Muhabat Mera Junoon by Noor NovelR50442 Muhabat Mera Junoon Episode 14
Rate this Novel
Muhabat Mera Junoon Episode 14
Muhabat Mera Junoon by Noor
میں تیار ہوں امی علیزے سے شادی کرنے کے لیے وہ اپنی ماں کے کمرے میں موجود تھا ۔
ماشاءاللہ میرا بچہ علیزے بہت اچھی لڑکی ہے اللّٰہ ہمیشہ تم دونوں کو خوش رکھے میں کل ہی بھابھی کی طرف جاؤں گی وہ روحان کا جوب ہاں میں سن کے بہت خوش ہو گئیں تھیں ۔وہ کافی دن سے اس کو شادی کے لیے راضی کر رہی تھیں مگر وہ انکار کر دیتا تھا ہمیشہ آج پتا نہیں اسے کیا ہوا تھا کے وہ مان گیا ۔
وہ کافی سمجھدار تھا اسے لگتا تھا اس کا یہ فیصلہ ٹھیک ہے تبھی وہ مطمئن تھا ۔
گل تمہاری خوشی میں میری خوشی اس نے آہ بھری تھی.![]()
![]()
____________![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
گل میری جان عائشہ کب سے بلا رہی ہے جاؤں کر آؤں شاپنگ وہ گل سے کہہ رہی تھیں جو بیڈ پر چپ چاپ بیٹھی تھیامی اس نے اداس نظروں سے اپنی ماں کو دیکھا تھا
اللّٰہ کے فیصلوں میں بہتری ہوتی ہے
اور ولید اتنا برا بھی نہیں ہے اب ایسے اداس شکل مت بناؤ اور جاؤ عائشہ کب سے انتظار کر رہی ہے ویسے بھی شام ہو چکی ہے ۔
________________________________________________
وہ دونوں مال میں موجود تھیں گل یہ دیکھو یہ کیسا ہے عائشہ اسے نیکلس دکھا رہی تھی جو سوٹ پھوپھو لائی تھی اس کے ساتھ کا
اچھا ہے گل نے بس اتنا ہی کہا تھا نیکلس سے اسے کچھ یاد آیا تھا اور وہ سوچوں میں گم گئی تھی گل کیا ہوا ہے کہاں گم گئی ہو عائشہ نے گل کو یوں کسی اور دنیا میں گم دیکھ کر پوچھا تو گل نور نے کہا کے کہی نہیں تم یہی لے لو ۔
اچھا کچھ کھاؤں گی مجھے تو بہت بھوک لگی ہے تم یہی رکو میں کچھ کھانے کے لیے لے کے آتی ہوں تب تک اور چیزیں پسند کرو تم میں آئی وہ یہ کہتے وہاں سے چلی گئی ۔
ارے ارے عائشہ آپ یہاں اکیلے کیا کر رہی ہیں آواز پر اس نے پلٹ کر دیکھا وہ سمیر تھا اس نے سمیر کو دیکھتے ہوئے کہا میں گل نور کے ساتھ آئی تھی شاپنگ کرنے
سمیر حیران تھا عائشہ گل نور کے ساتھ کیوں آئی
اس نے پوچھ ہی لیا تھا کے کیوں آئی
وہ گل نور کا نکاح ہے نا کل اس کی شاپنگ کے لیے آئی ۔
سمیر کے تو جیسے ہوش ہی اڑ گئے تھے گل نور کا نکاح کس کے ساتھ اس نے فوراً سے سوال کیا
ولید میری پھوپھو کا بیٹا آپ جانتے تو ہیں نا ولید کو حنا آپی کی شادی پر بھی آیا تھا ۔
اوہ ہ ہ ہ اچھا پھر تو مجھے بھی گل نور کو مبارک دینی چاہیے اچھا آپ مجھے بتائیں آپ لوگ کہاں ہے میں ابھی گل نور کے لیے کوئی گفٹ کے کر آیا اس نے عائشہ سے کہا تو عائشہ نے اسے بتا دیا اور وہاں سے یہ کہتے ہوئے چلی گئی کے جلدی آئیے گا ۔
ہیلو سارم بھائی گل نور کا نکاح ہو رہا ہے ولید کے ساتھ کل سمیر نے ایک سانس میں ہی جیسے سب بتا دیا تھا
واٹ سارم تو جیسے غصہ سے پاگل ہو گیا تھا
گل صرف میری ہے اور اس کا نکاح کسی اور کے ساتھ تم پاگل ہو گئے ہو سارم بھائی میں نے جو سنا وہ میں نے آپ کو بتا دیا اور وہ سب سچ ہے ۔
ٹھیک ہے تم کل گل کو پارلر سے اٹھا لو گے جس طرح بھی کرو مجھے گل چاہیے
مگر ایسے کیسے سمیر بولا تھا
جیسے بھی کرو سمیر جو کہا ہے صرف وہ کرو آئی سمجھ یہ کہہ کے اس نے فون رکھ دیا ۔
دوبارہ فون بجا تھا سارم ہی تھا اس نے فون اٹھایا
گل نور کو کیڈنیپ کرنے کے بعد اس کو یہی ظاہر کروانا ہے کے اس کو تم نے کیڈنیپ کیا ہے سمیر نے آئی سمجھ یہ کہہ کے اس نے فون رکھ دیا تھا ۔
![]()
![]()
___________![]()
![]()
![]()
مبارک ہو گل نور آپی یہ آپ کا نکاح کا گفٹ اس نے گل کو مبارک دی تھی اور گفٹ بھی آپ لوگوں کو میں گھر چھوڑ دیتا ہوں آپ لوگوں کو نہیں ہم ڈرائیور کے ساتھ چلے جائیں گے آپ کا بہت شکریہ عائشہ نے سمیر سے کہا تھا سمیر کا دل چاہا اس کا سر پھوڑ دے ٹھیک ہے سمیر یہ کہتے ہی وہاں سے چلا گیا ۔
وہ لوگ بھی اب گھر جانے کے لیے نکلے تھے میری کزن کا پارلر ہے کل رہی سے تیار ہو جائیے گا گل آپی فری میں کر دیں گی میری طرف سے تحفہ سمجھ کر وہ دوبارہ آیا تھا اور اس نے بولا تھا اوہ واؤ ضرور آپ میرا نمبر لے لیں ایڈریس بتا دیجیۓ گا گل نور تو چپ رہی مگر عائشہ بولی تھی سمیر نے گل نور کو دیکھا تھا اسے لگا تھا وہ اداس ہے بہت گل آپی میں ہو نا کیوں اداس ہوتی ہو اس نے دل ہی دل میں کہا اور نمبر لے کے چلا گیا ۔
![]()
![]()
____________![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
وہ دونوں بھی گھر آ چکی تھیں
سارم کا میسج آیا تھا اس کے نمبر پر
تم صرف میری ہو میں تمہیں کبھی کسی کا ہونے نہیں دوں گا گل نور
تمہارا اور صرف تمہارا سارم
گل تو ڈر گئی تھی پڑھ کے کیوں کے وہ شاید جان گئی تھی کے یہ سارم پاگل ہے وہ کچھ بھی کر سکتا ہے
اس نے فون بند کر دیا اور سو گئی یہ سوچ کر کے اگر اب اور کچھ سوچے گی تو پاگل ہو جائے گی
صبح سے سوچ سوچ کے تنگ آ گئی تھی وہ۔
(نکاح کی رسم سادگی سے کرنے کا کہا تھا کسی کو نہیں بلایا تھا حنا کو بھی نہیں بس پھوپھو کی فیملی اور گل نور اور اس کی چچی وغیرہ ۔
یہ سب اس کی چچی نے کہا تھا کرنے کو کے کہی حمزہ کو پتا نا چل جائے کچھ بھی کیونکہ اگر اس کو پتا چل گیا تو وہ یہ نکاح نہیں ہونے دے گا اور سب کچھ ہاتھ سے جائے گا )
![]()
![]()
![]()
____________![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
سمیر نے جھوٹ تو بول دیا تھا کے اس کی کزن کا پارلر ہے اب بڑا پریشان تھا کے کیا کرے
سارم بھائی اب کیا کروں
کسی بھی پارلر والی کو کہوں کزن بن جائے
کوئی نہیں مانے گا بھائی سمیر بولا تو سارم غصے سے بولا تم سے ایک کام نہیں ہوتا کیوں نہیں مانے گی جتنے پیسے مانگتی ہے دے دینا مان جائے گی وہ ورنہ اپنا پارلر بنانے میں دیر نہیں لگتی سمیر نے اب فون رکھ دیا ہے ۔
سارم تو پاگل ہو گیا ہے مجھے بھی کر دے گا وہ یہ کہہ کے کچھ سوچنے لگا کے اب کیا کیا جائے ۔
گھر کے نزدیک جو پارلر تھا وہاں کی اونر کے پاس وہ کھڑا تھا
آپ پاگل ہے میں ایسا کیوں کروں
میں آپ کو اس کی بھاری قیمت ادا کروں گا
پلیز آپ مان جائیں
کتنے پیسے دے سکتے ہیں آپ
جو رقم آپ مانگیں گی میں دینے کو تیار ہوں سمیر فوراً بولا
پچیس لاکھ اس نے مانگے تھے
ٹھیک ہے مگر لڑکی کو پتا نا چلے کچھ بھی.
کسی کو کوئی شک نہیں ہونا چاہیے وہ ان سب کو سب سمجھاتا ہوا چلا گیا۔
![]()
![]()
![]()
_________![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
وہ دونوں پارلر کے لیے نکل چکی تھیں ۔
سمیر نے عائشہ کو ایڈریس بتا دیا تھا ۔
عائشہ تیار ہو چکی تھی
گل بھی بس ہو چکی تھی بال بنانا باقی تھی
گل سمپل سے سفید رنگ کے فراک میں لال کام والے دوپٹے کے ساتھ بہت پیاری لگ رہی تھی ۔
پارلر میں کچھ لوگ داخل ہوئے جن کے چہرے چھپے ہوئے تھے ان میں سے ایک نے فائر کیا تھا اب ڈر گئے تھے
اے لڑکی چلو ہمارے ساتھ وہ گل نور کی طرف بڑھا تھا
نہیں گل نور عائشہ بولی تھی تم چپ کرو لڑکی وہ گل کے سر پر گن رکھ کر اسے گاڑی تک لے گئے تھے گاڑی میں ایک شخص بیٹھا تھا اس کا چہرہ چھپا ہوا تھا گل کو گاڑی میں بیٹھا دیا تھا اور وہ گاڑی زن سے بھگا لے گیا تھا
عائشہ تو رونے لگی تھی ۔
یہ سب کیا ہوا تھا اسے کچھ سمجھ نا آ رہا تھا ۔
وہ گاڑی میں بیٹھ کر ڈرائیور کے ساتھ گھر چلی گئی
عائشہ نے پارلر والی کو بھی بہت کچھ سنایا تھا ۔
![]()
![]()
![]()
____________![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
اس شخص نے اپنے چہرے سے ماسک اتار دیا تھا
سمیر تم وہ غصہ سے بولی تم نے کیوں کیا ایسا میں تو تمہیں اپنا بھائی سمجھتی تھی تم اس حد تک گر سکتے ہوں میں سوچ نہیں سکتی تھی گل نور سمیر کو دیکھ کر اسے سنانے لگی تھی مگر سمیر بس گاڑی چلا رہا تھا اس نے گل نور کی باتوں پر دھیان ہی نا دیا تھا گل روئے جا رہی تھی بس اور بولے جا رہی تھی ۔
![]()
![]()
________![]()
![]()
![]()
![]()
عائشہ گل کیسے اغوا ہو سکتی ہے ہوش میں ہو تم یا پاگل ہو گئی ہو ۔
مولوی صاحب انتظار کر رہے نکاح کا وقت ہو گیا ہے عین اس وقت حمزہ کی کال آئی تھی جس پر عائشہ نے اسے بتایا کے گل اغوا ہو گئی ہے اور آج اس کا نکاح تھا ولید کے ساتھ عائشہ ایسا کیسے ہو سکتا ہے وہ پریشان تھا ۔
