Muhabat Mera Junoon by Noor NovelR50442 Muhabat Mera Junoon Episode 16
Rate this Novel
Muhabat Mera Junoon Episode 16
Muhabat Mera Junoon by Noor
وہ کمرے میں بیٹھی تھی ظہر پڑھ کے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے تھے ۔کمرے میں کسی کے داخل ہونے کی آواز سے وہ ڈر گئی کب سے وہ ڈر ہی رہی تھی کے آخر کون ہے سارم اور کیا چاہتا ہے مجھ سے اس نے پیچھے مڑ کے دیکھا
حمزہ اس نے بس اتنا ہی کہا تھا اور حیرت اور غصے سے اسے دیکھنے لگی تھی
گل نور کیا ہوا ایسے کیوں دیکھ رہی ہو پہلی بار دیکھا ہے کیا حمزہ ہی ہوں تمہارا کزن
حمزہ تم یہاں کیسے کب آئے اسے خوشی ہوئی تھی کے شاید حمزہ اسے سارم سے بچا لے یہ وہ جان ہی نا پائی تھی کے حمزہ ہی سارم ہے۔
میں نے کہا تھا نا بہت محبت کرتا ہوں تم سے مگر تم نے کبھی یقیں ہی نہیں کیا
گل نور میں ہی سارم بھی ہوں اور حمزہ بھی ۔
گل نور کو لگا جیسے حمزہ نے کوئی بم پھوڑا ہو ۔
میں ہمیشہ تمہارے ساتھ تمہارے پاس رہا سارم بن کر جو میں حمزہ بن کر نا رہ سکا میں جانتا تھا کے اگر حمزہ بن کر وہ سب کرتا تو شاید میرے ماں باپ میرے خلاف ہو جاتے ۔
لیکن حمزہ گل نور چپ لیکن ویکن کچھ نہیں میں تمہیں سب بتاؤں گا لیکن ابھی یہ وقت نہیں ہے ۔
کھانا کھا لو اب کب سے کچھ نہیں کھایا تم نے لیکن حمزہ امی امی کیسی ہیں مجھے ان کے پاس چھوڑ آؤ پلیز حمزہ وہ حمزہ کے آگے ہاتھ جوڑ کے بولنے لگی
تم نے مجھے کیوں اغواء کیا ؟
تو کیا کرتا اور کوئی چارہ نہیں تھا گل نور میں پاکستان نہیں تھا ولید کے ساتھ تمہارا نکاح کیسے ہونے دیتا میں ولید پہلے بھی نکاح میں ہے گل نور اس بات سے تم لوگ واقف نہیں ہو اور تائی امی بالکل ٹھیک ہیں تم پہلے کچھ کھا لو پھر ہمارا نکاح ہے
نکاح اور تم سے ہرگز نہیں گل غصہ سے بولی نکاح تو تمہیں کرنا ہی ہو گا ورنہ اور بھی طریقہ ہیں میرے پاس حمزہ اپنی جیب سے پسٹل نکالتے ہوئے بولا ۔
اسے پیچھے کرو پلیز حمزہ گل نور ڈر گئی تھی حمزہ گل نور کی کمزوری جانتا تھا ۔
گل نور کو ہمیشہ سے پسٹل سے بہت ڈر لگتا تھا وہ ہمیشہ جب بھی کہی فائرنگ کی آواز آتی ڈر جاتی تھی ۔
بچپن میں اکثر حمزہ اسے نکلی پسٹل سے ڈراتا تھا اور وہ ڈر کے اپنے بابا سے اس کی شکایت کرتی تھی ۔
میں تمہیں زہر دے کے بھی مار سکتا تھا مگر پسٹل سے مارنا اچھا رہے گا حمزہ گل نور سے بولا تو وہ ڈر گئی
ننن نہیں پلیز ایسا مت کرو میں تو تمہاری کزن ہوںتم مان لو میری بات ورنہ میں کچھ بھی کر سکتا ہوں تیار ہو جاؤں نکاح کے بعد ہم گھر چلیں گے
تمہارے کپڑے بھی میں کے آیا تھا مجھے بیوٹیشن تمہیں تیار بھی کروا دے گی میں تب تک باقی انتظام کر لوں یہ کہتے ہی وہ باہر چلا گیا ۔
یہ ہو کیا رہا ہے میرے ساتھ گل نور تو بیچاری پھنس گئی تھی اب مرتی کیا نا کرتی
اتنے میں بیوٹیشن کمرے میں داخل ہوئی میم آپ کا سوٹ آپ چینج کر لیں میں آپ کو تیار کر دیتی ہوں سر کے کہا کے جلدی کریں
تم ،تم توووو وہی ہو نا سمیر کی کزن اس نے بیوٹیشن کو دیکھتے ہی بولا
جی نہیں میں ان کی کزن نہیں ہوں بیوٹیشن نے گل نور کو ساری بات بتا
سمیر کو تو میں اپنا بھائی سمجھتی تھی وہ بھی حمزہ کے ساتھ ملا ہوا تھا ۔
سمیر سے تو میں پوچھ لوں گی بعد میں وہ منہ میں بڑبڑائی اور کپڑے لے کر چینج کرنے چلی گئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
پتا نہیں کیا ہے میرا حمزہ باپ کو اکیلا چھوڑ کے پاکستان آ گیا ہے اور تو اور تمہارے باپ سے ملا بھی نہیں وہ عائشہ سے مخاطب تھیں
امی گل نور کو اتنا غلط کیوں سمجھتی ہیں آپ اور چچی کو بھی عائشہ جو کب سے اپنی ماں کی باتیں سن رہی تھی اب بول پڑی تھی ۔
ہاں تو اور کیا سمجھوں میں سب کچھ تمہارے سامنے ہے کیسی گندی تربیت کی ہے تمہاری چچی نے اس گل کی امی آپ نے چچی کو گھر سے نکال کے اچھا نہیں کیا
اب اور بھی کیا کرتی بہت اچھا کیا ہے ایسی گندی عورتوں کو گھر میں رکھ کر بدنام ہونے اور اپنے خاندان کو بدنام کروانے کا شوق نہیں ۔
امی بس بس کر دیں آپ مکافات عمل اٹل ہے کم ازکم اس سے تو ڈریں جس لڑکی پر کل سے آپ الزام پر الزام لگائے جا رہی ہیں آپ نہیں جانتی کے وہ کتنی اچھی ہے اور ہاں امی جس ماں کی تربیت پر آپ الزام لگا رہی ہیں کبھی اپنی تربیت کے بارے میں سوچا ہے آپ نے بس کر دی عائشہ تم ان کی وجہ سے اپنی ماں کے خلاف بول رہی ہو وہ چلائی تھی ۔
ہاں بول رہی ہوں میں اور بالکل ٹھیک بول رہی ہوں
رات کے 2 بجے آپ ہی کی بیٹی جس کی تربیت آپ نے کی وہ کسی لڑکے سے ملنے گئی
عائشہ سب بولتی چلی گئی سب بتا دیا اس نے اور جس گل نور پر آپ الزام لگا رہی ہیں اس نے اپ کی اس بھٹکی ہوئی بیٹی کو بچایا
وہ نا ہوتی تو آج شاید کیا سے کیا ہو جاتا اور امی آپ جانتی ہیں اس نے ایک لفظ کسی کو نہیں بتایا اس رات اس کی ماں کو بھی سب پتا چل گیا تھا مگر انہوں نے کسی کو کچھ نہیں بتایا صرف اس لیے کے میری عزت کا سوال ہے ۔
اور آپ امی آپ جانتی ہے کیا کر رہی ہیں ایک بے قصور لڑکی جس نے کچھ کیا ہی نہیں آپ کل سے اس پر الزام لگائے جا رہیں شرم آنی چاہیے آپ کو عائشہ بولے جا رہی تھی
۔
_________________________________________________
وہ کمرے میں داخل ہوا گل نور پر نظر پڑتے ہی وہ نظر جھپکانا بھول گیا تھا ۔
وہ لال کلر کے فراک میں بہت پیاری لگ رہی تھی حمزہ بھی سمیر کے کہنے پر چینج کر آیا تھا کالے کلر کی شلوار قمیض میں وہ کسی ہیرو سے کم نہیں لگ رہا تھا ۔
اگر آپ کے فیشن ختم ہو گئے ہو تو چلیں نکاح کو دیر ہو رہی ہے ابھی بھی پسٹل اس کے ہاتھ میں تھی اس نے اثبات میں سر ہلایا
میں نے کہا تھا نا کے تم صرف میری ہو صرف میری اچھا گل رکو ایک منٹ میں کسی کو کمرے میں بھیج رہا ہوں ان کے ساتھ باہر آنا یہ کہتے ہی وہ باہر چلا گیا ۔
ارے واہ میری گل نور تو بہت پیاری لگ رہی ہے آوز پر وہ پلٹی تھی امی آپ یہاں وہ بہت خوش ہو گئی تھی اب علیزے بھی ساتھ تھی امی آپ یہاں کیسے وہ سب بعد میں پوچھنا ابھی چلو باہر نکاح کو دیر ہو رہی ہے علیزے فوراً سے بولی تو وہ گل نور کو باہر لے گئے۔
______________________________________________
نکاح ہو چکا تھا ۔
گل ابھی اپنی ماں کے ساتھ بیٹھی تھی ۔
حمزہ نے مجھے بہت کچھ بتایا ہے بیٹا
حمزہ نے تمہیں بچا لیا وہ تم سے بہت محبت کرتا ہے اس کی محبت پر کبھی شک نا کرنا تمہارے باپ کا فیصلہ صیح تھا حمزہ سے بہتر تمہارے لیے کوئی ہو ہی نہیں سکتا ۔
حمزہ تمہیں سب بتا دے گا ۔
گل میں کہتی تھی نا صبر کرو اللّٰہ سب بہتر کرے گا تمہیں تمہارا صبر کا پھل حمزہ کی صورت میں ملا ہے اللّٰہ تم دونوں کو ہمیشہ خوش رکھے وہ واقعی بہت خوش تھیں ۔
اگر آپ لوگوں کی باتیں ختم ہو گئی ہوں تو گھر چلیں اب حمزہ کمرےمیں داخل ہو اور گل کو دیکھتے ہوئے بولا جی میں علیزے سے ساتھ آتی ہوں تم دونوں چلو ۔
امی آپ بھی ہمارے ساتھ چلیں نا گل نور فوراً بولی
نہیں علیزے کی امی سے کچھ باتیں کرنی ہیں ان کا شکریہ بھی ادا کرنا ہے ان لوگوں نے بہت مدد کی تم لوگ جاؤں میں آ جاؤں گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ دونوں گاڑی میں ایک ساتھ بیٹھے تھے ۔
گل نور بہت پیاری لگ رہی ہو حمزہ گل نور کو دیکھتے ہوئے بولا گل نے حمزہ کی بات کا کوئی جواب نا دیا اس نے گاڑی ایک جگہ روک دی گل کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیا گل نے ایک دم اس کی طرف دیکھا اس کی آنکھوں میں گل کو ایک پل کے لیے لگا کے حمزہ کی آنکھوں میں گل کے لیے محبت ہی محبت ہے اس نے ہاتھ چھوڑوایا گل میں بہت محبت کرتا ہوں تم سے وہ بولا تھا ۔
شکریہ آپ کا گل نور نے حمزہ کو جواب دیا۔
اس کا مطلب میں تمہیں اچھا نہیں لگتا
اچھا تو پھر کون اچھا لگتا ہے تمہیں حمزہ نے سوال کیا تو گل نور فوراً بولی میرا سارم گل نور کی بات پر وہ دونوں ہنس دیے ۔
ہنستے ہوئے وہ بہت خوبصورت لگتا تھا گل نے نوٹ کیا تھا ۔
سارم کافی پیارا تھا ویسے پتا نہیں کہاں ہو گا مجھ سی بڑی محبت کرتا تھا بڑی محبت بھرے میسج کرتا تھا گل نور حمزہ سے بولی اچھا جی حمزہ نے جواب دیا
ویسے گل تم نے پہچانا نہیں مجھے اتنا بھی چینج نہیں لگتا تھا میں سارم بن کر حمزہ نے گل نور سے سوال کیا
ویسے مجھے لگا تھا کے میں نے سارم کو کہی دیکھا ہے پھر میں بھول گئی تھی
ہاہاہا حمزہ اب ہنسنے لگا اس کا مطلب گل نور کو سارم پسند ہے حمزہ بولا تو گل نور چپ ہو گئی ۔
اتنا سب کیوں کیا آپ نے حمزہ گل نور نے پھر سے سوال کیا
بس کر دو یار سب کچھ گاڑی میں پوچھو گی گھر تو جانے دو سب بتاؤ گاگا۔
_______________________________________________
وہ گھر پہنچ گئے تھے گل بہت ڈر گئی تھی چچی کا ری ایکشن کیا ہو گا
لاؤنچ میں عائشہ اور اس کی امی بیٹھے تھے
عائشہ گل کو دیکھتے ہی فورا گل کے پاس گئی گل کو گلے لگایا گل نور تم ٹھیک تو ہو نا گل نے اثبات میں سر ہلایا واہ عائشہ بھابھی کیا آئی تم تو بھائی کو بھول گئ جو اتنے مہینوں بعد آیا ہے بھائی آپ آپ کب آئے عائشہ حمزہ کو دیکھ کر بولی بھابھی کون
گل نور تمہاری بھابھی حمزہ فوراً بولا
تو وہ دونوں مسکرا دیے حمزہ کی ماں بھی حمزہ کے پاس آئی تھیں ۔
حمزہ میرے بچے کیسے ہو وہ بول رہی تھی
عائشہ ان سے کہہ دو مجھے ان سے کوئی بات نہیں کرنی میں اپنے کمرے میں جا رہا ہوں تم گل کو کمرے میں لے آؤ وہ یہ کہتے ہی کمرے میں چلا گیا ۔
گل نور وہ اب گل کی طرف دیکھ کر بولی مجھے معاف کر دو وہ رو رہیں تھیں ۔
نہیں چچی آپ ایسا کیوں کہہ رہی ہے
گل میں نے بہت برا کیا ہے تمہارے ساتھ مجھے معاف کر دو ۔
چچی آپ ایسا نا کہیں آپ میرے لیے میری امی کی طرح ہیں پلیز
چلیں امی یہ باتیں بعد میں کریں گے آؤ گل تمہیں بھائی کے کمرے میں چھوڑ آؤں عائشہ گل کو لے گئی تھی ۔
وہ اسے کمرے میں بیٹھا کر نیچے چلی گئ
حمزہ باتھ روم سے باہر نکلا تھا چینج کر کے ۔
گل کو بیڈ پر بیٹھا دیکھ وہ مسکرایا اب وہ الماڑی سے کچھ نکال رہا تھا کچھ پیپرز نکال کر اس نے گل کو دیے
گل نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا
یہ کیا ہے اس نے سوال کیا ؟
طلاق کے پیپرز ہیں کھول کے دیکھ لو
گل نور تو یہ سن کر رونے والی ہو گئی تھی کہ ابھی تو نکاح ہوا اب طلاق حمزہ کو کیا ہو گیا ہے
اس نے کھول کر دیکھا وہ پراپرٹی پیپرز تھے حمزہ نے بہت کچھ گل نور کے نام کر دیا تھا
