Muhabat Mera Junoon by Noor NovelR50442

Muhabat Mera Junoon by Noor NovelR50442 Muhabat Mera Junoon Episode 3

489.9K
17

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Muhabat Mera Junoon Episode 3

Muhabat Mera Junoon by Noor

وہ روتی ہوئی اپنے کمرے میں آئی تھی اور روتے روتے کب آنکھ لگی اسے پتا نہیں چلا تھا

حمزہ بھی کافی دیر جاگنے کے بعد سو گیا تھا۔

___________________________

ماشاءاللہ میری جان اب تو تم سی ایس ایس آفیسر بن گئے ہو اب شادی کا بھی کچھ سوچو اپنی امی آپ کو ہر وقت میری شادی کی ہی فکر رہتی ہے

ہاں تو بیٹا علیزے کےبھی امتحان ختم ہونے کو ہیں فضیلت بیگم نے کہا تو روحان نے حیرانگی سے جواب دیا امی یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں علیزے کے امتحانوں کا میری شادی سے کیا تعلق

تمہاری شادی علیزے سے ہی تو ہونی ہے

نن نہیں امی مجھے ابھی شادی نہیں کرنی آپ پلیز ہر وقت شادی کا ذکر مت کیا کریں وہ غصہ سے بولتا اور اٹھتا باہر چلا گیا۔

اسے کیا ہو گیا فضیلت بیگم سوچتی رہ گئیں ۔

کن سوچوں میں گم ہو لڑکی کس کی یاد ستائے گل نور نے اب علیزے کو چھیڑا تھا علیزے نے گل نور کی بات سن کر بھی اس کا جواب نا دیا تو گل نور نے پوچھا کیا ہوا علیزے میری جان کیوں پریشان بیٹھی ہو ؟

گل وہ کل سے گم ہے میرے ایک میسج کا جواب نہیں دیا اس نے میں نے اتنی کالز کی اس کو مجھے اس کی بہت فکر ہو رہی ہے۔

اففففففففف کون گم ہے حارث کی بات کر رہی ہو تم ارے رو تو نا ہو سکتا ہے اس کا فون خراب ہو علیزے کو یوں روتا دیکھ گل پریشان ہو گئی تھی ۔

نہیں گل اس کا فون خراب نہیں ہے وہ کہہ رہا تھا مجھ سے ملنے آؤ میں نے منع کر دیا تو وہ ناراض ہو گیا ہے اب جب تک میں ملنے کے لیے راضی نہیں ہو جاتی وہ ایسے ہی ناراض رہے گا ۔

علیزے کی بات سن کر گل نور بھی پریشان ہو گئی تھی علیزے تم اس کو سمجھاتی کیوں نہیں ہو یار اسے کہوں کے کچھ دن ہی تو رہتے ہیں ہمارے امتحانوں میں وہ اپنے ماں باپ کو بھیج دے اور تم یوں اکیلی ملنے مت جانا ۔

لیکن گل وہ ناراض رہے گا مجھ سے اس کی ناراضگی نہیں دیکھی جاتی تو تم میری ناراضگی دیکھ سکتی ہو تو دیکھو پھر یہ کہتی گل وہاں سے اٹھ کر چلی گئی ۔

وہ بہت غصہ میں واپس اپنی کلاس میں آئی تھی پھر سارا وقت اس نے علیزے سے کوئی بات نا کی تھی ۔

وہ آنکھیں موندے کرسی پر بیٹھا تھا کے ایک دم کسی کا چہرہ اس کے سامنے آیا اور اس کے منہ سے نام نکلا گل نور

اس کے چہرے پر مسکراہٹ تھی کچھ تو تھا تمہاری آنکھوں میں جو مجھے بار بار تمہیں سوچنے پر مجبور کرتی ہیں گل نور

روحان ایک بار پھر سے مسکرایا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ راستے میں کھڑی تھی بس کے انتظار میں اتنے میں کوئی گاڑی اس کے پاس آ کر رکی گاڑی میں سے ایک شخص باہر نکل کر آیا ارے گل نور آپ یہاں اتنی گرمی ہے آئیں میں آپ کو چھوڑ دوں روحان کی بات سن کر اس نے اس کی طرف دیکھا تھا .

نہیں آپ کا بہت شکریہ میں ان سب چیزوں کی عادی ہو چکی ہوں اور میری بس آتی ہی ہو گی ابھی آپ جائیں ۔

مگر گل روحان نے کچھ بولنا چاہا تھا ارے وہ دیکھیں آ گئی بس اللّٰہ حافظ یہ کہتے وہ آگے کی طرف بڑھ گئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ گھر میں داخل ہوئی حنا اور چچی لاؤنچ میں بیٹی چائے پی رہی تھیں اور ہمیشہ کی طرح اس کی ماں کچن میں کھڑی کھانا بنانے میں مصروف تھی

وہ کچن کی طرف بڑھ ہی رہی تھی کے گل ادھر آؤ اس کی چچی کی آواز آئی وہ اب ان کی طرف بڑھ گئی

آج حنا کو دیکھنے کچھ لوگ آ رہے ہیں تو ذرا سی بھی سستی نا دکھانا سارے کام اچھے سے ہونے چاہیے جاؤ جلدی چینج کر کے کام پر لگو

اور ہاں ان کے سسرال والوں کے سامنے مت آنا۔

اب جاؤں جلدی یہاں کھڑی میرا منہ کیوں دیکھ رہی ہو۔

حنا تم بھی تیار ہو جاؤ اور اپنے سسرال والوں کے سامنے یہ ظاہر کرنا کے یہ سب تم نے بنایا ہے آئی سمجھ امی انہیں پتہ چل گیا تو حنا نے اپنی ماں سے سوال کیا جو اپنی ہی اولاد کو غلط مشوورے دے رہی تھی

ارے انہیں کون بتائے گا تم فکر مت کرو جاؤ جا کے تیار ہو

عائشہ بھی آگئی ہو گی میں اپنی بچی کو کھانا دوں بیچاری صبح سے پڑھ پڑھ کے تھک گئی ہوگی۔

ایسا کیوں ہوتا ہے لوگ اتنے بےحس کیوں بن جاتے ہیں مجھے لگتا ہے میں ایک روبوٹ ہوں جس کو جو کہہ دیا جائے وہ اسے کرنا ہوتا ہے

میری تو کوئی خواہشیں ہی نہیں ہیں میں اور میری ماں کب تک یہ ظلم سہیں گے ۔ یا اللّٰہ تو ہی ہماری مدد فرما اس نے اللّٰہ سے دعا کی تھی

اللّٰہ تو سب دیکھ رہا ہے بے شک تو انصاف کرنے والا ہے اس کی آنکھوں میں آنسوں تھے وہ ٹماٹر کاٹ رہی تھی کے چھری اس کے ہاتھ پر لگی اور اس کی انگلی کٹ گئی تھی

اس کے منہ سے سسکی نکلی تھی اففففففففف خون نکل رہا ہے اس نے اپنا ہاتھ پانی سے دھویا تھا کچن میں اس کے علاوہ کوئی موجود نا تھا.

حمزہ کچن میں آیا تھا پانی پینے۔

(حمزہ اکثر پانی پینے کے بہانے کچن میں آتا رہتا تھا کیوں کے اسے پتا ہوتا تھا وہ اسے وہی ملے گی )

گل نور یہ کیا ہوا تمہارے ہاتھ پر تم دیکھ کے کام نہیں کرسکتی ہو اففففففففف حمزہ کے منہ سے نکلا تھا وہ پریشان ہو گیا تھا ۔

شبانہ شبا نہ کہاں مر گئی ہو شبانہ جلدی اؤ (شبانہ ان کے گھر کام کرتی تھی)

جی صاحب جی کیا ہوا؟

میرے کمرے میں بیڈ کے ساتھ والی ڈرا فرسٹ ایڈ باکس ہو گا جلدی لے کے آؤ ۔

___________________________________

ہاتھ دکھاؤں اپنا

آپ پاگل ہیں حمزہ کچھ نہیں ہوا مجھے جائیں یہاں سے گل نور میں نے کہا ہاتھ دکھاؤ ورنہ مجھے زبردستی بھی آتی ہے کرنی

آپ کیوں کرتے ہیں یہ سب ابھی آپ کی امی جان یہاں آ گئیں تو تماشہ بن جانا ہےاس اسے اب برداشت نا ہوا تھا وہ رونے لگی تھی

حمزہ نے اس کا ہاتھ تھام لیا اس کے ہاتھ پر پٹی کرنے لگا تھا

ہاتھ چھوڑیں میرا وہ پھر بولی تھی

شششش ایک لفظ اور نا بولنا اور چپ کر کے بیٹھو

وہ اب اس کے ہاتھ پر پٹی کر رہا تھا گل نور اسے دیکھنے لگی اسے دیکھتے ہی وہ سوچوں میں گم گئی تھی اس کی آنکھیں نم تھیں

ہو گئی اور ہاں دھیان سے کام کیا کرو یہ کہتے وہ باہر چلا گیا

گل نور اب پھر سے کام میں مصروف ہو گئی

گل نور آمنہ بیگم کچن میں داخل ہوئی بیٹا سب ٹھیک کرنا اور ہاں تمہاری چچی بازاز گئی ہیں ( یہ سن کر گل نے شکر ادا کیا کے شکر ہے وہ بازار تھی اگر کچن میں آ جاتیں تو پتا نہیں کیا ہوتا )

اور ہاں بیٹا وہ کہہ رہی تھی مہمانوں کو پتہ نا چلے کے تم نے اور میں نے کھانا بنایا ہے وہ مہمانوں کے سامنے کہیں گیں کے سب حنا نے بنایا ہے

اففففففففف امی توبہ ہے حنا اب تو جھوٹ بول دے گی سسرال جا کے کیا کرے گی

گل بیٹا ایسے نہیں کہتے چپ کرو تم آمنہ بیگم نے گل کو ڈانٹا تھا

امی آپ تو مجھے چپ کرواتی رہا کریں ۔۔۔۔۔۔۔۔😒😒😒😒

وہ چڑ کر بولی تھی

اس میں کوئی شک نہیں تھا کے گل میں بہت صبر تھا ۔

وہ وقتاً رو لیتی تھی پھر صبر کر جاتی تھی اس نے اپنے والد کے انتقال کے بعد ہر چیز میں کمپرومائز کیا تھا

اس کی ماں ہمیشہ اسے کہتی تھی کے دعا کرو بس انشاللہ جلد ہی سب سہی ہو جائے گا جو ہو رہا ہے اس میں کوئی بہتری ہو گی.

سب لوگ آ گئے تھے سب ساتھ ہی بیٹھے تھے

گل نور اور آمنہ بیگم اب بھی کچن میں تھیں

لقمان صاحب بھی آج گھر تھے ان کی بیٹی کے رشتے والے جو آئے تھے (لقمان صاحب اکثر کام کے سلسلے میں شہر سے باہر رہتے تھے )

ارے بھائی صاحب رشید بھائی کی بچی اور بھابھی بھی آپ کے ساتھ رہتے ہیں نا نظر نہیں آ رہے نعمان صاحب ( جو کے لڑکے کے والد تھے ) انہوں نے بولا تو سب لوگ چونک گئے

ان کی بات پے حمزہ نے جواب دیا جی انکل وہ بھی یہی رہتے میں بلاتا ہوں ابھی

بہت اچھے انسان تھے رشید صاحب وقت سے پہلے چلے گئے اللّٰہ مغفرت فرمائے مرحوم کی امین وہ دوبارہ بولے تھے

ارے بہن آپ یہ کباب کیں نا میری حنا نے اپنے ہاتھوں سے بنائے ہیں اب بات چینج کرنے کے لیے وہ جلدی سے بولیں تھیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔