Rate this Novel
Episode 4
معافی۔۔
مریم عمران۔
قسط نمبر 4#..
دروازہ کی اواذ سن کے نومیر اور لائبہ ایک دم چونکے نومیر فورا لائبہ پہ سےہٹا اور خود پردے کے پیچھے چھپ کے اشارہ کیا اسے دروازہ کھو لنے کا لائبہ جو پہلے ہی ڈر گئ تھی دروازے کھولا تو سامنے یوسف کھڑا تھا جیسے دیکھ کےاسکا اوپر کا سانس اوپر ہی رہ۔گیا۔
یوسف کمرے میں آیا اور کہا۔
لائبہ سوری تمہیں ڈسٹرب کیا وہ کیا ہے نہ میرے موبائل کا چارجر نہی مل رہا تم۔نے دیکھا ہے۔۔؟؟
ہا۔۔ںں۔۔ب۔۔ھااا۔ئ۔وہ۔اپنی ڈرار میں ہے۔۔
ارے لائبہ تم اتنا گھبرا کیوں رہی ہو؟؟
و۔۔ہ۔۔۔بھائ ڈروانہ خواب دیکھا تھا تو بس۔
اوہ چلو تم اب ارام کرو اوکے۔
یہ بول کے یوسف کمرے سے گیا۔تو لائبہ نے سکھ کا سانس لیا اور بیڈ پہ بیٹھ کے رونے لگی۔
نومیر کو بھی اپنی غلطی کا اندازہ ہوا تو وہ بھی بنا لائبہ سے کچھ کہے جیسے آیا تھا ویسے ہی لوٹ گیا۔۔
#
زرین بیگم لاونج میں بیٹھی تھی بسمہ کے ساتھ اور کچھ لڑکیوں کی پکس دیکھ رہی تھی ۔جب حمزہ اور عمر کی گاڑی گھر کے اندرداخل ہوئ ۔
وہ دونوں سیدھا زرین کے پاس آکے بیٹھ گئے تھکن سے برا حال تھا دونوں کا ۔زرین بیگم نے ان دونوں کے لیہ فریش جوس منگوایا جو تھوڑی دیر میں آیا حمزہ نے جوس ابھی ختم ہی کیا تھا جب زرین بیگم نے اسکے آگے لڑکیوں کی پکس کی اور کہا۔۔
عزت سے اب ان لڑکیوں میں سے کوئ پسند کرو تاکہ تمہاری شادی کرسکو میں تمہاری تمہارا انکار سن سن کے تھک گئ ہو عمر دیکھو اپنی۔۔
زرین بیگم کے چپ ہوتے ہی حمزہ نے ہونقوں کی طرح زرین بیگم کو دیکھا پھر عمر کو دیکھا جو پکس اٹھا کے تصویریں دیکھنے لگا اور بسمہ بھی عمر کا ساتھ دینے لگی جب حمزہ نے بیچارگی سے کہا۔
ماما مجھے تھوڑا ٹائم تو دے۔۔۔
اور کتنا ٹائم حمزہ پچھلے ایک سال سے تم یہی بہانہ بناتے آرہے ہو نہ میری پسند کی ہوئ کوئ لڑکی تمہیں پسند آتی ہے نہ تم کوئ اپنی پسند بتاتے ہو۔۔
اوکے اوکے ماما غصہ نہی کرے مجھے ایک ہفتہ کا
ٹائم دے میں اپکو پکا جواب دونگا یہ بول کے حمزہ نے معصومیت سے زرین بیگم کی طرف دیکھا اور انہوں نے ہاں میں گردن ہلائی جبکہ عمر صرف افسوس سے گردن ہلا پایا کیونکہ وہ۔جانتا تھا اس نے ایک ہفتہ کا ٹائم۔کیوں اور کس کے لیہ مانگا ہے۔۔۔
#
دو دن ہوگئے تھے نومیر نے ہزاروں کی۔تعداد میں لائبہ کو ٹیکس کیہ مگر اس نے ایک بھی ریپلائے نہی کیا۔نومیر کی۔اس رات والی حرکت پہ۔وہ۔ابھی تک ناراض تھی۔وہ نومیر سے اسطرح چھپ کے ملنے پہ بھی بہت مشکل سے راضی ہوئ تھی۔
اج نومیر نے اسے ایک دھمکی بھرا میسج بھیجا جسمیں لکھا تھا۔اگر آج تم مجھ سے ملنے نہی آئ تو میں شادی تک تمہیں اپنی شکل نہی دیکھاونگا۔
اس دھمکی کا لائبہ پہ واقعی اثر ہوا اور وہ نومیر کے بلانے پہ انکے ملنے کی جگہ پہ چلی گئ
کافی دیر تک وہ دونوں بیٹھے رہے مگر نہ نومیر نے۔کچھ بولا نہ لائبہ نے مگر لائبہ کے رونے کی اواز نومیر کو صاف سنائ دے رہی ۔اور بس نومیر کی ہمت اور برداشت یہی تک تھی اس نے۔لائبہ۔کو کھینچ کے اپنے سینے سے لگایا تو وہ اور زیادہ رونے لگی اور روتے روتے کہنے لگی ۔
میں نے منع کیا تھا اپکو مگر آپ میری سنتے نہی اگر بھائ اپکو دیکھ لیتا تو کیا ہوتا آپ ہر دفعہ اپنی چلاتے ہیں۔میری نہی سنتے ۔۔
لائبہ کے شکوے پہ نومیر نے اسے خود سے الگ کیا اسکے آنسو صاف کیہ اور کان پکڑ کے کہا۔
ٹھیک ہے میری جان آج کے بعد ایسی کوئ۔گستاخی نہی کرونگا مگر شادی کے بعد میں بخشنے والا بھی نہی نومیر کی آخری بات پہ لائبہ نے گھور کے نومیر کو دیکھا تو اس نے مسکرا کے لائبہ کے ماتھے پہ اپنے لب رکھ دیے۔۔
#
خالدہ خالدہ۔۔؟؟؟
جی آپی خالدہ بیگم جو کچن میں کھانا بنانے میں و مصروف تھی شبنم بیگم کی آمد پہ۔ایک دم باہر آئ اور کہا۔
ارے آپا آج اپکو کیسے فرصت مل گئ چھوٹی بہن سے ملنے کی ؟؟
اچھا اور اگر یہہی شکوہ میں کرو تو ؟؟
ارے اپی اپکو تو پتہ کے ٹائم کہاں ہوتا آپ بتائے کوئ ضروری کام تھا مجھے بلالیتی۔
ارے ہاں تمہارے بھائ کے کہنے پہ میں پوچھنے آئ تھی کب کا سوچا پھر تم لوگوں نے نکاح کا؟؟
ارے آپا میں بھی آج یہی بات سوچ رہی تھی آج یہ جائے تو میں اپکو ان سے پوچھ کے بتاتی ہو۔۔
اچھا چلو ٹھیک ہے تھوڑی دیر تک شبنم بیگم بیٹھ کے چلی گئ ۔
#
رات کے کھانے پہ سب ہی کھانا کھانے میں مصروف تھے جب خالدہ بیگم نے شبنم بیگم نے کے آنے بتایا اور انکی بات بھی۔۔
خالدہ بیگم کی بات پہ سب کے ہی لبوں پہ مسکراہٹ ڈورگئ جبکہ جنت کے منہ میں جاتا لقمہ کا ہاتھ ایک دم رکا۔
ارے تم بھابھی کو بول دو جنت کے پیپر کے بعد کی کوئ بھی تاریخ رکھ لو۔
مگر پاپا میں نے اپکو کہا نہ میں نہی کرونگی اس چنگیز خان سےشادی۔۔
جنت کی بات پہ اکمل صاحب مسکرائے وہ سمجھ رہے تھے کے جنت شاید مزاق کررہی ہے۔
مگر جب جنت کی بات کا کسی نےکوئی اثرنہی لیا تو وہ دوبارہ بولی ۔۔
پاپا میری زندگی ک اتنا اہم فیصلہ میں میری مرضی بھی شامل ہونا چاہییے اور مجھے نہی کرنا یوسف سےنکاح۔۔
جنت کی بات پہ سب کوایک دم سانپ سونگھ گیا۔کے جبھی اکمل صاحب کی گرجدار آواز ٹیبل پہ گونجی ۔
تمہاری زندگی کا یہ فیصلہ صرف تمہارے باپ کی مرضی سے ہوگا تمہاری اس بچکانہ فیصلہ پہ کوئ تمہارا ساتھ نہی دے گا ابھی کے ابھی اپنے کمرے میں جاو۔۔
اکمل صاحب کا ایسا لہجہ اج پہلی بار جنت نے سہا تھا کالی جھیل جیسی آنکھوں میں آنسو چمکنے لگے اور وہ ڈورتی ہوئ اپنے کمرے میں چلی گئ۔۔
اور دروازہ کے اس پار کھڑا نفوس بھی الٹے قدم واپس اپنے پورشن میں چلا گیا ۔
جاری ہے
م
