Muhabat Mera Junoon by Noor NovelR50442 Muhabat Mera Junoon Episode 2
Rate this Novel
Muhabat Mera Junoon Episode 2
Muhabat Mera Junoon by Noor
اتنی مشکل سے تو جانے کی اجازت ملی ہے
مگر میرے پاس تو کچھ اچھا نہیں ہے پہننے کو وہ سوچوں میں گم تھی کے اتنے میں اس کی چچی کی آواز آئی گل نور کہاں مر گئی چائے کا کہا تھا ابھی تک نہیں بنی
عائشہ تم وہ اپنا کالا جوڑا پہن کے جانا بہت پیاری لگو گی حنا عائشہ سے مخاطب تھی
کہاں جانے کی تیاریاں ہو رہی ہیں حمزہ نے کمرے میں داخل ہوتے ہی پوچھا بھائی وہ علیزے کے گھر اس نے برتھ ڈے پارٹی رکھی ہے آپ ہمیں چھوڑ دیجیئے گا عائشہ نے حمزہ سے کہا
علیزے وہ گل کی دوست
جی وہی
تو گل بھی جائے گی کیا ؟
جی بھائی جا رہی ہے وہ بھی آپ کیوں پوچھ رہے ہیں اس کا
کچھ نہیں تم تیار ہو کے مجھے بتا دینا میں چھوڑ دوں گا یہ کہتے ہوئے وہ کمرے سے باہر چلا گیا
امی میں کیا پہنوں ؟
میرے پاس تو کوئی اچھا جوڑا نہیں ہے گل نے پریشانی میں اپنی ماں سے سوال کیا
بیٹا تم کچھ بھی پہن لو جو بھی پہنتی ہو تم پے اچھا لگتا ہے
مگر امی وہاں سب نے بہت قیمتی اور اچھے اچھے لباس پہن رکھے ہوں گے
بیٹا ادھر آؤ بیٹھو میرے پاس آمنہ بیگم نے گل کو اپنے پاس بلایا
اب وہ ان کے پاس جا کے بیٹھ گئی
انسان کی پہچان اس کے لباس سے نہیں ہوتی اس کے کردار سے ہوتی ہے
اور تم تو ہو ہی اتنی پیاری پریشان نہیں ہوتے اور تمہارا وہ جوڑا بھی تو ہے نا جو تمہیں پچھلے سال عید پر دلایا تھا وہ پہن لو
اپنی حیثیت کو دیکھو
اور ہاں وہ لوگ امیر ہیں ہماری اتنی حیثیت نہیں اور تمہیں تو پتا ہے تمہاری چچی کا صبر کرو
اب اٹھو جلدی سے تیار ہو جاؤ
لال رنگ کے کڑھائی والے لونگ فراک کے ساتھ جس پے کالے رنگ کی کڑھائی ہوئی تھی کالے رنگ کا دوپٹہ سیٹ کیے بال کھولے وہ میک کے نام ہے ہلکی سی لپ اسٹک لگائے وہ بہت پیاری لگ رہی تھی
عائشہ بھی تیار ہو گئی تھی اتنا تیز میک اپ کیے وہ بال کھولے کالی جینز اور کالی شرٹ پہنے ہوئے تھی
امی اچھا اپنا خیال رکھیے گا
اور بس اب کھانا بنا لیجیۓ باقی برتں وغیرہ میں آ کر دھو دوں گی اور کوئی کام مت کیجئے گا
وہ تینوں گاڑی میں بیٹھے تھے
بھائی مجھے علیزے کے لیے گفٹ لینا ہے پلیز راستہ میں گاڑی کسی گفٹ شاپ پر روک دیجیۓ گا عائشہ حمزہ سے مخاطب تھی
جو شاید کہی اور ہی گم تھا
جواب نا آنے پر عائشہ بولی
بھائی میں آپ سے ہوں کہاں گم ہیں
کک کیا کہا حمزہ ہچکچاتے ہوئے بولا
میں کہہ رہی ہوں گفٹ شاپ پر روک دیجیۓ گا
اچھا ٹھیک ہے
میں نے علیزہ کے لیے کچھ بھی نہیں لیا وہ دل ہی دل میں سوچ رہی تھی میرے پاس پیسے ہی نہیں تھی میں کیسے لیتی
حمزہ سے اس کی پریشانی دیکھی نا گئی
آ گئی ہے شاپ میں خود لے آتا ہوں تم گاڑی میں بیٹھو یہ کہتے ہوئے وہ گاڑی سے اتر کر دکان کی جانب بڑھ گیا
یہ کیا بھائی یہ دو کیوں ہے ایک گل نور دے دے گی
گل نور مجھے پتا ہے تم نے بھی گفٹ نہیں کیا ہو گا تو یہ تم علیزے کو دے دینا
حمزہ نے گفٹ گل نور کی طرف کیا
لیکن وہ میں وہ ہچکچائی
کچھ نہیں ہوتا رکھ لو میں کزن ہوں تمہارا
مجبوراً اسے گفٹ لینا پڑا کیوں کے اس نے بھی کوئی گفٹ نالیا تھا اور خالی ہاتھ جاتے اچھا بھی نا لگتا
برتھ ڈے کا کیک بہت اچھے سے کاٹا گیا سب بہت خوش تھے علیزے تو تصویریں بناتی تھک ہی نہیں رہی تھی
گل بھی علیزے کی امی سے باتوں میں مصروف تھی
عائشہ کی نظر مسلسل روحان پر تھی
مگر روحان جو اپنی ماں کے بڑے اسرار کرنے ہے آیا تھا اسے اس قسم کی پارٹیز بلکل بھی نہیں پسند تھیں
عائشہ کو یوں اپنی طرف دیکھتا دیکھ اسے کافی عجیب سا لگا
وہ وہاں سے اٹھنے لگا تھا
گل نور کا پاؤں پھسلا تھا وہ گرنے ہی والی تھی کے اسے کسی نے تھاما تھا
وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتا ہی رہ گیا تھا
گل نور کی آنکھوں سے آنسوں آنے لگے آنسوؤں کو دیکھ کے اس نے خود کو اس سے الگ کیا
سسسوری پتا نہیں وہ کیسے میرا پاؤں پھسل گیا
یہ کہتے ہی وہ وہاں سے چلی گئی
اس کی بات سن کر وہ مسکرایا تھا اور دل ہی دل میں کہا تھا پاگل
___________________________
گل تم یہاں بیٹھی ہو میں کب سے ڈھونڈ رہی ہوں تمہیں علیزے اب اس کے پاس آئی تھی
گل ارے یہ کیا تم رو کیوں رہی ہو گل کیا ہوا ہے گل نور کو یوں روتا دیکھ علیزے بھی پریشان ہو گئی تھی
گل ہوا کیا ہے کچھ بتاؤ گی
گل نے علیزے کو ایک سانس میں ساری بات بتا دی
چلو شکر ہے تم گری تو نہیں نا بچ گئی ہو نا تو پاگل اب رو کیوں رہی ہو شکر کرو اس لڑکے نے تمہیں بچا لیا
لڑکے سے علیزے کو یاد آیا پارٹی میں تو کوئی لڑکا نہیں
ضرور روحان ہو گا
وہ میرا کزن ہے روحان گل تمہیں اس کا شکریہ ادا کرنا چاہیے تھا
چلو آؤ چلیں کھانا بھی کھاتے ہیں اور اس کو ٹھینکس بھی بولو گی تم
روحان کو لگا تھا وہ لڑکی اس میں کچھ تو تھا اس کی آنکھوں میں اس نے جو درد محسوس کیا تھا
وہ انہیں کا ہو کر رہ گیا تھا
وہ انہی سوچوں میں گم بیٹھا تھا
روحان بھائی شکریہ آپ نے میری اتنی اچھی دوست کو گرنے سے بچا لیا اتنے میں اسے علیزے کی آواز سے سوچوں سے باہر نکالا
یہ آپ کو گل نور شکریہ بولنے آئی ہے چلو گل نور بولو
آپ کا بہت شکریہ گل یہ کہتے ہی چپ ہو گئی
روحان اس کی بات پر مسکرایا
عائشہ جو دور کھڑی سب دیکھ رہی تھی اس سے جب برداشت نا ہوا تو وہ پاس آ کے گل سے بولی گل میرے خیال سے اب ہمیں چلنا چاہیے بہت دیر ہو گئی ہے میں بھائی کو کال کر دوں
ارے ایسے کیسے کھانا تو کھا لو عائشہ علیزے بولی ویسے بھی کونسا تم لوگوں نے اکیلے جانا ہے حمزہ کے ساتھ ہی جاؤ گے
علیزے کے اسرار پر وہ رک گئی
تمہیں شرم تو نہیں آتی گل نور
کیسے تم علیزے کے کزن سے ہنس ہنس کے باتیں کر رہی تھی
ویسے تو بڑی شریف بنی پھرتی ہو تم توبہ توبہ
حمزہ نے بھی عائشہ کی بات سن لی تھی
اور عائشہ نے کی ہی حمزہ کو سنانے کے لیے تھی
نہیں عائشہ تمہیں کوئی غلط فہمی ہوئی ہے تم غلط سوچ رہی ہو گل نور بولی
گل تمہیں کسی سے اتنا فری ہونے کی ضرورت نہیں ہے آج کے بعد میں نا سنو تم کسی سے فری ہوئی ہو
گل کی بات کو کاٹٹتے ہوئے حمزہ بولا اس وقت وہ تھا ہی بہت غصہ میں
گل نور کا دل چاہا وہ ابھی رو دے
گھر پہنچ کے وہ کمرے میں گئی
سب لوگ سو چکے تھے اس کی امی بھی سو گئیں تھیں
اب وہ چینج کر کے کچن میں گی
افف میں نے کہا بھی تھا امی کو میں دھو لوں گی برتن
امی بھی نا
گل نور پانی دینا حمزہ بھی وہاں آیا تھا
گل نے حمزہ کو پانی دیا حمزہ نے گل کی آنکھوں کی طرف دیکھا روئی ہو نا تم
نہیں ایسا نہیں ہے میری آنکھ میں کچھ چلا گیا ہے
تو پھر دونوں آنکھوں میں چلا گیا کیا گل نور مجھے تم پاگل نہیں بنا سکتی
میں تمہیں اچھی طرح جانتا ہوں
آپ جائیں یہاں سے حمزہ نہیں جاؤں گا میں
ٹھیک ہے تو میں چلی جاتی ہوں
وہ جانے ہی لگی تھی کے حمزہ نے اس کا ہاتھ تھاما تھا
ہاتھ چھوڑیں میرا حمزا
نہیں چھوڑوں گا
گل میں تم سے محبت کرتا ہوں
حمزہ آپ پاگل ہو گئے ہیں محبت آپ جیسا شخص کر ہی نہیں سکتا
ارے آپ اور آپ کی فیملی تو بنے ہی ہم جیسوں سے نفرت کرنے کے لیے ہیں
اب کونسے دھوکے میں پھنسانا چاہتے ہیں آپ
گل نور تم غلط سمجھتی ہو مجھے
حمزہ ہاتھ چھوڑیں میرا وہ چلائی تھی
