50.4K
33

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 24 Part 2

قسط نمبر 24#
(پارٹ 2#)
لائٹ پیازی اور سافٹ پنک کلر کے کنٹراس کی میکسی پہنے جنت پہ ایک بار پھر کمال کا روپ آیا تھا مگر وہ چپ تھی بلکل چپ۔۔
تو ادھر حمزہ نے لائٹ پیازی کلر کی شیراونی زیب تن کی ہوئی تھی ۔۔
نکاح کی تقریب ایک دم سادہ رکھی گئ تھی چند رشتہ دار اور حمزہ کے دوست شامل تھے۔۔
عمر اورا قراء نومیر لائبہ سب ہی اج بہت خوش تھی۔۔
شبنم بیگم اورخالدہ بیگم کی آنکھیں حمزہ۔ کو دیکھ کےنجانے کتنی بار بھیگی تھی۔۔
جنت کا چہرہ گھونگھٹ میں تھا۔
جب قاضی جنت کے پاس ایا۔
قبولیت کے وقت جنت نے ایک اس بھری نظر شبنم بیگم پہ ڈالی انہوں نے مسکرا کے گردن ہلائ۔
جنت نے آنکھیں بند کرکے نکاح نامے پہ سائن کیہ اور قبول ہے کہا۔۔
جنت نے اپنی آنکھیں کھولی تو سامنے سینے پہ۔ہاتھ بندھے یوسف دیکھا جو وائٹ سوٹ میں مسکراتے ہوئے جنت کو دیکھ رہا تھا ۔۔
ایک دم یوسف نے الٹے قدم اٹھائے اور پھر غائب ہوگیا۔۔
جنت نے کس کے اپنی آنکھیں میچی۔۔
“کوئ پوچھے میرے دل سے کیسے یہ زہر پیا ہے۔
مرنے جس کو کہتے ہیں جیتے جی یہ۔جان لیا ہے۔۔””
حمزہ نے بھی نکاح پہ سائن کیہ تو جنت کا گھونگھٹ اسکی دوستوں نے آکے پلٹا دونوں ہی حمزہ کو دیکھ کے کافی خوش تھی۔۔
جبکہ دعا نے تو موقع دیکھ کے حمزہ سے کہا۔۔
حمزہ بھائ اپکو پتہ ہے اب یوسف بھائ میں بہت ملتے ہیں۔۔
یہ بول کے دعا نے فورا اپنے دانتوں میں اپنی زبان دبائ۔۔
جب حمزہ مسکرا کے دعا سے کہا۔
جبھی اللہ نے اپکی دوست کی زندگی میں مجھے بھیجا ہے۔۔
رخصتی کا شور اٹھا تو جنت کا رونا بلکنا ہر ایک کی آنکھ نم کرگیا۔۔
شبنم بیگم بھی جنت کے گلے لگ کے خوب روئ اور جب جنت سے دور ہوئ تو یوسف انہیں دیکھا جو مسکرا کے اپنی ماں کو دیکھ رہا تھا۔
مگر جنت جس نے آج قسم کھائی تھی کے وہ حمزہ کا جینا حرام کردے گی۔۔

#

جنت کی مجاہد مینشن میں پرتپاک استقبال کیا گیا۔
کئ نوٹ زرین بیگم نے جنت کے اوپر سے وار کے نوکروں کو دیا۔
بسمہ تو جنت کا پلو ہی نہی چھوڑ رہی تھی۔جنت کو بھی وہ کوئ معصوم سے گڑیا لگی اس کی ان سب میں کیا غلطی ایسا جنت کو لگا۔
مگر عمر اور اقراء سے نہ تو جنت نے بات کی ۔نہ ہی انکے ساتھ کوئ بھی رسم کی۔۔
جنت کو حمزہ کے کمرے میں بیٹھایا گیا۔۔جنت سامنے والی دیوار کو دیکھ کے حیران رہ گئ جہاں حمزہ اور جنت کی کچھ گھنٹوں پہلے نکاح کی پک انلاج ہوئ لگی تھی۔۔
جنت ابھی بیٹھی تھی کے دروازہ ناکک ہوا اور زرین بیگم اندر آئ ۔
زرین بیگم نے آکے جنت کے سر پہ ہاتھ پھیر اتو جنت کی آنکھیں بھیگنے لگی۔
دیکھو بیٹا دنیا حادثاتوں کو دوسرا نام ہے میں یہ نہی کہتی کے حمزہ میرا بیٹا ہے تو اس نے بہت اچھا کیا ۔مگر جنت وہ تم سے واقعی محبت کرتا ہے اور اس سے بڑھ کے عزت اسکا سارا اسٹاف اسکی شرافت کی مثال دیتا ہے۔ جانتی ہو تمہارے لیہ سب ایکسپٹ کرنا بہت مشکل ہے یقین جانو اگر حمزہ ایک پرسنٹ بھی تمہارے ساتھ مخلص نہی ہوتا تو کبھی حمزہ کا ساتھ نہی دیتی۔۔
اور ایک اور بات جنت زرین بیگم نے اپنے لائے ہوئے کنگن اسے پہناتے ہوئے کہا۔۔
جو خود محبت میں دھوکا کھائے ہوتے ہیں وہ محبت میں ہوئے زخمی لوگوں کے زخموں پہ مرہم بہت سوچ سمجھ کے رکھتے ہیں۔۔
یہ بول کے زرین بیگم کمرے سے گئ۔
ابھی جنت نے کمر سیدھی کی کی تھی کے دروازہ پھر ناکک ہوا اور عمر اور اقراء کمرے میں داخل ہوئے اور کمرے کے بیچوں بیچ اکے کھڑے ہوگئے۔۔
جنت نے ایک نظر ان دونوں کو دیکھا۔۔اور دونوں کو نظر انداز کرکے کھڑکی کے پاس جاکے کھڑی ہوگئ۔۔
جب عمر کی آواز کمرے میں گونجی۔
جانتا ہو جنت تمہارا بھروسہ توڑا ہے میں نے مگر یہ بھی تو دیکھو کے یہ بھروسہ توڑنا تمہاری زندگی میں خوشیاں لانے کا سبب بنا۔۔
اور جنت قسم کے لو مجھے تو یہ سب جب پتہ چلا جب حمزہ بھائ تمہارے گھر رشتہ لے کر گئے۔۔اقراء نے بھی اپنی صفائی میں کہا۔۔
یار معافی دے دو پارٹنر میں اپنی بھابھی پلس بہن کی خاموشی سے تنگ آگیا ہو ۔یار پلیز مجھے حمزہ بھائ نے اپنی قسم دی تھی۔
پلیز تم جو سزا دو مجھے منظور ہے بولونگی تو ابھی اٹھک بیٹھک کرو ۔۔
عمر نے ایک نظر جنت کو دیکھا اور واقعی اٹھک بیٹھک شروع کردی۔۔
دو منٹ جنت نے عمر کو دیکھا اور پھر مسکرا اٹھی اور ہنسنے لگی ۔عمر اور اقراء نے سکون کا سانس لیا مگر شوکڈ جب ہوئے جب جنت ہنستے ہنستے رونے لگی اور بیڈ پہ بیٹھ گئ۔۔
عمر اور اقراء دونوں اسکے پاس تیزی سے آئے اور عمر کو دیکھ کے جنت نے روتی آواز میں کہا۔۔
میرے لیہ یہ سب بہت مشکل ہے عمر میں نہی۔ایلکسپٹ کرپارہی۔۔
جنت کے بولنے پہ عمر نے اپنی گردن جھکالی جبکہ جنت کو ایسا روتا دیکھ اقراء کی بھی آنکھیں بھیگنے لگی۔۔
جب عمر نے جنت کے آنسو صاف کیہ اور اسکے ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں لے کے کہا
زندگی بہت کم کسی کو دوبارہ محبت سے نوازتی ہے پارٹنر میں یہ نہی بولتا کے تم یوسف کو فورا بھول جاؤ بس اتنا کہونگا حمزہ کی محبت کی بھی قدر کرو۔کیونکہ اب وہ تمہارے شوہر ہییں اور یقین جانو تم سے بہت محبت کرتے ہیں۔
اب تم آرام کرو ہم چلتے ہیں۔
یہ بول کے اقراء اور عمر کمرے سے نکلے تو دروازہ کے باہر حمزہ کو کھڑا پایا ۔
عمر نے حمزہ کے کندھے پہ ہاتھ رکھا اور کہا۔
محبت سے ہر پتھر پگھلایا جا سکتا ہے بھائ یہ بول کے عمر اور اقراء چلے گئے۔۔

#

حمزہ اندر آیا تو جنت شیشے کے سامنے کھڑی ہوکے اپنی جیولری اتار رہی تھی۔۔
حمزہ نے اوپر سے نیچے تک جنت کو دیکھا وہ بھی پورے استحاق سے لبوں پہ حسین مسکراہٹ لیہ وہ بھی ڈریسنگ کے پاس آکے اپنی گھڑی اتنے لگا۔۔
اسکے بعد شیروانی اتار کے حمزہ سائیڈ کے صوفے پہ بیٹھ گیا اور سر کے نیچے ہاتھ رکھ کے فرصت سے جنت کو دیکھنے لگا۔۔
جنت جو جیولری اتاری رہی تھی اندر اندر ہی بڑبڑارہی تھی۔
یہ یہاں آکے کیوں بیٹھ گیا اوپر سے نظروں تو دیکھو ایسے لگ رہا ہے ایکسرے فٹ ہو۔۔ہہہہنہ ٹھڑ کی کہہی کا اوپر سے مسلسل اپنے ڈمپل کی نمائش کرا رہا ہے۔۔
جنت نے عجلت میں چوڑیاں اتاری اور جیسی ہی ڈریس چینج کرنے کیلیے جانے لگی ۔ حمزہ نے ایک دم کھڑے ہوکے اسے اپنی طرف کھینچا۔۔
جنت اس آفت پہ ایک دم بوکھلا گئ اور گھور گھور کے حمزہ کو دیکھ کے کہنے لگی۔۔
یہ کیا بدتمیزی ہے؟؟
حمزہ نے اسے کمر سے پکڑ کے ایسے خود سے لگایا ہوا تھا کے ایک انچ بھی وہ ہل نہی پارہی تھی۔۔
جنت کے گھورنے کا بھی حمزہ پہ کوئ اسر نہی ہوا وہ اپنی ہذیل گرین آنکھوں میں خمار لیہ جنت کو دیکھ رہا تھا۔
جب حمزہ نے مخمور لہجہ میں کہا ۔۔
بدتمیزی تو میں نے ابھی تک کوئ کی ہی نہی ہاں چھوٹی موٹی گستاخی کی گارنٹی نہی۔۔
یہ بول کے حمزہ نے اپنے لب جنت کی شہہ رگ پہ رکھ دیے۔جنت کی تو روح تک لرز گئ حمزہ کی اس حرکت پہ۔
حمزہ چھوڑے مجھے کیا کررہے ہیں جنت ایک دم چیخی مگر حمزہ پہ اسکی چیخ کا بھی کوئ اسر نہی ہوا اور اس نے کہا۔
اپنی بیوی کو شادی کی پہلی رات دل بھر کے دیکھ رہا ہو۔۔پیار کررہا ہو شرعی حق ہے میرا ۔۔ہاں پیار کیسے کرتے ہیں چاہو تو یہ ڈیفائن کرسکتا ہو۔۔۔
“جان حمزہ۔”
چھوڑے حمزہ مجھے اپکو کیا۔لگتا ہے آپکی ایسی حرکتوں سے میرے دل میں آپکی جگہ بن جائے گی تو یہ آپکی بہت بڑی غلط فہمی ہے۔۔
اچھا مگر میں تو ایسا چاہتا ہی نہی میں توبس تمہیں محسوس کرنا چاہتا ہو تمہیں اپنی محبت دیکھانا چاہتا ہو۔اس میں کیا برائ ہے
۔۔اپ مجھے چھوڑ رہے ہیں یہ نہی۔۔؟؟۔۔
جنت نے بہت مشکل سے اپنے اپ کو ضبط کیا ہوا تھا حمزہ محسوس کرسکتا تھا وہ کانپ رہی ہے۔۔
حمزہ نے اسکی کمر کو چھوڑ کے اسکا چہرہ تھاما اور اسکے لبوں پہ پورے استحاق سے اپنے لبوں کی ڈھاک جمائ۔۔
جنت نے بھر پور مزحمت کری خود کوچھوڑوانے کی مگر ناکام رہی۔۔
حمزہ نے اسے چھوڑا تو وہ جنگلی بلی کی طرح حمزہ کو مارنے لگی۔۔
حمزہ نے ہنستے ہوئے اسکے دونوں ہاتھ قابو کیہ اور کہا
اوہ لگتا ہے میری بیوی چاہ رہی ہے میرے اور قریب آنا جبھی تو اپنے لبوں کو چھوڑنے پہ اتنا غصہ کررہی ہے۔۔
حمزہ کے بولنے جنت کے ہاتھ تھمے اور اس نے کہا۔۔
جانتی تھی تمہں صرف ہوس ہے میری تم کبھی یوسف کی جگہ نہی لے سکتے کبھی نہی۔۔
یہ بول کے جنت مڑی تو ایک بار پھر حمزہ۔کے ہاتھ میں اسکی کلائی تھی اسنے جنت کو دیوار سے لگا کے کہا۔۔
جانتا ہو یوسف نہی حمزہ ہو۔۔
تم آج یہ بات جتنی جلدی ہو سکے ذہن میں بیٹھالو تمہاری ان فضول سے باتوں سے مجھے کوئ فرق نہی پڑنے والا جاؤ چیینج کرو اور اگر صوفے پہ سونے کی غلطی کی تو پھر جو ہوگا مجھ سے شکایت نہی کرنا بہت مشکل سے میں۔ اپنے جزبات کو نیند کی گولی دے کے سلا رہا ہو۔۔
یہ بول کے حمزہ الماری میں سے کپڑے نکالنے لگا تو جنت بھی خاموشی سے چینج کرنے چلی گئ۔
واپس آئ تو حمزہ انکھوں پہ ہاتھ رکھ کے لیٹا تھا جنت صوفے پہ جانے لگی تو اچانک اسکے کانوں میں حمزہ کی دھمکی گونجی اور وہ فورا بیڈ کی دوسری طرف آکے لیٹ گئ اور چادر منہ تک تان کے سوگئ۔
تو ادھر جنت کی حرکت دیکھ کے حمزہ لب دھیرے سے مسکرائے۔۔

#

اپنی پیٹ پہ کسی بوجھ کے تحت جنت کی آنکھ کھلی کافی دیر آنکھیں کھولی رہنے اور سامنے دیوار کو دیکھتے ہوئے جنت کا احساس ہوا کے حمزہ اس سے چپک کے سورہا کے اسکے پیٹ پہ ہاتھ رکھ کے اسکےبالوں میں اپنا منہ چھپائے ۔
جنت نے ایک زور دار گھونسا اسکے کندھے پہ مارا۔۔
کیا کیا ہوا؟؟
حمزہ ہڑبڑا کے اٹھا۔۔۔
جنت نے ایک خونخوار نظر حمزہ پہ ڈالی بکھرے بال ہزیل گرین آنکھیں بنیان میں ملبوس اسکا جسم جنت کو نظریں چرانے پہ مجبور ہوگیا۔۔
جنت نے اپنے بال سمیتے اور غصہ میں کہا۔۔
یہ کیا بیہودگی ہے؟؟؟
میرے ساتھ ایسے کیسے سو رہے تھے آپ شرم نہی اتی۔۔
حمزہ کو وہ اپنے قریب غصہ سے لال پیلی ہوتی اپنے دل کے اورقریب لگی۔۔
حمزہ نے ایک ائیبرو آچکا کے کہا۔
شرم کیسی میرا کمرہ، میرا حق ،میرا بستر میری بیوی جیسےچاہو سو۔۔
یہ بول کے حمزہ نے جھک کے جنت کے لبوں کو نشانہ بنا چکا تھا جنت نے خوب مزاحمت کی مگر ناکام رہی۔۔
حمزہ نے اسکے دونوں ہاتھ قابو کیہ ہوئے بھر پور طریقہ سے وہ جنت پہ حاوی تھا۔۔
جب جنت کے لبوں کو چھوڑا تو وہ لمبی لمبی سانسیں لے رہی تھی اور اسکی آنکھوں میں انسو جھلملا رہے تھے۔۔
حمزہ نے اپنی انگلی اٹھا کے جنت پہ جھکے جھکے اسے وارن کیا۔
گرے ایک بھی۔انسو گرے تمہارا پھر دیکھنا آج ہی ساری حدیں میں پارکردونگا گراؤں اپنا انسو۔۔
حمزہ کی دھمکی پہ جنت نے کسی معصوم بچے کی طرح اپنے آنسو روکے اور ہونٹ نکال کے حمزہ سے کہا۔۔
ہٹے اب اوپر سے …
نہی پہلے پیار سے بولو حمزہ اوپر سے ہٹے۔۔۔
نہی کبھی نہی بولونگی جنت نے ضدی بچے کی طرح کہا۔۔
ہائے میں صدقے یعنی میری بیوی چاہتی ہے کے میں اسے ہی اس کے وجود پہ چھائے رہو۔۔
یہ بول کے حمزہ جیسے ہی اسکے لبوں پہ جھکنے لگ جنت فورا بول پڑی۔۔
حمزہ ہٹے اوپر سے پلیز۔۔۔
جنت کے بولنے پہ حمزہ نے اسکے ماتھے پہ اپنے لب رکھے اور دھیرے سے کہا۔۔
“جان حمزہ”
اور اسکے اوپر سے ہٹٹے ہی اسے باہنوں میں اٹھایا اور واش روم کے اندر چھوڑا۔۔
جاری ہے ۔