Muhabat Mera Junoon by Noor NovelR50442 Muhabat Mera Junoon Episode 5
Rate this Novel
Muhabat Mera Junoon Episode 5
Muhabat Mera Junoon by Noor
لیکن اسے معلوم نا تھا کے اس کی باتیں کوئی سن چکا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اندھیرے کمرے میں بیٹھی رو رہی تھی اففففففففف کوئی تو بچا کو مجھے ہیلپ ہیلپ وہ رو رہی تھی کوئی ہے یااللہ اب تو ہی میری مدد کر ۔
علیزے ایسی حرکت کرے گی میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔علیزے کی باتیں سن کر وہ دل ہی دل میں بول رہا تھا اسے علیزے پر غصہ بھی بہت آ رہا تھا ۔
علیزے اب ڈرائیور کے ساتھ حارث کے گھر کی طرف نکل چکی تھی اس کو گھر سے نکلتا دیکھ روحان بھی اٹھ گیا تھا ارے بیٹا تم نے تو کچھ کھایا ہی نہیں کچھ کھا کر تو جاؤ علیزے کی ماما نے روحان سے کہا تو وہ بولا نہیں میں چلتا ہوں شام میں آؤ گا یہ کہتا ہی وہ باہر نکلا اور گاڑی میں بیٹھ کے گاڑی زن سے بھگا لے گیا۔
_________
صاحب جی آپ کے حکم کے مطابق لڑکی کو کمرے میں بند کر دیا ہے وہ گھر کے باہر کھڑا کسی سے فون پر بات کررہا تھا۔روحان بھی سب سن رہا تھا چونکہ وہ ایک سی ایس ایس آفیسر تھا علیزے کو چھڑوانا اس کے لیے بہت آسان تھا ۔
_________
حارث کا گھر شہر سے تھوڑا باہر تھا جہاں ٹریفک بہت کم ہوتی تھی اور وہ کالونی بھی کافی سنسان تھی علیزے کی گاڑی کے سامنے دو موٹر سائیکلیں آ کر رکیں دونوں پر دو دو آدمی تھے ۔ہاتھوں میں پسٹلز لیے چہرے کو نقاب سے ڈھکے علیزے یہ سب دیکھ کر ڈر گئی تھی اففففففففف یہ کون ہیں۔
ڈرائیور وہ گاڑی سے باہر نکالا اور اس کے سر پر ان میں سے ایک نے گن ماری تھی وہ تو وہی بی ہوش ہو گیا تھا۔
اے لڑکی چلو نکو باہر ان میں سے ایک بولا تھا۔
ننننن نہیں ممم میں آپ یہ سب لے لیں اس نے اپنے ہاتھ سے واچ اتاری اور انہیں دی اپنا موبائل ایک چین جو اس نے پہن رکھی تھی وہ سب انہیں دے دیا اب تم نکلو باہر
ننننن نہیں پلیز مجھے جانے دیں وہ روئی تھی
نکلتی ہو کے نی وہ اتنی ذور سے بولا تھا کے وہ گاڑی سے باہر آ گئی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اسے ایک اندھیرے کمرے میں لا کے بند کر دیا گیا تھا۔
حارث نے بھی پولیس کو کال کی تھی تھوڑی دیر میں پولیس وہاں موجود تھی ۔
وہ علیزے کو پہلے بچانے اس لیے نا گیا تھا کیوں کے وہ اکیلا تھا اور اس کے پاس کوئی ہتیار بھی نہیں تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کمرے کا دروازہ کھول دیا گیا تھا وہ دروازہ کھلنے کی آواز پر چونکی تھی ککککک کون ہو تم ؟
اندر داخل ہونے والے شخص نے لائٹ جلائی تھی وہ کوئی پولیس آفیسر تھا گھبرائیں نہیں آپ ہمارے ساتھ چلیں پریشان نا ہوں وہ اسے اپنے ساتھ باہر لے گیا تھا ۔
وہ اپنی گاڑی کے ساتھ ٹیک لگائے ہی کھڑا تھا روحان کو باہر دیکھ وہ چونکی تھی آپ یہاں ؟ اس نے سوال کیا اس وقت وہ بہت ڈری ہوئی تھی ۔
گاڑی میں بیٹھو علیزے وہ غصہ سے بولا تھا مگر آپ یہاں کیسے اس نے پھر سے سوال کیا تھا اس کے سوالوں پر اب روحان کو غصہ آنے لگا تھا
میں نے کہا گاڑی میں بیٹھو ورنہ اس کو پہلی بار یوں غصے میں دیکھ کر وہ بہت ڈر گئی تھی اور جا کر گاڑی میں بیٹھ گئی تھی ۔
![]()
![]()
___________
پولیس آفیسرز کا شکریہ ادا کر کے اور انہیں مزید تفتیش کا کہہ کر وہ گاڑی میں بیٹھ گیا۔
اس نے گاڑی کا دروازہ کافی ذور سے بند کیا تھا جس سے پتا لگتا تھا وہ شدید غصہ میں ہے ۔
یہ لو تمہارا فون ان گنڈوں سے لیا ہے اور یہ باقی چیزیں اسنے علیزے کو سارا سامان دیا
کون تھے یہ لوگ اس نے سوال کیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ممم مجھے نہیں پتا وہ ڈرتے ہوئے بولی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کہاں جارہی تھی تم؟
دوست کے گھر اس نے روحان کو جواب دیا
جھوٹ مت بولو علیزے میں تمہاری تھوڑی دیر پہلے فون ہے ہونے والی گفتگو سن چکا ہوں ۔
علیزے روحان کی بات سن کر مزید ڈر گئی تھی اور اب وہ رونے لگی تھی آپ پلیز گھر میں کسی کو کچھ مت بتائیے گا اس نے التجا کی تھی
روحان نے اثبات میں سر ہلایا تھا
علیزے نے ساری بات روحان کو بتا دی تھی۔
روحان اس کی بات سن کر صرف اتنا ہی بولا تھا ابھی اس حارث سے کوئی کونٹیکٹ نہیں کرو گی تم جب تک تفتیش مکمل نا ہو جائے۔
باقی سارا راستہ خاموشی سے گذرا تھا
![]()
![]()
___________
گل نور بیٹا یہ تمہارے چچا نے کچھ پیسے دیے ہیں کہہ رہے تھے گل اور اپنے لیے حنا کی شادی کے کپڑے لے لینا
ان کو ہمارا خیال کیسے آ گیا آج تک تو کبھی نہیں پوچھا انہوں نے گل کی یہ بات اس کی چچی نے سن لی تھی
واہ واہ نخرے تو دیکھو میڈم کے ختم ہی نہیں ہو رہے ہمارے ٹکڑوں پر پل رہی ہو ہمارے گھر میں رہ رہی ہو شرم تو تمہیں آتی نہیں اگر آج ہم تمہیں نکال دیں یہاں سے کوئی پوچھنے والا بھی نہیں ہے تمہیں اس نے گل نور کو اتنی سنائیں تھیں
میرے بابا کا بھی حصہ ہے اس بزنس میں اس گھر میں وہ پہلی بار کچھ بولی تھی اپنی چچی کے سامنے جس پر اس کی چچی نے اسے ایک زور دار تھپڑ مارا تھا
ذیادہ ہی زبان چل رہی ہے تمہاری آمنہ سمجھا کو اپنی بیٹی کو
گل نور معافی مانگو اپنی چچی سے آمنہ بیگم نے گل نور کو بولا تو وہ حیرت سے اپنی ماں کی طرف دیکھنے لگی
معاف کر دیں مجھے آئندہ نہیں ہو گا ایسا کچھ
بس بس اور ہاں آمنہ کپڑے لے لینا پھر یہ نا ہو حنا کی شادی پر لوگوں کے سامنے پرانے کپڑے پہن کے آ جانا لوگ کیا کہیں گے کچھ دیتے نہیں ہم تمہیں یہ کہتے وہ باہر چلی گئی ان کے جانے کے بعد گل نے اپنی ماں کی طرف دیکھا تھا
امی وہ بولی تھی اور رونے لگی تھی
وہ جتنا رو سکتی تھی وہ روئی تھی
امی آپ ہمیشہ سے مجھے کہتی آئیں ہیں دعا کرو سب سہی ہو جائے امی ابو بیمار ہوئے آپ کہتی تھیں دعا کرو سب ٹھیک ہو جائے گا
مگر امی ابو بھی چلے گئے میں نے بہت دعائیں کی رو رو کے دعائیں کیں امی مگر کیا کو کچھ ٹھیک نہیں ہوا ابو ہمیں چھوڑ کر چلے گئے وہ اب بھی رو رہی تھی
گل میری بچی تمہارے ابو کی ذندگی اتنی ہی تھی میری جان مایوس نہیں ہوتے ہیں مایوسی کفر ہے اللّٰہ کے ہر کام میں بہتری ہوتی ہے میری جان چپ کر جاؤ گل نور مایوس نا ہو مایوسی کفر ہے میری جان
مایوسی پتا ہے کیا ہے؟؟
یہ سوچ لینا کہ کچھ نہیں ہونا میرا وقت یہی رہے گا میری سوچیں نہیں بدلیں گی میں یوں ہی رہ جاؤں گی/گا.
یہی وہ صبر کی دوڑ ہے جو اپنے رب عزوجل پے یقین کرنا سکھاتی ہے اور صبر سے کام لیں اور یقین رکھیں کہ سب ٹھیک ہو جائے گا اور سب ٹھیک ہے یہ سوچیں سب وقتی ہیں سب ختم ہو جائے گا ایک دن۔ یہ یقین رکھیں کہ آگے ایک نیا سفر آپ کا منتظر ہے، آگے خوشیاں منتظر ہیں آپ کی۔
اور وہ جو رب العزت ہے ہر چیز پر قادر ہے اپنے بندوں کو کبھی رسوا نہیں کرتا کبھی نا اُمید نہیں کرتا کبھی مایوس نہیں کرتا۔
صبر چاہتا ہے وہ بس ہم سے
تم صبر کرو
تم تو میری بہادر بچی ہو وہ گل کو پیار سے سمجھا رہیں تھیں
چلو اٹھو شاباش روتے نہیں ہاتھ منہ دھو کر آؤ جاؤ
__________
مومن کبھی مایوس نہیں ہوتا کیونکہ “مایوسی کفر ھے”
مومن کبھی مایوس نہیں ہوسکتا ہے کیونکہ ارشادِ باری تعالیٰ ھے
(ان مع العسریسرہ) “بےشک ہر مشکل کیساتھ آسانی ھے”
مومن کو مایوسی زیب نہیں دیتی کیونکہ ہماری تعلیم یہ ھے کہ
(لا یکلف اللہ نفس الا وسعھا)”اللہ پاک کسی نفس پہ اسکی جان سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتے”
مومن مایوسی کو اپنے پاس نہیں آنے دیتا کیونکہ ہمیں سکھایا گیا ھے کہ
(“لا تحزن ان اللہ معنا” )” غم نہ کر اللہ ہمارے ساتھ ھے”
مومن مایوس نہیں ہوتا کیونکہ قرآن پاک گواہی دیتا ہے کہ
( و ما کان ربک نسیا) ” اور تیرا رب بھولنے والا نہیں”
مومن مایوس نہیں ہوسکتا کیونکہ ارشادِ باری تعالیٰ ھے کہ
( ان ربی لسمیع الدعاء) “بے شک میرا رب دعا سننے والا ھے”
مومن مایوس نہیں ہوتا کیونکہ رب کائنات خود فرماتا ھے
(لا تقنطو من رحمت اللہ) “خدا کی رحمت سے ناامید نہ ہو”
مومن خدا پہ یقین رکھتا ھے کیونکہ
( نصر من اللہ و فتح قریب) “خدا کی طرف سے مدد اور فتح عنقریب ہوگی”
جب یہ سب ہمیں قرآن میں سکھایا گیا ہے تو کیا ہمیں مایوس ہونا چاہیئے اسکی رحمت سے
اس پر یقین رکھو بے شک یقین رکھنے والوں کیلئے معجزے ہوتے ہیں
یقین رکھنے والوں کیلئے ہی کُن کہا جاتا ھے
دعا کوئی بھی رد نہیں ہوتی بس ہم انتظار نہیں
کرتے ،دستک کا تسلسل مانگنے والے کی شدت کو ظاہر کرتا ھے اور شدت سے مانگنے والوں کوخالی نہیں لوٹایا جاتا
فبای الاء ربکما تکذبان۔
__________
گل کو اپنی اماں کی باتیں سن کر کچھ تسلی ہوئی تھی۔
اللّٰہ تو مجھ سے بہت محبت کرتے ہیں وہ تو سب دیکھ رہیں ہیں وہ ہر چیز سے واقف ہیں وہ جب بھی تکلیف میں ہوتی تھی مایوس ہوتی تھی سورت رحمٰن کی تلاوت کرتی تھی
اسے سکون ملتا تھا ایسا لگتا تھا اس کی زندگی میں کوئی غم نہیں ہے اور اب بھی وہ وضو کر کے سورت رحمٰن پڑھنے لگی تھی۔
شادی کی تیاریاں زور و شور سے جاری تھیں
گل اور آمنہ بیگم بھی اجازت لے کر کپڑے لینے بازار چلی گئیں تھیں
گل نور اور اس کی اماں مال میں موجود تھیں اسی مال میں جہاں وہ کچھ دنوں پہلے حنا وغیرہ کے ساتھ آئی تھی اس نے اپنی اماں سے کہا تھا کے اسے وہی سے کپڑے لینے ہیں ۔
اسے ایک سوٹ پسند آیا تھا کالے رنگ کا اس پر بہت قیمتی کام ہوا وا تھا
اس کے پیسے پوچھے گئے اوہ ہ ہ یہ تو بہت مہنگا ہے میرے پاس تو اتنے پیسے نہیں ہیں وہ یہ کہہ کے چپ ہو گئی اور کچھ اور پسند کرنے لگی
کوئی تھا جو یہ سب دیکھ رہا تھا
بات سنیں وہ جو لڑکی سامنے کھڑی ہے اس نے جو بلیک ڈریس پسند کیا وہ کتنے کا ہے اس نے پوچھا
پچیس ہزار
آپ اس لڑکی کو پھر واپس بلائیں اور کہیں کے آپ کو بتانے میں غلطی ہوئی تھی وہ ڈریس پانچ ہزار کا ہے
مگر سر وہ بولا
آپ بے فکر رہیں میں آپ کو باقی کی Payment کر دوں گا ابھی آپ کو جو کہا ہے وہ کریں وہ اور ہاں لڑکی کو ذرا شک نہیں ہونا چاہیے یہ کہتے ہی وہ سائیڈ پر ہوا تھا
دکاندار نے گل نور کو بلایا اور ویسا ہی بولا جیسا سارم نے اسے کہا تھا
گل تو خوش ہو گئی تھی کے اسے اس کی پسند کا ڈریس مل گیا اس نے وہ خرید لیا تھا ۔
سارم گل نور کو یوں خوش دیکھ کر بہت خوش ہوا تھا اس کا بس نہیں چل رہا تھا کے وہ دنیاں جہاں کی خوشیاں لا کر نور کے قدموں میں رکھ دے ۔
نور نے باقی کپڑے لیے اور گھر کی طرف روانہ ہو گئی
سارم وہی مال میں ہی تھا ہاں سمیر کہاں رہ گیا ہے جلدی آ
آیا بس ابھی دوسری طرف سے جواب آیا………………………………………………………!
علیزے بہت پریشان تھی حارث اسے فون کرتا میسج بھی کرتا تھا مگر وہ نا اٹھاتی تھی
کیوں کے اسے منع کیا تھا روحان نے اور روحان سے علیزے نے وعدہ بھی کیا تھا جس کی وجہ سے وہ مجبور تھی
روحان نے بھی دوبارہ علیزے سے کوئی کانٹیکٹ نہیں کیا تھا
علیزے پریشان تھی کے روحان نے اسے حارث سے بات کرنے سے منع کیوں کر دیا ہے
اور حارث بھی علیزے سے ناراض تھا اس کے کیے ہوئے مسیجز سے پتا چلتا تھا جن میں لکھا ہوتا تھا
تم بے وفا ہو
ایک تو وعدہ کر کے آئی بھی نہیں اور بات بھی نہیں کرتی ہو مجھ سے یہ وہ
روحان کو سب پتا چل گیا تھا اسنے سوچا خود جا کے علیزے کو بتائے گا مگر کچھ ضروری کام کی وجہ سے جا نہیں سکا
________
________
مہندی سے ایک دن پہلے لقمان صاحب کی بہن بھی آ گئیں تھیں جو کے ان کی اور رشید صاحب کی اکلوتی بہن تھیں جن کے دو بچے تھے
سانیہ اور ولید وہ لوگ بھی ساتھ آئے تھے
وہ سب سے بہت خوش دلی سے ملی آمنہ بیگم کو دیکھتے کی سائرہ کا منہ بن گیا تھا
سب نے ساتھ مل کر کھانا کھایا
ان کا بیٹا ولید کچھ عجیب سا تھا جب سے آیا تھا عجیب نظروں سے گل نور کو دیکھ رہا تھا
یہ بات حمزہ نے بھی نوٹ کی تھی اور اسے اس پر غصہ بھی بہت آیا تھا
سب لوگ بیٹھے تھے لاؤنچ میں مہندی کی تیاریوں کی باتوں میں مصروف تھے
گل نور کچن میں چائے بنا رہی تھی سانیہ کی نظریں حمزہ پر سے ہٹ ہی نہیں رہیں تھیں
آمنہ بیگم کی طبیعت گل کو کچھ ٹھیک نا لگی تو اس نے انہیں کہا کے وہ اپنے کمرے میں چلی جائیں وہ سب کام کر لے گی
گل کے بہت اسرار پر وہ کمرے میں چلی گئیں
حمزہ کچن میں گیا تھا گل میری بات سنو پانی دو مجھے گل نے حمزہ کو پانی دیا تھا
ایک ہی بہانا تھا حمزہ بیچارے کے پاس وہ بھی پانی
پھوپھو کے بیٹے سے دور ہی رہنا کافی عجیب لگا مجھے وہ
گل نور نے حمزہ کی بات کو سن کر ان سنا کر دیا اور حمزہ بھی چلا گیا تھا یہ کہہ کر
