50.4K
33

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Last Episode 26

زرین بیگم کسی سے فون پہ بات کررہی تھی جب ماسی بھاگتی ہوئ آئ اور کہا۔۔
بیگم صاحبہ وہ وہ۔۔۔
ارے کیا ہوا آگے بھی بولو زرین بیگم نے ماسی کو بد حواسی حالت میں دیکھ کے خود بھی پریشان ہوچکی تھی۔۔
وہ بی بی جی اوپر کمرے میں بیہوش ہوچکی ہیں۔۔
کیا ؟کون جنت؟؟
جی ۔۔
ماسی کے بولنے پہ زرین بیگم اوپر گئ تو جنت کو بیہوش ہوتا دیکھ انکے اوسان خطا ہوچکے تھے۔۔
انہوں نے سب سے پہلے مجاہد صاحب کو کال کرکے ڈاکٹر کو لانے کو کہا۔
پھر ساتھ ساتھ عمر اور حمزہ کو بھی کال کردی۔۔
اقراء ،ماسی کیساتھ ملکے انہوں نے بہت مشکل سے جنت کو بیڈ پہ لیٹایا۔
زرین بیگم جنت کے ہاتھ میں وولٹ دیکھ کے ایک دم چونکی۔۔
انہوں نے جنت کے ہاتھ سے وولٹ لے کے کھولا تو وہ تھک ہار کے وہی بیڈ پہ بیٹھ گئ۔۔
مجاہد صاحب کیساتھ ڈاکٹر آئے تھے جنت کو چیک کرکے انہوں نے صرف اتنا کہا۔۔
کسی بات کا انہیں شاکڈ لگا ہے جبھی یہ بیہوش ہوئ ہیں تھوڑی دیر تک انہیں ہوش جائے گا۔

#

سب ہی ہال میں خاموش بیٹھے تھے جب زرین بیگم کی آواز گونجی۔۔
میں نے کہا تھا نہ حمزہ جنت کو سب سچ بتا دو۔
مگر تم نے اور عمر نے میری بات نہی مانی۔۔
جو جھٹکا آج جنت کو لگا ہے اس سے تو وہ یہی سمجھے گی کے تم نے جان بوجھ کے اس سے شادی کی سب جاننے کے باوجود۔۔
زرین بیگم کی بات کا کسی کے پاس جواب نہی تھا ۔
حمزہ اپنا سر اپنے ہاتھوں میں گرائے بیٹھا تھا۔
کتنا خوش تھا وہ کل رات سے سب کچھ صحیح ہوچکا تھا اس کے اور جنت کے درمیان ایسے جنت کے سامنے حقیقت آئے گئ ایسا تو اس نے سوچا ہہی نہی تھا۔
ابھی سب اپنی اپنی سوچوں میں گم تھے ۔جب جنت اپنا ہینڈ کیری لے کے نیچے اتری۔۔
جنت کے ہاتھ میں بیگ دیکھ کے حمزہ اس کے قریب ایا اور کہا۔
کہاں جا رہی ہو؟؟
آپ سے مطلب اتنا بڑا دھوکا دینے کے بعد اپکو کیا لگتا ہے میں آپکے ساتھ رہونگی۔۔
وہ وولٹ یوسف کا تھا اس وولٹ کی حالت بتارہی ہے کے کتنے عرصے سے وہ آپکے پاس ہے ۔
یعنی آپ کی ہی گاڑی سے ایکسیڈنٹ ہو اتھا ہمار۔۔
ا۔میرے یوسف کا قتل کیا ہے اپنے ۔
اپکو کیا لگتا ہے میں ایک قاتل ایک دھوکے باز انسان کیساتھ رہونگی۔۔
اتنا بڑا دھوکا کیوں دیا مجھے کیوں؟؟
جنت نے حمزہ کالر پکڑ کے چیخ کے کہا۔۔
بیٹا اس کی بات تو سن لو!!!
زرین بیگم نے جنت سے کہا۔۔
کیا سنو میں آپکی بات آپ تو اپنے بیٹے کی حمایت کرینگی کیوں آپکا بیٹا جو ٹہرا۔۔
اس شخص کی وجہ سے میں بیوہ ہوئ میرا یوسف میری محبت مجھ سے چھین گئ۔۔
کبھی معاف نہیں کرونگی۔۔
جنت نجانے کیا کیا بولے جارہی تھی جبکہ حمزہ تو جنت کے میرے یوسف کے لفظ پہ ہی ساکن ہوگیا تھا۔۔
مطلب وہ ہار گیا تھا۔۔جنت اس کی کبھی نہی ہوگی کبھی نہی ۔۔
میں جارہی ہو اور نہی رہ سکتی میں ایک دھوکے باز انسان کے ساتھ سمجھے اپ۔۔
یہ بول کے جنت نے جیسی قدم آگے بڑھائے تو اپنی فیملی کو گیٹ پہ کھڑا پایا۔
جنت ڈور کے شبنم بیگم کے گلے لگ گئ اور روتے روتے کہا۔
ماما یہی ہے وہ شخص جس کی وجہ سے میرے یوسف کی جان گئ۔۔
عمر جس نے کال کرکے جنت کے گھر والوں کو انفارم کردیا تھا سب ہی یہاں موجود تھے۔
مگر عمر کی نظر حمزہ پہ تھی جسکی آنکھوں سے مسلسل آنسو جاری تھے۔۔
ہمیں پتہ ہے سب۔شبنم بیگم کے کہنے پہ جنت ان سے الگ ہوئ اور بے یقینی سے ان کو دیکھنے لگی۔
جب جنت نے کہا۔۔
ماما اپ جانتی تھی اس شخص کی وجہ سے میرا یوسف اور آپکا بیٹا اس دنیا سے گیا۔۔
بس بہت ہوا جنت۔۔
کیا میرا یوسف میرا یوسف لگا کے رکھا ہے۔۔
خالدہ بیگم کے چیخنے پہ سب کو سانپ سونگھ گیا۔
یوسف مرچکا ہے حمزہ شوہر ہے تمہارا یوسف غیر محرم ہے تمہارے لیہ تمہیں شرم نہیں آتی اپنے شوہر کے سامنے غیر محرم کا نام لیتے ہوئے۔۔
یہ بولنے والی شبنم بیگم تھی۔۔
نکاح سے ایک دن پہلے حمزہ اپنی پوری فیملی کیساتھ ہمارے گھر آیا تھا بتایا تھا اس نے کیسے اس کی گاڑی سے تم لوگوں کا ایکسیڈینٹ ہوا تھا ہر سزا کیلیے تیار تھا وہ ۔مگر کیا اس سے یوسف واپس آتا اتنی سی بات تمہاری سمجھ میں نہیں اتی۔۔
خالدہ بیگم نے یہ بول کے جنت کے ماتھے پہ۔ہاتھ مارا ۔۔
اس نے اگر تمہیں دھوکا دینا ہوتا تو یہ بات ہمیں بھی نہی بتاتا ۔حیثیت میں وہ ہم سے کئ گناہ زیادہ ہے اگر کل ہمیں پتہ بھی چل جاتا تو کچھ نہی بگاڑ سکتے تھے حمزہ ۔۔کا۔۔
ہم نے منع کرا تھا اسے تم سے سب چھپانے کو ۔
حمزہ جب ہماری بات نہی مان رہا تھا تو قسم دی تمہاری۔۔
غلطی تم لوگوں کی تھی ون وے سے تم لوگ آرہے تھے ۔
اکمل اور اجمل صاحب بھی غصہ میں جنت جو ڈاٹنے لگے۔۔
حمزہ کو سزا دینے سے کیا ہوگا کیا یوسف واپس جائے گا ۔۔۔۔
اگر واپس آتا ہے تو دو اسے سزا دو شبنم بیگم نے غصہ سے کہا۔
مگر حمزہ وہ تو خاموش بت بنا تھا اس نے چابی اٹھائ اور گھر سے باہر نکل گیا۔۔
اللہ کا واسطہ ہے جنت جو جاچکا ہے اس کے پیچھے سب کا سکھ چین برباد نہی کرو۔۔
یہ بول کے جنت کی فیملی اپنے گھر چلے گئے اور باقی سب اپنے اپنے کمروں میں جب کے جنت کتنی ہی دیر وہاں بیٹھی رہی اسے خود پتہ نہی چلا

#

رات ایک بجے تک جب حمزہ گھر واپس نہی آیا تو عمر ڈنڈاناتا ہوا جنت کےکمرے میں پہنچا جو کھڑکی کے پاس کھڑی تھی۔۔
جھٹکے سے جنت کا رخ اپنی طرف موڑا اور کہا ۔
ہو کیا تم سمجھتی کیا ہو خود کو؟؟
ایک انسان کی بے لوث محبت تمہی دیکھائی نہی دیتی۔۔
کون تھا کون تھا یوسف ؟؟
بہت بڑا بزنس میں تھا بہت پیسہ تھا جو ہم۔اسکی جان لینگے۔۔
بھائ کو یہ حقیقت جب پتہ چلی جب تم انکے نکاح میں انے والی تھی کے انکی۔گاڑی سے جس کپل کا ایکسیڈینٹ ہوا وہ تم اور یوسف تھے ۔جسکے ایکسیڈنٹ کے بعد کتنے راتیں بگ بی نہی سوسکے۔۔
اور رہا سوال وولٹ کا تو وہ میں نے اٹھایا تھا بگ بی کا سمجھ کے اور دیکھا کھول کے جب دیکھا جب اگلے دن تم بھابھی بن کے آنے والی تھی۔۔
بگ بی کی محبت کاندازہ یہی سے لگالو کے وہ اپنا اقبال جرم تمہارے گھر والوں کے سامنے کرچکے تھے ۔۔کوئ بھی دھوکا دہی کی راہ وہ اپنانا نہی چاہتے تھے تمہیں اپنانے کیلیے۔۔
مگر شاید ایک بار پھر وہ غلط لڑکی سے محبت کر بیٹھے۔۔
عمر کے آخری جملے پہ جنت جو گردن جھکا کے عمر کی ساری باتیں سن رہی تھی گردن اٹھا کے حیران نظروں سے دیکھا۔۔
تم سے تمہاری محبت اللہ نے لی مگر بھائ کی محبت ایک دھوکے کے نظر ہوئ۔۔
اور پھر عمر نے ایکسیڈنٹ والے دن تمنا اور درانی کے فلیٹ والا سارا واقعہ اسے سنایا۔۔
اب مجھے اندازاہ ہورہا ہے کے تم بھائ کی محبت کے قابل نہی۔
یہ دیکھو میرےجڑے ہوئے ہاتھ۔عمر نے ہاتھ جوڑ کے جنت سے کہا۔۔
اگر میرے بھائ کو کوئ خوشی نہی دے سکتی تو انکو تکلیف بھی مت دو ورنہ میں بھول جاونگا کے تمہیں میں نے بہن کہا تھا۔
یہ بول کے عمر کمرے سے چلا گیا۔جبکہ جنت سکتے کی حالت میں بیڈ پہ بیٹھ گئ۔۔

#

رات کے نجانے کس پہر حمزہ گھر آیا جب عمر کو اس نے صوفے پہ سوتے دیکھا۔۔
حمزہ اس کو بنا اٹھائے اندر بڑھنے لگا جب پیچھے سے عمر کی آواز ائ۔۔
اب کیا مجھ سے بھی ناراض ہیں بگ بی۔۔؟؟
عمر کے بولنے پہ حمزہ پلٹا تو عمر ششدد رہ گیا۔۔
حمزہ کی انکھیں کافی سوجی ہوئ تھی۔عمر نے حمزہ سے کہا ۔
بھائ سب ٹھیک ہو جائے گا پلیز اب روؤ نہی۔
حمزہ ایک تلخ مسکرائٹ کیساتھ مسکرایا اور کہا ۔۔
کچھ بھی ٹھیک نہی ہوگا عمر میری بے لوث محبت بھی اس کے دل سے اسکا ماضی نہی۔نکال پائ۔
آج وہ میرا حمزہ نہی میرا یوسف کہتی ہے ۔۔۔
میری فکر نہی کرو عمر میری قسمت میں محبت نہی اور اس بات سے میں نے سمجھوتا کر لیا ہے۔۔
حمزہ یہ بول کے اوپر اپنے کمرے میں چل گیا تو ادھر حمزہ کی حالت دیکھ کے عمر کے بھی آنسو گرنے لگے۔۔
حمزہ کمرے میں آیا تو جنت صوفے پہ اپنی پاؤں کو اوپر کرکے بیٹھنے کی۔پوزیشن میں سو رہی تھی۔
حمزہ نے جیسی ہی اسے اٹھانے کیلیے ہاتھ بڑھایا کے اس کے کانوں میں جنت کے الفاظ گونجے لگے۔۔
اس نے اپنے ہاتھ پیچھے کھینچے اور چپ چاپ جاکے سوگیا۔
رات کے نجانے کونسا پہر تھا جب گردن اکڑنے کی وجہ سے جنت کی۔انکھ کھلی اس نے حیران نظروں سے حمزہ کو دیکھا اور پھر اپنا رویہ یاد انے پہ خاموشی سے جاکے حمزہ کے برابر میں جاکے لیٹ گئ۔۔

#

صبح جنت کی کھٹر پٹر کی آواز پہ آنکھ کھلی تو حمزہ آفس جانے کیلیے تیار ہورہا تھا اسنے چور نظروں سے کئ بار حمزہ دیکھا مگر حمزہ نے اس پہ۔ایک بھی غلط نظر نہی ڈالی۔۔
حمزہ کے کمرے سے جاتے ہی جنت تیزی سے نیچے ائ مگر حمزہ نکل چکا تھا۔
پھر تو یہ روز کا معمول بن گیا حمزہ جنت کے اٹھنے سے پہلے آفس نکل جاتا اور رات دیر تک گھر اتا۔
جنت کو اپنی غلطی کا شدت سے احساس ہوا تھا کہ بار اس نے اپنے دل کو ٹتول کے دیکھا مگر اب بس حمزہ کا نام اسکا احساس تھا یوسف تو کہی نہی تھا۔۔
جنت نے سب سے اپنے رویہ کی معافی مانگی۔عمر سے معافی مانگتے ہوئے جہاں جنت کی انکھیں بھیگی وہی عمر کی بھی۔
سب کچھ پہلے جیسا ہو چکا تھا۔۔
نہی ہوا پہلے جیسا تو وہ تھا حمزہ مجاہد اور اسکا پیار۔۔
آج عمر اور اقراء کی مایوں کا فنکشن تھا ۔۔صبح سے ہی حمزہ سارے انتظام دیکھ رہا تھا۔۔
شام میں جب مایوں کا فنکشن اسٹارٹ ہونے والا تھا تو حمزہ اپنے کمرے میں آیا مگر کمرے میں قدم رکھتے ہی وہ ساکن رہ گیا۔
جنت اپنے مگن انداز میں تیار ہورہی تھی۔۔
لمبے بالوں کو اس نے چٹیلے میں قید کیا ہوا تھا۔۔
یلو کلر کی شارٹ شرٹ پہنے پنک کلر کا غرارہ پہنے کانوں میں پھولوں کا زیور پہنے ہاتھوں میں بھر بھر چوڑیاں ڈالے آنکھوں میں کاجل کی ڈوریاں لگائے وہ حمزہ کو ایک بار پھر خود سے محبت کرنے پہ مجبور کررہی تھی۔۔
حمزہ نے فورا اپنی نظریں اس پہ سے ہٹائ اور تیار ہونے چلا گیا۔۔
دروازہ بند ہونے پہ جنت اداس ہوگی۔حمزہ کو کمرے میں اندر آتا وہ دیکھ چکی تھی سمجھ رہی تھی کے وہ اسکے قریب آئے گا اس سے پیار کرے گا مگر ایسا کچھ نہی ہوا۔۔
فنکشن میں بھی حمزہ نے نہ تو جنت کیساتھ رسم کی نہ اسکی طرف دیکھا۔۔
جس کیلیے وہ تیار ہوئ اس نے تو اسے سراہا ہی نہی۔
عمر اور اقراء جہاں حمزہ کا رویہ دیکھ رہے تھے وہی جنت کا اداس چہرہ بھی دیکھ رہے۔۔
حمزہ وائٹ کاٹن کے سوٹ میں سب سے الگ لگ رہا تھا اپنی کزنوں سے وہ مزاق کررہا تھا مگر جنت کی طرف دیکھنا بھی اس نے گوارا نہی۔کیا۔۔
عمر نے جنت کو اشارہ کرکے اسٹیج پہ بلایا اور کہا۔
ایسا کوئ شوہر پیدا نہیں ہوا جیسے اسکی بیوی اپنے جلوے سے گھائل نہی کرسکے۔
جاؤ مناؤ انہیں جنت بتاؤ انہیں کے تم محبت کرنے لگی ہو ان سے۔۔
عمر کی باتوں سے جنت کو بہت حوصلہ ملا اور اسنے سوچ لیا اسے کیا کرنا ہے۔۔
تو ادھر عمر نے حمزہ کو جنت کی فیلنگ کا بتایا تو وہ مسکرا اٹھا اور کہا۔۔
جانتا ہو تیری بہن کی آنکھیں سب بتا چکی ہےمگر جب دل توڑنا جانتی ہے تو دل کی بات بھی کہہ سکتی ہے۔۔

#

اگلے دن بارات تھی جنت نے بھر بھر کے اپنے ہاتھوں اور پاؤں میں مہندی لگوائ تھی۔۔
حمزہ کمرے میں آیا تو جنت اپنی بیک کا اسٹیپ لگانے کی کوشش کررہی تھی حمزہ نے اسکی بیک اوپن دیکھی تو نظریں چراتا ہوا واش روم میں تیار ہونے جانے لگا۔۔
جب جنت نے اسے آواز دی اور کہا۔
حمزہ زرا یہ اسٹیپ لگا دے لگ ہی نہی رہا مجھے تیار ہونا ہے ۔
جنت کے بولنے پہ حمزہ اس کے قریب آیا تو جنت رخ موڑ کے کھڑی ہوگئ۔
جنت کی کمر پہ اسٹیپ لگاتے ہوئے دل نے کئ بار کہا اپنے لبوں سے جنت کی۔کمر چومنے کو مگر حمزہ نے دل کو زور سے ڈپٹا اور تیار ہونے چلا گیا۔
حمزہ تیار ہوکے نکلا تو جنت بلیک اور ریڈ ساڑھی میں ملبوس اس کے ہوش اڑانے کیلیے تیار تھی۔۔
حمزہ باہر نکلنے لگا ۔۔جب اس کے نمبر پہ عمر کی کال آئ ۔۔
بگ بی ہم نکل چکے ہیں آپ جنت کو لیتے ہوئے انا۔۔
حمزہ نے کال کٹ کرکےجنت کو چلنے کا بولا جانے لگا تو جنت نے اسکا ہاتھ تھام لیا۔حمزہ نے سوالایاں نظروں سے جنت کو دیکھا تو اس نے کہا۔
جانتی ہو حمزہ اپنے الفاظوں سے آپکا بہت دل دکھا چکی ہو شاید معافی بھی نہںی ملے مجھے مگر میرا یقین کرے میں اپنا ماضی دل سے کھرچ کے نکال چکی کو آپ سے دل سے محبت کرنے لگی ہوپلیز مجھ سے ایسی بے اعتنائی نہ برتے۔۔
جنت یہ بول کے رونے لگی۔۔
جب حمزہ کی آواز کمرے میں گونجی۔
کس می۔۔
حمزہ کے بولنے پہ جنت نے منہ کھولے حیران نظروں سے اسے دیکھا تو حمزہ نے کہا۔۔
ایسے کیا دیکھ رہی ہو ابھی تم نے ہی تو کہا مجھ سے محبت کرنے لگی ہو تو کم اون کس می۔۔
حمزہ۔کے بولنے پہ جنت آہستہ آہستہ آگے بڑھی اور حمزہ کی گردن میں ہاتھ ڈال کے تھوڑا اونچا ہوکے اسکے لبوں پہ جھک گئ ۔۔
جنت کے اس عمل سے حمزہ نے بھی آنکھیں بند کرکے جنت کو کمر سے تھام لیا ۔۔
جنت تھوڑی دیر بعد حمزہ سے الگ ہوئ تو چاہ کے بھی حمزہ سے نگاہیں نہی ملا رہی تھی۔۔
حمزہ نے دوبارہ۔اگے بڑھ کے جنت کا چہرہ تھاما اور اسکے لبوں پہ جھک گیا ۔۔
اور اس سے الگ ہوکے کہا۔۔
اکے دیکھو گا کے اور کتنی محبت کرتی ہو مجھ سے یہ بول کے حمزہ نے جنت کے آگے ہاتھ کیا جو جنت نے مسکرا کے تھام لیا۔۔
اقراء اور عمر کی رخصتی کے واپسی پہ حمزہ اور جنت ایک گاڑی میں تھے باقی سب نکل۔چکے تھے جب حمزہ کو لگا دو تین گاڑیاں اسے فلو کررہے ہیں ۔۔حمزہ نے اپنا روٹ بدلا تو ان گاڑیوں نے بھی بدلہ ۔۔
اچانک دوگاڑیاں حمزہ کی گاڑی کے آگے روکی۔۔
اور اس میں سے درانی اور تمنا نکلے۔۔
درانی کو دیکھ جہاں حمزہ گاڑی سے باہر نکلا وہی جنت بھی گاڑی سے نکل حمزہ کے پیچھے چھپ گئ۔۔
جب درانی نے کہا۔
سنا ہے تیری یہ بیوی پہلے بیوہ تھی تو سوچا اس بار بھی اسے بیوہ کردو تاکہ مجھے ہمیشہ۔ہرانے کا جو تیرا شوق ہے وہ تو قبر میں پورا کرے۔۔
اور میں تیری جگہ فیشن انڈسٹری پہ راج کرسکو۔۔
یہ بول کے درانی نے پسٹل نکال کے حمزہ کی طرف کی اور فائر کردیا۔۔
مگر جنت نے آگے آکے وہ گولی اپنے دل پہ لی۔۔
جنتتتتتت
حمزہ کی چیخوں کو سن کے بھی جنت ہوش میں نہی ائ۔۔
تمنا نے درانی کو اس وقت فورا وہاں سے جانے کو کہا۔
حمزہ نے جنت کے خون سے لت پت وجود کو گاڑی میں ڈالا اور رش ڈرائیونگ کرکے ہسپتال پہنچا۔
دو گھنٹے سے جنت کا آپریشن جاری تھا۔
حمزہ نے سب کو انفارم کردیا تھا ۔سب ہی۔ہسپتال کے کوریڈور میں موجود جنت کی زندگی کیلیے دعاگو تھے۔۔
درانی اور تمنا کو پولیس نے گرفتار کرلیا تھا۔
کافی انتظار کے بعد آپریشن تھیٹر کا گیٹ کھلا اور ڈاکٹر نے حمزہ کو زندگی کی نوید سنائ۔۔
جنت کو گولی کندھے پہ لگی تھی۔۔
سب ہی جنت سے باری باری مل چکے تھے۔۔
آخر میں حمزہ گیا تو جنت اس کے دیکھ کے مسکرانے لگی۔۔
حمزہ نے آکے اسکے ماتھے پہ اپنے لب رکھے تو حمزہ کے آنسو جنت کے منہ پہ گرنے لگے۔۔
حمزہ جنت سے الگ ہوا اور کہا۔
لگنے دیتی مجھے گولی کیوں ڈالی میری وجہ سے اپنی زندگی خطرے میں۔
جنت نے مسکرا کے حمزہ کو قریب آنے کا اشارہ کیا۔۔
حمزہ جنت کے قریب جھکا تو جنت نے کہا۔
اپنی محبت کو اپنی زندگی کو بچایا ہے دوبارہ محبت کھوتی تو شاید مرجاتی۔۔محبت نہی عشق ہوگیا آپ سے۔۔
جنت کے ایسے اظہار پہ حمزہ نے مسکرا کے اسکے لبوں پہ۔اپنے لب رکھے اور کہا۔۔
“جان حمزہ”
ختم شد۔۔۔