50.4K
33

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 25

سلور اور ریڈ کلر کے کنٹراس کا شرارہ پہنے جو حمزہ نے خود ڈیزائن کیا تھا اوپر سے کراچی کے مشہور بیوٹیشن کے ہاتھ سے کیہ گئے میک اپ میں جنت کا عکس پہچانا نہی جارہا تھا۔تو ادھر حمزہ بھی سلور کلر کے سوٹ میں غضب ڈھا رہا تھا۔۔
آج جنت اور حمزہ کے ولیمہ کا فنکشن تھا۔
جنت کے گھر والوں کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔حمزہ جنت کے گھر والوں کے آگے پیچھے تھا۔۔جنت چپ سادھے سب دیکھ رہی تھی۔شبنم بیگم خالدہ بیگم اجمل اکمل صاحب گھر کا ہر فرد ہی تو اسسے خوش تھا۔تو پھر وہ کیوں بیچین تھی۔۔
فلک کیساتھ حمزہ نے بے تحاشہ پکس کھیچوائ ۔۔
کہی سے بھی تو حمزہ میں جنت کو غرور کی جھلک نہی دیکھی ۔۔کے وہ تنا بڑا بزنس مین ہوکے کسے فرینکلی انداز میں سب سے مل رہا تھا مگر جنت پہ نظر ڈالنا نہی بھولتا تھا۔۔
اقراء ٹی پنک کلر کے شرارے میں ادھر سے ادھر منڈلا رہی تھی جب اسے عمر کا میسیج موصول ہوا۔۔
کمرہ نمبر 32 میں اوو۔۔
اقراء نے جب میسج پڑھا تو ہوٹل انتظامیہ سے پوچھتے ہوئے کمرہ نمبر 32 میں پہنچی۔۔
کمرے کا دروازہ کھولا تو عمر اسے کہی نظر نہی آیا جیسی ہی۔جانے کیلیے پلٹی تو عمر ایک دم سے سامنے آیا ۔
اففف عمر ڈرا دیا۔۔اقراء نے اپنے دل پہ۔ہاتھ رکھ کے کہا۔۔
ہم اور تم جو کب سے میرے ہوش اڑا رہی ہو ۔۔اس کا کیا ۔۔
یہ بول کے عمر نے اسے اپنی طرف کھینچا اور اسکی شہہ رگ پہ اپنے ہونٹ رکھ دیے ۔۔
عمر نیچے چلے سب ڈھونڈ رہے ہونگے اقراء نے عمر کے منہ زور جزباتوں کو روکنے کی ہلکی سی کوشش کی۔۔
عمر ایک دم اس سے دور ہوا اور کہا۔۔
ایک تو جب میں تمہارے قریب آتا ہو تمہں دنیا کا خیال پہلے اجاتا ہے ۔۔
کوئ نہی پوچھے گا ہمارا ۔۔یہ بول کے عمر اقراء کے لبوں پہ جھکا جب اس کے نمبر پہ حمزہ کی کال آنے لگی۔۔
عمر نے موبائل نکالا کے دیکھا تو سڑا ہوا منہ بنا کے اقراء سے کہا۔۔
چلو خود تو یہ کرکے بیٹھ گئے ہم رومینس بھی نہ کرے۔۔
عمر نے یہ بول کے اقراء کو دیکھا جو اپنی مسکراہٹ چھپائے اسے ہی دیکھ رہی تھی۔۔
تب عمر نے اس سے کہا۔
ہنس لو ایک مہینے کے اندر اندر کرواتا ہو میں بھی رخصتی ۔۔

#

ساتھ خیریت سے ولیمہ نمٹا ۔
جنت اور حمزہ ایک ساتھ کمرے میں داخل ہوئے جب حمزہ نے جنت کو کہا۔
ایک منت جنت یہ بول کے حمزہ جنت کے پاس آیا تو حمزہ نے اسکے کندھے پہ ہاتھ رکھا اور اپنے اموبائل نکال کے سیلفی لی۔۔۔
جنت چینج کرکے واپس ائ تو حمزہ بھی چینج کرچکا تھا۔۔
جنت بیڈ پہ بیٹھی جب حمزہ الماری میں سے ایک باکس نکال کے لایا ۔۔
باکس میں سے ایک خوبصورت سی چین نکالی جسمیں ایک لاکٹ تھا جس پہ “جان حمزہ” لکھا تھا۔۔
حمزہ جنت کے سامنے بیٹھا اور آگے بڑھ کے جنت کو چین پہنائ۔۔
چین پہنانے کےبعد حمزہ نے جنت کے ماتھے پہ اپنے لب رکھے اور کہا۔۔
سوجاو کافی تھک گئ ہو
جنت کے گال پہ پیار سے ہاتھ رکھا اور اپنی جگہ پہ جاکے لیٹ گیا۔

#

اگلے دن جنت کے گھر ان دونوں کی دعوت تھی۔۔
کھانا خوشگوار ماحول میں کھایا گیا۔
جنت تھوڑی دیر کیلیے شبنم بیگم کیساتھ انکے کمرے میں گئ تو خالدہ بیگم بھی اگئ۔۔
جب شبنم بیگم نے جنت سے کہا۔
جنت حمزہ بہت اچھا ہے اس نے یوسف کی کمی کو بھی پورا کرا ہے ہماری زندگی میں۔۔
بیٹا حمزہ کو دل سے اپناؤ اب وہ تمہارا شوہر ہے ۔۔
یوسف اب چاچکا ہے کبھی نہی آنے کیلیے حمزہ نے جس طرح سے ہمارا خیال رکھا تمہارے سامنے ہیں اپنی ضد میں اپنی خوشیاں داؤ پہ مت لگاو۔۔
ایک دم نہ صحیح پر تھوڑا تھوڑا حمزہ کو جاننے کی کوشش تو کرو ۔۔
شوہر کے بہت حقوق ہیں بیٹا جنہیں اگر پورا نہ کرو تو اللہ ناراض ہوتا ہے۔۔
اب تم بیوہ نہی شادی شدہ ہو۔۔
شبنم بیگم کی باتیں سن کے جنت کے آنسو گرنے لگے ۔شبنم بیگم اور خالدہ بیگم نے اسے اپنے سینے سے لگالیا۔۔
واپسی پہ جنت بہت چپ چپ تھی جب حمزہ نے اسکا ہاتھ تھام کے گاڑی کے گھہیر پہ رکھا اور گاڑی میں بجتے گانے کے بولو سے اپنے بول ملائے۔۔
“تیرے سنگ گزر جائے یہ عمر جوباقی ہے
ہس دو نہ زرا کھل کے کاہے کی اداسی ہے””
آئسکریم کھاوگی۔۔؟؟
حمزہ نے جنت سے پوچھا تو کچھ سوچتے ہوئے جنت نے ہاں میں گردن ہلائ۔۔
آئسکریم پالر کےپاس گاڑی روکی۔۔
حمزہ ایک اپنی آئسکریم لایا ایک جنت کی۔
مگر جنت یہ دیکھ حیران رہ گئ۔کے حمزہ اسکا فیورٹ فلور لایا تھا۔
اور جنت پوچھ بیٹھی حمزہ سے ۔
اپکو کیسے پتہ چاکلیٹ میرا فیورٹ ہے؟؟
بیوی ہو میری اور اس سے پہلے محبت تو تمہاری ہر پسند اور نہ پسند کا مجھے ہی علم ہوگا نہ ۔۔
“جان حمزہ””
حمزہ یہ بول کے آئسکریم کھانے لگا۔۔۔
آپ سے ایک بات شیئر کرو اگر برا نہ مانے تو۔۔
جنت نے جھجھکتے ہوئے حمزہ سے کہا۔۔
میں یہی تو چاہتا ہو تم مجھ سے ہر بات شیئر کرو جان بولو میں سن رہا ہو ترس گیا ہو تمہاری آواز سننے کیلیے۔۔
یوسف بھی مجھے جان یوسف کہتے تھے اور اب بھی۔۔
یہ بول کے جنت نے ترچھی نظروں سے حمزہ کی طرف دیکھا تو وہ مسکرا رہا تھا ۔۔
آپ کو برا نہی لگا۔؟؟؟
جنت نے حمزہ کو گھور کے کہا۔
نہی جنت یوسف تمہاری زندگی کا ایک حسین حصہ رہ چکا ہے میں جانتا ہو کے ماضی کو بھلانا آسان نہی تمہاری زندگی میں آنے والا پہلا مرد یوسف تھا اور تمہارا شوہر بھی۔
کسی بھی عورت کیلیے بہت مشکل ہوتا ہے اپنی زندگی میں آنے والے پہلے مرد کو بھولنا۔۔
جنت نے اسکے آگے کسی بات کا بھی جواب نہی دیا اور آئسکریم کھانے لگی ۔۔
آئسکریم کھاتے ہی جیسے ہی اسنے ٹیشو اٹھایا منہ صاف کرنے کیلیے حمزہ نے جنت کو کہا۔
جنت میں صاف کرو ۔۔۔
حمزہ کے بولنے پہ جنت نے حمزہ کے آگے ٹیشو کیا مگر حمزہ نے ٹیشو سے نہی اپنے لبوں سے جنت کے لبوں پہ لگی آئسکریم صاف کی۔۔
حمزہ نے ایسا کیا تو جنت زلزلوں کے زد میں اگئ۔۔
ایک بار پھر اسے یوسف کا عکس دیکھا حمزہ کے اندر وہ خاموشی سے نظریں جھکا گئ اور حمزہ۔ںے گاڑی کو آگے بڑھا دیا۔۔

#

اب جنت کافی بدل چکی تھی۔۔
حمزہ کا ہر کام اپنے ہاتھ سے کرتی ۔زریں بیگم کو بھی امی کہہ کے مخاطب کرتی۔۔مجاہد صاحب کیساتھ بھی کافی وقت گزراتی۔۔
حمزہ بہت خوش تھا جنت کی اس تبدیلی سے ۔۔
عمر سے اسکی۔نوک جھوک جاری رہتی۔۔
تو ادھر اقراء اور عمر کی بھی رخصتی کی ڈیٹ فکس ہوگئ۔۔
جنت نے حمزہ کی پسند نہ پسند سب زرین بیگم سے پوچھ لی تھی۔۔
آج وہ حمزہ کی پسند کا کھانا بنا رہی تھی جب حمزہ کچن میں ایا اور جنت کو ایسے اسکی پسند کی چیزیں بناتا دیکھ بہت خوش ہوا اور خاموشی سے کچن سے چلا گیا۔۔۔
اور واقعی جنت کے ہاتھ میں ذائقہ تھا یہ سب نے مانا۔۔۔
حمزہ اب بھی جنت سے لگ کے سوتا جنت نے اب مزاحمت کرنا چھوڑ دی تھی ۔چھوٹی موٹی گستاخی اب بھی حمزہ کرتا تھا مگر جنت اب غصہ نہی ہوتی بلکہ ہلکا سا مسکرادیتی تھی۔
حمزہ جب تک آفس میں ہوتا دن بھر کسی نہ کسی بہانے جنت کو ٹیکس کرتا رہتا۔۔
جنت کے گھر والے بھی اب کافی سکون میں تھے جنت کو خوش دیکھ کے ۔

#

عمر اور اقراء کی شادی کی تیاری زوروشور سے جاری تھی۔
اج بھی اقراء اور جنت زرین بیگم کے ساتھ شادی کی شاپنگ کرکے آئے تھے۔
کل سے گھر کی صفائیاں شروع ہونی تھی کیونکہ ایک ہفتہ بعد مایوں تھی۔اس لیہ آج ہی ساری شاپنگ مکمل ہوچکی تھی بس برائئیڈل ڈریس اور ولیمہ کے ڈریس کی زمہ داری عمر اور حمزہ کی تھی۔۔وہ تینوں ہال میں بیٹھ اپنی شاپنگ دیکھ رہے تھے۔
جب عمر نے اینٹری دی اور کہا۔
ارے واہ لیڈیز کافی شاپنگ ہوگئ۔
ہاں عمر اور تھک بھی کافی گئے۔۔
جنت نے اپنی گردن کو مسلتے ہوئے کہا۔
اچھا ماما میرا تو ڈنر کا کوئ ارادہ نہی۔۔
اب بتائے اپکو کوئ کام ہے؟؟
زرین بیگم نے جنت کو مسکرا کے دیکھا اور کہا۔۔
نہی بیٹا تم جاؤ فریش ہوکے آرام کرو ۔۔
اور تم زراسارے شاپنگ بیگز اٹھا کے میرے کمرے میں رکھو اقراء بیٹا تم بھی آرام کرو۔۔
زرین بیگم۔ بول کے چلی گی تو ادھر جنت بھی فریش ہونے چلی گی۔۔
اقراء نے آدھے بیگز عمر کے ہاتھ سے لیہ اور آگے بڑھ گئ۔۔

#

جنت فریش ہوکے باہر نکلی تو حمزہ کوبیڈ پہ آدھا لٹکا اورا آدھا لیٹا ہوا پایا ۔
ارے یہ کب ائے۔؟؟۔
جنت نے قریب آکے حمزہ کو دیکھا تو وہ شایدسو چکا تھا۔۔
جنت نے آگے بڑھ کے کے اسکے جوتے اتارے ۔۔
اور حمزہ کا کندھا ہلا کے کہا۔۔
حمزہ حمزہ؟؟؟
ہمم !!
کھانا لاؤ آپ کے لیہ۔؟؟
جنت کے پوچھنے پہ حمزہ نے پوری آنکھیں کھول کےجنت کو دیکھا ۔جو نہائ نہائ سی گیلے بال لیہ ڈھیلے کرتے میں اسکے جزبات کو جھنجھوڑ رہی تھی۔۔
حمزہ نے ایک پھر پور نظر اس پہ ڈالی اور اسکے ہاتھ پکڑ کے اپنے اوپر گرایا اور کروٹ بدل کے اپنی پوزیشن بدلی۔۔
جنت اس آفت پہ ایک دم بوکھلا گئ۔
مگر جنت کے اوسان خطا جب ہوئے جب حمزہ نے اسکے کرتے کے بٹن کھولے اور کرتا نیچے کرکے اسکے سینے پہ اپنے لب رکھے۔۔
حمزہ پلیز نہی۔۔جنت نے بے بسی سے کہا۔۔
حمزہ نے مخمور لہجہ آنکھوں میں خمار لیہ جنت سے کہا۔
ابھی بھی نہی اب بھی نہی سمایا تمہارا دل میں ؟؟
حمزہ کا سوال تھا کے اس کے دل کی آواز اگر آج جنت حمزہ کو اپنے آپ سے دور کرتی تو شاید وہ توٹھ جاتا کسی چیزیں کی کمی نہی چھوڑی تھی ہر عمل سے اپنے ہر انداز سے حمزہ اس پہ اپنی محبت لٹاتا تھا۔۔ ۔
اور اسمیں غلط کیا تھا وہ شوہر تھا۔۔
کچھ دیر تک جب جنت کچھ نہی بولی تو حمزہ اس پہ سے اٹھنے لگا۔جب جنت نے اسکا کالر پکڑا۔۔
حمزہ نے حیران ہوکے جنت کو دیکھا تو وہ مسکرا کے نظریں جھکا گئ۔۔
حمزہ کے لبوں پہ ایک حسین مسکراہٹ اگئ۔
اس نے جنت کے منہ کو دیوانہ وار چومنا شروع کردیا۔
کبھی اسکے پیار کرنے کے انداز میں شدت آتی کبھی نرمی جنت نے آج اسے اپنا آپ سونپ دیا۔حمزہ کے پیار میں آج وہ مکمل ہوگئ تھی ۔حمزہ۔پوری رات اسے بتاتا رہا کے جنت اس کے لیہ کیا حیثیت رکھتی ہے۔۔
صبح حمزہ کی آنکھ کھولی تو اپنے سینے سے لگی جنت کو دیکھ کے اسکے لب دھیرے سے مسکرا اٹھے اس نے جھک کے جنت کی پیشانی چومی اور اسکے بال سہلانے لگا۔۔
جنت کی آنکھ کھلی تو حمزہ اسے ہی مسکرا کے دیکھ رہا تھا ۔حمزہ کے ایسے دیکھنے پہ۔جنت نے اسکی آنکھوں پہ اپنا ہاتھ رکھ دیا اور کہا۔۔
ایسے مت دیکھے پلیز حمزہ۔۔
جنت کے بولنے پہ حمزہ دوبارہ جنت پہ جھکا اور کہا۔
تھینک کیوں کل رات مجھے میرے پیار کو مکمل کرنے کیلیے یہ بول کے حمزہ نے جنت کے لبوں پہ اپنے لب رکھ دیے۔۔
حمزہ اس سے پہلے دوبارہ مست ہوتا ایک دم دروازہ بجا تو حمزہ نے سڑے ہوا منہ بنا کے دروازے کی طرف دیکھا ۔۔
حمزہ جنت پہ سے ہٹ کے دروازے کی طرف بڑھا اور جنت فریش ہونے۔۔
حمزہ نے دروازہ کھولا تو عمر کھڑا تھا۔
بھائ نیچے پاپا بلا رہے ہیں دس بج رہے ہیں کیا آفس نہی جانا؟؟؟
سالے ہمیشہ غلط وقت پہ اینٹری دیا کر۔
ہائے کیا رومینس ومینس چل رہا تھا۔
عمر نے آنکھ دبا کے کہا۔
توحمزہ نے کہا۔۔
رک ابھی بتاتا ہو کہاں ہے میرا جوتا رک حمزہ جوتا ڈھونڈنے لگا تو عمر نے وہاں سے ڈور للگائ۔۔
ابھی حمزہ کو آفس گئے کچھ دیر ہی گزری تھی کے جنت کے نمبر پہ حمزہ کا میسیج آیا ہوا تھا۔۔
شام میں تیار رہنا ڈنر پہ چلینگے اور ہاں تھینکس کل رات کیلیے اور ساتھ میں ڈھیر ساری کسسس بھی بھیجی ۔۔
جنت میسج پڑھ کے مسکرا رہی تھی جب کام کرنے والی ماسی نے آکے اسے کہا۔۔
باجی آپکے بیڈ کے نیچے یہ وولٹ ملا ہے۔۔
ماسی کے کہنے پہ جب جنت نے پلٹ کے ماسی کے ہاتھ میں وولٹ دیکھا تو اس کے ہاتھ موبائل چھوٹ گیا۔۔ڈھرکتے دل کیساتھ اس نے وولٹ لے کے کھولا تو ساکن رہ گئ اور بیہوش ہوگئ۔۔
جاری ہے۔۔