Muhabat Mera Junoon by Noor NovelR50442

Muhabat Mera Junoon by Noor NovelR50442 Muhabat Mera Junoon Episode 7

489.9K
17

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Muhabat Mera Junoon Episode 7

Muhabat Mera Junoon by Noor

گل نور کی باتوں کا حمزہ پر کہرا اثر ہوا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!

حمزہ میں بہت محبت کرتی ہوں تم سے مگر مجھے لگتا ہے تم دھوکہ دے جاؤ گے مجھے تم مجھ سے محبت نہیں کرتے ہوں تم جھوٹ بولتے ہو تم باقی سب کی طرح ہو

گل نہیں میں تم سے بہت محبت کرتا ہوں

کیا واقعی تم مجھ سے محبت کرتی ہو

اٹھو حمزہ آٹھ بھی جاؤ کیا ہے یار کتنا سوتے ہو بھئی آج بارات ہے تیاریاں نہیں کروانی سمیر حمزہ کو کب سے اٹھا رہا تھا

وہ ایک دم سے چونک کر اٹھ بیٹا تھا

گل نور وہ اپنی آنکھیں مسلتا ہوا بول رہا تھا

کیا ہو گیا بھائی ہوش میں تو ہے میں اچھا خاصا لڑکا تجھے گل نور لگ رہا ہوں ہوش میں آ

سمیر تم وہ گل نور کہاں گئی اس نے حیرانی سے پوچھا

وہ چلی گئی ہے جا میرے بھائی منہ دھو کے اٹھ جا ہوش میں آ

سمیر کے کہنے پر وہ حیران ہوتا ہوا اٹھ کے باتھ روم کی طرف بڑھ گیا

❤️❤️❤️___________❤️❤️❤️

اب کیسی ہے علیزے نسرین بیگم نے ڈاکٹر سے پوچھا

اب اس کی حالت خطرے سے باہر ہے ڈاکٹر نے کہا تو نسرین بیگم کو تسلی ہوئی۔

کافی ذیادہ سلیپنگ پلز لینے کی وجہ سے اس کی طبیعت کافی بگڑ گئی تھی۔

وہ کافی پریشان تھیں کے علیزے نے ایسا کیوں کیا وہ سوچ رہیں تھیں علیزے کے والد بھی آ گئے تھے فضیلت بیگم بھی ساتھ ہی تھیں۔

سب لوگ بہت پریشان تھے۔

نا سمجھ لڑکی ہنہ روحان کو تو علیزے پر غصہ تھا روحان سب جانتا تھا مگر وہ کسی کو کچھ نہیں بتا رہا تھا۔

گل نور بیٹا کو فون کرتی ہوں وہی کچھ بتائے گی نسرین بیگم پریشانی سے بولیں تو روحان گل نور کا نام سن کر چونکا تھا ۔

❤️❤️❤️___________⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

کالا سوٹ پہنے وہ حد سے زیادہ پیاری لگ رہی

یہ کیسا اتفاق تھا کے حمزہ نے بھی آج کالا سوٹ ہی پہن رکھا تھا

وہ دونوں بہت خوبصورت تھے ایسا لگتا تھا جیسے دونوں بنے ہی ایک دوسرے کے لیے ہیں۔

وہاں آئے اکثر لوگوں کی نظر گل نور پر تھی

وہ کسی کام سے گھر میں گئی تھی۔

حمزہ کی نظر گل پر تھی ولید بھی گل کے پیچھے ہی گھر کی طرف گیا تھا

یہ گل کے پیچھے کیوں جا رہا ہے

حمزہ بھی پیچھے جانے لگا تھا کے اس کے سامنے پھوپھو کی بیٹی آ گئی ارے ارے کہاں جا رہے ہیں حمزہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کہیں نہیں آپ کو کوئی کام ہے کیا

نہیں آپ تو بات ہی نہیں کرتے مجھ سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایسی بھی کیا بے رخی حمزہ صاحب

میں بلا وجہ کسی سے بات نہیں کرتا اب آپ یونہی میرا رستہ روک کر کھڑی رہیں گی یا مجھے جانے دیں گیں

مجھے بہت کام ہیں ہٹیں میرے راستہ سے یہ کہتا ہوا وہ بھی گل کے پیچھے گیا تھا

❤️❤️❤️___________⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

ولید بھائی جائیں یہاں سے گل ذور سے بولی تھی ولید کو اتنا قریب دیکھ کر وہ ڈر گئی تھی

ارے ارے بھائی تو نا بولو !

حمزہ نے ولید کی یہ بات سن لی تھی

وہ کمرے میں داخل ہوا تھا کیوں تنگ کر رہے ہو گل کو

کیوں تمہیں کیوں اتنی فکر ہو رہی ہے تمہاری بہن ہے کیا وہ انتہائی گھٹیا انداز میں بولا تھا جس پر حمزہ نے اس کو ذور دار تھپڑ مارا تھا ۔

دو منٹ کے اندر یہاں سے دفع ہو جاؤ ورنہ تمہاری وہ حالت کروں گا تم سوچ بھی نہیں سکتے ۔

تھپڑ کھا کے اس کے ہوش ٹھکانے آ گئے تھے شاید اور وہ چلتا بنا تھا ۔

اب خدا کے لیے آپ بھی جائیں یہاں سے وہ رو رہی تھی

گل میں تمہیں کچھ بتانا چاہتا ہوں

میں کچھ نہیں سننا چاہتی یہ کہتے ہی وہ باہر چلی گئی

حمزہ گل کو بتانے آیا تھا کے سب کچھ اسکا ہے سب کچھ یہ گھر یہ بزنس سب کچھ اور وہ جلد ہی یہ سب اس کے نام کر دے گا مگر گل بہت غصہ میں تھی وہاں سے چلی گئی