50.4K
33

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 5

مریم۔عمران۔ ۔۔۔
قسط نمبر 5##
یوسف نے کمرے میں آکے زور سے ڈریسنگ کو لات ماری۔غصہ سے یوسف کا برا حال تھا ۔جب وہ کھانے کے بعد نیچے والے پورشن میں نومیر سے اسٹور کے متعلق بات کرنے گیا تھا ۔مگر اکمل صاحب کی گرجدار آواز پہ اسکے قدم کمرے کے باہر ہی تھم گئے ۔مگر جب اسے یہ پتہ چلا کے اصل کس بات پہ اکمل چاچو غصہ میں ہیں تو وہ واپس الٹے قدم لوٹ گیا۔۔
جنت اسکی بچپن کی پسند تھی اسی کے کہنے پہ شبنم بیگم نے رشتہ ڈالا تھا۔یوسف اپنے سنجیدہ نیچر کی وجہ سے جنت کو شروع سے کھٹکتا تھا مگر وہ یہ نہی جانتا تھا کے اسکا سنجیدہ رہنا ہی اسکی محبت کا دشمن بن جائے ۔۔
۔میں اس چنگیز خان سے شادی نہی کرونگی۔اچانک یوسف کے کانوں میں جنت کےالفاظ گونجے۔
یوسف چلتا ہو اڈریسنگ کے پاس آیا اور شیشہ میں اپنا چہرہ دیکھنے لگا پھر اس نے اپنی شرٹ اتاری اور اپنا جسم دیکھا۔
کسرتی جسم پہ سکس پیکس اوپر سے ڈولے شولے والے بازو یوسف نے غصہ میں۔ بڑبڑاتے ہوئے شرٹ پہنے لگا۔
کس اینگل سے اس نازک کلی کومیں چنگیز خان لگتا ہو ۔تیار ہوجاو جنت میڈم بنوگی تو تم جان یوسف ہی ہے بھر پور مسکراہٹ کیساتھ اس نے شرٹ پہنی جب اس کے دماغ نے ایک سوال کیا۔۔
اگر یوسف اسکے انکار کی وجہ کوئ اور ہوئ تو اگر وہ کسی اور کو پسند کرتی ہو پھر۔۔
دماغ کے اس سوال نے یوسف اجمل کی دل کی دنیا ہلا دی ۔۔وہ خاموش سے بیڈ پہ آکے لیٹ گیا اسنےسوچ لیا تھا اسے آگے کیا کرنا ہے۔۔

#

اگلےمنتھ حمزہ مجاہد کے نیوبرینڈ کی اوپننگ تھی نیو فیش ارائول ڈیسائڈ ہورہے تھے اور فیش شو کی بھی تیاری ہورہی تھی جس میں حمزہ اور عمر اپنےبرینڈ شوکرنے والے تھے۔۔
اسی وجہ اکثر اقراء کو آفس سے کافی دیر ہوجاتی۔
اج بھی کچھ ایسی ہی دیر کی وجہ سے جب وہ گھر پہنچی بھی وہ گھر کے گیٹ کے اندر اینٹر ہی ہوئ تھی جب اس نے اپنے کزن کو جواسکی پھپھو کا بیٹا تھا ۔اوراس کوبہت ہی گندی نظروں سے دیکھتا تھا آتے جاتے اسے تنگ کرنا بلاوجہ اسکا راستہ روکنا راتوں کو اسکا دروازہ بجا کے بھاگنا اس نے اقراء کی زندگی عزاب کی ہوئ تھی۔۔۔اپنے کواٹرسے نکلتے دیکھا اصل حیرانی اسے تب ہوئ جب اس نے اسکے کمرہ کو تالا لگاتے ہوئے دیکھا جو ڈبلیکٹ چابی سے لگایا ہواتھا۔
اقراء گھر کے اندر داخل ہوئے اور ایک ڈری ہوئی نظر اسنے اپنے کمرے پہ ڈالی۔مگر فلوقت اسے وہاں کچھ نہی ملا۔۔,۔۔
وہ عشاء کی۔نماز ادا کرنے۔کے غرض سے واش روم گئ ۔وضو کرکے جیسی ہی پلٹی تو اسکی نظر اپنے شیمپو وغیرہ کے سامان پہ گئ جو الٹا سیدھا رکھا ہوا تھا ویسے نہی جیسے وہ رکھتی تھی۔اس نے فلحال اسکو ٹھیک کرنے کا ارادہ ترک کیا اور نماز ادا کی مگر نماز کے دوران اسکا زہن بار بار بھٹک کے شیمپو کی بوتل کی طرف جارہا تھا
اس نے نماز ادا کی اور اپنے لیی کافی بنائ ۔۔
کافی پیتے ہی وہ واش روم گئ اور شیمپو والا پورشن خالی کرکے دیکھنے لگی مگر اسکے پیروں سے زمین جب نکلی جب اس نے کپڑے لٹکانے والے اسٹینڈ پہ چھوٹا سا کیمرہ لگا دیکھا۔اس نے ہمت کرکے جیسے تیسے کیمرہ اکھاڑا اور بیڈ پہ لیٹ کے رونے لگی۔۔

#

آج جنت کو دوسرا دن تھا نہ تو وہ۔کالج جا رہی تھی ۔نہ۔کسی سے بات کرہی تھی کھانا بھی برائے نام کھا رہی تھی۔نومیر بھی جب اسکو سمجھانے اسکے کمرے میں آیا تو یہ کہہ اس نے اسے اپنے کمرے سے نکالا کے خود تو تم نے اپنی پسند کی شادی کرلی آب آگئے ہو مجھے لیکچر دینے ۔اس کےبعد سے نومیر نے بھی اس سے فالتو بات نہی کی۔۔
آج اسٹور جانے سے پہلے جنت کی ایک دوست کی کال نومیر کے پاس آئ جو انکی نیبر بھی تھی اور نومیر کو بھائ کا درجہ بھی دیتی تھی۔۔والد کی وفات کے بعد حنا کی امی اور وہ کافی محتاط ہوکے رہتے تھے باہر کے سارے کام اکثر یوسف اور نومیر کردیتے تھے۔۔
حیثیت میں بھی وہ لوگ ٹھیک ٹھاک تھے ۔بس آگے پیچھے انکا کوئ نہی تھا سوائے ایک ماموں کے کو جو ایمانداری سے انکا کاروبار سنبھال رہا تھا۔
حنا نے جب نومیر کو کال۔کرکے جنت کا پوچھا کے کیوں دو دن سےوہ کالج نہی آرہی تو نومیر نے اسے یوسف سے نکاح کے انکار کا بتایا جنت کا اور یہی وجہ تھی اسکے کالج نہ۔انے کی۔
حنا اورزنیرہ دونوں ہی جنت کی بیسٹ فرینڈ تھی دونوں اسکی نیبر تھی اورجانتی تھی کے یوسف سے اچھا پارٹنر نہی ملے گا۔
دونوں ہی اسکے گھر پہنچی اور خوب سنائ جنت انکی باتیں سن کے رونے لگی دونوں دوستوں نے اسے چپ کروایا اور حنا نے کہا۔
دیکھ جنت تو ہماری دوست ہے اگر تجھے کوئ اور پسند ہے تو بتا ہم تیرے ساتھ ہیں ہم خود انکل سے تیرے لیہ بات کرینگے اور اگر ایسی کوئ بات نہی تو پھر یہ بتا یوسف بھائ سے نکاح میں تجھے کیا اعتراض ہے کیوں تو انہیں ناپسند کرار دے رہی ہے۔۔
یوسف جو آج خاص کر جنت سے اس سلسلے میں بات کرنے آیا تھا تقریب سب ہی قریبی رشتے دار کی میت میں گئے تھے صرف جنت نومیر اور یوسف تھے گھر میں ۔۔
یوسف جنت کے کمرے میں آنے والا تھا مگر حنا اور زنیرہ کے سوال پہ اسکے قدم باہر ہی رک گئے اوروہ بے چینی سے جنت کے جواب کا نتظار کرنے لگا۔۔
جاری۔ہے۔