50.4K
33

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 1

مریم عمران ۔۔
قسط نمبر 1#۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔۔۔
جنت ارے اور جنت اٹھ بھی جا لڑکی 7 بج رہے ہیں کالج نہی جانا کیا؟؟؟
خلدہ بیگم پچھلے ادھے گھنٹے سے جنت کو آوازیں دے رہی تھی مگر مجال ہی جو اسکے کانوں پہ جو رینگے۔۔
ارے بیگم کیوں بچی کی جان عزاب میں رکھتی ہو اٹھ جائے گی ابھی تو بہت ٹائم ہے کالج جانے میں۔۔
ہاں بیگارے اور بیگاڑے اکمل صاحب جونا بچی ہے نہ کوئ گھر کا کام کرتی ہے نہ کچن میں آکے جھانکتی ہے ۔اس سے چھوٹی ہے ماریہ دیکھے کیسے صبح اٹھ کے میرے ساتھ ناشتہ بنواتی ہے اور اوپر بھابھی کی اریبہ وہ بھی سار دن اپنی ماں کا ہاتھ بٹاتی ہے مگر ایک یہ ہے بس پڑھ والوں۔۔
ہاں ہاں اماں کرلے میری برائ ایک دن جںب نہی ہونگی تب اپکو قدر آئیگی میری۔۔
جنت جو اٹھ تو چکی تھی ۔مگر موبائل پہ نت نئے میک اپ اور اسکے کرنے کا طریقہ دیکھ رہی تھی اس سے زیادہ اپنی برائ نہی سن پائ اور باہر اگئ۔
ہائے آپی کب آئے گا وہ دن جب تم اس گھر سے جاوگی اور کب تمہارا وہ نیا کمرہ میرا اور میری ہونے والی بیوی کا ہوگا ۔۔
یہ نومیر تھا جنت سے چھوٹا ۔۔
اوہ بھئ انسان بڑا والا بل ڈوگ پال لے مگر خوش فہمی نہی کبھی نہی ملے گا تمہیں جیسے ناگ اور تمہاری بیوی کو میرا کمرا۔
ہائے آپی بھولو نہی میری ۔منکوحہ آپکی بھی ہونے والی نند ہے۔۔لائبہ جو انکی تایا زاد بھی تھی اور نومیر کی منکوحہ بھی۔۔ اور یقین مانو میں اسے خاص کر حکم دونگا کے پکی والی نند نہی گند بنے۔۔
نومیر کی بات پہ سب نے اپنی ہنسی دبائ جب جنت نے آنکھوں میں آنسو بھر کے اکمل صاحب سے کہا۔
پاپا آج بتا ہی دے کس کچرا کنڈی سے اٹھایا تھا مجھے۔۔
لو بھی پاپا اپنے بتایا نہی آپی کو پاپوش والی کچرا کنڈی سے اٹھایا تھا انہیں۔۔۔۔جنت نے منہ کھولے نومیر کو دیکھا۔۔اور اسکی کمر پہ ایک زور سے مکا مارا
اور روتی ہوئی بنا ناشتہ کے تیار ہوکے کالج کیلیے جیسی ہی نکلنے لگی اوپر سے تائ کی آواز ائ۔۔۔
ارے بس کردو کب سے میری بچی کو تنگ کررہے ہو آجا ۔میری بچی آج میں نے ناشتہ میں آلو کے پراٹھے بنائے ہیں آجا یوسف چھوڑ دے گا ۔تجھے۔
اور جنت بی بی سدا کی بھوکی فورا تائ کے بلانے پہ خالدہ بیگم اور نومیر کو منہ چڑھاتے ہوئے اوپر چلی گئ۔۔
جب جنت کے جاتے ہی خالدہ نے پاس بیٹھے ناشتہ کرتے ہوئے نومیر کے کان پکڑے اور کہا۔۔
اتنا کوئ تنگ کرتا ہے بہن کو؟؟
ارے امی جان آپی کو جو تنگ کرکے مزا آتا ہے اسکا مزا اپکو کیا پتہ اور اپکو پتہ ہے میں آپی سےکتنی محبت کرتا ہو بس جب تک انہیں تنگ نہ کرلو دن نہی گزرتا۔
بھائ اب چل بھی لے کتنا کھائینگے ۔؟؟۔
ماریہ جو ناشتہ کرکے کب سے تیار کھڑی تھی اسکول جانے بول پڑی۔۔
ہاں میری چھوٹی چڑیل چلو چلو۔۔
اچھا بابا میں کالج کے بعد ڈائریکٹ آجاؤنگا اسٹور نومیر نے جاتے جاتے اکمل صاحب کو کہا اور ماریہ کو لے کے نکل گیا۔۔..

#

جنت اوپر گئ تو سب ناشتہ کی ٹیبل پہ بیٹھے تھے ۔جنت کو دیکھ لائبہ فورا اٹھ کے جنت کے پاس آئ اور کہا ۔۔۔
ارے آپی آئے نہ میں تو کب سے آپکا ویٹ کررہی تھی امی نے اتنے مزے کے پراٹھے بنائے ہیں۔۔جنت نے تایا تائی کو سلام کیا اور ناشتہ کرنے بیٹھ گئ تائی تو جنت کو خوب لاڈ اٹھا رہی تھی انہیں شروع سے ہی جنت سے ایک خاص لگاؤ تھا جو سب کو دیکھتا تھا۔۔
ابھی جنت نے پراٹھے کا پہلا لقمہ توڑا ہی تھا کے یوسف ٹیبل پہ آیا اور جنت کا منہ میں جاتا پراٹھے والا ہاتھ ایک دم۔رکا۔۔..بلیک ٹی شرٹ سے جھلکتے کسرتی بازو گیلے بال شاید وہ ابھی ابھی فریش ہوکے آیا تھا۔۔
گہری بھوری آنکھیں فوج کٹ بال بھری بریڈ چوڑی پیشانی اس پہ۔کھڑی لمبی ناک بیشک اللہ نے یوسف کو بھر پور حسن دیا تھا کوئ بھی لڑکی ایک بار پلٹ کے دیکھنے پہ دوبارہ پلٹتی ضرور تھی مگر جنت بی بی کو یوسف سے اللہ واسطہ کا بیر تھا۔۔
یوسف جانتا تھا کے وہ جنت کی نظروں کے حصار میں ہے اس نے فورا نگاہ اٹھا کے جنت کو دیکھا جو اسے ہی دیکھنے میں محو تھی یوسف نے نے ایک ائبرو اچکا کے اسے دیکھا ۔جنت فورا گڑبڑائ اور ناشتہ کرنے لگی ۔۔جنت کے بوکھلانے پہ یوسف کے لبوں پہ دلکش مسکراہٹ آئ جس کے آتے ہی اس کے لیفٹ سائیڈ کا ڈمپل ابھرا۔
سامنے بیٹھی لڑکی یوسف جمال کی زندگی تھی جنت کو اللہ نے کمال کی۔خوبصورتی سے نوازا تھا۔۔
لمبے بل۔جو کمر تک آتے تھے گہری کالی انکھیں۔چھوٹی ناک جسمیں چاندی کی بالی تھی۔۔گورا رنگ اس پہ ابھرے ہوئے گال۔
یوسف کے ہی کہنے پہ جمال صاحب نے کمال صاحب سے جنت کا ہاتھ مانگا تھا جس پہ کمال صاحب نے صرف خوشی سے ہاں کی بلکے جمال صاحب کے کہنے پہ دو مہینے بعد کی نکاح کی تاریخ بھی رکھ دی تھی۔۔
یوسف ناشتہ کرچکا تو اسنےجنت سے کہا جو اپنی لمبی کالی ایرانی چادر لپیٹنے میں مصروف تھی۔۔
جلدی کرودیر ہورہی تمہیں کالج کی مجھے اسٹور کی۔۔
جنت عبایا پہن کے تو اوپر آئ ہی تھی جلدی سےچادر لپیٹ کے عربین نقاب لگایا اور کہا۔۔
جی چلے میں تیار ہو۔۔
یوسف کو جنت کی یہ عادت بہت اچھی لگتی تھی کے جب وہ گھر سے باہر نکلتی تھی اپنے اپکو فل کور کرکےنکلتی تھی کہی بار اسکی دوستوں نے اسکا مزاق بھی اڑایا مگراسے فرق نہی پڑتا تھا۔۔
یوسف اور جنت ایک ساتھ گھر سے نکلے یوسف نے پہلے جنت کو اتارا اور پھر اسٹور کیلیے نکل گیا۔۔۔

#

اکمل اور جمال دو ہی بھائ تھے اجمل صاحب کے جنکی شادی انہوں نے اپنے قریب دوست کی بیٹیوں سے کردی ۔خالدہ اور شبنم بیگم آپس میں سگی بہنیں تھی۔۔
دونوں نے اس گھر کو بھر پور طریقے سے سنبھالا۔جمال اور اکمل صاحب کا کاروبار ایک ہی تھا بس دونوں الگ الگ ایک ہی اسٹور کی برانچیں سنبھالتے تھے ۔۔
شبنم بیگم کو اللہ نے ایک بیٹا اور ایک بیٹی سے نوازا تھا۔اور خالدہ بیگم کو دو بیٹیوں اور ایک بیٹے سے ۔۔
یہ گھرانہ ڈیفینس کے علاقے کا ایک مہزب گھرانہ تھا جنکا شمار ایک اچھے کھاتے پیتے گھرانہ میں ہوتا تھا۔۔
ڈیفینس میں بنا یہ ڈبل اسٹوری گھر زیادہ بڑا نہی تھا مگر خوبصورتی میں اپنا مثال آپ تھا۔۔
اس چھوٹے سے گھر میں خوشیاں ہی خوشیاں تھی۔۔
مگر کہتے ہیں نہ جہاں خوشیاں زیادہ ہووہاں غم بھی اس سے زیادہ ہوتے ہیں۔۔
جاری ہے۔۔۔