Maafi Season 1 By Mariyam Khan Readelle50209 Episode 22 Part 2
Rate this Novel
Episode 22 Part 2
کیا سچ میں؟؟
جنت خوشی سے اچھل رہی تھی پہلے تو حمزہ اسکی
چیخ سے ایک دم۔گھبرا گیا۔۔مگر پھر اسکا خوشی سے ایسا دمکتا چہرہ دیکھ کے سمجھ گیا کے کوئ بہت بڑی خوشی کی خبر ہے۔۔
کونسے ہاسپٹل میں ماما؟؟؟
جنت نے شبنم بیگم سے پوچھا۔۔
ٹھیک ہے ماما میں بس ابھی ائ۔۔
یہ بول کے جنت نے کال کٹ کی۔
اور جلدی جلدی اپنا سامان سمیٹ کے حمزہ کی طرف مڑی مگر وہ اسکا سامنے ہی کھڑا تھا اور مسلسل اسکو نظروں کے زریعے اپنے دل میں اتار رہا تھا۔۔
جب جنت کے پلٹنے پہ اس نے فورا اپنی نظروں کا زوایہ بدلا اور جنت سے پوچھا۔۔
۔ماشاءاللہ بہت خوش لگ رہی ہیں آپ مجھے کوئ بہت بڑی گڈ نیوز ہے؟؟
جنت ایک بار پھر مسکرائ اور کہا۔۔
جی سر میں پھپھو بن گئ ہو ماشاءاللہ بے بی ہوئ ہے ۔۔
اور ڈیٹس گریٹ مبارک ہو اپکو بہت بہت۔۔
حمزہ نے خوش ہوکے جنت کو مبارک بعد دی ۔
سر کیا میں جا سکتی ہو ابھی؟؟
بلکل جا سکتی ہیں بلکے میں بھی آپکے ساتھ چلتا ہو نومیر کو مبارک بعد بھی دے دونگا۔۔
یہ بول۔کے حمزہ نے گاڑی کی کیز اٹھائ اور جنت کو آنے کو کہا۔
جبکہ جنت اس کنفیوزنگ میں تھی کے وہ حمزہ کیساتھ جائے یہ نہ جائے۔۔
جب کیبن کا دروازہ زور سے کھلا اور عمر خوش ہوتا اندر آیا اور کہا۔۔۔۔
ارے پارٹنر ابھی بگ بی نے بتایا تم پھپھو بن گئ۔ہو بہت بہت مبارک ہو بھئ میری مٹھائ لازمی لانا۔۔
عمر کی مبارک بعد کے بدلے جنت نے اسکا شکریہ ادا کیا مگر جنت کو نروس دیکھ کے عمر نے پوچھا۔۔
کیا بات ہے یہاں کیوں کھڑی ہو جاؤ بگ بی انتظار کررہے ہیں۔۔
عمر تم چلو نہ میرے ساتھ سر کیساتھ جاتے ہوئے بہت عجیب لگ رہا ہے پتہ نہی اسٹاف کیا سوچے گا میرے بارے میں…
اوہ ہو جنت کوئ کچھ نہی سوچ رہا اس وقت تم اپنی خوشی کو سوچو بس دنیا کو سوچوگی نہ اگر تو کبھی خوش نہی رہ سکوگی۔۔
میں کل آؤنگا ماما کیساتھ تمہارے گھر اوکے جلدی جاؤ ۔۔
عمر کی بات سن کے جنت چلی گئ۔۔
#
راستے میں حمزہ نے گاڑی ہسپتال کے بجائے ایک شاپنگ سینٹر کے آگے روکی تو جنت نے سوالایاں نظروں سے اسے دیکھا۔۔
جنت کے ایسے دیکھنے پہ حمزہ نے کہا۔۔
اب ڈول کو دیکھنے خالی ہاتھ جاؤ اچھا تو نہی لگے گا۔۔
یہ بول کے حمزہ مسکرایا تو جنت بھی کچھ سوچتی ہوئ اسکے ساتھ مال کے اندر چلی گئ۔۔مال میں کافی رش تھا ۔دو بار جنت کو دھکا لگا۔
مگر پھر وہ ہوا جو جنت نے سوچا بھی نہیں تھا۔۔
حمزہ نے اسکا ہاتھ تھاما اور رش کو ہٹاتا ہوا آگے بڑھا۔۔
حمزہ کا لمس محسوس کرکے جنت ہونقوں کی طرح حمزہ کی پشت کو دیکھنے لگی۔کسی معصوم بچی کی طرح وہ مال میں حمزہ کا ہاتھ تھامے چل رہی تھی اس میں اتنی ہمت ہی نہیں ہوئ کے حمزہ کا ڈانٹے اپنا ہاتھ پکڑنے پہ یا پھر اپنا ہاتھ چھڑوانے کی کوشش کرے۔۔
ایک بے بی شاپ پہ حمزہ اندر داخل ہوا۔۔
جب اس نے جنت کا ہاتھ چھوڑا۔۔کافی سارے کھلونے کپڑے حمزہ نے لیہ جب حمزہ بل کروانے لگا۔تو شاپ کیپر نے پوچھا۔
ماشاءاللہ سر آپکا بے بی کیا آپکی طرح خوبصورت ہے یہ پھر اپنی ماما کی طرح؟؟
شاپ کیپر کا اشارہ جنت کی طرف تھا۔۔
شاپ کیپر کی بات سن کے جنت فورا سٹپٹائ اور ادھر ادھر ہوکے کچھ اور دیکھنے لگی۔
مگر حمزہ نے مسکرا اسکا بل پہ کیا اور کہا۔
ابھی تو دوست کسی اور کی بے بی کی شاپنگ کرنے آیا ہو۔۔
مگر بہت جلد انہی محترمہ کیساتھ اپنے بے بی کی شاپنگ کرنے آؤنگا وہ بھی آپکی شاپ سے۔۔
حمزہ بات سن کے شاپ کیپر مسکرایا اور کہا۔۔
انشاءاللہ سر اگر زندگی رہی تو انتظار کرو گا اپکا۔۔
#
جنت اور حمزہ ہاسپٹل پہنچے تو سب ہی لائبہ کے پاس جمع تھے جب جنت نے آکے فورا شبنم بیگم سے بے بی کو لیا۔۔
حمزہ کو دیکھ سب بہت خوش ہوئے اتنے سارے سامان کو دیکھ کے خالدہ بیگم نے کہا۔۔
ارے بیٹا اتنا سارا سامان لانے کی کیا ضرورت تھی تم آگئے بہت ہے۔۔
انٹی بیٹا بھی کہتی ہیں اور پھر شکوہ بھی کرتی ہیں اور ویسے بھی میں یہ سب اپنی بھتیجی +/بانھجی کی لیہ لایا ہو یہ بول کے حمزہ نے لائبہ کے سر پہ ہاتھ رکھ کے اسے مبارک بعد دی تو حمزہ میں یوسف کی جھلک دیکھ کے لائبہ کے آنسو بہہ نکلے ۔حمزہ پھر نومیر سے گلے ملا اس مبارک بعد دی۔۔
اور پھر جنت کے پیچھے کھڑے ہوکے بے بی کو دیکھنے لگا۔
حمزہ اور جنت کو ایسا کھڑا دیکھ کے سب کے دل سے ایک ہی دعا نکلی جب کے اپنے اتنے قریب سے ریمی کی خوشبو محسوس کرکے جب جنت پلٹی تو حمزہ کے سینے سے تکراتے تکراتے بچی۔۔
حمزہ نے اپنے ہاتھ آگے کیہ بے بی کو لینے کیلیے تو جنت نے اسکے ہاتھوں میں بے بی دی جیسے دیتے ہوئے جنت کے ہاتھ حمزہ کے ہاتھ سے ٹچ ہوئے۔۔
حمزہ نے بےبی کو لیتے ہی بڑے پیار سے اسکے گالوں کوچوما۔۔
شبنم بیگم نے جنت سے پوچھا۔۔
ہاں بھ پپھو نام بھی بتا دو اب اپنی بھتیجی کا،؟؟؟؟
فلک !!!
جنت اور حمزہ کے منہ سے ایک ساتھ نکلا دونوں نے ایک دوسرے کو حیران نظروں سے دیکھا مگر جنت زیادہ دیر تک حمزہ کی آنکھوں میں نہ دیکھ سکی اور نظریں جھکا گئ۔۔
چلوبھئ پھرڈن یہ۔ نام ہوگا میری بیٹی کا نومیر کےکہنے پہ سب خوش ہوئے۔۔
#
اگلے پورے ایک ہفتہ کی جنت نے آفس کی چھٹی لی ۔۔
اگلے دن عمر کیساتھ پوری فیملی فلک کو دیکھنے آئ جسمیں حمزہ بھی شامل تھا۔۔
مجاہد صاحب اور زرین بیگم کو وہ لوگ بہت سادہ اور اچھے لگے ۔۔
جبکہ عمر اور نومیر کی بھی۔کافی اچھی انڈسٹینگ ہوگئ تھی ۔۔
تو ادھر حمزہ شبنم بیگم اورخالدہ بیگم کیساتھ کچن میں مصروف ہوگیا ۔۔
ان دونوں نے لاکھ منع کیا مگر زرین بیگم نے یہ کہہ کےمطمئن کردیا کے میرے ساتھ بھی ایسی ہی لگتا ہے۔۔
جبکہ جنت کو حمزہ کا ایسا فرینک ہونا کافی اگنور کررہی تھی۔۔
کھانا لگایا گیا تو سب نے حمزہ کے ہاتھ کے کھانے کی تعریف کی گئ۔۔
مگر جنت جو حمزہ کی آنکھوں کا مفہوم سمجھ کے بھی اگنور کرہی تھی بہت مشکل سے اپنا غصہ کنٹرول کررہی تھی۔۔
کھانا خوشگوار ماحول میں کھایا گیا۔مگر جنت کو اس ماحول سے گھٹن ہونے لگی اور وہ چھت پہ چلی گئ نیچے تب آئ جب زرین بیگم نے جاتے ہوئے جنت کا پوچھا۔۔
اگلے ایک ہفتہ جنت فلک کا ایسا خیال رکھا کے کئ بار لائبہ کو اپنے رویہ پہ شرمندگی ہوئ جو وہ جنت کے ساتھ رکھ چکی آپکی غلطی کا احساس ہوتے ہی لائبہ نے ہاتھ جوڑ کے اپنے رویہ کی معافی مانگی۔۔
جنت نے اسے کھلے دل سے معاف کیا اور گلے لگا کے خود بھی بلک پڑی۔۔
نومیر تو جیسے ہواوں میں اڑراہا تھا فلک میں جان۔ تھی اسکی مگر اپنی بہن کو دیکھ کے وہ۔اکثر اداس ہوجاتا اسکی ویران زندگی دیکھ کے وہ ہمیشہ اسکی آباد زندگی کی دعا مانگتا۔۔۔
#
ہیلو ؟؟؟
کافی دیر سے بجتا جنت کا فون جنت نے اٹھایا تو اگے سے حمزہ کی کال تھی۔۔۔
جی سر؟؟؟
جنت دو دن سے میری طبیعت ٹھیک نہی ہے آفس جا نہی پارہا ہو مجھے پتہ ہے آپکی لیو ہےمگر کیا آپ میرے لیہ ایک فیور کرسکتی ہیں۔۔
حمزہ کی آواز سن کے جنت کو اندازہ ہوگیا تھا کے اسکی طبیعت ٹھیک نہی ۔۔
جی سر آپ بولے۔۔
میری ڈرار میں ایک فائل ہے بیلو کلر کی اپ وہ عمر کے ساتھ لے آئے گھر پہ اسکی ڈیٹیل مجھے چیک کرنے ہے میں عمر کو بول دیتا ۔مگر وہ ایک
ہفتہ بعد ہونے والی پارٹی کی تیاریوں میں مصروف ہے۔۔
اوکے سر میںے لےاونگی ڈونٹ وری۔۔۔۔۔
جنت نے کال کٹ کی اور آفس فائل لینے چلی گئ۔۔
عمر کیساتھ وہ فائل لے کے حمزہ کے گھر پہنچی۔۔
حمزہ اسکو لانج میں ہی بیٹھا دیکھ گیا مگر اسکی طبیعت ٹھیک نہ تھی ۔۔
وہ انکھیں موندیں زرین بیگم کی گودھ میں لیٹا تھا جب جنت کے سلام کی آواز گونجی۔۔
اسلام وعلیکم ۔۔
وعلیکم اسلام۔۔
زرین بیگم جو حمزہ کے سر میں ہاتھ پھیر رہی تھی جنت کی آواز پہ ایک دم چونکی اور جنت کو دیکھ کے مسکرا کے اسکے سوال کا جواب دیا۔۔
کیسی طبعیت ہے سر اپکی؟؟
ہم بہتر ہو۔
تم دونوں بیٹھو میں چائے لاتی ہو۔۔
نہی نہی آنٹی بس میں تو سرکو یہ فائنل دینے آئ تھی ۔
ارے ایسی کیسے نہی لنچ کا ٹائم ہے کرکے جانا۔
زرین بیگم کے اصرار پہ جنت رک گئ مگر فائل حمزہ کو دیتی ہی وہ کچن میں زرین بیگم کیساتھ مصروف ہوگئ۔۔
کچن کا نظارہ حمزہ با آسانی دیکھ سکتا تھا اور دیکھ کے مسکرا بھی رہا تھا جب عمر نے پیچھے آکے کہا۔۔
بگ بی ب میں یہ نظارہ دوبارہ کب اپنے گھر میں د یکھونگا؟؟؟
بہت جلد عمر بس ذرا پارٹی سے نمٹ جاؤ ۔
پارٹی تو بہت دور ہے میں تو تھوڑی تھوڑی ڈیٹیل ابھی لینے والا ہو اپنی فیوچر بھابھی سے۔۔
اچھا۔۔حمزہ۔نے آنکھیں موند ے کہا۔۔
ہاں آج اسکی زندگی کے بارے میں تھوڑا تو جانوتھوڑا اپکاکام آسان کرو یہ بول کے عمر نے حمزہ کو آنکھ ماری۔۔۔۔۔
لنیچ کے دوران زرین بیگم اور جنت کافی باتیں کررہی تھی۔تو بسمہ بھی جنت سے کافی فرینک ہوگئ ۔۔
جنت نے لنچ کے بعد جانے کی اجازت چاہی۔زریں بیگم نے اسسے پھر آنے کا وعدہ لے کے رخصت کیا۔۔
عمر جنت کو چھوڑنے جارہا تھا جب گاڑی ایک آئسکریم پالر کے آگے روکی۔۔
بھئ اتنا لش پش تم نے کھانا کھلایا
آئسکریم تو میں کھلاسکتا ہو۔۔۔
عمر کے بولنے پہ جنت مسکراتی ہوئ گاڑی سے اتری اور اسکریم پالر کے اندر چلی گی۔۔
ایک پرائیویٹ جگہ کا دیکھ کے جہاں جنت اپنا نقاب اتار سکے۔عمر جنت وہاں بیٹھے ۔۔
جب جنت نے عمر سے کہا ۔
ویسے مجھے آئسکریم اور چاکلیٹ بہت پسند تھی۔
تھی کا کیا مطلب۔۔
عمر نے تججس سے جنت سے پوچھا۔۔
بہت سی ایسی عادتیں ہوتی ہیں عمر جو حالات اور وقت کیساتھ بدل جاتی ہیں۔۔
یہ بول کے جنت بہت افسردہ ہوئ اسکی آنکھیں بھیگنے لگی۔۔جو عمر سے نہ چھپ سکی۔عمر اس سے کچھ پوچھتا اتنے میں ان لوگوں کی آئسکریم اگئ۔۔
جنت کیا کچھ ایسا ہوا ہے تمہاری زندگی میں جسکو سوچ کے تم افسردہ ہوجاتی ہو کیا کوئ محبت وغیرہ۔ہوئ۔تمہں جو ادھوری رہ گئ میرا مطلب تم جب بھی ہنستی مسکراتی ہو تمہاری انکھیں تمہارا ساتھ نہی دیتی۔۔
جب جنت نے عمر کے کسی بات کا جواب نہی دیا تو عمر نے کہا۔
لگتا ہے تمہیں میرا پوچھنا برا لگا میں نے ایک دوست کی حیثیت سے پوچھا مگر شاید ہم اتنے اچھے دوست نہی کے میں تمہاری زندگی کے بارے میں کچھ جان سکو۔۔
یہ بول کے عمر بے دلی سے آئسکریم کھانے لگا جب جنت کی آواز گونجی۔۔
اسے مجھے اپنی زندگی میں لانے کی بھی بہت جلدی تھی اور پھر مجھے اپنی محبت اپنی عادت ڈال کے چھوڑ جانے کی بھی جلدی تھی ۔۔
مطلب جنت میں سمجھا نہی کچھ ۔۔
میں بیوہ ہو عمر میرا شوہر میری محبت میرا یوسف جو مجھے بے انتہاہ چاہتا تھا جس نے مجھے محبت کرنا سیکھائ اپنی عادت ڈال کے اپنی محبت کا عادی بنا کے مجھے چھوڑ گیا شادی کے 6مہینے بعد۔۔
یہ بول کے جنت کی انکھیں سے آنسو گرنے لگے اور اس نے اپنے اور یوسف کی محبت کے بارے میں بتایا۔۔
جنت کی بات سن کے عمر کے پیروں سے زمین نکلتی گئ۔جنت کو دیکھ کے اسے کبھی اندازہ نہی ہوا کے وہ اتنے بڑے حادثہ سے گزری ہے۔۔
جنت جب بول کے چپ ہوئ تو عمر نے کہا۔
جنت مرنے والوں کیساتھ مرا نہی جاتا تم اپنی زندگی ایک بار پھر شروع کرسکتی ہو۔۔
نہی عمر میں محبت کرچکی اور یوسف کی یادوں کے ساتھ جی لونگی میں مگر یوسف کی جگہ میں کسی اور کو کبھی نہی دونگی۔۔
تمہارے شوہر کی ڈیٹھ کیسی ہوئ تھی جنت ؟؟
عمر کے سوال کا جواب اس سے پہلے وہ دیتی عمر کے نمبر پہ ایک کال آگئ جیسی اٹینڈ کر کے وہ پلٹا تو جنت بھی جانے کیلیے کھڑی تھی پورے راستے جنت نے دوبارہ کوئ بات نہیں کی جنت کو اسکے گھر کے باہر چھوڑ کے عمر بھیگتی آنکھوں کیساتھ اپنے گھر کی طرف روانہ ہوگیا۔
کسی اور کو یہ بتانے کے اس کے نصیب میں محبت نہی۔۔
جاری ہے۔۔
آج لاسٹ دیکھونگی لائ
