ ہو گئی ۔![]()
![]()
___________
عائشہ کچن میں کیا کر رہی ہو امی چائے بنا رہی ہوں سر میں درد تھا
ارے میری بچی تم کیوں بنا رہی ہو اپنی چچی سے کہہ دیتی یا گل سے کہہ دیتی
عائشہ نے غصہ بھری نگاہ اپنی ماں پر ڈالی جس نے اسے بگاڑ کے رکھ دیا تھا ۔
کب تک ان سے کروائیں گے کام سارا دن کام کرتی ہیں وہ دونوں اتنا تو میں کر سکتی ہوں کے خود چائے بنا لوں اپنے لیے آپ جائیں میں بنا لوں گی تمہیں کیا ہو گیا ہے اتنا غصہ کیوں ہو رہی ہو کیوں ان کے اتنے گن گا رہی ہوں
امی آپ جائیں یہاں سے پلیز وہ ایک بار پھر بولی اچھا اچھا جا رہی ہوں عجیب ہو بھئی تم لوگ بھی وہ یہ کہہ کے کافی کچھ سنا کے وہاں سے چلیں گئیں ۔
__________
عائشہ اور گل نور ایک ساتھ کمرے میں بیٹھے تھے
ایک بات پوچھو عائشہ ایسا کون سا سچ ہے جو چچی مجھ سے چھپا رہی ہیں ؟
_____________________________________________________________
میں تمہارے گھر رشتہ بھیجنا چاہتا ہوں
میں نے سوچا اپنے گھر والوں کو بھیجنے سے پہلے ایک بار تم سے پوچھ لوں
گل حیران ہو کر اس کو دیکھ رہی تھی
