Muhabat Mera Junoon by Noor NovelR50442 Muhabat Mera Junoon Episode 10
Rate this Novel
Muhabat Mera Junoon Episode 10
Muhabat Mera Junoon by Noor
آج گل نور کا پہلا دن تھا سکول میں وہ کافی خوش بھی تھی اس کا شوق تھا کے وہ ٹیچنگ کرے جو پورا ہو رہا تھا ۔
سکول میں گل نور کے ساتھ علیزے بھی تھی اس نے بھی اس کے ساتھ ہی جوائن کر لیا تھا۔
فری ٹائم میں علیزے نے گل کو سب بتایا وہ بہت اداس اور پریشان تھی گل بھی اداس ہو گئی تھی
السلام علیکم آنٹی کیا حال ہیں مجھے حمزہ بھائی نے کہا تھا کے آپ کی طرف سے ہوتا جاؤ پتا کر لو کچھ چاہیے تو نہیں تو میں آ گیا سمیر نے کہا تھا ۔
اچھا تم بیٹھو میں تمہیں دیکھ کے بتاتی ہوں وہ یہ کہہ کے کچن میں چلیں گئیں آج انہوں نے گل سے نہیں کہا سمیر حیران تھا گل اسے کہہی نظر بھی نہیں آئی وہ سوچ رہا تھا کے اس نے وہاں سے گزرتی ایک ملازمہ سے پوچھا
گل نور کہاں ہے ؟
وہ تو بچوں کو پڑھانے سکول گئیں ہیں ملازمہ نے جواب دیا وہ گل نور کی کوئی ہمدرد لگی تھی سمیر کو ۔
اوہ ہ ہ گل نے ٹیچنگ سٹارٹ کر دی حمزہ بھی نا اس نے دل میں سوچا اب وڈیو نہیں بنا سکتا میں ( سمیر گل نور کو اپنی بہنوں کی طرح سمجھتا ہے ) وہ یہ سوچ رہا تھا کے اٹھ کر بغیر کسی کو بتائے وہاں سے چلا گیا ۔
حمزا کو کال کی تھی اب سمیر نے اور کال کر سب بتا دیا تھا۔
حمزہ بہت حیران ہوا تھا
سمیر تو شام میں پھر جا اور گل سے بات کر اور پوچھ کے ایسی بھی کیا ضرورت تھی ٹیچنگ کی حمزہ نے سمیر کو کہا اور ہدایت دی کے میری وڈیو لازمی بنانا ۔
وہ گل کو دیکھنے اس کی آواز سننے کے لیے بے تاب تھا اب وہ جلد واپس آنا چاہتا تھ
گل بھی سکول سے واپس آ گئی تھی کافی تھک بھی گئی تھی
بچوں کے ساتھ وقت گزارنا اسے کافی اچھا بھی لگا تھا ۔
چینج کر کے وہ اب شام کے کھانے کے لیے کچن میں چلی گئی ۔
آج چچی اسے اتنے سارے کھانے بنانے کا کہہ گئیں تھیں ۔
سمیر پھر سے آگیا تھا عائشہ تو اپنے دوستوں کے ساتھ باہر گئی ہوئی تھی۔
کہاں چلے گئے تھے تم بغیر بتائے
سوری آنٹی بہت ضروری کام تھا مجھے یاد آگیا تھا اب آپ سامان کی لسٹ دے دیں مجھے سمیر نے کہا
اچھا ایسا کرو کچن میں گل نور ہے اس سے جا کر لے لو
وہ اب کچن میں جا رہا تھا موبائل اس کے ہاتھ میں تھا
جاتے ہی اس نے گل نور کو سلام کیا
گل نے بھی جواب دیا
گل کیسی ہوں سامان کی لسٹ بنا دو
ٹھیک ہوں گل نے جواب دیا
میں سنا تم نے ٹیچنگ جاب سٹارٹ کر دی ایسی بھی کیا ضرورت پڑ گئی تھی
آپ کو کس نے بتایا سمیر بھائی؟گل نے سوال کیا
وہ میں صبح آیا تھا تو پتا چلا سمیر بس
ویسے ہی میرا شوق ہے پورا کرنا چاہتی ہوں یہ لیں لسٹ اب اس نے سمیر کو لسٹ تھمائی جو وہ کب سے لکھ رہی تھی
اچھا گل نور یہ دیکھو میں نے اپنا نیا فون کیا ہے کیسا لگ رہا ہے سمیر نے گل کی طرف کیمرہ کیا اور فون دیکھانے کی ایکٹنگ کی ۔
اچھا ہے مگر آپ مجھے کیوں دکھا رہے ہیں گل سوالیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھ کر بولی
ایسے ہی بہن ہو میری حمزہ نہیں تو سوچا تم سے خوشی بانٹ لوں سمیر نے جواب دیا
اچھا اب آپ جائیں سمیر مسکراتا ہوا خدا حافظ کہہ کے نکل گیا
شکر ہے کام ہو گیا وہ دل ہی دل میں بولا۔۔۔۔
۔۔۔۔
سالگرہ مبارک ہو میری جان !
صبح اٹھ کر اس نے میسج دیکھا تو وہی نمبر سے تھا اسے تو خود بھی یاد نہیں تھا آج اس کی سالگرہ ہے ۔
میسج پڑھ کر وہ پھر ڈر گئی تھی ایک اور میسج بھی آیا تھا
جس میں لکھا تھا
جلد تم اور میں ساتھ ہونگیں ۔
تمہارا سارم ۔
گل نور نے اب فون پھر سے بند کر دیا تھا مگر اس بار اس نے ایک میسج چھوڑ دیا تھا ۔
کون ہیں آپ ؟
یہ بھیجا تھا نور نے اب وہ سکول کے لیے تیار ہونے لگی تھی اس کی اماں نےاسے ناشتہ کروایا اور چاکلیٹ بھی گل نور کو دی تھی اور کہا تھا سالگرہ مبارک ہو
امی آپ کو یاد ہے میری سالگرہ گل نے حیرانی سے پوچھا
میں بھلا بھول سکتی ہوں تمہارے بابا ہوتے تو وہ تمہاری سالگرہ بہت اچھے سے مناتے ان کی پلکیں بھیگیں تھیں
گل نور کی آنکھیں بھی نم ہوئی تھی۔
اچھا چلو جلدی کرو دیر ہو جائے کی تمہیں انہوں نے بات کو چینج کیا تھا ۔
وہ اب اٹھ گئی تھی اور امی کو خدا حافظ کہہ کے باہر نکل گئی ۔
ہمیشہ کی طرح وہ روڈ پر کھڑی تھی اس کے سامنے ایک گاڑی آ کر رکی روحان تھا شاید
آپ یہاں ایسے کیوں کھڑی ہیں گل نور اس نے سوالیہ نظروں سے گل کی طرف دیکھ کر بولا
آج کوئی آٹو نہیں مل رہا
میں بس اسی انتظار میں ہوں
آپ گاڑی میں بیٹھیں میں آپ کو ڈراپ کر دیتا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
ارے ارے نہیں نہیں میں خود چلی جاؤں گی ۔.
گل گاڑی میں بیٹھ جائیں آپ لیٹ ہو جائیں گی ۔
کچھ سوچتے ہوئے وہ گاڑی میں بیٹھ گئی ۔
یہ تو بہت اچھا کیا آپ نے ٹیچنگ سٹارٹ کر دی مگر آپ ایسے روز ہی آٹو میں جاتی ہیں یا صرف آج ہی روحان نے سوال کیا تو گل نے اس کی طرف دیکھا اور مختصر سا جواب دیا کے روزانہ گل کی آنکھوں کا درد وہ غم وہ جان گیا تھا
باقی سارا راستہ وہ خاموشی سے رہا اور اب سکول بھی آ گیا تھا روحان کو شکریہ بول کروہ سکول چلی گئی ۔
روحان واپسی پر سارا راستہ اسی کو سوچتا رہا۔
لڑکیوں کو اپنی عزت خود کرنی چاہیئے ۔
لڑکیوں کے پاس عزت سب سے قیمتی چیز ہے۔
ہمیں اپنی عزت کی حفاظت خود کرنی چاہیےعزت بہت قیمتی شہ ہے جو ایک بار چلی جائے پھر ہاتھ نہیں آتی
وہ علیزے تھی جو شاید چھٹی کلاس کی لڑکیوں کو سمجھانے میں لگی ہوئی تھی ۔
اتنے میں گھنٹی بجی باقی ساری باتیں ہم کل کریں گیں یہ کہتے ہی وہ چلی گئی ۔
علیزے مس کتنی پیاری ہیں نا کتنا اچھا سمجھاتی ہیں نا عائزہ نے سنا سے کہا تھا وہ اس کو بہت پسند آئی تھی ۔
شکر ہے عائزہ تمہیں بھی کوئی ٹیچر پسند تو آئی سنا بولی تو وہ دونوں مسکرا دیں ۔
وہ دونوں اکھٹے سٹاف روم میں بیٹھیں تھیں گل نور بار بار علیزے کے چہرے کی طرف دیکھ رہی تھی کہ یہ کیسے بھول گئی میری سالگرہ کو اتنے میں کمرے میں گارڈ داخل ہوا
گل نور میڈم کون ہیں اس نے پوچھا تو گل نے کہاں جی میں ہوں
گارڈ کا گل کو میڈم بلانا اچھا نا لگا تھا گل نے فوراً کہا آپ مجھے گل نور بیٹی بلا سکتے ہیں گارڈ کو سن کر خوشی ہوئی گل نے کہا آپ میرے بابا کی طرح ہیں میرے لیے قابل احترام ہیں جی بتائیں اب کیا کام ہے گارڈ نے اپنے ہاتھ میں موجود شاپر گل کو دے دیا اور ایک بوکے جو اس کے ہاتھ میں تھا وہ بھی اسے دے دیا گل نے وہ۔چیزین حیرت سے لی تھی یہ سب کیا ہے انکل اس نے پوچھا تھا
یہ کوئی لڑکا دے گیا ہے آپ کے لیے
یہ کہتے ہوئے وہ باہر چلا گیا
علیزہ بھی حیران تھی
بوکے کے اوپر سے چٹ اٹھا کر اس نے پڑھی
سالگرہ مبارک ہو میری جان میری طرف سے ایک چھوٹا سا گفٹ ہے قبول کرنا ۔
تمہارا سارم
علیزے بھی حیران تھی وہ بھی حیران تھی اس نے دیکھا وہ ایک ڈائمنڈ نیکلس تھا جو بہت قیمتی تھا
گل پریشان ہو گئی تھی اب تو علیزے یہ تو بہت قیمتی ہے
گل نور نے ساری بات علیزے کو بتائی مجھے یہ اسے واپس کرنی چاہیے ایسا کیوں کر رہا وہ کون ہے
گل تم پریشان نا ہو سب پتا چل جائے گا تمہارے پاس اس کا نمبر ہے تو مجھے دو میں پتا کرواتی ہوں تم پریشان نا ہو
علیزے نے گل کو تسلی دی اتنے میں گل کی پسندیدہ سٹوڈنٹ عنایہ اور باقی بچے کیک لے کر کمرے میں داخل ہوئے (کیک علیزے صبح اپنے ساتھ لے کے آئی تھی اس نے کہا تھا فری ٹائم میں کٹ کریں گیں)
گل خوش ہو گئی تھی ان سب نے مل کر کیک کاٹا تھا اور علیزے نے پکچرز بھی بنائی تھی
