Muhabat Mera Junoon by Noor NovelR50442

Muhabat Mera Junoon by Noor NovelR50442 Muhabat Mera Junoon Episode 11

489.9K
17

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Muhabat Mera Junoon Episode 11

Muhabat Mera Junoon by Noor

امی میں اس سے شادی نہیں کروں گی وہ رو رہی تھی

مجھے رہنا نہیں یہاں بس مجھے نہیں کرنی شادی امی گل نور رونے لگی تھی

مگر گل امی اگر مگر کچھ نہیں وہ نشا کرتا ہے وہ کسی کے پاس سے گزرے تو اس سے بدبو آتی ہے گالی دیتا ہے شراب پیتا ہے

میں کیسے کر سکتی ہوں اس سے شادی امی آپ ہوش میں تو ہیں

آپ خود سوچیں میں ایسا لڑکا تو نہیں ڈیسرو کرتی امی آپ چچی کی بات نا مانیں ابھی تو لقمان چچا بھی نہیں ہیں امی پلیز ورنہ میں چلی جاؤں گی یہاں سے وہ رونے لگی وہ غصے میں تھی پہلی بار

حامد جو انکی گلی میں رہتا تھا اس کا رشتہ گل کے لیے آیا بلکہ اس کی ماں جب گھر آئی تو گل کی چچی نے زبردستی کہا کے آپ کیوں رشتہ ڈھونڈ رہی گل نور ہے نا میری بیوہ دیورانی کی بچی آپ اس سے کر دیں

حامد سارے گندے کام کرتا تھا۔

محلے کی ہر لڑکی کو چھیڑنا شراب جھوٹ امی آپ یہاں بیٹھیں میں خود بات کرتی ہوں چچی سے گل نے اپنی ماں سے کہا اور اٹھ کر چلی گئی وہ اپنے کمرے میں بیٹھی مزے سے چائے پی رہی تھی گل نے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے بولا

میں جان گئی ہوں وہ سچائی جو آپ لوگ مجھ سے چھپا رہے ہیں وہ اس کی بات پر چونکی تھی اور اگر آپ نے میری شادی اس حامد سے کروائی تو سوچ لیں میں کچھ بھی کر سکتی ہوں یہ کہتے ہی وہ وہاں سے چلی گئی

چچی کے تو جیسے ہوش ہی اڑ گئے تھے

گل نور اب اپنے کمرے میں آ گئی تھی رونے لگی تھی وہ اب پہلے ہی پریشان تھی بہت وہ اور اب تو اور پریشان ہو گئی تھی۔

چچی گل جی بات سن کر کافی حیران تھیں۔

میں تمہارے ساتھ کوئی زبردستی نہیں کر رہی ہوں اگر تم نہیں چاہتی تو یہ شادی نہیں ہو گی

شکریہ اب آپ جا سکتی ہیں گل نے کہا تو وہ چلی گئیں۔

دن اپنی رفتار سے گزر رہے تھے

گل نے آج اپنی الماری کھولی وہ اس نیکلس کو چھپا چھپا کے تھک گئی تھی

سارم کا بھی کچھ پتا نہیں چل رہا تھا کے وہ کون ہے اس نے اسے وہ واپس کرنا تھا

گل نے اسے میسج کیا تھا کے آپ اپنا گفٹ واپس لے جائیں اس دن کے بعد سارم کا کوئی میسج نہیں آیا تھا۔

حمزہ اب واپس آنا چاہتا تھا

وہ گل وڈیو روز دیکھتا تھا سمیر سے ہر بات پوچھتا تھا گل کی اب وہ اس کے بغیر رہ بھی نہیں سکتا تھا

گل کو اب چچی نے تنگ کرنا کم کر دیا تھا

علیزے اور گل کا سکول میں اچھا وقت گزر رہا تھا علیزے کی ایک سٹوڈنٹ عائزہ اس کے بہت قریب ہو گئی تھی وہ علیزے سے ہر بات شئیر کرتی تھی ۔

علیزے بھی اب کافی حد تک سنبھل گئی تھی اور شاید روحان میں انثرسٹ لینے لگی تھی یہ بات اس نے گل سے شئیر کی تو گل نور نے کہا کے بس پھر دیر کیسی ہے تم شادی کے لیے ہاں کر دوں علیزے ویسے بھی روحان کافی اچھا ہے اس سے بہتر تمہارے لیے کوئی نہیں ہے ۔

مگر گل نور روحان کیا چاہتا ہے مجھے یہ بھی تو نہیں پتا اس کو کوئی اور پسند نا ہو

ارے نہیں ایسا نہیں ہے علیزہ اس نے تمہیں بچایا تھا اور بات سب سے چھپائی مجھے تو لگتا ہے وہ بھی تمہیں پسند کرتا ہے ۔

گل کی بات پر علیزے کچھ سوچنے لگی تھی ۔

وہ عائشہ کے کمرے میں جا رہی تھی کسی کام سے اس نے آوز سنی تمہیں اور کتنے پیسے چاہیے ہیں اب میں تم سے تنگ آ گئی ہوں واٹ تم پاگل ہو 5لاکھ میں کہاں سے لاؤں گی تمہارا دماغ تو نہیں خراب پہلے ہی دو لاکھ دے چکی ہوں تمہیں میں اچھا فون رکھو میں کرتی ہوں کچھ یہ کہہ کے عائشہ فون رکھ چکی تھی

گل نور جو باہر کھڑے سن رہی تھی پریشان ہو گئی تھی ۔

دروازے پر اس نے دستک دی تو اندر سے آواز آئی کون ہے آ جاؤ

اب وہ اندر چلی گئی تھی

عائشہ تم کیا کھاؤ گی رات کے کھانے میں بتا دو میں بنانے لگی ہوں تو بتا دو

وہ پہلے بھی سب سے پوچھ کے کھانا بناتی تھی

عائشہ نے اسے بتایا اور وہ چلی گئی مگر وہ پریشان تھی بہت پریشان

پتا نہیں عائشہ کیا کر رہی ہے اففففففففف عائشہ اللّٰہ تمہاری حفاظت کرے اس نے دعا کی تھی ۔

السلام علیکم

حمزہ کی آواز تھی فون پر وہ چونک گئی تھی

کیسی ہو گل نور ؟

ٹھیک ہوں

آپ نے مجھے کیوں فون کیا چچی سے بات کرنی ہے تو میں کروا دیتی ہوں گل اس کے اس طرح فون کرنے پر حیران تھی۔

نہیں مجھے تم سے بات کرنی ہے اور پلیز گل کال مت کاٹنا وہ التجائیہ انداز میں بولا

پلیز گل نور

اچھا ٹھیک ہے لقمان چچا کیسے ہیں اب گل نے بات بدلی تھی

ٹھیک ہیں وہ بھی ۔

اب وہ دونوں چپ ہو گئے تھے اور حمزہ نے کال کاٹ دی۔

یہ کیا بات ہوئی کال ہی کاٹ دی پاگل ہے یہ حمزہ بھی گل بڑبڑائی تھی ۔

❤️❤️❤️❤️____________❤️❤️❤️❤️❤️❤️

میں کیسے یقین دلاؤ کیا بات کرتا میں تم سے گل وہ سوچ رہا تھا میرے محبت پر تمہیں بھروسہ نہیں ہے گل میں کیا کروں ۔

ٹھیک کہتی ہوں میں تمہارے لیے کچھ نہیں کر سکتا مگر گل نور وقت آنے پر میں سب صیح کر دوں تمہیں ہر خوشی دوں گا جس سے تم محروم ہو ۔

رات کا وقت تھا گیارہ بج رہے تھے وہ پانی پینے کے لیے کچن میں گئی تھی

عائشہ اسے باہر جاتی ہوئی دکھی یہ اس وقت کہاں جا رہی ہے ۔

گل کا فون بھی ہاتھ میں تھا

گل بھی اس کے پیچھے چل دی عائشہ گاڑی میں نہیں گئی تھی

گل عائشہ کا پیچھا کرنے لگی عائشہ نے روڈ پر جا کے رکشہ لیا اور اس میں بیٹھ گئی

گل بھی رکشہ لے کر اس میں بیٹھ گئی

بھائی جلدی چلائیں

اس رکشہ کے پیچھے پیچھے چلیں وہ بار بار رکشہ والے سے کہہ رہی تھی ۔

عائشہ نے ایک سنسان سی گلی میں رکشہ روکا

جہاں صرف دو ہی گھر تھے اب وہ رکشہ سے نکل کر سامنے گھر میں چلی گئی ۔

گل آدھا گھنٹہ باہر رکی رہی تھی

جب عائشہ باہر نا آئی تو گل کو لگا کوئی مسئلہ ہے اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کیا کرے

وہ بھی گھر کا دروازہ بجانے لگی

دروزی کھول دیا گیا کوئی لڑکا تھا جس نے دروازہ کھولا تھا ۔

کون ہو تم لڑکے نے پوچھا

عائشہ کہاں ہے گل نور نے جواباً کہا

تم کون ہو گل گھر میں چلی گئی اور آوازیں لگانے لگی عائشہ کہاں ہو تم

وہ لڑکا زور زور سے ہنسنے لگا ہاہاہاہاہاہاہاہاہا ایک اور چڑیا پھنس گئی