50.4K
33

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 6

معافی۔۔۔
مریم عمران۔۔۔
قسط نمبر 6#..
ہم تجھ سے کچھ پوچھ رہے ہیں جنت تجھے کوئ اور پسند ہے ۔؟؟؟
یوسف بھائ سے نکاح سے انکار کی کیا وجہ ہے۔۔
جب اس کی دونوں دوستوں نے تھوڑے غصہ میں ایک بار پھر پوچھا
تو جنت نے کہا۔۔
بھئ وہ رومینٹک نہی ہے اور دوسرا انکی آنکھیں بھوری ہیں۔۔اور میں نے پڑھا ہے بھوری آنکھوں میں وفا نہی ہوتی۔۔
جنت کے جواب پہ جہاں حنا کے منہ سے کولڈرنک پھوارے کی طرح باہر نکلی تو زونیرہ کے منہ میں گی بسکٹ سکے گلے میں پھنسا اور وہ۔کھانسنے لگی۔
دونوں ہی حیران نظروں سے ہونقوں کی طرح جنت جو دیکھنے لگی جیسی ان دونوں کو ہی اسکی دماغی حالت پہ شہبہ ہو تو ادھر کمرے کےباہر کھڑے یوسف کا بھی حال ایسا ہی تھا۔
اس نے دارانہ انداز میں اپنا سر دیوار پہ بار مارا وہ یہ بات تو جانتا تھا کے یہ لڑکی تھوڑی پاگل ہے مگر اتنی اس بات کا اسے احساس آج ہوا۔۔
مگر فلحال وہ بہت خوش تھا کے جنت کی زندگی میں کوئ اور شامل نہی۔۔وہ واپس کمرے کےباہر سے اوپر اپنے پورشن میں چلا گیا۔۔

#

حنا اٹھ کے جنت کے پاس آئ کبھی اسکا ماتھاچیک کرتی اور کبھی گلا جنت نے ایک دم اسکا ہاتھ ہٹایا اور کہا۔
کیا کررہی ہے؟؟
چیک کررہی ہو تیری طبیعت تو ٹھیک ہے۔۔زنیرہ جا پانی لے کے آ اسکے لیہ دوائ دے اسکو دماغ درست کرنے کی مجھے لگ رہا ہے اس نے دوائ ہلا کے نہی پی تھی صبح ۔۔ہاں حنا مجھے بھی کچھ ایسا ہی لگتا ہے۔۔
اوہ بھئ کیا ہوگیا تم دونوں کو ایسا بھی میں کیا کہہ دیا کونسی انوکھی بات کردی ہے۔۔
ہر لڑکی چاہتی ہے اسکا ہونے والا شوہر رومینٹک ہو۔
ہاں تو بہن کوئ پاگل لڑکی ہی ہوگی جو خالی اس بات پہ کے اسکے ہونے والے شوہر کی آنکھوں کا رنگ بھورا ہے تو وہ بے وفا ہوگا اوراسپرسے سونے پہ سہاگہ وہ رومینٹک بھی نہی ہے تو اسے چھوڑ دیا جائے نکاح سے انکار کردیا جائے حد ہے بہن زنیرہ کوتو مانو پارہ ہی ہائ ہوگیا۔
تونے یہ ساری باتیں اس شمع کے دیے ہوئے نوول میں پڑھیں ہیں نہ ۔۔؟؟؟
حنا کے بولنے پہ جنت چور سی بن گئ۔
اوہ بی بی ہوش کی دنیا میں واپس آجاؤ ایسا صرف نوول میں ہوتا ہے کے جیسا ہم چاہے ویسا ہمیں ہمارا ہیرو ملے ۔۔
کیوں نہی ہوسکتا ایسا رئیل لائف میں جب ہم لڑکیاں اپنا گھر بار سب چھوڑ کے ایک انجان آدمی کیلیے اپنا پوری زندگی بدل لیتی ہیں اٹھنا بیٹھنا سونا جاگنا پہنا اوڑرھنا تک بدل لیتی ہیں تو کیا ہمارے ہونے والے شوہر ہماری زرا سے خوشی کیلیے اپنے اپکو زرا سا چینج نہی کرسکتے
کیوں؟؟؟جنت کے پاس بھی جواب تھا۔
اففف جنت دیکھ تو شروع سے جانتی ہے یوسف بھائ شروع سے سنجیدہ طبیعت کے ہیں فالتو کسی سے چھچھورا پنا نہی کرتے انکی ایک۔کلاس ہے یار۔۔
حنا بلکل ٹھیک کہہ رہی ہے جنت تو سوچ کیا پتہ وہ بلکل ایسے ہی جیسے تو چاہتی ہے نکاح کے بعد شاید وہ تیرے سامنے کھل کے اپنی شخصیت ظاہر کرے ۔سمجھ یار جنت زنیرہ بھی بول پڑی اور جنت اپنی دونوں دوستوں کی باتیں سوچنے پہ مجبور ہوگئ۔۔

#

صبح اقراء اٹھی اور واش روم سے فارغ ہوکے آفس چلی گئ وہ جو یہ سمجھ رہی تھی کے اس کے سر سے فلحال بلا ٹل گئ ہے مگر یہ اسکی بھول تھی۔۔۔
وہ آفس پہنچی تو انجانے میں تمنا سے ٹکرا گئ۔۔
تمنا جو آج حمزہ سے ملنے آفس آئ تھی مگر ایک مڈل کلاس لڑکی سے تکرانے سے شاید اسکی۔کلاس گر گئ ۔اور اسنے اقراء کو۔ سنانا شروع کردیا جو پہلے ہی تمنا کو سوری بول رہی تھی۔۔
آندھی ہو کیا دیکھ کے نہی چل سکتی ۔یو مڈل۔کلاس پھٹیچر اپنے کلاس کے افس میں کام کرنا تھا نہ جب عالیشان آفس میں چلنا نہی اتا ۔حمزہ نے بھی پتہ نہی کیسے کیسے امپلائ رکھے ہیں آفس میں۔۔
تمنا اپنی بول رہی تھی اور اقراء کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو جاری تھی ۔مگر عمر سے نہ تو اقراء کا رونا برداشت ہوا اور نہ یہ کے زرا سے ٹکر لگنے پہ تمنا نے بھری آفس کے سامنے اقراء کی بے عزتی کی۔۔
تمنا ابھی آگے ہی چلی تھی کے عمر نے جان بوجھ کے اپنا پیر آگے کیا جسکی وجہ سے وہ تمنا منہ کے بل فرش پہ گر گئ۔۔
تمنا کے گرنے پہ جیسے سب کو سانپ سونگھ گیا۔عمر ایک دم اسکے پاس آیا اکڑو بیٹھا اور کہا۔
اوہ ہو تمنا بے بی لگتا ہے یہ عالیشان آفس کا فرش آپکی کلاس کا نہی جبھی اس پہ اپکو چلنا نہی۔ایا اور آپ منہ کے بل گر گئ ۔۔ائندہ کوئ ایسا فرش ڈھونڈیے گا جو آپکی کلاس کا ہو۔۔
عمر کے بولنے پہ آفس میں دبی دبی سے ہنسنے کی آواز آنے لگی۔
تمنا نے اٹھ کر ایک غصیلی نظر عمر پی ڈالی اور وہاں سے بنا حمزہ سے ملے واک آؤٹ کرگئ۔۔
تمنا کے جاتے ہی سںب ہی اپنے اپنے کاموں میں مشغول ہوگئے۔۔
اقراء بھی واپس مڑنے لگی جب عمر نے اسے روکا۔۔
ایک منٹ مس اقراء۔
عمر کی آواز پہ اقراء ایک دم رکی ۔عمر اس تک آیا اور کہا۔۔
اپنا حق کیلیے بولنا غلط نہی خاص کر جب جب آپ غلط نہی۔
عمر کی بات پہ اقراء نے نگاہ اٹھا کے دیکھا تو عمر اسکی آنکھوں کو دیکھ کے دنگ رہ گیا لائٹ براؤن آنکھیں جو رونے سے اور زیادہ حسین ہوگئ تھی جہاں درد کا ایک جہاں اباد تھا۔۔
اقراء نے بہت دھیمی آواز میں عمر سے کہا۔
جو لوگ وقت اور قسمت کے رحم و کرم پہ ہوتے ہیں جنکے پیچھے انکا کوئ اپنا نہی ہوتا وہ ایسی ہی سر جھکا کے رہتے ہیں۔اقراء بول کے تو چلی گئ مگر کئ سوال عمر کیلیے چھوڑ گئ۔۔

#

آج حمزہ نے تمنا کو ڈنر کی افر کی تھی اور یہ بھی کہاں تھا کے اج اس کیلیے ایک سرپرائز ہے
تمنا جو کل تک عمر کے رویے سے حمزہ سے سخت ناراض تھی اج حمزہ کے منانے پہ مان گئ تھی۔۔
ٹھیک آٹھ بجے حمزہ تمنا کو لینے اس کے گھر گیا۔
تمنا کو آتا دیکھ حمزہ کی نگاہیں ساکت رہ گئ تھی جو بلیڈ ریڈ کلر کی۔میکسی میں غضب ڈھا رہی تھی۔تو ادھر حمزہ بھی بلیک ڈنر سوٹ میں ملبوس شہزاہ لگ رہا تھا۔۔
ایک شاندار ہوٹل میں کینڈل لائٹ ڈنر اور ہلکے ہلکے میوزک کے دوران حمزہ نے تمنا کو پرپوز کیا
تمنا جو حمزہ کے پرپوزل پہ پھولے نہی سما رہی تھی فورا حمزہ کا پرپوزل ایکسپٹ کرلیا۔
حمزہ نے جاکے زرین بیگم کو تمنا کے بارے میں بتایا حمزہ کے بتانے پہ زرین بیگم اور مجاہد صاحب تمنا کے گھر گئ رشتہ لے کے گئے
۔۔زرین بیگم کو تمنا کچھ خاص پسند نہی آئ مگر وہ صرف بیٹے کی خوشی کی وجہ سے خاموش ہوگی۔۔
اور 6 مہینے بعد شادی کی ڈیٹ فائنل کرائ۔۔
عمراس تمام معملے میں خموش تماشائ بنا رہا اسے اقراء کی ٹینشن تھی جو پچھلے تین دن سے آفس سے غائب تھی۔۔
ادھر عمر اپنی ہی پریشانی میں گم آفس میں بیٹھا تھا جب تمنا نے اکے اپنے لفظوں سے اسکے زخموں پہ نمک چھڑکا اور کہا ۔۔
ہمیشہ میرے اور حمزہ کے درمیان ہڈی بنے رہتے تھے اب تو پرمنٹ ہم ایک یوجائئنگے اب کیا کروگے تم تمنا نے ایک طنزیہ مسکراہٹ عمر کی طرف اچھالی ۔جوابا عمر بھی مسکرایا اور کہا
انسان کو کبھی بھی وقت اور اپنی قسمت پہ کبھی غرور نہی کرنا چاہیے کیوں کے دونوں کبھی کسے کےنہی ہوتے اور رہا سوال بگ بی کا اور تمہارا۔۔تو اب جب میرے بھائ کا دل ایک گدھی پہ آگیا ہے تو شہزادی بھی اسے پسند نہی آئے گی۔یہ بول کے عمر نے تمنا کے غصہ سے بھر پور لال بھبوکے چہرے پہ ایک طنزیہ مسکراہٹ ڈالی اور چلا گیا۔۔

#

تین دن پہلے جب اقراء گھر پہنچی تو اسکی پھپھو نے اس پہ یہ۔ بم پھورا کے وہ اپنے اکلوتے بیٹے سے اسکا نکاح کرنے والی ہے اقراء جب انکار کرنا چاہا تو پھپھو کی جگا انکا بیٹا بول پڑا کے اگر انکار کیا تو وہ اسکے چہرے پہ تیزاب پھینک دے گا۔اور اسکی اس دھمکی پہ اقراء نے قسمت کی یہ ستم ظریفی قبول کرلی اور عمر کی محبت کو چپکے سے دل کے ایک کونے میں بند کردیا ۔۔
اسکی پھپھو تو نکاح کے بعدیہ گھر بھی اپنے نام کرنا چاہتی تھی اس لیہ وہ اپنے بیٹے کے ایک بار کے ہی کہنے پہ ہی اقراء کو اپنی بہوبنانے کیلیے راضی ہوگئ۔۔
جبکہ بابر نے اقراء کے واش روم کیمرہ لگایا تھا تاکہ وہ اسکی برہنہ پکس اور اسکے نہانے کی ویڈیو آگے بیچ کے خوب پیسہ کمائے اوروقفہ وقفہ سے اس ویڈیو کے زریعہ سے اقراءکوبلیک میل کرکے اپنے امیر زادوں دوستوں کے بستر کی زینت بنا کے خوب پیسا کمائے مگر جب اس کے کیمرہ کا پلین فلپ ہوا تو اسنے نکاح والا ڈرامہ کھیلا۔
آج رات 8 بجے اس نے اقراء سے کہا نکاح کے ڈریس خریدنے کیلئے تو بیچارے چپ چاپ اس کے ساتھ چل دی مگر گاڑی میں جب اس نے ایک انجان آدمی کوبیٹھے دیکھا تو پہلے تو کافی ڈری اور پھر بابر کی آنکھیں دیکھانے پی چپ چاپ بیٹھ گئ۔۔
گاڑی میں بیٹھی اقراء اس انجان آدمی سے مسلسل خوف زدہ تھی جو عجیب نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔
اچانک گاڑی پارک کے آگے رکی ۔۔اقراء ایک دم ڈری کیونکہ پارک کا رستہ کافی سنسان تھا اورادھر دور دور تک کوئ شاپنگ سینٹر نہی تھا۔۔ایک دم اسکے ساتھ گاڑی میں بیٹھے شخص نے اس کو تیزی سے اپنے طرف کھینچا اور اسکے ساتھ زبر دستی کرنے لگا جبکہ بابر اسکی اوراقراء کی ویڈیو بنانے لگا ۔اقراء زور زور سے چیخنے لگی تو بابر نے گاڑی کے شیشے اوپر کردیے۔اچانک اقراء نے اپنی ہیل زور سے اپنے اوپر جھکے اس لڑکے پیٹھ پہ ماری تو اسکا سرزور سےدروازہ کے شیشے سے ٹکرایا اورخون نکلنے لگا بابر جیسی ہی گیٹ کھول کے اس لڑکے کی طرف آنے لگا اقراء کو اسسے اچھا موقع نہ ملتا بھاگنے گا اس نے گیٹ کھولا اور تیزی سے دورکے پارک کے اندر چلی گئی۔ پارک کراس کرکے باہر نکلی تو پریشان ہوگی ہرطرف بنگلے ہی بنگلے تھے اقراء کو جب یہ محسوس ہوا کے وہ دونوں اسے پیچھے آرہے ہیں۔۔تو وہ ڈور کے ایک بنگلے کے سامنے کھڑی گاڑی کے پیچھے جاکے چھپ گئ ۔اقراء جب گاڑی کے پیچھے جاکے چھپی تو اسے لگا اس گاڑی کی ڈگی کھلی ہے ان دونوں کے اس گاڑی تک آنے سے پہلے وہ اس ڈگی میں چھپ گئ اور ڈگی بند کرلی۔۔
جاری ہے