Maafi Season 1 By Mariyam Khan Readelle50209

Maafi Season 1 By Mariyam Khan Readelle50209 Last updated: 11 September 2025

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Maafi Season 1

By Maryam Khan

ہمم !! کھانا لاؤ آپ کے لیہ۔؟؟ جنت کے پوچھنے پہ حمزہ نے پوری آنکھیں کھول کےجنت کو دیکھا ۔جو نہائ نہائ سی گیلے بال لیہ ڈھیلے کرتے میں اسکے جزبات کو جھنجھوڑ رہی تھی۔۔ حمزہ نے ایک پھر پور نظر اس پہ ڈالی اور اسکے ہاتھ پکڑ کے اپنے اوپر گرایا اور کروٹ بدل کے اپنی پوزیشن بدلی۔۔ جنت اس آفت پہ ایک دم بوکھلا گئ۔ مگر جنت کے اوسان خطا جب ہوئے جب حمزہ نے اسکے کرتے کے بٹن کھولے اور کرتا نیچے کرکے اسکے سینے پہ اپنے لب رکھے۔۔ حمزہ پلیز نہی۔۔جنت نے بے بسی سے کہا۔۔ حمزہ نے مخمور لہجہ آنکھوں میں خمار لیہ جنت سے کہا۔ ابھی بھی نہی اب بھی نہی سمایا تمہارا دل میں ؟؟ حمزہ کا سوال تھا کے اس کے دل کی آواز اگر آج جنت حمزہ کو اپنے آپ سے دور کرتی تو شاید وہ توٹھ جاتا کسی چیزیں کی کمی نہی چھوڑی تھی ہر عمل سے اپنے ہر انداز سے حمزہ اس پہ اپنی محبت لٹاتا تھا۔۔ ۔ اور اسمیں غلط کیا تھا وہ شوہر تھا۔۔ کچھ دیر تک جب جنت کچھ نہی بولی تو حمزہ اس پہ سے اٹھنے لگا۔جب جنت نے اسکا کالر پکڑا۔۔ حمزہ نے حیران ہوکے جنت کو دیکھا تو وہ مسکرا کے نظریں جھکا گئ۔۔ حمزہ کے لبوں پہ ایک حسین مسکراہٹ اگئ۔ اس نے جنت کے منہ کو دیوانہ وار چومنا شروع کردیا۔ کبھی اسکے پیار کرنے کے انداز میں شدت آتی کبھی نرمی جنت نے آج اسے اپنا آپ سونپ دیا۔حمزہ کے پیار میں آج وہ مکمل ہوگئ تھی ۔حمزہ۔پوری رات اسے بتاتا رہا کے جنت اس کے لیہ کیا حیثیت رکھتی ہے۔۔ صبح حمزہ کی آنکھ کھولی تو اپنے سینے سے لگی جنت کو دیکھ کے اسکے لب دھیرے سے مسکرا اٹھے اس نے جھک کے جنت کی پیشانی چومی اور اسکے بال سہلانے لگا۔۔ جنت کی آنکھ کھلی تو حمزہ اسے ہی مسکرا کے دیکھ رہا تھا ۔حمزہ کے ایسے دیکھنے پہ۔جنت نے اسکی آنکھوں پہ اپنا ہاتھ رکھ دیا اور کہا۔۔ ایسے مت دیکھے پلیز حمزہ۔۔ جنت کے بولنے پہ حمزہ دوبارہ جنت پہ جھکا اور کہا۔ تھینک کیوں کل رات مجھے میرے پیار کو مکمل کرنے کیلیے یہ بول کے حمزہ نے جنت کے لبوں پہ اپنے لب رکھ دیے۔۔ حمزہ اس سے پہلے دوبارہ مست ہوتا ایک دم دروازہ بجا تو حمزہ نے سڑے ہوا منہ بنا کے دروازے کی طرف دیکھا ۔۔ حمزہ جنت پہ سے ہٹ کے دروازے کی طرف بڑھا اور جنت فریش ہونے