Muhabat Mera Junoon by Noor NovelR50442 Muhabat Mera Junoon Episode 1
Rate this Novel
Muhabat Mera Junoon Episode 1
Muhabat Mera Junoon by Noor
حمزا یار تو مت سوچ یہ سب تو چاہ کے بھی کچھ نہیں کر سکتا سمیر نے حمزا سے کہا
میں محبت کرتا ہوں اس سے میں اس کو اس حال میں نہیں دیکھ سکتا مجھے تکلیف ہوتی ہے
لیکن وہ تجھ سے محبت نہیں کرتی حمزہ وہ نفرت کرتی ہے تجھ سے تو جانتا ہے وہ تجھ سے سخت نفرت کرتی ہے وہ تجھے بھی باقی سب کی طرح سمجھتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔
گل نور گل نور بیٹا جلدی کرو آمنہ بیگم کچن میں داخل ہوئی
بس امی بریانی دم پر ہے کڑھائی اور میٹھے میں کھیر بھی بنا دی ہے اب بس برتن دھونے ہیں اس کے بعد روٹیاں بھی ڈال دوں گی
ٹھیک ہے میں کپڑے دھو لوں اور حمزا کے کمرے کی سفائی بھی کرنی ہے میں کہنے آئی تھی جلدی کرو ورنا بھابھی نے شروع ہو جانا ہے
امی اتنے نوکر ہونے کے باوجود بھی سب کچھ ہم کریں یہ خود تو کچھ کرتی نہیں ہیں چچی اور حنا بھی ویلی بیٹھی رہتی
اچھا چپ کرو کوئی سن لے گا آمنہ بیگم بولی تو گل نور چپ کر گئی
وہ اپنے کمرے میں بیٹھی تھی کتاب پڑھنے میں مصروف تھی
اس کا فون بجا تھا ہاں علیزے کیسی ہو یار سوری میں کام میں بہت مصروف تھی ابھی فری ہوئی ہوں
گل تم میرے گھر آ جاؤں علیزے سادیہ چچی مجھے کہاں کہی جانے دیتی ہیں جب کہوں گی تو وہ کوئی کام کہہ کے روک لیں گی
اففففففففف گل ایک تو تمہاری چچی بھی نا اپنی بیٹی کو تو کبھی نہیں روکتی وہ کوئی کام بھی نہیں کرواتی
اچھا چھوڑو علیزے تم دفع کرو میں کوشش کرتی ہوں آنے کی
ہم صبح کالج میں مل لیں گے میری جان تم فکر مت کرو چلو اب میں فون رکھتی ہوں
روحان بیٹا آ گئے تم جلدی کرو آج ہمیں جانا ہے تمہارے تایا کے گھر دعوت پر یاد ہے نا تمہیں
جی امی یاد ہے بس ابھی آیا فریش ہو کےکر
روحان فضیلت بیگم اور مبشر صاحب کا اکلوتا بیٹا تھا
مبشر صاحب کا ایک سال پہلے ہی انتقال ہوا تھا
روحان کافی سنجیدہ مزاج کا تھا اور مبشر صاحب کے انتقال اور حالات نے اسے اور بھی سنجیدہ بنا دیا تھا
بابا مجھے نہیں پتا مجھے جانا ہے بس مجھے جانا ہے بابا پلیز سب جا رہے ہیں ٹرپ پر مجھے جانا ہے
ٹھیک ہے بیٹا تم چلی جانا لقمان صاحب نے عائشہ کو اجازت دے دی تھی
وہ سب ایک ساتھ بیٹھے تھے حمزا بھی آ گیا تھا
چائے لے کر وہ ڈرائنگ روم میں داخل ہوئی
ساری باتیں وہ سن چکی تھی
وہ دونوں ایک ہی کالج میں پڑھتی تھی
عائشہ اور گل نور ،گل نور بھی ٹرپ ہے جانا چاہتی تھی اس نے اپنی چچی سے ذکر بھی کیا تھا مگر انہوں نے یہ کہہ کے انکار کر دیا تھا کے تم چلی گئی تو گھر کے کام کون کرے گا
اور تمہیں کھانیں پینے کو دیتے ہیں تمہاری پڑھائی کا خرچہ کرتے ہیں اس کا مطلب یہ نہیں تم مزید فرمائشیں کرو اب جاؤ یہاں سے جا کے کام کرو اپنا
اور وہ روتی ہوئی چائے بنانے چلی گئی
چائے سب کو دے کے وہ اپنے کمرے میں چلی گئی
اس کی آنکھوں میں آنسوں تھے جو حمزا نے محسوس کیے تھے
وہ کمرے میں آ کر پھوٹ پھوٹ کر رو دی
آمنہ بیگم جو وہی بیٹھی تھی کیا ہوا میری بچی کیوں رو رہی ہو
کسی نے کچھ کہا ہے
امی ایسا ہمارے ساتھ ہی کیوں ہوتا ہے
کاش ابو یوں ہمیں چھوڑ کا نا جاتے
امی ہماری زندگی میں سب ٹھیک کب ہو گا وہ رو رہی تھی
اچھا میرے بچے روتے نہیں بس
اللّٰہ پر بھروسہ رکھو میری جان سب ٹھیک ہو جائے گا
اٹھو شاباش ہاتھ منہ دھو کے وضو کر کے قرآن پڑھو تمہیں سکون ملے گا اٹھو شاباش
جو باتیں مجھے بتا رہی ہو وہ اللّٰہ کو بتاؤ
آمنہ بیگم کی بات سن کر وہ اٹھ گئی اور وضو کے لیے باتھ روم میں چلی گئی
اگلی صبح وہ کالج کے لیے روانہ ہوئی
وہ اور اس کی ماں ہی سب کے لیے ناشتہ بناتے تھے
گھر میں اتنے نوکر ہونے کے باوجود بھی وہی سب کام کرتے تھے
عائشہ کو کالج حمزا چھوڑتا تھا
جبکہ وہ کالج بس پر جاتی تھی
اس کی چچی نے سختی سے منع کر دیا تھا کے وہ خود ہی کالج کسی بس پر جائے گی اپنی باقی کی زمہ داریاں خود اٹھائے گی ورنہ کوئی ضرورت نہیں
اور حمزا کے ساتھ تو وہ اس کو بالکل بھی نا جانیں دیں
انہیں ڈر تھا کے وہ حمزا کو پھنسا نا لے
مگر وہ ایسی بالکل بھی نہیں تھی
حمزہ نے گل نور کو بچپن سے چاہا تھا
جب وہ سترہ سال کا تھا تو گل نور کے والد کا انتقال ہو گیا تھا
اور وہ ساری جائیداد کے مالک تھے جس پر لقمان صاحب اور ان کی بیوی قبضہ جمائے بیٹھے تھے
رشید صاحب کے انتقال سے کچھ دن پہلے رشید صاحب نے اپنے بھائی کو کہا تھا کہ وہ اپنے بیٹے حمزہ سے میری بیٹی کی شادی کریں اگر انہیں کچھ ہو بھی گیا تو
رشید صاحب کو لگتا تھا ایک حمزہ ہی ہے جو ان کی بیٹی کو خوش رکھ سکتا ہے
لقمان صاحب نے تب تو ہامی بھرلی تھی اور ساری جائیداد بھی حمزہ کے نام کروا لی تھی کے جو حمزہ کا ہے وہی سب ہی گل نور کا ہے
_____________________
وہ سب ایک ساتھ بیٹھے کھانے کی ٹیبل پر کھانا کھانے میں مصروف تھے
اور سناؤ روحان بیٹا کیا چل رہا ہے آج کل
کچھ نہیں بس سی ایس ایس کی تیاری دعا کیجیے گا
جی بیٹا ہماری دعائیں ساتھ ہیں تمہارے
علیزے بیٹی کے امتحان کب ہیں؟
فضیلت بیگم نے سوال کیا جی بس چچی اگلے مہینے کے آخر پر
ہممم چلو بچے دل لگا کر پڑھو
اتنے میں اذان ہونے لگی
اذان سننے کے بعد وہ اٹھا میں آتا ہوں نماز پڑھ کے ارے بیٹا کھانا تو کھا لو سہی سے نسرین بیگم بولی
بس کھا لیا آپ لوگ کھائیں
علیزے نے اسے دیکھا تھا اور دل میں سوچا تھا عجیب بندہ ہے
وہ ایسا ہی تھا اذان سنتے ہی سب سے پہلے نماز پڑھتا تھا
وہ کچن میں کھڑی تھی تم جانا چاہتی ہو نا ٹرپ پر حمزہ کی آواز پر وہ چونکی تھی
آپ آپ یہاں کیا کر رہے ہیں آپ کو کچھ چاہیے تھا تو مجھے بتا دیتے آپ کیوں آئے
میں تم سے کچھ پوچھ رہا ہوں گل نور تم جانا چاہتی ہو
نہیں مجھے یہ سب پسند نہیں ہے اور نا ہی میں جانا چاہتی آپ جائیں یہاں سے
کسی نے آپ کو یہاں دیکھ لیا تو اچھا نہیں ہو گا بھائی اور ہاں اچھے بننے کی کوشش نا کیا کریں آپ حمزہ بھائی
میں آپ کو اچھی طرح سے جانتی ہوں
یہ سنتے ہی وہ وہاں سے چلا گیا
مجھے نہیں پتا میں نہیں جانتا مجھے گل پسند ہے اور مجھے شادی بھی اسی سے کرنی ہے بس وہ اپنی ماں کو یہ سب کہہ رہا تھا
گل سے شادی کرنے کا خیال اپنے دل سے نکال دو حمزہ
میرا اور پنے باپ کا مرا ہوا منہ دیکھو گے اگر پھر ایسا سوچا بھی تم نے
___________________________
گل یار وہ بہت اچھا ہے وہ مجھ سے بہت محبت کرتا ہے
تمہیں پتا ہے وہ میرے بغیر ایک منٹ بھی نہیں رہ سکتا
اچھا جی تو اب کیسے رہ رہا ہے وہ تمہارے بغیر گل نے کہا تو علیزے بولی ارے پاگل ابھی تو مجبوری ہے نا میں کالج میں ہوں
علیزے تم واقعی لگتا ہے وہ تم سے محبت کرتا ہے گل نور نے علیزے سے سوال کیا
ہاں گل نور مجھے لگتا نہیں مجھے یقین ہے علیزے نے مسکرا کے جواب دیا
تم شادی کیوں نہیں کر لیتی اس سے جب تم دونوں کو ہی ایک دوسرے سے محبت ہے
اس رشتہ کو حلال بنا دو تم دونوں
وہ کہتا ہے میرے ایگزامز ہو جائیں پھر وہ بھیجے گا اپنے ماں باپ کو
علیزے کی بات پر گل نور چپ ہو گئی
کیا ہوا کیا سوچنے لگی گل نور کو یوں سوچ میں ڈوبے دیکھ علیزے نے سوال کیا
کچھ نہیں علیزے
اچھا گل بتاؤ تم آؤں گی نا میرے برتھ ڈے پر
علیزے تمہیں پتا تو ہے چچی کا
میں عائشہ کو بھی انوائیٹ کر لیتی ہوں
اور اسے کہہ دوں گی کے تمہیں بھی ساتھ لائے پھر تو اسے لانا ہی پڑے گا کیوں ٹھیک کہا نا
جیسا تمہیں ٹھیک لگے علیزے
دیکھو گل تم نی آؤں گی تو میں سیلیبریٹ بھی نہیں کروں گی آنا تو تمہیں پڑے گا
میں تمہارے چاچو کو فون کر کے کہوں گی تمہیں ضرور بھیجیں
