50.4K
33

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 23 Part 2

جنت کے آفس جانے کے بعد سب ہی لانج میں جمع تھے سوائے ماریہ کے۔۔
نومیر نے حمزہ کی کہی ایک ایک بات سب کے سامنے کھول کے رکھ دی۔۔
ہر طرف ہو کا عالم تھا کسی کی کچھ سمجھ میں ہی نہی آرہا تھا کے کیا بولے اس مسئلے میں کیونکہ سب ہی نے بہت مشکل سے یوسف کی موت کے بعد جنت کو سنبھالا تھا۔۔
کتنی بار وہ مرنے کی کوششش کرچکی تھی۔۔
مجھے نہی لگتا جنت کبھی مانے گی۔۔
خالدہ بیگم نے اپنا نظریہ سامنے رکھا۔
مگر ساری زندگی اسے ایسی تو گھر میں بیٹھا کے نہی رکھ سکتے خالدہ اج نہی تو کل اس کی زندگی آباد کرنی ہوگی اور حمزہ میں برائ کیا ہے ۔۔
اگر اس کے دل میں کھوٹ ہوتا تو وہ نومیر سے بات نہی کرتا۔۔
شبنم بیگم نے خالدہ بیگم کی بات کا جواب دیا۔۔
مگر تمہیں لگتا ہے شبنم جنت مانے گی۔۔؟؟؟
اجمل صاحب نے بھی چپ کا تالا کھولا ۔۔مگر میں اس مسئلہ میں نہی بولونگا آپ بڑی ہیں بھابھی اپ اور بھائ جو بھی فیصلہ کرے مجھے دل سے قبول ہوگا۔۔اجمل صاحب نے بھی اپنے دل کی بات کہہ ڈالی۔
ٹھیک ہے نومیر تم حمزہ کو بول دو اپنے پیرنٹس کوبھیجے۔
شبنم بیگم کی بات پہ سب کے لبوں پہ ہی مسکراہٹ اگئ۔۔
کے اچانک لائبہ نے کہا۔
ماما مگر جنت سے بات کون کریگا۔ماما ہمیں ایک بار ان سے پوچھ لینا چاہیے ایسا نہ ہو ماما جب جنت کو اس بات کا پتہ چلے تو کوئ بہت بڑا تماشہ ہو۔
کچھ نہی ہوگی لائبہ جنت کو سمجھانا اسے راضی کرنا میرا کام ہے ۔
اور سب جانتے تھے کے شبنم بیگم کی بات جنت کبھی نہی ٹالے گی ۔۔

#

نومیر نے حمزہ کو کال کرکے گھر کی طرف سے گرین سگنل دے دیا تھا۔
حمزہ کی خوشی کا کوئ ٹھکانہ نہی تھا۔اب اس نے زرین بیگم اور مجاہد صاحب سے بات کرنے کا سوچا۔۔
رات ڈنر کے بعد سب ہی اپنے اپنے کمروں میں چلے گئے تھے جب حمزہ نے اپنے والدین کے کمرے کے باہر کھڑے ہوکے ایک لمبی سانس لی اور دروازہ ناکک کیا۔
اندر آنے کی اجازت ملتے ہی آدھا دروازہ کھول کے حمزہ نے اندر جھانکا تو مجاہد صاحب راکنگ چیئر پہ بیٹھ کے کتاب پڑھ رہے تھے اور زرین بیگم نماز ۔
مجاہد صاحب نے جب حمزہ کو دیکھا تو کہا۔۔
ارے حمزہ بیٹا او ۔۔
حمزہ اندر گیا اور بیڈ کے کنارے پہ بیٹھ کے اپنوں لبوں کو اپنے دانتوں سے کچلنے لگا۔۔
مجاہد اور صاحب اور زرین بیگم نے پہلے ایک دوسرے کو دیکھا اور پھر حمزہ کو جب مجاہد صاحب نے حمزہ سے کہا۔۔
کیا بات ہے حمزہ بیٹا کچھ کہنا ہے؟؟؟
مجاہد صاحب اور زرین بیگم کو پتہ تھا کے حمزہ کو کچھ کہنا ہے یہ اسکی بچپن کی عادت تھی جب بھی کوئ بات کرنی ہوتی تھی یہ منوانی ہوتی وہ ایسے ہی اپنے لب کچلتا تھا۔۔
مجاہد صاحب کے پوچھنے پہ حمزہ جنت کے بارے میں ایک ایک بات اپنی فیلنگ سب انکے سامنے کھول کے رکھ دی۔۔
حمزہ کی بات سن کے نہ مجاہد صاحب نے کچھ کہا نہ زرین بیگم نے تھوڑی دیر بعد مجاہد صاحب اٹھ کے حمزہ کے پاس آئے تو وہ بھی گردن جھکا کے کھڑا ہوگیا۔۔
مجاہد صاحب نے آگےبڑھ کے اسے گلے سےلگایا اور کہا۔۔
مجھے فخر ہے بیٹا تم پہ ہم تمہارے ہر فیصلے میں تمہارے ساتھ ہیں۔۔جب حمزہ نے پلٹ کے اپنی ماں کو دیکھا تو وہ بھی مسکرادی اور اپنی باہینں کھول دی حمزہ بھی مسکراتا ہوا زرین بیگم کے سینے سے لگ گیا۔
مگر زرین بیگم نے کہا۔۔
حمزہ مجھے نہی لگتا جنت اتنی آسانی سے مانے گی؟؟؟
مان جائے گی ماما بس اپکو میرا ایک کام کرنا ہوگا؟؟؟؟
کیا بیٹا بولو۔۔
آپ دونوں کو جنت کی طرف سے آنکھیں بند کرنی پڑینگی۔اسکے کسی ایمیوشنل سین میں آپ دونوں نہی ائینگے۔۔۔
ٹھیک ہے بیٹا۔جیسا ہمارا بیٹا چاہے۔۔

#

ہیلو !!!!
ہاں پارٹنر کیا ہورہا ہے۔۔۔
کچھ نہی شام کی پارٹی کی تیاری جنت نے اپنے کپڑے سیلیکٹ کرتے ہوئے کہا۔۔
اور تم سناؤ کیا کرہے ہو ؟؟
جنت نے مصروف انداز میں کہا۔۔
کچھ نہی یار ایک مسئلہ نمٹا رہا ہو۔۔
عمر نے بھر پور اداسی سے کہا۔۔
کیوں کیا ہوا ؟؟
جنت نے کپڑے سائیڈ پہ رکھ کے کال پہ فوکس کرتے ہوئے کہا ۔
کچھ نہی یار شام کی پارٹی کیلیے اقراء اور بسمہ کو تیار کرنے بیوٹیشن آنے والی تھی ۔ابھی کچھ دیر پہلے انکی کال آئ تھی کسی ایمرجنسی کی وجہ سے انہوں نے منع کردیا آنے سے یار ابھی تک پتہ نہی کتنے سلون میں کال کرچکا ہو مگر کوئ فائدہ نہی ہوا اب اقراء تو جیسے تیسے تیار ہوجائےمگر بسمہ اسکا موڈ اوف ہوگیا ہے خیر چلو تم بھی اپنی تیاری دیکھو شام میں ملتے ہیں اللہ حافظ ۔۔۔
عمر کی کال رکھتے ہیں جنت سوچوں میں گم ہوئ۔۔
تو ادھر عمر نے خونخوار نظروں سے اپنے سامنے بیٹھے سیب سے انصاف کرتے حمزہ کو دیکھا۔۔
اوہ بھائ ایسے اینگری برڈ بن کے کیوں گھور رہا مجھے۔۔
حمزہ نے عمر کو کہا۔
کیونکہ آپ مجھ سے ہر وہ کام کرارہے ہیں جو مجھے جنت سے پٹاوانے کے سارے ہنر رکھتا ہے۔۔
کیوں آپ نے سلون والی کو منع کیا؟؟
کیونکہ میں نومیر سے جنت اور یوسف کے بارے میں ساری ڈیٹیلز لے چکا ہو ۔جنت پاگل ہے ۔میک آپ سیکھنے میں اور کرنے میں مگر یوسف کی موت کے بعد نہ تو اس نے میک اپ کو ہاتھ لگایا بلکہ کاجل سے بھی دور ہوگئ جسکی وہ دیوانی تھی۔
اور اپکو لگتا ہے کے وہ ہمیں ابھی کال کرکے کہے گی کے عمر تم پریشان مت ہو میں آجاتی ہو دونوں کو تیار کرنے عمر نے بچوں کی طرح منہ بنا کے کہا۔۔
بلکل اگلے 5منٹ میں جنت کی کال آئ گی تمہارے پاس اور یہ کہے گی جو ابھی تو نے کہا حمزہ نے یہ بات کافی کانفیڈینس سے کہی۔۔
عمر نے سینے پہ ہاتھ باندھ کے حمزہ کو ایک ایبرو آچکا کے دیکھا اور کہا۔۔
کانفیڈینس ہونا اچھی بات ہے بگ بی مگر اوورکانفیڈینس اکثر انسان کی بینڈ بجا دیتا ہے۔۔
ایک پھر پور قہقہ کمرے میں گونجا اور حمزہ نے عمر کہا۔
بیٹا ہم نے بھی کچی گولیاں نہی کھیلی اتنا تو تجربہ ہوگیا ہے جنت کیساتھ وقت گزرا کے وہ کس دل کی مالک ہے ۔
مگر آپ اسکے دل کے مالک نہی جانتے ہیں نہ عمر نے بھی برابر جواب دے کے کہا۔۔
ہاں مگر حمزہ کے دل کی تو مالکن ہے نہ حمزہ نے آنکھ مارکے کہا
حمزہ کی بات عمر نے سڑا ہوا منہ بنایا مگر شوکڈ وہ جب ہوا جب اسکے نمبر پہ جنت کی کال آنے لگی۔۔
حمزہ نے جنت کی کال اتی دیکھ فخریہ انداز میں اپنا کالر جھاڑا اور عمر کو اشارہ کرکے کال اٹھانے کیساتھ ساتھ اسپیکر پہ ڈالنے کو کہا۔
کال اٹھاکے جو بات جنت کے کہہ کے کال کٹ کی۔۔
عمر تو ہونقوں کی طرح اپنے موبائل کو دیکھنے لگا۔۔
مگر حمزہ کا زندگی سے بھر پور قہقہ کمرے میں گونجا اور ساتھ الفاظ بھی۔۔
یاہو ۔۔
دیکھ لے تیرے بھائ کا تجربہ۔۔
یہ بول کے حمزہ تو کمرے سے چلا گیا۔۔
مگر عمر ابھی تک شاکڈ کی کیفیت میں تھا کے جنت نے وہی الفاظ دہرائے جو ابھی اس نے طنزیہ حمزہ سے کہے تھے ۔۔

#

جنت شام تک اپنے سامان کیساتھ مجاہد مینشن پہنچ چکی تھی ۔اپنا سامان بھی وہ ساتھ لے آئ تھی رات میں پارٹی تھی اب اگر وہ واپس گھر جاکے تیار ہوتی ہو کافی وقت لگا جاتا۔۔
جنت نے سب سے پہلے بسمہ کو ڈیسنٹ سہ تیار کیا ۔
جنت کے تیار کرنے پہ بسمہ پھولے نہی سمائ کیونہ ایک الگ ہی لک بسمہ کا آیا تھا۔۔
اس کے بعد اقراء کی باری ائ۔۔
جنت نے یوسف کا گفٹ کیا ہوا میک اپ باکس کھولا جو یوسف نے اسے گفٹ کیا تھا اور اسپہ لکھا تھا ۔۔
“جنت یوسف”
جیسے جیسے جنت نے باکس میں سے سامان نکلا اسکی آنکھوں سے آنسو گرنے لگے۔۔
اقراء بہت غور سے جنت کے چہرے کو دیکھ رہی تھی ۔۔عمر جنت کے بارے میں اقراء کو سب بتا چکا تھا ۔
ارے یوسف نہی تنگ کرے اسکے سسرال والے آنے والے ہیں ۔
دعا کے ۔منگنی والے دن جنت دعا کو تیار کررہی تھی اور یوسف اسے بار بار چھیڑ رہا تھا جسکا ساتھ دعا بھی دے رہی تھی۔۔
ارے ارے جان یہ دیکھو یہ لائننر تم نے کم لگایا دیکھو یہ آئ شیڈ اور یہ لپسٹک یوسف کے بولنے پہ جہاں جنت پاگلوں کی طرح یوسف کو دیکھ رہی تھی وہی دعا بھی یوسف کی حرکت دیکھ کے ہنس ہنس کے دوہری ہورہی تھی۔۔
جنت ایک دم ماضی سے باہر نکلی اور اقراء کو تیار کرنے لگی۔۔
مگر اس کےانسو رک نہی رہے تھے۔۔۔
ریڈ اور وائٹ کنٹراس کی ساڑھی میں اقراء کر روپ نکل کے آیا تھا۔۔
عمر جو بلیک ڈنر سوٹ میں غضب ڈھا رہا تھا ایک دم کمرے میں داخل ہو اوراقراء کو دیکھ کے ساکن رہ گیا جنت کے کیے گئے میک اپ میں اور ساڑھی میں اقراء غضب ڈھا رہی تھی۔
مگر جنت جو سامان سمیٹ رہی تھی۔۔
اقراء نے عمر کا اسکی طرف اشارہ کیا تو عمر نے جنت کو دیکھا جو بظاہر تو اپنا سامان رکھ رہی تھی مگر بے دردی سے اپنے بہتے آنسو صاف کررہی تھی۔۔
ارے پارٹنر تم نے تو کیا کمال کردیا میری بیوی تو پہچاننے میں ہی نہی آرہی ۔۔
نہی میرا کمال نہی تمہاری بیوی واقع خوبصورت ہے جنت نے بنا پلٹے عمر کو جواب دیا۔۔
عمر جانتا تھا وہ رورہی ہے اور وجہ بھی جانتا تھا۔۔
عمر تم اقراء کو لے باہر جاؤ میں بس تیار ہوکے آئ
یہ بول کے جنت تیزی سے واش روم گھس گئ۔
تو ادھر اقراء اور عمر نے ایک دوسرے کو دیکھا اور عمر نے کہا۔
مجھے تکلیف دیتے ہیں اپنی بہن کے آنسو اقراء اسے بھی خوشیوں کو پورا پورا حق ہے۔۔
اقراء نے قریب آکے عمر کے کندھے پہ ہاتھ رکھا اور کہا۔۔۔
حمزہ بھائ جنت سے بہت محبت کرتے ہیں بہت جلد وہ انہیں وہ ساری خوشیاں لاکے دینگے جنکی وہ حق دار ہیں جو قسمت نے ان سے چھین لی۔۔
۔جنت واش روم کے دروازے سے لگ کے نیچے بیٹھتے چلی گئ اور یوسف کو یاد کرکے بے اوازرونے لگی۔۔
“مانا کے تیری موجودگی سے
یہ زندگانی محروم ہے۔ ۔۔
جینے کا کوئ دوجہ طریقہ ۔۔
نہ میرے دل کو معلوم ہے۔
تجھ کو میں کتنی شدت سے چاہو۔۔
چاہے تو رہنا تو بےخںبر۔۔۔
مجھے آزماتی ہے تیری کمی
میری ہر کمی کو ہے تو لازمی ۔۔
ادھورا ہوکے بھی ہے عشق میرا کامل ۔
تیرے بنا گزرا اے دل ہے مشکل۔””

#

عمر اور اقراء باہر آئے تو کافی کیمرے کی روشنی ان پہ پڑی۔۔
اقراء عمر نے مسکرا کے پوز دیے۔۔
دور کھڑا حمزہ جو مہرون ڈنر سوٹ میں ملبوس پارٹی کی۔جان بنا ہوا کسی سے بات کررہا تھا۔۔ان دونوں کو اپنی طرف آتا دیکھ حمزہ نے اپنے کولیگ سے ایکسکیوز کیا اور ان دونوں کی طرف آیا ۔۔۔۔
اوہ واہ بھئ کیا جوڑی لگ رہی ہے۔۔
ماشاءاللہ۔۔اقراء اور عمر نے اسکی بات پہ کوئ ریکٹ نہی کیا تو حمزہ ایک نظر دونوں کو دیکھا اور کہا۔
تم دونوں کو کیا ہوا دکھی اتتما کیوں بنے ہو؟؟؟
بھائ اپکو جنت کو آج میک اپ کرنے نہی بلانے تھا اپکو پتہ ہے جتنی دیر انہوں نے مجھے میک اپ کیا ہے ایک پل کیلیے ان کے آنسو نہی تھمے اقراء۔۔بول کے چپ ہوئ۔۔تو عمر بول پڑا۔۔
بگ بی وہ بہت ہرٹ ہوئ ہے اج۔
جانتا ہو مگر اسے اس کے خول سے نکالنا ہے یہ بتانا ہے کے یوسف اب اس دنیا میں نہی اور دوسرےسوال کا جواب تم لوگوں کو خود مل جائے گا زرا سامنے دیکھو اپنی جنت کو اچھے خاصے شریف بندے کا دل بے ایمان کردے۔حمزہ کے بولنے پہ ان دونوں نے سامنے دیکھا۔۔
پستئ اور ڈارک مہرون کنٹراس کا انگگ رکخا۔۔مہروں کلر کا چوری سارا پاجامہ ہم رنگ کا سر پہ حجاب لیہ اور وفل پستی نیٹ کا ڈوپٹہ جسکے سائیڈ میں مہرون کلر کے لٹو لٹک رہے تھے میچنگ کھوسے پہنے لائٹ سے میک اپ انکھوں میں کاجل کی ڈوریاں ڈالے جنت حمزہ کی نظریں ساکن کر گئ۔۔۔
جنت زرین بیگم کے پاس آئ تو وہ اسے دیکھ کے دنگ رہ گئ۔انہوں نے جنت کا تعارف سب سے کروایا اپنی بیٹی کی حیثیت سے۔۔
جنت عمر اور اقراء کے پاس آئ تو عمر نے کہا۔
ایکیسوزمی اپنے میری پارٹنر کو دیکھا ہے؟؟؟
عمر کے بولنے پہ۔جنت نے عمر کے کندھے پہ ایک ٹھپڑ رسید کیا ۔۔اقراء اور عمر نے جنت کی تیاری کوبہت سراہا۔۔
جب حمزہ نے اینٹری دی اور جنت کو کہا۔۔
بہت خوبصورت لگ رہی ہیں جنت آپ !!!
حمزہ کی تعریف پہ جنت ایک دم جھینپ گئ اور کہا۔۔
شکریہ سر۔
جب اقراء نے کہا۔۔
ارے بھائ اپکا اور جنت کے سوٹ کا کلر ایک ہے ہیں نہ عمر۔۔
اقراء کے بولنے حمزہ نے تو فورا کولڈرنک کا گلاس اپنے لبوں سے لگایا جبکہ جنت جھینپ سی گئ اس سے پہلے وہ جاتی حمزہ فوٹو گرافر کو اشارہ کرچکا تھا۔۔
فوٹوگرافر کے آتے ہی اقراء اور عمر ہٹ گئے۔فوٹوگرافر نے ان دونوں کی ڈھیر ساری پک لی جب لاسٹ کے کہہے جملے نہ جنت کوپل بھر کیلیے ساکن کردیا۔۔
ماشاءاللہ سر جوڑی تو بہت پیاری لگ رہی کب آرہے ہیں پھر آپ لوگ میریڈ کپل میں؟
پوری پارٹی میں جنت حمزہ کی نظروں کے حصار میں رہی دل کی حالت عجیب تھی جنت کی اور پھر وہ عمر کیساتھ اپنے گھر اگئ۔۔

#

اگلے دن آفس کہ طرف سے افف تھا۔مگر جنت کے گھر میں کچھ گڑ بڑ تھی۔جنت حیران پریشان سے شبنم بیگم کے پاس آئ اور کہا۔۔
ماما اتنی تیاری کس لیہ کوئ آرہا ہے کیا۔۔؟؟
شبنم بیگم کے ساتھ کام کرتی خالدہ بیگم کے ہاتھ پل بھر کیلیے تھمے جب شبنم بیگم نے کہا۔۔۔
تمہیں دیکھنے کچھ لوگ آرہے ہیں پہنچنے والے ہیں تیار ہوجاو جاکے۔۔
شبنم بیگم کی بات سن کے کے جنت کو لگا پوری چھت اسکے سر پہ آگری اس نے لڑکھڑاتی آواز میں شبنم بیگم کہا۔۔
ما۔۔۔ا۔ما۔۔یہ۔۔اپپپپپ۔
اوپر جاؤ جنت تیار ہوجاو میں کوئ بہہس نہی سنو۔۔
جنت کی ہمت ہی نہی ہوئ شبنم بیگم کی بات کو رد کرنے کی اور وہ اوپر تیار ہونے گئ۔۔
تیار کیا ہوئ بلیک سمپل سا ڈریس پہنا آج جنت کو لگ رہا تھا جو یوسف کی خوبصورت یادیں اسکے پاس تھی وہ بھی آج اس سے چھین جائینگی۔۔
لائبہ نے اسے مہمان کے آنے کا بتایا۔۔مگر جب جنت نے مہمانوں کو دیکھا ۔۔جو اس کو دیکھنے آنے ائے تھے جسمیں۔حمزہ اور اسکی فیملی شامل تھے۔۔
جنت کا دل کیا حمزہ کوشوٹ کردے۔۔
جنت نے ایک بے یقینی نظر حمزہ پہ ڈالی اور واپس مڑ گئ۔۔
سب کو پتہ تھا اسکا یہی ریکشن ہوگا۔اس لیہ سب ڈرائینگ روم میں چلے گئے۔
جبکہ لائبہ نے اشارہ کرکے حمزہ کو باہر بلایا۔اور کہا۔۔
حمزہ بھائ جنت بہت غصہ میں کہی گئ ہے۔۔
لائبہ کے بولنے پہ حمزہ سمجھ گیا کے وہ کہاں گئی ہوگی اور وہ بھی اسکے پیچھے گیا۔۔

#

عمر تم کیوں نہی گئے؟؟؟
بھائ کیساتھ نہ مجھے جانے دیا۔۔
اقراء اس کے لیہ کافی لائ اور کہا۔۔
اقراء اتنا آسان نہیں یہ سب جتنا بھائ اسے ہلکا لے رہے ہیں میں تو ابھی عمر کی بات منہ میں۔ ہی تھی کے کمرے کا گیٹ کھلا اور جنت غصہ ۔یں اندر ائ اور زور سے ہاتھ عمر کے ہاتھ میں موجود کافی کے کپ پہ مارا اور کہا۔۔
گھٹیا انسان تم نے دوست کہا تھا مجھے تمہیں بھائ سمجھا تھا میں کیا کیا میرے ساتھ اپنی بھائ کیساتھ ملکر میری بیوگی کا تماشہ بنایا تم نے ۔
جنت کے چیخنے سے اقراء بھی سہم گئ۔تو ادھر عمر صرف گردن جھکا کے کسی مجرم کی طرح کھڑا تھا جب جنت کے ہاتھ میں اسکا گریبان آیا ۔
تم سے کس نے کہا میری زندگی کا تماشہ بناؤ میرے لیہ سہارا تلاش کرو میںری زندگی میں دخل اندازی کرنے والے تم ہو کون ۔۔
اپنے بھائ کیساتھ ملکے اچھا کھیل کھیلا ہے تم نے مجھے بہن کہا تھا نہ تم کو ایک ایک بات بتائ تھی میں نے یوسف کے باری میں دنیا سے گیا ہے میرے دل سے نہی روکا کیوں نہی اپنے بھائ کو میرے گھر رشتہ لانے سے؟؟؟؟؟ ۔۔۔
اس سے کیا پوچھتی ہو مجھ سے پوچھو۔۔۔
ایک دم کمرے میں حمزہ کی آواز گونجی ۔۔
اقراء اور عمر نے فورا نگاہ اٹھا کے دروازے کی جانب دیکھا۔۔
جنت غصہ میں حمزہ کے قریب ائ اور کہا۔
بہت اچھا انسان سمجھتی تھی اپکو دل سے عزت کرتی تھی آپکی مگر آپ تو ایک نمبر کے گھٹیا نکلے شرم نہی آئ اپکو۔۔
یہ حرکت کرتے ہوئے۔۔
کیوں شرم کیسی کسے کے گھر عزت سے رشتہ بھیجنے میں کیسی شرم ۔۔
حمزہ نے سکون لہجہ میں جواب دیا۔۔
میں بیوہ ہو سمجھ میں آئ اپکے بات ۔۔
زرا سا میرہ چہرہ دیکھ لیا تو شوق چڑھا ہے بیوی بنا کے میرے ساتھ آگے کی بات جنت کہتی حمزہ کی گرجدار آواز کمرے میں گونجی۔۔
عمر اور اقراء تم دونوں یہاں سے جاؤ زرا میں اسکا دماغ درست کرو۔۔
اقراء اور عمر کیا جاتے اسسے پہلے جنت جانے لگی مگر اسکی کلائی حمزہ کی گرفت میں اچکی تھی۔۔
وہ اپنے اپکو مسلسل چھڑاوانے کی کوشش کررہی تھی۔۔
عمر اور اقراء فورا کمرے سے نکلے۔جب حمزہ نے کمرے کے دروازہ بند کیا اورجنت کو کھینچ کے دیوار سے لگایا۔
آپکی ہمت کیسے ہوئی میری ساتھ اس قسم کی حرکت کرنے کی؟؟
ہمت تو مجھ میں بہت ہے جنت میڈم حمزہ نے اسکی کالی جھیل جیسی آنکھوں میں اپنی ہذیل گرین انکھیں گاڑ کے کہا۔
حمزہ کی سانس جنت کے چہرہ کو چھوڑرہی تھی۔۔
آپ میرے ساتھ زبردستی نہی کرسکتے حمزہ۔۔۔
یہ زبردستی نہ جان حمزہ محبت ہے ۔۔
جان حمزہ مائے فٹ میں کسی اور سے محبت کرتی تھی ہو اور کرتی رہوگی۔۔
اور تم جس سے محبت کرتی تھی وہ اب اس دنیا میں نہی اور میں کسی بھی قسم کی رعایت تمہیں دینے والا نہی۔۔
میں نے کب کہا کے تم مجھ سے محبت کرو۔وہ تو میں تمہیں خود سے کرنے پہ مجبور کردونگا۔۔
ایسا کبھی نہیں ہوگا۔۔جنت نے غصہ میں چیخ کے کہا اور دونوں ہاتھ حمزہ کے سینے پہ رکھ کے اسے خود سے دور ہٹانے لگی۔۔
مجھے مت آزماؤ جنت حمزہ نے اس کے دونوں ہاتھوں کو قابو کرکے کہا۔۔۔۔
تم میری ہی بنوں گی شرافت سے نہی تو بدمعاشی سسے۔۔
یہ بول کے حمزہ جنت کے ہاتھ چھوڑے الٹے قدم اٹھاتے ہوئے اس سے دور ہوتے ہوئے کہا اور آنکھ بھی ماری۔۔
میں یوسف سے بہت محبت کرتی ہو آئ سمجھ آگے کبھی اسکی جگہ کسی کو نہی دونگی بھلے مجھے اس کیلیے حرام موت کو گلے لگانا پڑے۔۔
جنت کی بات سننی تھی کے حمزہ نے اسکا۔ہاتھ پکڑا اور تیزی سے کمرے سے نکلا۔۔
زبردستی اسے گاڑی میں بیٹھایا اور گاڑی جھٹکے سے اگے بڑھا دی۔۔
کہاں لے کے جارہے ہیں آپ مجھے حمزہ گاڑی روکے ۔
حمزہ کے اوپر جنت کی بات کا رتی برابر بھی اثر نہی ہوا وہ غصہ میں بہت اسپیڈ میں گاڑی چلا رہا تھا۔۔
گاڑی ایک جھٹکے سے قبرستان کے پاس رکی۔۔
جنت نے پلٹ کے حمزہ دیکھا ۔
حمزہ گاڑی سے اتر کے جنت کی طرف آیا دروازہ کھول کے اسکا ہاتھ پکڑ کے باہر نکلا اور قبرستان کے اندر لے گیا ۔۔جنت ہونقوں کی طرح کبھی حمزہ۔کو تو کبھی قبرستان کو دیکھتی یہاں اسکی زندگی دفن تھی یہ بات حمزہ۔ کو کیسے معلوم۔؟؟
جبکہ حمزہ وہ سیدھا یوسف کی قبر کی طرف جارہا تھا ۔نومیر سے بات کرنے کے بعد وہ یوسف کی قبر پہ گیا اور کئ بار گیا تھا۔مگر پتہ نہی ایک ڈر تھا اس کے دل میں جو اسنے ابھی تک یوسف کی تصویر نہی دیکھی تھی۔
حمزہ نے یوسف کی قبر کے سامنے ایک جھٹکے سے جنت کا ہاتھ چھوڑا اور کہا۔۔
بولو یوسف کو ابھی کے ابھی باہر آئے اور دے تمہارا ساتھ ۔
بچائے زمانے سے تمہں میں قسم کھاتا ہو چھوڑونگا تمہارا پیچھا۔۔
جاری ہے۔۔