Maafi Season 1 By Mariyam Khan Readelle50209 Episode 19 Part 2
Rate this Novel
Episode 19 Part 2
جنت مٹھائ کا ڈبہ بے دلی سے گھر لے کر پہنچی۔۔
شبنم بیگم نے اسے ڈھیر سارا پیار کیا اور خوب مبارک بعد دی جنت نے سب کا منہ میٹھا کراویا لائبہ نے بھی بنا منہ بنائے خاموشی سے جنت کے ہاتھ سے مٹھائ کھالی۔۔
کیونکہ شبنم بیگم نے جمیلا بیگم کے جانے کے بعد اسے سخت ہدایت کی تھی اگر جنت اسے اتنی ہی بری لگتی ہے تو دور رہے اس سے مگر اپنے رویہ سے گھر کا ماحول خراب نہی کرے۔۔۔
شبنم بیگم نے خاص اہتمام کیساتھ ڈنر کا اہتمام کیا۔
سب ہی آج کافی ٹائم بعد خوش تھے۔۔جنت بھی سب کو خوش دیکھ کے خوش تھی مگر اسکی آنکھیں اسکا ساتھ نہی دے رہی تھی۔۔
لائبہ کے لاسٹ کے منتھ چل رہے تھے۔ سب ہی اسکا خاص دیھان رکھ رہے تھے اس لیہ وہ سب کیساتھ زیادہ دیر نہی بیٹھ پائ اور کمرے میں چلی گئ۔۔
نومیر نے بلکل اسسے قطع کلامی ترک کی ہوئ تھی۔۔اس لائبہ کی چھوٹی سوچ پہ کافی افسوس ہوا تھا۔
لائبہ کمرے میں اکے لیتی اور موبائل یوز کرنے لگی۔
جبھی تھوڑی دیر بعد نومیر کمرے میں آیا اور فریش ہونے چلا گیا۔۔
لائبہ اسکی ہر حرکت نوٹ کررہی تھی مگر بولی کچھ نہیں نومیر لائبہ کے برابر میں آکے کروٹ لے کے لیٹ گیا۔۔
نومیر کا یہ رویہ دیکھ کے لائبہ کی آنکھیں بھیگنے لگی۔اس نے نومیر کو اواز دی
۔
نومیر ؟؟
ہممم ۔۔
ائ ایم سوری آئندہ کبھی بھی میں جنت کو کوئ بھی طنزیہ بات نہی بولونگی۔۔وعدہ پرامس۔۔یہ بول کے لائبہ لیٹ کے نومیر کی پشت سے لگ کے رونے لگی۔۔
نومیر نے کروٹ لے کےلائبہ کو اپنے سینے میں سمیٹا اور کہا۔
میں تم سے اس بات پہ ناراض نہی کے تم نے جنت کو ایسا ویسا کہا۔
مجھے افسوس ہوا تمہاری چھوٹی سوچ پہ۔
طلاق شدہ یا بیوہ عورت کو بھی جینا کا حق ہے لائبہ مگر افسوس ہمارا معاشرہ اگر کسی عورت کو طلاق ہوجائے تو یہ بول۔بول کے اسکی زندگی خراب کردی جاتی ہے کے ضرور اسکے کرتوت خراب ہونگے۔۔کوئ بیوہ ہو جائے تو اسے حقارت سے دیکھتے ہیں اسسے محنوس اور جانے کن الفاظوں سے نوازتے ہیں۔
ہر کام میں اللہ کی مصلحت ہوتی ہےلائبہ میں بس تم سے اتنا کہونگا بھلے تم جنت سے بات مت کرو مگر پلیز اسکی دل آزاری نہی کرو
۔میں شرمندہ ہو نومیر آئندہ اپکو مجھ سے کبھی شکایت نہی ہوگی ۔
لائبہ کی بات سن کے نومیر نے اسکے ماتھے پہ اپنے لب رکھے اور سکون سے اسے اپنےسینے سے لگا کے سوگیا۔۔۔
#
عمر کو لندن گئے دو ہفتے ہوچکے تھے۔ عمر تو خیر لندن جاکے اپنے کام میں بزی ہوگیا۔
مگر اقراء کیلیے وقت گزرنا مشکل ہوگیا۔۔
ہر جگہ سے اسے عمر کی یاد آنے لگی
کبھی کمرے میں جاکے اسکے کپڑے خود سے لگاکے محسوس کرتی کبھی اپنی موبائل میں عمر کی پک دیکھتی مگر اقراء کا وقت تھا جو گزر کے ہی نہی دے رہا۔۔
اس نے ہمت کرکے حمزہ سے عمر کے کا لندن والا نمبر مانگا اور اسے وائس میسج بھیجا۔۔
اسلام وعلیکم۔۔
کیسے ہیں آپ کھانا وغیرہ ٹائم پہ کھا رہے ہیں آپ واپس کب ائئینگے۔
اقراء نے یہ وائس میسج بھیجا جو ابھی تک سین نہی ہوا تھا اور عمر کے اون لائن ہونے کا ویٹ کرنے لگی۔۔۔۔
#
جی جی بگ بی یہاں تقریبا سب کام مکمل ہوچکا ہے میں انشاءاللہ جلد آنے کی کوشش کرونگا ۔۔
ٹھیک ہے عمر تم آجاؤ تو پھر یہاں بھی ایونٹ کی تیاری کرنی ہے۔۔
اوکے بگ بی ملتے ہیں پھر انشاء اللہ اوکے اللہ حافظ۔۔
عمر نے کال کٹ کی اور دو منٹ کیلیے سیدھا لیٹ کے چھت کو گھورنے لگا تبھی اقراء کی یاد اسے ستانے لگی۔جبھی اس نے موبائل کو دوبارہ اون کیا اور وال پیپر پہ لگی۔اقراء کی پکس سے مخاطب ہوا۔
بہت یاد آرہی ہے تمہاری اقراء بہت آگے بڑھ چکا ہو تمہاری محبت میں کب تم اظہار کروگی کب مجھے میری محبت کا جواب محبت سے دوگی۔
یہ بول کے عمر نے موبائل کے وال پیپر کو چوما اور واٹس اپ اون کیا۔
اچانک اقراء کا نمبر سے وائس میسج دیکھ کے وہ جھٹکے سے اٹھ بیٹھا اور موبائل قریب لاکے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کے اقراء کا نمبر دیکھنے لگا اور پھر وائس کو اون کیا۔۔
وائس پہ اقراء کی آواز اسکی فکر سب سن کے عمر کے لب دھیرے سے مسکرائے اس نے کم از کم تین بار یہ وائس سنی۔۔
اور اقراء کو ڈائریکٹ ویڈیو کال کردالی۔۔
اقراء جو کمرے میں موجود چھوٹے سے ٹیرس پہ گم سم سی بیٹھی تھی موبائل بجنے کی اواز،پہ بے دلی سے کمرے میں گئ اور موبائل اٹھا کے دیکھنے لگی مگر عمر کے نمبر سے وڈیو کال دیکھ کے جہاں اس کے لب مسکرائے وہی اس کے پسینے بھی چھوٹنے لگے اور اس نے ڈھرکتے دل سے وڈیو کال یس کی۔۔
کھلے بالوں میں لائٹ بلیو کلر کے سوٹ میں گھبرائ شرمائ وہ عمر کا دل لوٹنے کے سارے سامان کےساتھ اسکے سامنے براجمان تھی۔۔
عمر نے گلا کھنکارتے ہوئے کہا۔۔
اوپر دیکھو میری طرف اقراء۔۔
عمر کے بولنے پہ اقراء نے بہت مشکل سے ہمت کرکے نگاہ اٹھا کے سامنے دیکھا ۔
گرے کلر کی لوز ٹی شرٹ میں ہونٹوں پہ دلکش مسکراہٹ لیہ وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا۔مگر عمر نے کچھ سوچ کے فورا اپنی مسکرائے سمیٹی اور کہا
وائس کیوں بھیجا تم نے جب کے تم تو اس رشتہ پہ خوش بھی نہی ہو اور میری محبت بھی ٹھکرا۔ چکی تھی تو پھر اس مجبوری کے رشتہ میں اتنی فکر کیوں۔۔۔؟؟
عمر کی بات سن کے ایک دم اقراء نے چونک کے عمر کو دیکھا اور کہا۔
کیونکہ میں آپکی بیوی ہو میں نہی پوچھونگی تو اور کون پوچھے گا؟؟
اقراء کے جواب پہ عمر نے ایک ایبرو آچکا کے اسے دیکھا اور کہا
رئیلی تم بیوی ہو میری مجھے شوہر مانتی ہو مگر تم نے تو کہا تھا نہ کے وہ۔۔۔عمر کچھ سوچنے کی۔ایکٹنگ کرنے لگا جب عمر کی بات بیچ میں سے اقراء نےاچک لی اور کہا
ہاں وہ میرا مطلب ہے شوہر ہیں آپ میرے آپ کی فکر کرنا میرا فرض ہے۔
اچھا اور بنا محبت کے کوئ فرض نبھایا نہی۔جاتا محترمہ ۔۔
تو کس نے کہا مجھے آپ سے محبت نہی ہے۔؟؟
اقراء نے فورا عمر کی بات کا جواب دیا مگر بولنے کے بعد فورا دانتوں میں اپنی زبان دبائ اور کال کٹ کردی۔۔
تو ادھر عمر نے بے ڈھرک اپنے دل پہ ہاتھ رکھا اور کہا۔
محبت کا اظہار اب توبہت جلد میرے سامنے اپنے منہ سے کروگی۔۔مسسز عمر۔۔
#
حمزہ نے اپنے کیبن میں ہی جنت کےلیہ ایک کاونٹر کا انتظام کروادیا تھا۔۔
جنت کے کام کرنے کا انداز حمزہ کو بہت پسند آیا
بہت اچھے طریقے سے اس نے حمزہ کے روز کےشیڈول تیار کیہ تھے۔۔
فیش میں اسکا سینس دیکھ کے حمزہ اس سے کافی امریس ہوا تھا ۔
مگر دونوں نے کے درمیان ایک طویل خاموشی تھی ۔جہاں جنت اسکی ہذیل گرین انکھوں میں دیکھنے سے گریز کرتی تو حمزہ بھی اسکی ویران آنکھیں دیکھ کے جیسے بے چین ہوجاتا تھا بہت کم وہ حمزہ کو مخاطب کرتی تھی۔۔کیونکہ حمزہ کی۔اواز اسکا لہجہ اسے ہمیشہ یوسف کی یاد دلاتا۔۔
عمر کل رات ہی پاکستان آیا تھا مگر رات دیر سے آنے کی وجہ سے وہ اقراء سے مل نہی پایا ۔۔
صبح حمزہ تو بہت پہلے آفس کیلیے نکل گیا تھا کیونکہ آج بہت اہم میٹنگ تھی ۔۔
عمر بھی فٹافٹ ناشتہ کرکے آفس کیلیے نکلا ۔۔
مگر حمزہ کے کیبن میں سیکٹری کے روپ جنت کو دیکھ کے ایک دم چونکا اور خاص کر اسکے عبائے کو دیکھ کے دل پہ ہاتھ رکھ ایکٹنگ کرتے ہوئے کہا۔۔م
اوہ گوش بھائ یہ ہے آپکی سیکٹری میں تو اتنی ماڈل لڑکیاں ہائر کی تھی مگر یہ بابائے آدم کے زمانے کی کہاں سے اگئ۔۔
عمر نے مزاقا کہا تھا اور حمزہ کو دیکھ کے انکھ ماری حمزہ نے اسے گھوری سےنوازا تھا مگر عمر کی بات سن کے جنت کے لیب توپ پہ چلتے ہاتھ لمحہ بھر کیلئے تھمے مگر اس نے دوبارہ ٹائپنگ کرتے ہوئے مخصوص انداز میں عمر کو جواب دیا۔
۔تو آپ نے انٹریو کا ایڈ دیتے ہوئے یہ بات واضح کرنے تھی کے خالی بکنی پہنے والی اس انٹرویو کے لیہ ائے۔۔
جنت کی بات سن کے حمزہ نے فورا اپنے سامنا رکھا کافی کپ اپنے لبوں سے لگا کے عمر کا چہرہ جو جنت کے جواب پہ ہونقوں کی طرح کھل چکا تھا دیکھ کے اپنی ہنسی روکی تو ادھر عمر جنت کے سامنے آکے کھڑا ہوا اور کہا۔
ایکسکیوزمی ؟؟
جنت نے اپنا کام بند کیا اور اپنی کرسی پہ جھولنے کے انداز پہ عمر کو دیکھتے ہوئے کہا۔
یس ایکسکیوز۔۔
میں نے آپ سے نہی کہا تھا جو اپنے جواب دیا۔۔
مگر چوٹ تو اپنے میرے پہناوا پہ کی ۔۔
اور کسی ایرے غیرے نتھو غیرے کو اتنا حق نہی۔کے میرے پہناوے پہ چوٹ کرے۔۔
اوہ اوہ کول کول لیڈی اپ جانتی ہیں میں ہو کون۔۔
حمزہ دونوں ہاتھ سینے پہ باندھے کے جنت سے کہا۔۔
جنت نے ایک نظر عمر کو دیکھا پھر اپنے پرس میں ایک کارڈ نکال کے عمر کے آگے کیا۔۔
عمر نے کارڈ جنت سے لیہ مگر اس کارڈ کو پڑھ کے عمر کو تو مانو آگ ہی لگ گئ۔۔
آپکی ہمت کیسی ہوئ مجھے ابنارمل سمجھنے کی جو آپ مجھے یہ ابنارمل کا علاج کرنے والے ڈاکٹر کا کارڈ دے رہی ہیں۔۔
ابھی تو اپنے کہا کے اپکو پتہ ہے میں۔ کون ہو۔۔
اب ایسی باتیں کوئ نارمل انسان تو کرتا نہی۔۔
جنت کے جواب پہ جہاں عمر کا چہرہ غصہ سے لال۔پیلا ہورہا تھا۔۔
وہی حمزہ عمر کی حالت دیکھ کے بہت مشکل سے اپنی ہنسی کنٹرول کررہا تھا جیسے روکنے کے چکر میں اسکی آنکھوں سے آنسو نکلنے لگے تھے۔۔
تم اپنے اپکو سمجھتی کیا ہو عمر نے غصہ بھرے لہجہ میں جنت کو مخاطب کرکے کہا ۔
جنت نے اپنا سارا سامان سمیٹتے ہوئے عمر کو کہا
وہی جو آپ کبھی اپنے آپ کو سمجھ نہی سکتے ۔
اور وہ کیا ہے عمر نے دانت پیستے ہوئے کہا۔۔
ایک خوبصورت اور عقل مند عورت ۔۔یہ۔کہہ کے جنت نے کیبن سے نکلتے ہوئے حمزہ سے کہا۔۔
سر میٹنگ شروع ہونے والی ہے آپ ا۔جائے جلدی۔۔۔۔
تو ادھر جنت کا جواب سن کے عمر نے ہونقوں کی طرح صدمہ کی حالت میں حمزہ کو دیکھا جو آپ باقاعدہ ہنس رہا تھا۔۔
بگ بی یہ یہ کیا چیز ہے بھئ ۔؟؟
میرا دل بند ہونے والا تھا ۔قسم سے۔۔
حمزہ نے مسکرا کےبند دروازے کو دیکھا جہاں سے ابھی جنت گئ تھی اور کہا۔
جنت یوسف ۔۔
اور مسکرا اٹھا۔۔
جاری ہے۔۔
