50.4K
33

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 20 Part 2

اقراء کا اظہار کرنا تھا کے عمر نے حمزہ کے پیچھے لگ کے جلد از جلد رخصتی کا کہا۔
اور پھر طے پایا کےدو مہینے بعد کی رخصتی کا اعلان ہوا۔۔
حمزہ جہاں باقی سارے کام سنبھال رہا تھا وہی عمر اور جنت ملکر کپڑے ڈیزائن کررہےتھے۔۔جنت کا فیشن میں تجربہ دیکھ کے عمر اس سے کافی امپریس ہوا۔۔
صبح میں جنت لازمی قبرستان کا چکر لگاتی ہوئ آفس جاتی شبنم بیگم اسے یہ بات کئ بار سمجھا چکی تھے کےعورتوں کا قبرستان جانا مناسب نہی
مگر وہ نہی مانتی تھی۔۔
عمر اکثر صبح میں اسے جلدی کےچکرمیں خود اسے اسکےگھر سےپک کرتا جنت اور اسکے گھر والے عمر سے کافی متاثر ہوئے تھے۔ ۔اتنے بڑے فیش کمپنی کا مالک ہونے کے باوجود انہیں کہی بھی عمر میں غرور نظر نہی ایا۔۔
جنت اسے اکثر منع کرتی کے وہ نہی آیا کرے لینے مگر وہ بھی اپنے نام کا ایک تھا ۔
جب بھی جنت قبرستان کے پاس گاڑی رکواکے اندر جاتی ۔عمر چاہ کے بھی اس سے پوچھ نہی پاتا کے اندر اسکا کون پیارا سو رہا ہے۔۔
مانا کے ان دونوں کے درمیان اب نوک جھوک والا سلسلہ نہی تھا دونوں ملکے کام کررہے تھے مگر ابھی بھی دونوں اتنے فرینک نہی تھے کے ایک دوسرے کے معملات میں انٹرفیر کرے۔۔
ادھر جنت اور عمر کا ایسا ساتھ ساتھ کام کرنا بات کرنا مزاق کرنے کو اقراء کوئ اور ہی رنگ دے رہی تھی۔۔
اس نے سوچ لیا تھا کے وہ جنت سے بات کرکے رہیےگی۔۔

#

درانی تم کچھ کرو ایسا نہ ہو کے ہم کنگال ہو جائے اگر اس بار بھی ایونٹ حمزہ گروپ جیتا تو ہمارے ہاتھ سے انٹرنیشنل کانٹرکٹ نکل۔جائے گا۔۔
تمنا درانی کے ڈرائنگ روم میں ادھر سے ادھر بےچینی سےٹہل لگا رہی تھی ۔
مگر درانی سکون سےوائن پیتے کسی گہری سوچ میں غرق تھا اور مسلسل تمنا کو دیکھ رہا تھا۔۔
وائن کا گلاس نیچے رکھا اور تمنا سے کہا۔۔
میں نےپتہ کروایا ہے تمنا حمزہ کا بار بار ایونٹ جیتنا اور ایسےنت نئے فیش ڈیزائن کے کپڑے اس کے اکیلے کی سوچ نہی بلکہ کوئ لڑکی ہے جنت یوسف گولڈ میڈلسٹ ہے یہ سب اسی۔کی مرحوم منت ہے۔۔
عمر اور وہ دونوں ملے کے آنے والے فیشن ویک پہ زوروشور سے کام کررہے ہیں۔۔
تو جب تم سب جانتے ہو تم کس بات کا انتظار کررہے ہو اپنی ہار کا تمنا کا غصہ آسمان کو چھونے لگا۔۔
تمنا کی بات سن کے درانی نے قہقہ لگایا اور کہا۔
ڈونٹ وری جان آج عمر اور جنت کا وہ حال ہوگا کے یہ ایونٹ تو کیا آنے والے کئ ایونٹ اریج کرنے کے وہ دونوں قابل نہی ہونگے۔۔
میرے آدمی آج ان دونوں کی ہڈی پسلی توڑ دینگے اور رہی سہی کسر انکے ڈیزائن ڈیپارٹ میں بھی ہاتھ صاف کرینگے۔۔
درانی کی بات سن کے تمنا نے شیطانی قہقہ لگایا اور کہا۔
اس عمر کی تو ہڈی ایسی توڑنا کے سرای زندگی کیلیے اپاہج ہوجائے۔۔
اوہ ڈونٹ وری مائے بے بی یو ویٹ اینڈ واچ کیسے میں حمزہ کو منہ کے بل۔گرا کے یہ کانٹرکٹ اس سے لیتا ہو۔

#

رات کے آٹھ بج رہے تھے ۔اقراء حمزہ کو مسلسل کال کررہی تھی مگر وہ تھا کال پک پہ نہی کررہا تھا۔
کافی دیر بعد عمر کی کال پک ہوئ مگر پک عمر نے نہی جنت نے کی ۔۔
کہاں ہے عمر اتنی دیر سے کال کررہی ہو میں۔۔
اقراء نے جنت کی آواز سن کے آگ بگولہ ہوتے ہوئے کہا۔۔
آئ تھینک وہ کام کررہے ہیں ابھی فریش ہونے گیا ہے آتا ہے تو کال کا بتاتی ہو اپکی۔۔
اقراء نے بنا کوئ بات کیہ کال کٹ کردی۔۔
عمر اور جنت آج آخری ٹچ دے رہے تھے اپنے ڈیزائن کو اس لیہ کافی دیر سے کام کررہے ہے تھے۔
پانچ منٹ پہلے بریک لیا تھا دونوں نے ۔
بریک لیتے ہی عمر تو فریش ہونے چلا گیا اور جنت نے گھر کال کرکے لیٹ ہونے کی وجہ بتائ۔۔
عمر فریش ہوکے نکلا ۔۔
عمر تمہارے نمبر پہ کسی لڑکی کی کال تھی کافی غصہ میں تھی۔۔
یہ کہہ کے جنت نے عمر کا موبائل اسکے آگے کیا۔
عمر نے کال لسٹ چیک کی تو مسکراہٹ نے دھیرے سے اسکے لبوں کو چھوا۔۔
جنت جو بہت غور سے عمر کے ایکسپریشن دیکھ رہی تھی بول پڑی۔۔
ااہمم اہممم لگتا ہے گرل فرینڈ کافی ناراض ہوگئ ہے۔۔
جنت کے بولنے پہ عمر نے پہلے اسے دیکھا اور پھر مسکرا کے کہا۔
نہی گرل فرینڈ نہی۔ بیوی ہے میری اقراء کو تو تم جانتی ہو جو ہمارے آفس میں ہے۔۔
اوہ ہو اچھا اچھا ہاں اچھا ماشاءاللہ مبارک ہو ۔بھئ کوئ بے بی بھی ہے کیا؟؟
جنت کی بات پہ عمر کا قہقہ گونجا اور اس نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے کہا
ارے کہاں پارٹنر اتنی ٹریجڈی میں تو نکاح ہوا اتنے مہینے بعد تو محبت کا اظہار کیا میڈم نے ابھی کہاں بے بی ابھی تو رخصتی بھی نہی۔ ہوئ۔۔
مطلب میں کچھ سمجھی نہی؟؟
جنت کے بولنے پہ عمر نے اقراء کے انکار سے لے کے نکاح ہونے تک سب بتا دیا۔۔
عمر اپنی بتا رہا تھا مگر جنت کو لگ رہا تھا کے اسکی اور یوسف کی زندگی عمر بتا رہا ہو۔۔
جنت اور عمر افس سے نکلے تو کافی ٹائم ہوچکا تھا۔عمر جنت کو چھوڑنے اسکے گھر جارہا تھا جب دو تین بائیک انکے کار کے آگے پیچھے آنے لگی ۔۔
جنت اور عمر دونوں ہی پریشان ہوگئے عمر نے جیسے ہی گاڑی کی اسپیڈ بڑھانی چاہی دو بائیک ایک دم گاڑی کے آگے آئ جیسے دیکھ کے عمر کو بریک لگانا پڑھا۔۔
بائیک پہ سے لڑکے اترے جنکے ہاتھ میں گن تھی ۔عمر اور جنت کو اشارہ کیا گاڑی سے باہر آنے کا۔
عمر اور جنت باہر آئے ۔۔
عمر نے ان سے کہا جو چاہیے میں دیتا ہو مگر جانے دو ہمیں۔۔
یہ بول کے عمر جنت کے سامنے ایا۔۔
یہ دیکھ کے جنت کافی شوکڈ ہوئ۔ا۔۔
ہمیں کچھ نہی چاہیے صرف تیری ہڈیوں کا گودا چاہیے۔۔
یہ بول کے لڑکے نے ڈنڈا نکالا اور عمر پہ وار کرنا چاہا مگر عمر نے کمال مہارت سے اسے روک لیا تو ادھر دو لڑکے جنت کو کھینچنے لگے جس سے اسکا نقاب اتر گیا۔۔
جنت کا چہرہ دیکھ کے لڑکوں کی نیت خراب ہوئ اور ایک نے کہا۔
ابے لڑکا چھوڑ لڑکی پکڑ اپنی تو رات رنگین ہوجائے گی۔۔
لڑکوں کی بات سن کے عمر جو لڑکوں کو مار رہا تھا ایک دم رکا اور پلٹ کے دیکھا تو دو منٹ کیلیے جنت کو بے نقاب دیکھ کے ساکن۔ ہوگیا۔۔اسے اندازہ نہی تھا کے وہ اتنی خوبصورت ہوگی۔۔
لڑکے جیسے جیسے آگے بڑھ رہے تھے ۔۔جنت پیچھے ہوتی جارہی تھی عمر نے جیسی ہی جنت کو بچانے کیلیے آگے بڑھنا چاہا دو لڑکوں نے اس کے ہاتھ پہ ڈنڈا مارا۔
جنت نے جلدی سے اپنے عبائے کی پوکٹ میں سے ایک اسپرے نکال کے ان لڑکوں کی آنکھوں پہ۔کردیا۔۔
اسپرے کرنا تھا کے ان لڑکوں کی چیخیں سن سان سڑک پہ گونجنے لگی۔۔دونوں لڑکے اپنی۔انکھوں پہ۔ہاتھ رکھے ادھر سے ادھر اچھل رہے تھے اور چیخیں جارہے تھے۔۔جنت نے ایسا ہی۔کچھ باقی لڑکوں پہ۔کرا ۔۔ان۔کا بھی ایسا ہی حال تھا جنت نے عمر کو فورا گاڑی میں بیٹھنے کا بولا ۔۔۔
عمر اور جنت فورا گاڑی میں بیٹھے اور عمر گاڑی تیزی سے گے بڑھا دی۔۔
گاڑی کافی رش والی جگہ پہ گئ۔تو عمر نے جنت کو دیکھا جو آنکھیں بند کرکے سانس لے رہی تھی جب عمر نے جنت سے کہا۔
ویسے جنت تم نے کیا اسپرے کیا ان لڑکوں کو کی آنکھوں پہ۔؟؟
عمر کی بات پہ جنت نے مسکرا کے عمر کو دیکھا تو عمر کا ماننا پڑا کے اسکی مسکراہٹ خوبصورت تو بہت ہے مگر کھوکھلی ہے۔۔
میں نے ان پہ۔ریڈ چلی اسپرے کیا ہے ۔اب کئ دونوں تک اپنی آنکھیں کھول نہی سکےینگے وہ ۔
جنت کی بات پہ عمر کا قہقہ گاڑی میں گونجا اور اس نے کہا۔
شکل سے تو بہت معصوم ہو مگر کام تمہارے کسی غنڈی سے کم نہی۔
ہاں توجاب کرنے والی لڑکی ہو اپنی سیفٹی کرکے باہر نکلونگی۔۔
ہممم ویسے شکریہ تمہارا میری جان بچانے کا اب تو میں تم سے دوستی کیہ بنا تمہیں چھوڑنے والا نہی ویسے بھی میری بہن کافی چھوٹی ہے تمہارے ٹائپ کی لڑاکا میری کوئ بہن نہی نہ۔۔۔۔
یہ بول کے عمر نے اس کے آگے ہاتھ بڑھایا جنت نے ایک نظر عمر کو دیکھا پھر اسکے ہاتھ کو اور اسکا ہاتھ مسکرا کے تھام لیا۔۔
عمر نے جنت کو گھر چھوڑا۔
ابھی عمر کی گاڑی گھر کے اندر آئ تھی کے حمزہ عمر کو لان میں ہی انتظار کرتا ہوا دیکھا
عمر حمزہ تک آیا تو عمر کا حلیہ دیکھ کے حمزہ۔کافی پریشان ہوا جگہ جگہ سے اسکی شرٹ پھٹی ہوئ تھی۔
ارے عمر یہ سب کیا ہے تم کہاں تھے اب تک ؟؟
حمزہ کے پوچھنے پہ عمر نے راستے میں ہوا سارا واقعہ حمزہ کو سنایا اور جنت کا کارنامہ بھی۔
جیسے سن کے حمزہ کو اپنی ہنسی روکنا بھی مشکل ہوگیا۔۔
ویسے بھائ جتنی معصوم دیکھتی ہے اتنی ہے نہی جس طرح اس نے لڑکوں پہ وار کیا اپکو اندازہ نہی زرا سا بھی نہی ڈری وہ۔۔
دیکھتی مطلب تم نے اسکا چہرہ دیکھا کیا؟؟
ہاں بھائ نقاب اتر گیا تھا اسکا ۔ماشاءاللہ بھائ بہت خوبصورت ہے میری بہن۔۔
بہہن؟؟؟
حمزہ نے ایک ائیبرو اچکا کے اس سے پوچھا۔۔
ہاں بہن ایسی بہادر بہن کون نہی چاہتا۔مگر بھائ اسکے چہرے اداسی کی ایک۔داستان رقم ہے جب وہ ہنستی تو اسکی آنکھیں اسکا ساتھ نہی دیتی۔۔
ہممم حمزہ کچھ سوچتے ہوئے کہا۔
چلے بھائ چلے اندر کافی رات ہوگئ ۔۔
ہاں چلو۔۔اور تم بھی دودھ لے کے سونا ۔
ہاں ہاں بھائ وہ تو جنت نے بچا لیا ورنہ لنگڑا لولا ہوا ہوتا میںں۔۔
عمر کے بولنے کے انداز پہ حمزہ کا قہقہ لان میں گونجا۔۔۔
جاری ہےے۔۔
See translation