50.4K
33

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 9

معافی۔۔
مریم عمران۔۔
قسط نمبر 9#
یوسف کی بات پہ جنت نے حیران کن نظروں سے اسے دیکھا اور پھر اپنے ہاتھ کو جو اس نے تھاما ہوا تھا ۔۔
مال میں رش ہونے کی وجہ سے یوسف نے جنت کا ہاتھ مظبوطی سے تھاما تھا بہت سے لوگوں سےبچتے بچاتے جنت کو لگا جیسے یوسف کیلیے وہ کوئ قیمتی موتی ہو۔۔
مشہور بریندڈ کے کپڑے شوز اور جیولری دلانے کے بعد یوسف نے جنت کے نکاح کیلیے مغلیہ سیٹ لیا۔۔
ایک خوبصورت نوز پن بھی لی یوسف نے۔۔کچھ یاد نے پہ یوسف نے ایک کال کرنے۔کو کہا جنت سے اور پھر واپس آکے جنت کو چوڑیوں کی شاپ پہ لےگیا۔
جنت تو کسی ریبورٹ کی طرح یوسف کی ساری شاپنگ دیکھ رہی تھی ایسا نہی تھا یوسف نے اس سے کسی بھی قسم کا مشورہ نہی کیا شاپنگ میں مگر یوسف کی اپنی چوائس بھی لاجواب تھی ۔۔
ڈنر کرانے کے بعد یوسف نے جنت کو آئسکریم کے ساتھ ڈھیروں چاکلیٹ بھی دلائ اور جب گاڑی گھر کے اندر داخل ہوئ تو یوسف نے سارا سامان جنت کے کمرے میں خود رکھا ۔خالدہ بیگم نے یوسف سے کہا بھی کے اتنا سامان کیوں دلایا مگر وہ فلحال مسکراکے چلا گیا۔
اور جنت پوری رات یوسف کے دن بھر کے رویے کو سوچتے ہوئے سو نہ سکی۔
ایک ہفتہ کیسے گزرا پتہ ہی نہیں چلا کراچی کے مشہور ہال میں آج یوسف اور جنت کا نکاح تھا۔۔
جنت نے پہلے لائبہ اور ماریہ کو تیار کیا اور پھر خود تیار ہوئ۔
اس میں کوئ شک نہی تھا کے جنت کمال کا میک اپ کرتی تھی۔۔
جنت نے فل تیار ہوکے جب مغلیہ جیولری پہنی اس پہ مغلیہ نتھ تو دو منٹ کے لیہ جنت اپنا عکس شیشے میں دیکھ کے ساکن رہ گئ۔۔
تو ادھر
یوسف بھی وائٹ کاٹن کی سفید شلوار قمیض پہ لائٹ گولڈن واسکٹ پہنے پشاوری چپل پہنے آج اسکی چھاپ ہی نرالی تھی۔۔۔۔
ہال میں سب پہلے ہی موجود تھے ۔نومیر لائبہ اور جنت کو لینے گیا تھا۔
جہاں نومیر لائبہ کو دیکھ ساکن ہوا وہی جنت کو اس روپ میں دیکھ کے اسکی آنکھیں بھیگنے لگی۔کیونکہ بھلے وہ شادی ہوکے ایک ہی گھر میں رہتی مگر حق تھوڑا کم ہوا تھا۔اور بلا جھکجھک جنت کے گلے لگ گیا جنت بھی نومیر کے گلے لگ کے سسک پڑی۔۔لائبہ کی بھی انکھیں بھیگی تھی مگر پھر اس نے جنت اورنومیر کو دیر ہونے کا کہا تو وہ دونوں ایموشن سے بھرے سین سے الگ ہوئے اور حال پہنچے۔۔
جنت جیسے ہی ہال میں پہنچی ایک دم ہال کی لائٹیں بند ہوئ اور ایک سانگ پلے ہوا۔۔
تم آئے تو آیا مجھے یاد گلی میں آج چاند نکلا۔
آج کتنے دنوں کے بعد گلی میں آج چاند نکلا ۔
اور یہ یوسف کی فرمائش پہ۔ہوا تھا۔۔۔۔
جنت گھونگھٹ میں تھی اس لیہ یوسف اسکے دیدار نہی کرپایا۔
اسٹیج کچھ ایسا بنایا گیا کے دونوں ہی اسٹیج پہ آمنے سامنے تھے مگر جالی دار پردہ ان دونوں کے درمیان تھا۔۔
نکاح ہوا ہر طرف مبارک ک شور اٹھا۔جنت کاجب گھونگھٹ پلٹا گیا تو یوسف دنگ رہ گیا جنت کا بھی کچھ ایسا حال تھا کیونکہ آج یوسف جنت کو دوسرے حق سے دیکھ رہا تھا تو جنت نے بھی آج اللہ کے اس فیصلے کو دل سے منظور کیا مگر ابھی بھی اس نے اکمل صاحب سے ناراضگی ختم نہی کی تھی۔۔
نکاح کی تقریب خیریت وعافیت سے نبٹی سب ہی تھکے تھے اس لیہ جلدی سے اپنے اپنے کمروں میں چلے گئے سوائے لائبہ اور نومیر کے اور یوسف کے۔
نکاح کے خوبصورت جوڑے سے ازاد ہوکے جنت نے سادہ سا سوٹ پہنا جیولری بھی طریقے سے رکھی ۔میک آپ صاف کرنے ہی جارہی تھی کے ایک دم دروازہ بجا اس نے ٹائم دیکھا تو رات کا ایک بج رہا تھا ۔۔
دروازہ لاکڈ نہی تھا اس لیہ اس نے اندر سے ہی اوازلگائ اجاو۔۔ماریہ کے آنے کا سوچ کے وہ بے فکر انداز میں کھڑی اپنی جیولری الماری میں رکھنے لگی۔
الماری کا دروازہ جیسے ہی بند کیا تو یوسف کو مسکراتا ہوا خود کو تکتا پایا۔
اس نے سوچا بھی نہیں تھا کے یوسف یو اچانک رات کے اس وقت کمرے میں آئے گا۔
اس کو جھجک ہوئے یوسف کے سامنے ایسے کھڑے ہونے میں وہ ڈوپٹہ سے بی نیاز تھی اور سونے پہ سہاگہ اس کی شرٹ کا گلہ بھی گہرا تھا۔
جنت جیسی ہی اپنا ڈوپٹہ اٹھانے کیلیے آگے بڑھی۔۔یوسف نے اسکی کلائی تھام کے اسے اپنی طرف کھینچا ۔جنت کسی معصوم گڑیا کی طرح اسکی باہنوں میں سما گئ۔یوسف نے اسکی کمر کے گرد اپنے بازو حائل کیہ تو جنت نے اپنے دونوں ہاتھ یوسف کے سینے پہ رکھے اور گھبراتی ہوئ اپنے اپکو ہلکا ہلکا چھڑوانے لگی۔۔
یوسف اسے باہنوں میں بھر کر فرصت سے دیکھنے لگا گہرے گلے کے باعث یوسف کی نظریں بار بار بھٹک رہی تھی ۔اس نے جنت کو غور سے دیکھا جو گھبرانے کیساتھ ساتھ نظریں بھی چرا رہی تھی یوسف سے۔۔
یوسف نے جنت سے کہا ۔۔
مجھے دیکھ کے کہاں جا رہی تھی جان یوسف۔۔؟؟
یوسف کے منہ سے ایسی بات سن کے جنت کا منہ ہونقوں کی۔طرح کھل گیا۔اور اس نے اٹکتے اٹکتے کہا۔۔
وہ۔۔اا۔۔۔پ۔اا۔س طرح ایسے کمرے میں میں ڈوپٹہ لینے جارہی تھی۔۔
کیوں مجھ سے کیسا پردہ جان یوسف میں تو اب محرم ہو تمہارا تمیں کسی بھی حال میں دیکھنے کا تمہیں پیار کرنے کا سرٹیفیکیٹ تو اللہ نے دیا ہے مجھے مجھ سے کیسی شرم ۔۔
یوسف کوئ اجائے گا چھوڑے مجھے ۔۔جنت نے بنا یوسف کی طرف دیکھے نظریں جھکا کے یہ بات کہی۔
یوسف نے ایک نظر اسے دیکھا اور پھر اسکے لرزتے ہوئے ہونٹوں کو اور پور استحقاق سے اسکے ہونٹوں پہ اپنے ہونٹوں کی ڈھاک جما دی۔
جنت نے پھر پور کوشش کی اپنے اپکو چھڑوانے کی مگر ناکام رہی۔اپنی مرضی سے یوسف نے اسے چھوڑا تو جنت نے گہرا گہرا سانس لیا اور غصہ سے کہا۔
یہ کیا آپ نے شرم نہی آتی ۔۔
جنت کی بات پہ یوسف جنت کی۔طرف بڑھا تو وہ دیوار سےلگ گئ۔
یوسف نے دیوار پہ دونوں ہاتھ رکھ اور جنت کی گردن پہ اپنے لب رکھ دیے اور پھر کہا
سنا تھا میں نے لوگوں نے کہا۔کے میں رومینٹک نہی تو سوچا آج بتا دو رومینٹک کا تو نہی پتا مگر ہاں اپنی محبت کو چھونے اور اسے پیار کرنے کے معاملے میں میں جنونی ہو عاشق مزاج بھی ۔۔
یہ بول کے یوسف جنت سے دور ہوا اور جنت کو ساکن چھوڑ کے کمرے سے نکل گیا۔۔۔۔
لائبہ اور نومیر چھت پہ بیٹھے تھے ۔نومیر کے سینے سے لگ کے لائبہ بھی آج پرسکون تھی۔۔جب
نومیر نے اسے سامنے بٹھایا اورایک اسکے گلے میں ایک پینڈل ڈالا جس پہ نومیر لکھا تھا۔لائبہ نے حیرت سے پہلے ہی پینڈل کو دیکھا اور پھر نومیر کو اورنومیر پہلے لائبہ کے شہہ رگ پہ اپنے لب رکھے اور پھر اسکے ہونٹوں کو چوما اور کہا۔۔
زنگی کا حسین تحفہ ہو تم لائبہ بس کبھی مجھ سے دور نہی جانا ہمیشہ میری بن کے رہنا ۔
ایسے باتیں کیوں کررہے ہیں نومیر آج اپ؟؟
کوئ پریشانی ہے کیا بتائے مجھے۔۔؟؟
ہاں کچھ ایسا ہی ہے وہ مجھے تمیں ایک بات بتانی تھی ۔مگر وعدہ کرو مجھے چھوڑوگی تو نہی نہ ؟؟
ارے نومیر بتائے کیا ہوا ورنہ میرا سانس رک جائے گا۔۔
نومیر نے لائبہ کے دونوں ہاتھ تھامے اورافسردگی سے کہا ۔
لائبہ مجھے بلڈ کینسر ہے۔۔
جاری ہے۔۔
آفر آج بھی ہے۔۔