Maafi Season 1 By Mariyam Khan Readelle50209 Episode 20
Rate this Novel
Episode 20
بورڈ میٹنگ روم میں سب ہی بیٹھے تھے ۔ ایک مہینے بعد ہونے والے فیشن ایویٹ جو ڈسکس کرہے تھے سب ہی اپنی الگ الگ ایڈوائس دے رہے کے اس منتھ کسی ٹائپ کے کپڑے ڈیزائن ہو ۔
جب عمر نے خاص کر جنت سے پوچھا ۔
جنت میڈم آپ بھی بتا دے اپنی ایڈوائس کس تائب کے کپڑے ڈیزائن ہو اس دفعہ۔۔
جنت جو منہ میں ہیں پین دبائے کسی خاص نقطہ نظر پہ غور کررہی تھی عمر کے بولنے پہ۔ایک دم چونکی اور کہا۔۔
میرے خیال میں برائیڈل اور گروم ڈریس اس بار لانج کرنا چاہیے کیونکہ تقریبا ہر طرح کے کپڑے ہم لانج کرچکے ہیں۔۔
جنت کی ایڈوائس جہاں عمر کو اچھی لگی وہی حمزہ کو بھی جنت کی ایڈوائس نے کافی امپریس کیا
میٹنگ ختم کرکے سب نے ہی برائیڈل اور گروم ڈریس پہ اپنے اپنے کام سنبھال لیہ ۔جب کیبن میں آکے حمزہ نے جنت سے کہا۔۔
مس جنت میں چاہتا ہو یہ برائیڈل اور گروم کے ڈریسس آپ اور حمزہ ڈیزائن کرےے۔۔
حمزہ کے بولنے پہ جنت نے کہا۔
سر مجھے کوئ ایشو نہی مگر اپ عمر سے پوچھ لے انہیں مس بابائے آدم کیساتھ کام کرنے میں کوئ مسئلہ تو نہی۔۔
جنت کے بولنے پہ جنت کی فائل دیکھتا عمر جو کسی گہری سوچ میں گم تھا ایک دم چونکا اور کہا۔۔
میری تو خوش نصیبی ہوگی اگر میں گولڈ میڈلسٹ کیساتھ کام کرو۔۔
اوکے پھر کل سے تم دونوں ڈیزائنر ڈیپارٹ میں ڈیوٹی لگاؤ اپنی یہاں کا کام میں سنبھال لونگا۔۔
اوکے سر۔۔یہ بول۔کے جنت اپنے کام میں مگن ہوگئ۔
جب کے عمر جو اسکی سی وی دیکھ رہا تھا ۔یہ سوچ سوچ کے پریشان ہورہا تھا کے جنت یوسف یہ نام اس نے ایک ساتھ اور کہا پڑھا ہے۔۔
#
اج اقراء نے اووف کیا تھا آفس سے اس لیہ وہ عمر کیلیے خاص ڈنر کا اہتمام کررہی تھی۔لائٹ پنک اور وائٹ کنٹراس کے سوٹ میں کانوں میں پنک جھمکی ڈالے بالوں کو کھلا چھوڑے لائٹ پنک کلر کی گلوز میں آج اسکی چھاپ ہہی نرالی تھی۔۔
عمر اور حمزہ کچھ ڈسکس کرتے ہوئے کھانے کی ٹیبل پہ آئے تو کافی ساری ڈیشیں دیکھ کے ان دونوں کا موڈ خوشگوار ہوگیا اور انہوں نے زریں بیگم سےپوچھا۔۔
ماما کیابات ہے آج اتنی ساری ڈشیں کس خوشی میں پکی ہیں۔۔
ارے بھئ یہ سب اقراء نے بنایا ہے صبح سے ہی وہ آج کچن میں لگی ہے۔۔
اوہ واہ بھئ آج تو کھانے کا مزہ ہی آنے والا ہے حمزہ تو یہ بول کے کھانا کھانے میں مگن ہوگیا جبکہ عمر کی نظریں اس دشمن جان کو ڈھونڈ رہی تھی جس نے آج ہر چیز عمر کی پسند کی بنائ تھی۔
اور عمر کو زیادہ انتظار نہی کرنا پڑا وہ سامنے سے سوئٹ ڈش ہاتھ میں لے اسی کی جانب آرہی تھی اقرء کی دیکھ کے دو پل کیلیے عمر ساکن رہ۔گیا۔
ایک عجیب سی چمک عمر نے آج اقراء کی آنکھوں میں محسوس کی۔۔
کھانے کی سب نے ہی تعریف کی مگر اقراء کو جسکے تعریف بھرے لفظوں کا انتظار تھا وہ خاموشی سے کھانے میں مگن تھا۔
کھانے کے بعد اقراء بے دلی سے اپنے کمرے کی جانب چل پڑی۔عمر کا اسے یو اگنور کرنا اقراء نے کافی محسوس کی اسکی انکھیں بھیگنے لگی۔۔
اقراء نے کمرے میں آکے اپنا ڈوپٹہ بیڈ پہ زور سےاچھالا واش روم جانے کیلیے جیسے ہی قدم بڑھائے عمرجو اسکے کمرے میں پہلے سے موجود تھا۔
ایک دم اقراء کی کلائی پکڑ کے اپنی جانب کھینچا۔۔
عمر کو اپنے سامنے دیکھ کے اسکی آنکھوں کے رکے آنسو بہنے لگے۔۔
اس نے کسی بچے کی طرح ضد کرتے ہوئے اپنے آپ کو عمر سے چھڑوانے لگی۔۔
مگر عمر تو اسکے روپ میں ہی کھو گیا روئ روئ آنکھیں چہرے پہ خفگی کے آثار وہ اسے پہلے سے بھی زیادہ عمر کو خود سے محبت کرنے پہ مجبور کر گئ۔۔
بہت اچھا بنا تھا کھانا خاص کر سوئٹ ڈش ۔۔
عمر نے اسے اور مظبوطی سے اپنی باہوں میں تھام کے کہا۔
جھوٹ اپکو کچھ بھی اچھا نہی لگا لگا ہوتا تو سب کے سامنے کہتے۔۔
میں بھی تمہارے منہ سے کچھ سننے کیلیے کب سے بےتاب ہو مگر تم بھی تو کچھ بولتی نہی۔۔
عمر کی بات سنتے ہی اسنےنگاہ اٹھا کے عمر کو دیکھا اور کہا۔
میں تو کچھ بولنا نہی۔چاہتی آپ سے۔۔
یہ بول کے اقراء نگاہ چرا گئ کیونکہ وہ جانتی تھی۔کے عمر کس بات کا ذکر کررہا ہے۔۔
پکا۔ ؟؟؟؟
عمر نے برتجسس نگاہوں سے اقراء کے چہرہ کو دیکھتے ہوئے کہا۔۔
ہممم ۔۔۔
اقراء کے بولنے پہ ایک دم عمر کی گرفت ڈھیلی ہوئ اور وہ مڑ کے جیسی ہی جانے لگا اقراء نےاسکا ہاتھ پکڑلیا۔۔۔۔
عمر نے اسے سوالیاں نظروں سے دیکھا ۔۔
اقراء اسکے پاس آکے اسکے سینے سے لگی اورکہا۔۔
آپ روح بن گئے ہیں عمر میرے جسم کی آپ سےبےپناہ محبت کرنے لگی ہو۔۔
اقراء کے اتنے خوبصورت اظہار پہ عمر جہاں ساکن ہوا وہی اسکے لب مسکرائے اس نے اقراء کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں تھاما اور اسکے لرزتے لبوں پہ۔اپنے لب رکھ دیے۔۔
اقراء کی بھی انکھیں کسی احساس کے تحت بند ہوگی۔۔
تھوڑی دیر بعد عمر نے اسکے لب آزاد کیہ اور کہا۔
تیاری کرلو اب رخصتی کی بہت جلد تمہیں اپنی۔جان میں بسانے والا ہو۔۔
یہ بول کے عمر نے اقراء کے ماتھے پہ اپنے لب رکھے اور کمرے سے باہر چلا گیا۔۔۔
جاری ہے۔۔
