50.4K
33

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 2

معافی ۔
مریم عمران۔۔۔
قسط نمبر 2#..
جنت اداس سی کالج کے باہر کھڑی نومیر کا ویٹ کررہی تھی۔۔
جو آدھا گھنٹہ لیٹ ہوچکا تھا۔۔جنت کا غصہ میں براحال تھا اوپر سے بھوک الگ لگی تھی اسے۔۔اس کی دوستوں نے جو کے اس کے علاقے میں ہی رہتی تھی کہاں بھی تھا کے ہم۔چھوڑ دیتے ہیں مگر آج جنت میڈم کو حسین آباد کی آئسکریم کھاتے ہوئے جانا تھا نومیر کیساتھ جسکا کل نومیر نے اس سے وعدہ کیا تھا۔۔
اس سے پہلے جنت غصہ میں وہاں سے بس میں جاتی۔ایک دم اس کے پاس کار آکے رکی جس کے اندر بیٹھے شخص کو دیکھ کے جنت کا دل کیا وہ اپنا سر دیوار پہ مار لے کیونکہ اسے لینے اور کوئ نہی یوسف آیا تھا۔۔

#

اسٹور میں مال آنے کی وجہ سے نومیر کو اپنی نگرانی میں سب گودام میں رکھوانا تھا جس کی وجہ سے اسے جنت کو پک کرنے میں کافی دیر ہوگئ۔۔
مگر اس نے یوسف کو کال کرکے جنت کو لانے کو کہا تھا۔یوسف فری تھا اس لیہ اس نے جنت کو پک کرنے کی ہامی بھرلی۔۔

#

یوسف کو دیکھ کے جنت کا پارہ آسمان پہ پہنچ چکا تھا آج اس نےپکا تہیہ کرلیا تھا کے کسی صورت نومیر کو چھوڑنا نہی۔۔
جنت غصہ میں گاڑی میں بیٹھی اور زور سے دروازہ بند کیا مگر پھر ایک آنکھ بند کرکے یوسف کو دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔جنت نے ایک معصومانہ مسکراہٹ کیساتھ اسے سوری بولا تو یوسف نے اسے گھورتے ہوئے گاڑی آگے بڑھا دی۔۔مگر جنت کی بربراہٹ کم نہ ہوئی جو مسلسل غصہ میں بولی جارہی تھی۔۔
ابھی اپنی منکوحہ کو لینے جانا ہوتا تو دس منٹ پہلے جاکے کھڑا ہوتا کالج کے گیٹ پہ سالے کو تو میں گھر جاکے بتاونگی دیکھتی ہو کیسے ملتا ہے اب لائبہ سے کنجوس ماڑواری نہ ہوتو۔۔
یوسف باآسانی جنت کی بڑبڑاہٹ سن رہا تھا اور بہت مشکل سے اپنی ہنسی کنٹرول کررہا تھا جسکی وجہ سے اسکا لیفٹ ڈمپل بار بار اسکے گال چوم رہا تھا۔۔
یوسف جنت کے عبائے کو دیکھ کے اندازہ لگا سکتا کے اسےسخت گرمی لگ رہی ہوگی مگر وہ یوسف کے کہنے پہ بھی اپنا نقاب نہی اتارے گی ۔کیونکہ آتی جاتی گاڑیوں میں بیٹھے لوگ دیکھنگے۔۔
کچھ سوچ کے یوسف نہ اے سی فل کیا اور اپنے گاڑی میں موجود بلیک شیشے اوپر کرکے جنت سےکہاں جو آنکھیں موندے سیٹ سے ٹیک لگائے ہوئے تھی۔۔
جنت تھوڑی دیر نقاب اتار دو اور چادر بھی ڈھیلی کردو میں بیلک مرمر اوپر کردیے ہیں ۔
یوسف کی بات پہ جنت نے ایک دم آنکھیں کھولی تو گاڑی میں رات کا سماں تھا۔۔
شاید جنت کو بھی بہت زیادہ گرمی لگ رہی تھی اس لیہ اس نے نقاب اتار کے اپنی چادر دو منٹ کے لیہ سر سے اتاری اور یوسف کی طرف پشت کرکے اپنےبالوں کا جوڑا باندھا جسکی وجہ سے اسکے کان کے پیچھے کا تل ابھرا۔۔
یوسف جوبظاہر تو ڈرائیو کررہا تھا مگر اسکی نظریں جنت کی حرکت پہ تھی۔ گوری گردن پہ جیسی ہی نظر پڑی تو ساتھ ساتھ اس کے کان کے پیچھے کےتل کا بھی دیدار ہوا تو یوسف نظریں چورا گیا۔
جنت نے جوڑا باندھ کے فلحال اپنی چادر لپیٹ لی مگر نقاب رہنے دیا اس نے سوچا گھر کے قریب باندھ لونگی۔۔۔
جبھی یوسف نے گاڑی روکی جنت جو حیران تھی کے اتنی جلدی گھر کیسے آگیا اصل حیرت اسے تب ہوئ جب یوسف اسے بغیر بتائے گاڑی سے اترا اور تھوڑی دیر میں اسکی فیورٹ آئسکریم لے کے ایا۔۔
اور لاکے جنت کے آگے کردی ۔جنت نے حیران نظروں سے پہلے یوسف کو دیکھا اور پھر آئسکریم کو ۔۔اور جھٹ یوسف سے آئسکریم لے کے کھانے لگی۔۔
یوسف نے گاڑی آگے بڑھا دی اور جنت مزے سے آئسکریم کھانے میں مصروف تھی۔۔
جب یوسف نے جنت سے کہا۔
ویسے جب ہم کوئ چیز کھاتے ہیں تو اخلاق اپنے برابر
میں بیٹھے لوگوں سے پوچھ لیتے ہیں ۔۔
یوسف کی بات پہ جنت کا ایک دم ہاتھ رکا اور کہا۔
میں چاکلیٹ اور آئسکریم کسی سے شئیر نہی
کرتی اپنے اگر کھانی تھی تو اپنی کے کے آتے میں آئسکریم کو نظر مت لگائے۔۔یہ بول کے جنت دوبارہ آئسکریم کھانے لگی اور یوسف صرف افسوس سے گردن ہلا سکا ۔ائسکریم ختم ہوئ تو جنت نے سامنے رکھے ٹیشو سے اپنے ہاتھ صاف کیہ اور منہ بھی مگر اوپر کےہونٹوں پہ لگی آئسکریم صاف نہی کی۔۔
یوسف جو بہت غور سے اسکے لبوں پہ لگی آئسکریم دیکھ رہا تھا اور شدت سے اسکے دل نے خواہش کی کے اسکے لبوں پہ لگی ائسکریم وہ اپنے لبوں سے صاف کرے مگرافسوس وہ خالی ایسا سوچ سکا اور اسنے ایک اورٹیشو نکال کے جنت کے آگے کیا اور اشارہ ہونٹوں سے آئسکریم صاف کرنے کا ۔۔جنت سے اسے تھینکس کہا اور ٹیشو لے کے اپنے ہونٹ صاف کیہ ۔۔
آئسکریم کھاکے جب جنت نے نقاب لگایا تو یوسف نے بھی بلیک مرر نیچے کیے ۔۔گھر پہ جنت کو اتار کے دوبارہ اسٹور چلا گیا۔۔۔

#

اللہ چھوٹی امی بہت بھوک۔لگی ہے قسم سے۔
عمر کا ضبط اب جواب دینے لگے تھا۔۔
تو کس نے کہا ہے اپنے بگ بی کا ویٹ کرو پتہ تو ہے کتنا ٹائم لگاتا ہے تیار ہونے میں اور کرو ویٹ۔۔
زرین بیگم نے اسٹائلش کچن میں موجود نفیس سی ڈائننگ ٹیبل پہ بیٹھے عمر سے کہا اور خود نورا کیساتھ ملکے جلدی جلدی ناشتہ کا اہتمام کررہی تھی ۔اور ساتھ ساتھ گرم گرم پراٹھوں کو دیکھ کے جو عمر کی شکل دیکھ کے ہنس بھی رہی تھی۔۔
اففف ماما جلدی جلدی آملیٹ بھی بنا دے مجھے لیٹ ہورہا ہے ۔۔یہ تھی بسمہ سب سے چھوٹی جو اس وقت میٹرک میں تھی۔۔
اپنا پراٹھا کھانے کے بعد اس نے جب عمر کے آگے رکھا پراٹھا اٹھایا تو عمر نے فورا اسکے ہاتھ پہ ہاتھ مارا اور کہا۔
اب دیر نہی ہورہی؟؟
افف بھیا آپ کونسا کھا رہے ہو جب تک آپکی گرل فرینڈ نہی آجاتی آپ نے ایک لقمہ نہی کھانا اور یہ پراٹھا اپنی بے عزتی پہ رورہا ہے۔تو میں نے سوچا کیوں نہ اسے اپنے پیٹ میں پہنچا کے عزت بخش دو۔۔
تم بہت بولنے نہی لگی۔۔!؟
عمر نے ایک ائیبرو آچکا کے اپنے سامنے بیٹھی اپنی چھوٹی بہن کو دیکھ کے کہا۔۔
تو میں نے کیا غلط بولا بھیا۔۔
کھانا بھی بگ بی کیساتھ جب تک وہ سو نہی جاتے جب تک انسے باتیں کرنا دن بھرانکے ساتھ رہنا ایسا تو کوئ چپکو گرل فرینڈ بھی نہی ایئئ یوو بسمہ نے عجیب سے منہ بنا کے ایک جھر جھری لی تو عمر اس سے پہلے اس تک لپکتا وہ تیزی سے گاڑی تک پہنچ چکی تھی اور عمر کو منہ چڑا کے گاڑی میں بیٹھ کے چلی گئ۔۔
عمر واپس آیا ۔مگر کچن میں جانے کے بجائے حمزہ کے کمرے کے پاس پہنچا اور زور زور سے کمرے کا دروازہ بجانے لگا۔
کمرے کے اندر حمزہ جوچاکلیٹی سوٹ میں ڈریس اپ ہورہا تھا ایک دم مسکرایا اور اندر سے ہی آواز لگائی 10 منٹ اور عمر۔۔
اففف بگ بی بس کردے آپ نے تو لڑکیوں کو بھی مات دے دی ہے تیار ہونے میں۔بھوک سے برا حال ہے میرا مگر آپ نے تو آج پتہ نہی قسم کھائی ہے دروازہ نہ کھولنے کی۔۔
حمزہ دروازہ کھولنے ہی۔لگا تھا کے ایک دروازے کے اس پار گنگنانے کی اواز،ابھری جو عمر سنگر گارہے تھے۔۔
“چوکھٹ پہ تمہاری ہم دم توڑ جائینگے۔۔
جب ہم نہی ہونگے تمہیں ہم یاد ائینگے۔۔
حمزہ نے زور سے اپنے سر پہ۔ہاتھ مارا اور دروازہ کھول کے عمر کے سامنے ہاتھ جوڑے اور کہا۔
چل بھی عاطف اسلم چل ۔یہ بول کے حمزہ آگے جانے لگا جب عمر نے ایک دم اسے پکڑ کے روکا اوراسکے آگے پیچھے گھوم کے کہا۔
اوہ ہو آج تو لڑکا لشکارے مار رہا ہے ۔۔
افف عمر بس کردے چل دیر ہورہی ہے آفس کیلیے ناشتے کے لیے بھی۔
عمر اور حمزہ نیچے اترے تو مجاہد صاحب نیچے ہی بیٹھے دونوں کو ایک ساتھ آتا دیکھ وہ بھی مسکرائے ۔۔
زرین بیگم نے ان دونوں کی بلائے لی تھوڑی بہت باتوں کے بعد وہ لوگ افس کیلیے نکل گئے۔۔

#

حمدان صاحب کا نام فیشن کی دنیا کا ایک مشہور ستارہ تھا مگر اپنے چھوٹے بہو بیٹے اور اپنی زوجہ کیساتھ عمر سے واپسی پہ ایک کارایکسیڈنٹ میں انکی ڈیٹھ ہوگی۔جہاں کاروبار کی ساری بھاگ ڈور مجاہد صاحب کے کندھوں پہ آگئ وہی زرین بیگم کی جھولی میں بھی دو ننھے پھول آگئے ۔
عمر اور بسمہ ۔۔
عمر پانچ سال کا تھا اکثر اپنے والدین کو یاد کرکے رو پڑتا بسمہ کافی چھوٹی تھی اس لیہ زرین کو ہی ماما بولنے لگی۔
وقت گزرتا گیا اور عمر حمزہ کے کافی کلوز ہوگیا۔زرین بیگم نے دونوں بچوں کو ہمیشہ اپنی سینے سے لگا کے رکھا ۔حمزہ اور عمر نے بھر پور طریقے سے اپنے کاروبار کو سنبھالا اور اج حمزہ کا نام فیشن دنیا کا جانا مانا نام ہے۔۔
جاری ہے۔۔