Muhabat Mera Junoon by Noor NovelR50442 Muhabat Mera Junoon Episode 13
Rate this Novel
Muhabat Mera Junoon Episode 13
Muhabat Mera Junoon by Noor
گل نور بس حیرانی سے اس شخص کو دیکھ رہی تھی جسے وہ اپنا بھائی سمجھتی تھی وہ اسے کہہ رہا تھا کے وہ گل نور کے گھر رشتہ بھیجنا چاہتا ہے
گل نور اس کی طرف دیکھتی رہی اس نے کچھ نا بولا اتنے میں علیزے آ گئی
سوری مجھے لیٹ ہو گیا ماما کی کال تھی علیزے نے کہا تو گل نے ایک نظر علیزے کو دیکھا پھر ایک نظر سارم کو دیکھا اور نظریں جھکا لیں ۔
وہ علیزے کے گھر گئی تھی جبکہ روحان بھی وہاں آیا ہوا تھا اور وہ لوگ علیزے کے بڑے اسرار کرنے پر کھانا کھانے کہی باہر گئے تھے وہ سب ساتھ ایک ٹیبل پر بیٹھے تھے تبھی علیزے کا فون بجا اور وہ سننے کے لیے سائیڈ پر گئی تھی تو روحان نے گل نور کو یہ سب بول دیا ۔
علیزے مجھے گھر جانا ہے گل نور علیزے کی طرف دیکھ کر بولی مگر ابھی تو کچھ کھایا بھی نہیں ہے مجھے بہت بھوک لگی ہے گل علیزے بولی تو گل نے اس کی بات کا جواب دیا مگر میری طبیعت خراب ہے تم لوگ کھاؤ میں خود چلی جاؤں گی گل نے بڑی صفائی سے جھوٹ بولا تھا
علیزے میں گل کو چھوڑ آتا ہوں تم آرڈر دو میں آ جاؤں پھر ساتھ میں کھائیں گے
نہیں میں خود چلی جاؤں گی روحان کی بات پر گل نور جلدی سے بولی تھی
ارے گل روحان ٹھیک ہی تو کہہ رہا ہے ویسے بھی تمہاری طبیعت نہیں ٹھیک تم اکیلے کیسے جاؤں گی ۔
روحان آپ چھوڑ آئیں گل کو علیزے نے روحان سے کہا تو اس نے اثبات میں سر ہلایا ۔
وہ دونوں گاڑی میں بیٹھے تھے
میرے خیال سے آپ کو اچھا نہیں لگا کیا آپ کسی اور کو پسند کرتی ہیں روحان نے خاموشی توڑی تھی
گل میں آپ سے محبت کرتا ہوں کچھ تو بولیں آپ کی خوشی میں میری خوشی ہے روحان کی بات پر گل نے ایک نظر اسے دیکھا
اگر آپ مجھ سے محبت کرتے ہیں تو علیزے سے شادی کر لیں میری خوشی یہی ہے کہ آپ علیزے سے شادی کر لیں ۔
جو پیار اور محبت آپ کو علیزے سے ملے گی وہ مجھ سے کبھی نہیں گاڑی روک دیں روحان میں آگے خود چلی جاؤں گی شکریہ
گل کا گھر پاس ہی تھا اس نے بنا کچھ بولے گاڑی روک دی تھی گل گاڑی سے اتر کر آگے بڑھ گئی تھی ۔
___________
گل گھر گئی تو پھوپھو اور ولید کو وہاں دیکھ کر حیران ہو گئی تھی
اس نے سب کو سلام کیا اور اپنے کمرے میں چلی گئی اور حیرت کی بات تھی گل نور کی امی بھی وہاں پھوپھو کے ساتھ بیٹھیں تھیں ۔
گل چینج کر کے اپنے کمرے میں بیٹھی سوچ رہی تھی کے ابھی کچن میں اتنے کام ہونگے آج تو اتنے میں کمرے کادروازہ کھلا اور گل کی امی اور پھوپھو کمرے میں داخل ہوئیں ۔
گل نور بیٹا پھوپھو نے گل کا ہاتھ پکڑا جس پر وہ حیران ہوئی اور انگھوٹی گل نور کو پہنا دی گل حیرت سے ان کی طرف دیکھنے لگی ۔
گل کی امی نے گل کو بتایا کے اس کا رشتہ ولید سے طے کر دیا ہے اور اگلے جمعہ ہی نکاح کر دیں گے ۔
گل نور کی پھوپھو مسکرا کر بولیں شکر کرو کے میں تمہیں اپنے گھر کی بہو بنانے جا رہی ہوں ورنہ آج کل کے دور میں تمہیں کہاں رشتہ ملتا ۔
باجی آپ کا بہت شکریہ میں گل کے رشتے کے لیے بہت پریشان تھی اب مجھے تسلی ہے میری بیٹی اپنوں میں ہو گی میری نظروں کے سامنے گل کی امی پھوپھو کی طرف دیکھ کر بولیں ۔
گل تو بس چپ ہو گئی تھی وہ نظریں نیچے کیے بیٹھی رہی اس کی آنکھوں میں آنسوں تھے
___________
امی آپ نے ایسا کیوں کیا؟
دیکھو گل نور ولید گھر کا بچہ ہے تم میری نظروں کے سامنے رہو گی میر جان میری ذندگی کا کوئی بھروسہ نہیں آج کل کے دور میں کوئی اچھا رشتہ اتنی آسانی سے نہیں ملتا اور پھر ولید تو تمہاری پھوپھو کا بیٹا ہے نا اب تم سے میں کوئی انکار نا سنوں بس تم تیاری کرو ۔
ولید سے نکاح وہ سوچ سوچ کر پریشان تھی علیزے کو بھی بتا چکی تھی وہ کسی کے پاس کوئی حل نا تھا آخر اس کو راضی ہونا پڑا تھا ۔
ایک دن بعد نکاح تھا ۔
__________
ہماری جان چھوٹ جائے گی لقمان صاحب اس سے اچھا موقع اور کوئی نہیں اس مصیبت کو ٹالنے کا وہ فون پر اپنے شوہر سے بات کر رہی تھیں جواباً وہ بھی بولے اچھا فیصلہ ہے تمہارا نکاح کا
کس کا نکاح بابا ؟
حمزہ کی آواز پر انہوں نے فون بند کر دیا
کس کے نکاح کی بات کر رہے تھے آپ ؟ حمزہ نے پھر سے پوچھا
میرے ایک بہت عزیز دوست ہیں وہ اپنی بچی کا نکاح کر رہے بس اسی کی بات کر رہا تھا انہوں نے صفائی سے جھوٹ بولا تھا ۔
اوہ اچھا ماشاءاللہ حمزہ نے ان کی بات کا جواب دیا
چلیں میں آپ کے لیے سوپ لایا تھا چلیں شاباش پیئے اب وہ اب لقمان صاحب کو سوپ پلانے لگا تھا ۔
___________
عائشہ تم لے جاؤ نا گل نور کو بازار ابھی تو ایک دن پڑا ہے امی کل چلے جائیں گے آج میں گل نور کو پارلر لے جاتی ہوں عائشہ نے امی سے کہا ٹھیک ہے جلدی گھر آنا جاؤ گل کچن میں ہو گی اس کو بلا لو اور ہاں زیادہ پیسے خرچ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
حمزہ کا دل آج کچھ پریشان سا تھا وہ تنگ آگیا تھا اب وہ گھر واپس جانا چاہتا تھا
مگر باپ کی وجہ سے مجبور تھا وہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تیاریاں چل رہی تھیں گل اور عائشہ ساتھ پارلر گئے تھے عائشہ گل کو زبردستی لے گئی تھی ساتھ رات دیر سے وہ گھر آئے تھے
عائشہ سے گل نے پھر وہ بات پوچھی تھی مگر عائشہ بھی اس بات سے ناواقف تھی بلکہ عائشہ آج کل اس کوشش میں تھی کہ گل نور کو کہی سے وہ بات پتا کروا دے اس نے ایک بار اپنی ماں سے بھی پوچھا تھا مگر انہوں نے نا بتایا ۔
گل تم خوش ہو اس شادی سے عائشہ نے گل نور سے سوال کیا
عائشہ میری امی بہت خوش ہیں گل نور نے جواب دیا اور وہ دونوں چپ ہو گئیں ۔
