Rate this Novel
Episode 7
معافی۔۔
مریم عمران۔۔۔
قسط نمبر 7#..
بابر اوراسکا دوست دونوں اقراء کو ڈھونڈتے ہوئے پارک سے باہر نکلے مگر ہر طرف ہوکا علم تھا۔
وہ دونوں اقراء کو ڈھونڈتے ہوئے اسی گاڑی تک آگئے جسمیں میں اقراء چپھی تھی ۔۔
مگر وہاں سے وہ دونوں جلدی لوٹ گئے کیونکہ اب وہاں صرف ٹائم کا ضائع تھا۔
بابر۔ نے گھر آکے بتایا کے اقراء وہاں سے کسی کیساتھ بھاگ گئی جس پہ اسکی پھپھو کو وقتی پریشانی ہوئ مگر پھر ٹھیک ہوگئ۔۔
ادھر ان لوگوں کے جانے کے تھوڑی دیر بعد جب اقراء نے نکلنے کی کوشش کری تو اس سے ڈگی کھولی نہی ابھی وہ اسی کشمکش میں تھی کے جس گاڑی میں وہ تھی وہ ایکدم اسٹارٹ ہوئ اور تھوڑی دیر بعد بعد رک گئ۔۔۔۔
اقراء گرمی کی وجہ سے گاڑی میں بیہوش ہوچکی تھی۔اس کی قسمت آگے اسکے ساتھ کیا کرنے والی تھی ان سب سے بے خںبر وہ۔انجان گاڑی میں بیہوش پڑی تھی۔۔
#
جنت نے پیپروں کے ایک مہینے بعد کی نکاح کی ڈیٹ رکھی گئ اور اسکے فیشن ڈیزائنر کی ڈگری کے بعد رخصتی کی ڈیٹ فکس ہوئ۔۔
جنت نے گھر میں سب سے کلام ترک کیا ہوا تھا ۔۔
اکمل صاحب نے بھی فلحال جنت کو چھیڑنا مناسب نہی سمجھا مگر نومیر اور خالدہ بیگم تھے جنکا جنت کی خاموشی بہت کھٹک رہی تھی
خالدہ بیگم اگر فلحال جنت سے بات کرتی تو وہ اور سر پہ چڑھتی مگر نومیر نے آج جنت سے بات کرنے کی ٹھان لی تھی اور اسی لیہ آج وہ اسکی فیورٹ آئسکریم اور چاکلیٹ لے کے اسکے کمرے میں گیا تو وہ کھڑکی کے پاس گم سم سے کھڑی تھی۔۔
کمرے میں کسی کی موجودگی کو باعث جنت نے پلٹ کے دیکھا تو نومیر اسی کو دیکھ رہا تھا۔۔
نومیر کے ہاتھ میں چاکلیٹ اور آئسکریم دیکھ کے جنت نے کوئ تاثر نہی دیا اور کہا
میرے کمرے میں۔ کیا کررہے ہو اس وقت تو تم اپنی محبت اپنی۔منکوحہ سے ملتے ہو تو آج بہن کے پاس کیا کررہے ہو؟؟
جنت کی طنزیہ بات پہ نومیر نے ائسکریم کو پہلے جاکے فریج میں رکھا اور پھر جنت کے پاس آکے اس کا ہاتھ تھاما اور کہا ۔۔۔
مجھ سے کیوں ناراض ہو جنت میں نے کیا کیا؟؟..
کیا کیا بہن ہو تمہاری ایک بار بھی تم نے میری سائیڈ نہی لی پاپا کے سامنے ۔۔یہ بول کے جنت کی آنکھیں بھیگنے لگی۔۔
کیا میں نے تمہارا ساتھ نہی دیا تھا لائبہ کی دفعہ میں ۔
مگر تم تو ایسے ہوگئے جیسے لائبہ کے علاؤہ تمہاری زندگی میں کسی۔کی۔اہمیت نہی یہ بول کے جنت باقاعدہ رونے لگی ۔۔
نومیر نے آگے بڑھ کے جنت کو گلے لگانا چاہا تو اس نے نومیر کے ہاتھ جھٹکے اور غصہ سے کہا ۔
ہمدردی کی ضرورت نہیں تمہاری۔۔
افف جنت ٹھیک ہے تم یہی چاہتی ہونا میں تمہارا ساتھ دو تو بتاو کسے پسند کرتی ہو؟؟ کہاں رہتا ہے؟؟ میں خود ملونگا اسے پاپا کو بھی منا لونگا۔۔۔
یہ کیا بکواس کررہے ہو ایسا کچھ نہیں ہے میں کسی کو پسند نہیں کرتی کیا اول فول بک رہے ہو تمیز نہی تمہیں؟؟
تو پھر کیا وجہ ہے جنت تمہارے انکار کی اس ضد کی جو تم پاپا کے سامنے بھی ضدی بن گئ ہرلڑکی یا تو اس صورت میں اچھے خاصے لڑکے کے رشتہ کیلیے منع کرتی ہے یہ تو اسے کوئ پسند ہوتا ہےیا پھر اس لڑکے میں کوئ برائ ہوتی ہے۔۔
جب تم کسی کو پسند نہیں کرتی تو پھر یوسف بھائ کی برائ بتاو۔۔
مجھے نہی پتا میں میں بس نہی کرونگی اس چنگیز خان ہٹلر سے شادی اکڑو کہی کا۔۔
تمہاری چور نظریں اس بات کا ثبوت ہے کے تمہیں ڈھونڈنے سے بھی یوسف بھائ میں کوئ برائ نہی ملی وہ ہر لحاظ سے پرفیکٹ ہے اور رہا تمہارا چنگیز خان کہنا انہیں تو ہاں وہ تھوڑے سنجیدہ ہے نہی پسند انہیں ہرکسی سےفرینک ہونا۔۔اس سوسائٹی میں کی لڑکیاں ایسی جنہں میں نے خود یوسف بھائ کو لائن دیتے دیکھا ہے مگر مجال ہے کے کبھی انہوں نے کوئ رسپانس دیا ہو۔۔ ۔
باقی یاد رکھنا جنت تم اپنی آنا میں شاید جیت جاؤ مگر بدلے میں تم پاپا کا مان کھودوگی وہ جو انہیں اپنی ساری اولادیں میں صرف تم پہ ہے۔۔
باقی دیکھ لو اب تمہیں کیا کرنا ہے۔۔
یہ بول کے نومیر اسکے کمرے سے نکلا تو سامنا خالدہ بیگم سے ہوا اور وہ ان سے نظریں چوڑا کے اپنے کمرے میں چلا گیا تو ادھر خالدہ بیگم بھی مایوسی سے اپنے کمرے میں چلی گئ۔۔
#
صبح سب ہی ناشتہ کی ٹیبل پہ تھے سب ہی آج آرام سے ناشتہ کررہے تھے ۔حمزہ اور تمنا کی بات پکی ہونے کی۔خوشی میں آج آفس میں چھوٹی سی پارٹی تھی۔مگر عمر اس آج سچ میں اقراء کیلیے پریشانی ہونے لگی تھی۔۔کیونکہ آج آج اقراء کو آفس سے غائب ہوئے 4 دن ہوگئے ۔
حمزہ کے ڈرائیور نے اندر آکے کہاں ۔۔
سر وہ آپنے مٹھائ کا کہاں تھا وہ آگئ ہے گاڑی میں رکھوادو۔۔
ہاں تم گاڑی میں رکھوادو باقی ریفریشمنٹ ڈائریکٹ آفس ہی جائے گا۔۔
ڈرائیور حمزہ کی بات سے کے باہر نکلا ۔۔ڈگی کھول کے جیسی ہی چیزیں اندر رکھنے لگا اس میں ایک لڑکی کو بیہوش دیکھ کے کافی ڈرا اور ڈورتا ہوا اندر آیا اور کہا۔۔
سرسر گاڑی کی ڈگی میں کوئ لڑکی بیہوش پڑی ہے۔۔
ڈرائیور کی بات پہ حمزہ سے ایک دم اسکے ہاتھ سے جوس کا گلاس پھسلا اور کہا
بھائ کیا بول رہا ہےنشہ کرکے تو نہی ایا؟؟حمزہ کو صحیح مانو میں گھبراہٹ ہوئ۔کیونکہ یہ بہت بڑی بات تھی سب ہی اسے شک کی نظروں سے گھور رہے تھے ۔
ڈرائیور کی بات پہ حمزہ اور عمر تیزی سے گاڑی کےپاس پہنچے ۔باقی سارے گھر والے بھی ان دونوں کے پیچھے گئے۔۔۔
گاڑی کی ڈگی میں اقراء کو بیہوش دیکھ کے جسکی۔حالت قابل رحم تھی حمزہ اور عمر دونوں کے ہی اوسان خطا ہوگئے ۔۔حمزہ ۔ے آگے بڑھ کے اقراء کو ڈگی سے باہر نکالا تو وہ بیہوش تھی حمزہ تیزی سے لے کر اسے گھر کے اندر گیا جبکہ عمر وہی گاڑی سے ٹیک لگا کے بیٹھ گیا اسکا ہاتھ بے ڈھرک اپنے دل پہ گیا اس نے شدت سے اپنے اللہ سے دعا کی کے اسکی محبت پہ کوئ داغ نہ۔لگا ہو اور آٹھ کے تیزی سے اندر ڈورا۔۔۔ا
جاری ہے۔۔
