Muhabat Mera Junoon by Noor NovelR50442

Muhabat Mera Junoon by Noor NovelR50442 Muhabat Mera Junoon Episode 4

489.9K
17

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Muhabat Mera Junoon Episode 4

Muhabat Mera Junoon by Noor

بیٹا کباب تو واقعی بہت مزے کے ہیں مجھ سے بھی ترکیب شیئر کرو میں بھی بناؤ گی مجھے بہت پسند آئے۔

ہائے اللّٰہ جی پھس گئی میں تو اب کیا کروں حنا نے دل ہی دل میں سوچا اففففففففف میں نے تو بنائے ہی نہیں ہے حنا کی امی بھی پریشان ہو گئی تھیں ۔

کیا ہوا بیٹا چپ کیوں ہو گئی عباسیہ بیگم نے سوال کیا تھا

ککک کچھ نہیں آنٹی میں آپ کو واٹس ایپ کر دوں گی ریسیپی لکھا ہوا ہو گا تو آپ کو سہی سمجھ آئے گا

آپ یہ چائے لیں نا پلیز ۔

حمزہ کو کچن میں دیکھ کر آمنہ بیگم نے سوال کیا حمزہ تم یہاں کیا کر رہے کچھ چاہیے تھا تو مجھے بتا دیتے ۔

وہ مہمان آپ لوگوں سے ملنا چاہتے آ جائیں آپ لوگ

لیکن بیٹا بھابھی نے منع کیا تھا مہمانوں کے سامنے جانے سے تم انکار کر دو کوئی بہانا بنا دو میں نہیں چاہتی بھابھی ہم سے ناراض ہوںحمزہ یہ بات سنتا وہاں سے چلا گیا ۔

امی چل لیتی میں بھی دیکھتی حنا کے سسرال والے کیسے ہیں گل نور بولی تو آمنہ بیگم نے کہا تم چپ کرو بعد میں بھابھی نے تماشہ کرنا تھا .

گل کو گھر میں بہت کام ہوتے تھے وہ پڑھائی پر کم ہی دیہان دے سکتی تھی ۔

حمزہ نے ایک دفع پھر اپنی ماں سے گل اور اس کی شادی کا ذکر کیا تھا

مگر وہ نا مانی تھیں ۔

آج اس کا پہلا پیپر تھا امتحان سے فارغ ہو کر وہ باہر بیٹھی تھی کے اتنے میں سے علیزے آتی دکھائی دی گل تم ابھی تک ناراض ہو مجھ سے یارر گل سورج نا مان بھی جاؤ

بات مت کرو مجھ سے علیزے تم جاؤ اس حارث کے پاس جاؤ

گل سوری نا علیزے پھر بولی تھی

مل آئی ہو اس سے مل گیا سکون تمہیں

علیزے نے گل کی بات پر گل کی طرف دیکھ کر اثبات میں سر ہلایا

علیزے تم بہت بری ہو میری کوئی بات نہیں مانتی ہو

اچھا نا یار گل حارث بہت اچھا ہے

سچ میں وہ بہت اچھا ہے

اچھا بس میرے سامنے اس کا ذکر مت کیا کرو اور ہاں علیزے جتنی جلدی ہو سکے شادی کر لو تم دونوں گل علیزے کو اب سمجھانے لگی تھی۔

تمہیں محبت ہو گی نا گل پھر پوچھوں گی تم سے میں علیزے نے گل سے کہا

علیزے مجھے محبت نہیں ہو گی

اور اگر کبھی ہوئی بھی تو اپنے شوہر سے ہو گی نامحرم کی محبت کا میں تصور بھی نہیں کر سکتی۔

دیکھتے ہیں گل نور یہ سب کہنے کی باتیں ہیں اچھا چلو آؤ کچھ کھاتے ہیں

یہ کہتے ہوئے وہ کینٹین کی جانب بڑھ گئیں

_____________⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩_____________

دو ہفتوں بعد___________⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩________امتحانات ختم ہو چکے تھے ۔

گھر میں حنا کی شادی کی تیاریاں چل رہی تھیں گل نور اور اس کی ماں ہر وقت کام میں مصروف رہتی تھی ۔

حمزہ سے بھی گل کا سامنا کم ہی ہوتا تھا ۔

گل نور تم بھی چلی جاؤں ان کے ساتھ سامان وغیرہ پکڑانے میں مددد کر دینا ان کی وہ دونوں عائشہ اور حنا شاپنگ پر جارہی تھیں گل کو چچی کی بات پر بہت غصہ آیا تھا مگر اسے مجبوراً جانا پڑا تھا ساتھ

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩______⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦

سامان سنبھالتی ہوئی وہ چل رہی تھی کے اس کی کسی سے ٹکر ہوئی سامنے والے شخص کو دیکھ کے لگتا تھا وہ بہت ہی کوئی امیر شخص ہے کانوں میں ائیرفون لگاۓ تھری پیس سوٹ پہنے بالوں کو جیل سے سیٹ کیا گہری کالی آنکھیں سفید رنگ وہ بہت خوبصورت لگ رہا تھا۔

گل نور کے ہاتھ سے بیگس گر گئے تھے

اوہ سوری میں اٹھا دیتا ہوں آپ رہنے دیں وہ اب بیگس اٹھانے لگا تھا

گل نور پریشان ہو گئی تھی وہ گل نور کو دیکھے جا رہا تھا ۔

اس نے سارے بیگس اٹھا کے گل نور کو تھما دیے ۔

سوری کہتا ہوا وہ آگے کی جانب بڑھ گیا

کہاں تھی تم جلدی جلدی چلا کرو یہ پکڑ لو یہ والا بیگ بھی عائشہ نے گل نور سے کہا گل نے وہ بیگ بھی عائشہ کے ہاتھ سے لے لیا ۔

یہ سب وہ انجان شخص بھی دیکھ چکا تھا ۔

سارم یار کہاں رہ گیا تھا تو کب سے ڈھونڈ رہا ہوں کے کی واچ تو چلیں سمیر نے سارم سے کہا جو کہی اور دیکھنے میں مصروف تھا

کہاں دیکھ رہا ہے

سمیر نے آگے بڑھ کے دیکھا یہ چہرہ اسے دیکھا دیکھا لگا تھا

کچھ نہیں سارم نے کہا اور آگے بڑھ گیا

ایسے ہی اس کا پیچھا کرتا ہے سارم تو کسی دن اسے پتا چل گیا تو جان سے مار دے گی تجھے

مجھے اس کے ہاتھوں مرنا سو دفع قبول ہے میری جان چل اب چلیں سمیر اس کی بات پر مسکرایا تھا چلو چلیں اور وہ دونوں آگے کی طرف بڑھ گئے۔

گل سوچوں میں گم بیٹھی تھی کون تھا وہ شخص مجھے اس کا چہرہ دیکھا دیکھا کیوں لگا وہ سوچ رہی تھی اتنے میں حنا کی آواز آئی گل ادھر آؤ وہ اٹھ کر حنا کی جانب بڑھ گئی ۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩___________⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

حارث تم پاگل ہو گئے ہو یار میں تمہارے ساتھ ٹرپ پر کیسے جاؤں میں گھر والوں سے جھوٹ کیسے بولوں گی یارعلیزے فون پر حارث سے بات کر رہی تھی

پلیز علیزے میری خاطر تم اتنا نہیں کر سکتی یار پلیز نا ایک رات اور ایک دن کی ہی تو بات ہے اچھا حارث میں تمہیں سوچ کر بتاؤں گی ابھی مجھے امی بلا رہی ہیں یہ کہتے ہی اس نے فون رکھ دیا ۔

گل گل سے مشورہ کرتی ہوں اسنے کچھ سوچ کر گل نور کا نمبر ملایاگل نور نے کال نا اٹھائی تو اس نے دوبارہ فون بھی نا کیا

اب وہ سوچ رہی تھی کے گل بھی اسے منع کر دے گی جانے سے مگر وہ حارث کی ناراضگی نہیں دیکھ سکتی تھی تو حارث کے ساتھ جانے کو تیار ہو گئی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

امی ناشتہ دے دیں بہت بھوک لگی ہے روحان فضیلت بیگم سے کہہ رہا تھا جو کچن میں ناشتہ ہی بنا رہیں تھی

ناشتہ کی ٹیبل پر وہ روحان سے مخاطب ہوئییں بیٹا مجھے آج علیزے کے گھر لے چلو میں بھابھی سے بھی مل آؤں گی اور علیزے سے بھی ویسے بھی گھر بیٹھے بور ہو جاتی ہوں میں جی ٹھیک امی میں آپ کو چھوڑ دوں گا۔

آپ تیار ہو جائیں میں آتا ہوں ابھی

_______⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦_______

علیزے نے بھی گھر والوں سے جھوٹ بول کر اجازت لے لی تھی ۔

ہاں حارث تم فکر مت کرو میں نے جھوٹ ہی بولا کے میں دوستوں کے ساتھ جا رہی ہوں وہ فون پر حارث کو کہہ رہی تھی