Muhabat Mera Junoon by Noor NovelR50442 Muhabat Mera Junoon Episode 15
Rate this Novel
Muhabat Mera Junoon Episode 15
Muhabat Mera Junoon by Noor
تم پاگل ہو گئے ہو حمزہ تم ایک لڑکی کے لیے اپنے بیمار باپ کو اکیلا چھوڑ کے آؤں گے ۔
وہ تو تھی ہی بدکردار بھاگ گئی ہو گی کسی کے ساتھ منحوس کہی کی وہ حمزہ سے فون پر بات کر رہی تھی
بس کر دیں آپ آپ میری ماں ہیں میں اس بات کا لحاظ کرتا ہوں اس کا مطلب یہ نہیں آپ کچھ بھی بولتی چلیں جائیں اب میں گل نور کے خلاف ایک لفظ نہیں سنوں گا اور ہاں رات تک میں پاکستان ہوں گا یہ کہہ کر اس نے فون رکھ دیا تھا ۔
___________________________________________________
گھر میں کافی ہنگامہ مچا ہوا تھا سب بہت پریشان تھے عائشہ سب کو بار بار کہہ رہی تھی کے گل اغواء ہوئی ہے اسے ڈھونڈیں پھوپھو تو شروع ہوئی بیٹھی تھیں بس ہمیں نہیں کرنا کوئی نکاح اب بہت ہو گیا تماشہ ایسے کیسے اغواء ہو گئی ہے وہ،وہ بھی شادی کے دن ضرور کوئی چکر ہے وہ لڑکی ہی ایسی تھی ۔بھاڑ میں گئی گل نور ولید چلو بس بہت ہو گیا ۔
یہ کہتے ہوئے وہ وہاں سے اٹھیں اور جانے لگیں ۔
گل نور کی اماں تو روئے جا رہیں تھیں میری بیٹی ایسی نہیں ہے بھابھی پلیز ایسا مت بولیں عائشہ تم تم تو ساتھ تھی نا گل نور کے تمہیں تو سب پتا ہے نا بتاؤ ان کو وہ عائشہ کی طرف بڑھیں تھیں ۔
جی امی پھوپھو گل نور اغواء ہوئی ہے آپ لوگ یقیں کریں ۔
تائی امی آپ پریشان نا ہوں گل نور مل جائے گی عائشہ نے تسلی دینا پاہی تھی ۔
بس اب گل نور کا کوئی نام نہیں لے گا مر گئی گل نور ہمارے لیے اور ہم نہیں ڈھونڈنے والے گل نور کو مگر امی عائشہ اپنی ماں کی بات سن کر بولی تھی ۔
اگر مگر کچھ نہیں ہماری بھی کوئی عزت ہے ۔
____________________________________________
علیزے کو بھی پتا چل گیا تھا علیزے نے روحان اور اپنے بابا سے کہا تھا کے گل نور کا پتا کروائیں ۔
آنٹی آپ ہمارے ساتھ چلیں ہمارے گھر جب تک گل نور نہیں مل جاتی آپ ہمارے ساتھ رہیں میں وعدہ کرتی ہوں گل نور کو ڈھونڈ کر رہوں گی وہ گل نور کی ماں کے پاس بیٹھی تھی ۔
جو کب سے روئی جا رہیں تھیں میری بچی پتا نہیں کس حال میں ہو گی کون لوگ تھے آخر کیا قصور تھا میری گل نور کا آنٹی آپ پریشان نا ہوں گل نور مل جائے گی اللّٰہ سب ٹھیک کرے گا۔
تائی امی آپ فکر نا کریں سب ٹھیک ہو جائے گا عائشہ بھی بولی تھی ۔
_____________________________________________
گل نور کھانا کھا کو سمیر کھانا اس کے پاس لایا تھا ۔
نہیں کھانا مجھے کھانا رات کے دس بج گئے تھے نہیں کھا رہی میں کھانا تمہیں شرم آنی چاہیے سمیر تم نے ایسا کیوں کیا وہ رونے لگی ۔
میری امی ،سمیر میری امی بہت پریشان ہوں گی مجھے گھر چھوڑ آؤں میں تمہیں اپنا بھائی سمجھتی ہو دیکھوں سمیر مجھے گھر جانے دو وہ سمیر کے آگے ہاتھ جوڑ کر یہ سب بول رہی تھی ۔
رو رو کے اس کی آنکھوں کا کاجل پھیل گیا تھا ۔
یہ کھانا کھا لینا گل نور میں جا رہا ہوں یہ کہتے ہی وہ باہر چلا گیا تھا۔
گل پھر سے رونے لگی تھی دروازہ بند کر دیا گیا تھا کمرے کا ۔
____________________________________________
مجھ سے نہیں ہوتی اب اور ایکٹنگ سارم بھائی بس میں بتا رہا ہوں کے گل تمہیں سارم نے کیڈنیپ کروایا ہے ۔
بس یار کچھ ٹائم اور میں بھی اسے تکلیف میں نہیں رکھ سکتا بس کچھ وقت اور چاہیے اسے کھانا کھلاؤ کسی طرح کر کے میں آتا ہوں بس اس نے یہ کہہ کر فون رکھ دیا ۔
ایک گھنٹے بعد حمزہ نے نکلنا تھا باپ سے ملنے ان کے کمرے میں جا رہا تھا کے کسی آواز پر رک گیا وہ ان کے کمرے کے باہر کھڑا تھا ۔
میں اب بیماری کا اور ناٹک نہیں کر سکتا ہوں پتا نہیں کب جان چھوٹے گی اس سںب سے ان کے یہ الفاظ سن چکا تھا وہ بنا ملے ہی وہاں سے چلا گیا تھا ۔
____________________________________________
اگلی صبح اذان سن کر اس کی آنکھ کھلی تھی وہ روتے روتے کب سو گئی اسے پتا نا چلا کھانا ویسے ہی پڑا تھا ۔
اٹھ کر وضو کیا اور جائے نماز ڈھونڈنے لگی کمرے میں جائے نماز بھی تھی اسے آسانی سے مل گئی نکاح والے کپڑے ہی پہن رکھے تھے اس نے وہ نماز پڑھ رہی تھی اس کے آنسوں نکل رہے تھے ۔
وہ نماز پڑھ چکی تھی اب اس نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے
آپ بہت رحیم ہے بہت کریم ہے
آپ سب کچھ دیکھ رہے ہیں
پتا ہے میرے امی کیا کہتی تھیں جب بھی کوئی مشکل ہوتی تھی وہ کہتی تھی دعا کرو اللّٰہ سے سب سہی ہو جائے گا وہ رونے لگی تھی ۔
میں بھی چاہتی تھی مجھے ساری خوشیاں ملیں میں امی سے کہتی تھی تو وہ کہتی تھیں دعا کرو اللّٰہ سب سنیں گیں
میں جانتی ہوں ایک آپ ہی ہیں جو میری بات سنتے ہیں میں جانتی ہوں آپ کو سب پتا ہے میں بہت تکلیف میں ہوں میری امی پتا نہیں کس حال میں ہونگی آپ ہی مدد کریں میری مشکل آپ ہی حل کر سکتے ہیں وہ پھر رونے لگی تھی ۔
___________________________________________
عائشہ چچی سے بات کرواؤ حمزہ فون پر عائشہ سے کہہ رہا تھا ۔
چچی آپ بالکل فکر نا کریں گل نور مل۔جائے گی میں آ گیا ہوں پاکستان اب آپ کو فکر کرنے کی ضرورت نہیں حمزہ نے گل نور کی ماں کو تسلی دی تھی ۔
ناشتہ نہیں کیا ابھی تک کل والا کھانا بھی ویسے پڑا ہے
سمیر گل سے مخاطب تھا
کیا چاہتے ہو تم کیوں اغواء کر کے رکھا ہے مجھے وہ غصہ سے سمیر سے بولی
یہ تو میں نہیں بتا سکتا گل آپی یہ تو آپ کو سارم بھائی آ کر بتائیں گے
س سارم گل سارم کے نام پر چونکی تھی
میں تمہیں کسی اور کا نہیں ہونے دے سکتا گل تم صرف میری ہو
اس کو سارم کا میسج یاد آیا
وہ سمیر کو دیکھنے لگی تھی وہ حیرانی سے اسے دیکھ رہی تھی
تم کیسے جانتے ہو سارم کو اور کون ہے وہ کیا چاہتا ہے سمیر تم نے ایسا کیوں کیا سمیر اور تم اس کے ساتھ کیوں ہوں تمہارا کیا تعلق ہے اس سے اور کون ہے وہ
گل سوال پر سوال کر رہی تھی
ارے ارے ابھی آپ ناشتہ کریں یہ کہہ کے سمیر اٹھ گیا اور باہر جانے لگا
وہ واپس مڑا تھا گل کی طرف
ویسے بہت اچھے ہیں ہمارے سارم بھائی ۔
