Muhabat Mera Junoon by Noor NovelR50442

Muhabat Mera Junoon by Noor NovelR50442 Muhabat Mera Junoon Episode 17 (Last Episode)

489.9K
17

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Muhabat Mera Junoon Episode 17 (Last Episode)

Muhabat Mera Junoon by Noor

واٹ ایکسیڈنٹ وہ وہ پریشان ہو گیا تھا ۔

کیا ہوا حمزہ گل نور نے سوال کیا

بابا آج ہی واپس آئے ہیں اور ائر پورٹ سے واپسی پر ان کی گاڑی کا ایکسیڈنٹ ہو گیا حمزہ کے بتانے پر گل بھی پریشان ہو گئی

ہاسپٹل سے فون تھا میں وہی جا رہا ہوں تم امی کو بتا دو میں سمیر کو بھیجتا ہوں ۔

وہ پریشانی میں باہر چلا گیا گل بھی پریشان تھی وہ بھی چچی کے کمرے کی طرف جانے لگی ۔

___________________________💞______________________________⁦❤️

وہ سب ہاسپٹل میں موجود تھے ۔

گل اور باقی گھر والوں کو بھی سمیر کے آیا تھا ۔

لقمان صاحب کی حالت کافی خراب تھی سب لوگ بہت پریشان تھا ۔

عائشہ تو کب سے روئے جا رہی تھی ۔

اتنے میں ڈاکٹر آیا

آپ میں سے گل نور کون ہے ؟

ڈاکٹر نے کہا تو گل فوراً اٹھ کھڑی ہوئی

آپ کو اندر لقمان صاحب بلا رہے جلدی ائیں ۔

گل نور اندر چلی گئی

چاچو اس نے لقمان صاحب کو دیکھتے ہی کہا کیسے ہیں آپ فکر نا کریں آپ جلدی ٹھیک ہو جائے گیں گل نور کی آنکھیں نم تھیں ۔

گ گل بیٹا ہو سکے تو مجھے مم معاف کر دینا بیٹا س سمیر تمہارا بھائی ہے یہ کہتے ہی ان کی آنکھیں بند ہو گئی ۔

ڈاکٹر ڈاکٹر گل نور کی آواز پر ڈاکٹرز اندر آئے اور لقمان صاحب کو دیکھنے لگے ۔

سوری

ہی اس نو مور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نن نہیں آپ جھوٹ بول رہیں ایسا نہیں ہو سکتا وہ رو رہی تھی تب ہی حمزہ اور باقی سب اندر آئے

عائشہ بھی ذور ذور سے رونے لگی ۔

حمزہ کی بھی آنکھوں سے آنسوں آ رہے تھے ۔

ایک ہفتہ بعد:

وہ دونوں ایک ساتھ بیٹھے تھے ۔

حمزہ سمیر کون ہے ؟

گل نور نے سوال کیا حمزہ سمیر میرا بھائی ہے ؟

حمزہ نے اثبات میں سر ہلایا

تو پھر وہ ایسے کیوں اکیلا ہم سے دور ہے ۔

گل تم اور سمیر دونوں جڑوا پیدا ہوئے تھے ۔

اس وقت کہا گیا تھا کے لڑکا مر گیا ہے

مگر وہ جھوٹ تھا یہ میرے ماں باپ کی سازش تھی کہ جائیداد ساری سمیر کے نام ہو گی اس بات کا کسی کو بھی نہیں پتا سوائے میرے ماں باپ اور میرے

تمہارے والد نے تمہاری ساری جائیداد میرے نام کی تھی یہ سب تمہارا تھا تمہارا ہے

وہ چاہتے تھے ہم دونوں کی شادی ہو

حمزہ گل کو سب بتا رہا تھا

ہم چلیں سمیر کو لینے ؟

حمزہ امی یہ جان کے کتنا خوش ہونگی ان کا بیٹا ان سے اتنے سالوں دور رہا

اور سمیر حمزہ سمیر بھی تو نہیں جانتا کچھ سمیر کو خادم چچا اور ان کی بیوی نے پالا ہے ( جو ان کے گھر کام کرتے تھے )

جب وہ پندرہ سال کا تھا تو وہ فوت ہو گئے

سمیر اور میں شروع سے دوست تھے تم سب جانتی ہو

سمیر مجھے بہت عزیز ہے جب میں بیس سال کا تھا تو مجھے پتا چلا تھا سمیر تمہارا بھائی ہے مگر سمیر کچھ نہیں جانتا

میرے والد نے مجھے اپنی قسم دی تھی کے میں کسی کو کچھ نا بتاؤں یہ سب لیکن میں تمہیں بتانا چاہتا تھا گل نور تو میری ماما اور بابا نے بیماری کا بہانا بنایا اور مجھے امریکہ جانا پڑا ۔

گل نور حیرت سے حمزہ کو دیکھ رہی تھی

چاچو کو کینسر نہیں تھا گل نے سوال کیا تو حمزہ نے جواب دیا وہ بالکل ٹھیک تھے کچھ نہیں تھا انہیں وہ چاہتے تھے کے میں تم سے دور رہوں ان کی پریشانی میں پڑ جاؤں اور تمہیں کچھ نا بتا سکوں ۔

گل نور کی آنکھیں نم تھیں ۔

سارم کیوں بنے آپ

مجھے ہیرو بننے کا شوق تھا نا حمزہ شوخا ہو کے بولا

بتائیں نا۔

گل مجھے سارم بننا پڑا اگر حمزہ بن کر تمہیں میسج کرتا تحفہ دیتا تو میری ماما کو بھی پتا چل جاتا

میں نہیں چاہتا تھا کے وہ تم پر کوئی الزام لگائیں سارم بنا رہا اور سب سے چھپا رہا ۔

دو مہینے بعد :

گل نور جلدی کرو اور کتنی دیر کرو گی بس دو منٹ اور وہ تیار ہو کر آ گئی تھی

بلیک کلر کی میکسی پہنے حمزہ کی نظر اس سے ہٹ ہی نہیں رہی تھی ۔

چلیں بھی اب ہائے میرا دل تو کر رہا ہے بس تمہیں دیکھتا رہوں اب تو یہی بیٹھ کے جانے کا دل نہیں کر رہا وہ فلمی انداز میں بولا

بس کر دیں حمزہ

گل نور آئی لو یو میری جان

ٹھینک یو حمزہ گل نے جواب دیا

آئی لو یو ٹو بولتے ہیں یہ ٹھینک یو کیا ہوتا ہے تم پیار نہیں کرتی مجھے سے حمزہ نے گل سے پوچھا

بالکل بھی نہیں اب چلیں دیر ہو رہی ہے میری دوست کی شادی ہے میں نہیں چاہتی میں دیر سے پہنچوں

چلیں میڈم اس نے بھی کالے رنگ کی شلوار قمیض پہنے ہوئی تھی جو گل نے اس کے لیے نکالی تھی ۔

لاؤنچ میں سب لوگ تیار ہوئے کھڑے تھے ماشاءاللہ چاند اور سورج کی جوڑی ہے نظر نا لگے میرے بچوں کو حمزہ کی امی نے دیکھتے ہی بولا

سمیر بھی تیار ہو کر آ گیا تھا

آ گئے میرے بچے آمنہ بیگم نے سمیر سے کہا جی امی بھائی آپ گل نور اپی کے ساتھ جائیں باقی سب کو میں لے آتا ہوں ۔

❤️⁩____________________________________________________⁦❤️

وہ دونوں حال میں داخل ہوئے ایک ساتھ بہت پیارے لگ رہے تھے کافی لوگوں کی نظریں ان پر تھیں ۔

گل دیکھو ہیرو لگ رہا ہوں دیکھو کیسے لڑکیاں دیکھ رہی حمزہ بولا تو گل نے اسے گھورتے ہوئے جواب دیا

آپ ہمیشہ شوخے ہی رہنا ۔

علیزے بہت ہی پیاری لگ رہی تھی روحان بھی کسی سے کم نہیں لگ رہا تھا ۔

ان دونوں نے دونوں کو مبارک دی روحان نے ایک نظر گل کو دیکھا ایسے لگا جیسے کہنا چاہ رہا ہو گل تمہارا فیصلہ اچھا تھا میں بہت خوش ہوں گل نور اس کی طرف دیکھ کر مسکرا دی ۔

گل نور زرا سائیڈ پر آنا حمزہ اسے ساتھ لے گیا گل تم بہت پیاری لگ رہی ہو آئی لو یو

یہ کہنے کے لیے آپ مجھے یہاں لائے ہیں حمزہ ہاں تو اور میرے آئی لو یو کا جواب کون دے گا

ٹھینک یو

گل لڑکیاں مرتی ہیں مجھ پر اور تم ہو کے ہاں تو جائیں جائیں انہیں لڑکیوں کے پاس جو مرتی ہیں

اچھا بچوں اب ذرا دیکھو تم

حمزہ وہاں سے یہ کہتا ہوا سامنے ایک لڑکی کھڑی تھی اس کے پاس چلا گیا اور ہنس ہنس کے اس سے باتیں کرنے لگا

گل نور سے تو برداشت نا ہوا

وہ وہاں جا کر اس کا ہاتھ پکڑ کر واپس اسی جگہ لے آئی جہاں وہ پہلے تھے

کیا ہوا گل اچھی بھلی راضی ہو گئی تھی وہ مجھ سے شادی کے لیے گل نے حمزہ کو گھورا کیا ہوا گل کیوں جل رہی ہو حمزہ نے چڑایا

آپ نے اس سے ایسے ہنس ہنس کے بات کیوں کی گل

کیوں کے مجھے پسند ہے

اور مجھے نہیں پسند آپ کا کسی کسی سے ہنس کے باتیں کرنا

کیوں نہیں پسند حمزہ نے گل کی آنکھوں میں دیکھ کر رہا

کیوں کے برداشت نہیں ہوتا مجھ سے

کیوں نہیں ہوتا برداشت اس نے گل کا ہاتھ پکڑا تھا

کیوں کے محبت کرتی ہوں آپ سے گل نے منہ سے بے ساختہ نکلا جس پر حمزہ مسکرایا جانتا ہوں ہمیشہ سے محبت کرتی ہو بس چھپاتی ہو چھپاتی تھی ۔

اب ایسا بھی نہیں ذیادہ شوخے نا ہوں مذاک کیا ہے میں نے 😂گل نے اسے چڑایا

تو وہ دونوں ہنسنے لگے