50.4K
33

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 19 Part 1

آج جہاں جنت کے عدت کے دن پورے ہوئے وہی اسکا رزلت بھی نکلا۔
جنت نے گولڈ میڈل جیتا تھا فیشن ڈیزائنر میں مگر گولڈ میڈل کلیکٹ کرنے وہ نہی گئ۔۔
اسکی دوستوں نے گھر آکے اسکا گولڈ میڈل اسے دیا مگروہ۔میڈل ہاتھ میں لے کے یوسف کے کہے گئے الفاظوں میں کھو گئ۔۔
جس دن تم گولڈ میڈل جیتوگی نہ جنت۔۔
ایک منت یوسف جنت نے یوسف کی بات کاٹ کر کہا۔
آپ سے کس نے کہا میں گولڈ میڈل جیتونگی اپکو اندازہ نہی بہت ٹف کمپیٹیشن ہے۔
جو بھی ہے جان یوسف مگر جیتوگی تم ہی اور جس دن تم جیتوگی اس دن میں اپنی جنت کی جیت کی خوشی میں ایسی پارٹی دونگا کےپورا محلہ ہم پہ رشک کریگا ۔۔
اچھا جی جنت نے مسکراتے ہوئے کہا۔۔
ہاں جان یوسف جی یوسف نے بھی اسکی ٹون میں اسے جواب دیا اور جنت کو اپنی باہنوں کے حصار میں لے لیا۔۔
جنت میڈل کو ہاتھ میں پکڑے پکڑے ایک دم رونے لگی ۔۔
اسکی دونوں دوستوں کی۔بھی آنکھیں بھر ائ ۔ان دونوں نے جنت کواپنے گلے سے لگالیا ۔۔
سب نے ہی اسے مبارک باد دی سب ہی خوش تھے کتنی ہی دیر وہ شبنم بیگم کے گلے لگ کے روتی رہی۔مگر لائبہ نے نہ۔تو اسےمبارک بعد دی بلکے طنز بھرے لہجہ میں کہا۔اب یہ ڈرامہ کس لیہ میرےبھای کو توتم کھاگئ تمہاری محنوس قسمت میرے بھائ کو نگل گئ۔
لائبہ زبان سنبھال کےبات کرو شبنم بیگم نےغصیلے لہجہ میں کہا۔
کیوں ماما میں نے ایسا بھی کیا غلط کہا آپ اسکو سینے سے لگائے بیٹھی ہے جو ہمارے گھر کی خوشیاں کھا گئ یہ ہے محنوس امی میرےبھای کی زندگی میں شامل ہوکے انکی زندگی کا چراغ ہی گل کردیا اوراب یہاں بیٹھ کے ٹسوے بہارہی ہے۔۔
ناٹک باز۔۔۔۔
یہ بول کے جہاں لائبہ وہاں سے گئ ۔۔
وہی جنت بھی روتے روتے اپنے کمرے کی طرف بھاگی۔ ۔۔
مگر نومیر جو اوپر آرہا تھا لائبہ کی باتیں سن چکا تھا۔غصہ میں اپنے کمرے میں گیا۔۔ لائبہ منہ دھوکے باہرنکلی اور نومیر کو دیکھ کےمسکراتے ہوئے کہا۔
ارےنومیر آپ کب ائے؟؟؟؟
جب تم میری بہن کو محنوس کہہ رہی تھی۔۔
نومیر نے آنکھوں میں غصہ لیہ لائبہ کو گھور کے کہا۔۔
ہاں تو غلط کیا کہا آپکی بہن ہے ہی محنو۔۔۔۔۔
اس سے پہلے لائبہ اپنی بات مکمل کرتی نومیر نے غصہ سے اسکا بازو پکڑا اور کہا
اگر میری بہن محنوس ہے تو تم بھی محنوس ہو ۔تمہارا میری زندگی میں آنا دیکھ لو اور میری بہن کا بیوہ ہونا دیکھ لوبلکل ایک منٹ لائبہ کو نومیر نے جھٹکا دے کے اور قریب کیا اور کہا ۔
بلکہ تم دو ڈبل محنوس ہوئ تم ماں کیا بنی تمہارا آنا والا بچہ اپنے ماموں کو ہی نگل گیا۔۔
نومیر کی باتیں سن کے لائبہ کے ٹپ ٹپ آنسو گرنے لگے وہ حیران کن نظروں سے نومیر کو دیکھنے لگی اور کہا۔
نومیر میں آپکے لیہ محنوس ہو ہمارا بچہ اس سے زیادہ لائبہ سے بولا نہی گیا۔۔۔
کیوں کیا ہوا برا لگا تمہیں ایسے جنت کو بھی برا لگتا ہے اگر کوئ آپکی طنزیہ باتوں پہ۔چپ ہے تو اسکا یہ مطلب نہی کے وہ بولنا نہی جانتا یہ اسکے منہ میں زبان نہی اگر وہ چپ ہے تو صرف آپکے اور اسکے درمیان رشتے کی وجہ سے ۔۔
یوسف بھائ کا دکھ ہم سب کو ہے لائبہ مگر ہم سب کچھ دن روکے چپ ہوگئے اپنی اپنی زندگیوں میں اگے بڑھ گئے۔۔
مگر جنت وہ تو آج بھی یوسف بھائ کی ایکسیڈنٹ والی جگہ پہ ہے ۔اسکی تو دنیا رک گئ لائبہ روز رات کو اس کمرے میں سونا جہاں اسکا شوہر اسکی محبت تھی مگر اب اسکا کمرہ ان دونوں احساسوں سے خالی۔
اسکے دکھ کا تو ہم مداوا بھی نہی کرسکتے لائبہ۔۔
جسکی محبت سے جنت کو محبت ہوئ قسمت کی ستم ظریفی دیکھو اسکے ساتھ لائبہ آخری دیدار بھی اسے نصیب نہی ہوا اسے تم نے خالی اپنا بھائ کھویا ہے لائبہ میری بہن نے اپنا شوہر اپنی محبت اپنا بچہ کھویا ہے یہ بول کے نومیر کی آنکھوں سے آنسو گرنے لگے۔۔
اسکے پاس اب ایسی کوئ وجہ نہی کے وہ زندگی کو ایک بار پھر سے گلے لگائے مگر وہ جی رہی پتہ ہے کیوں کیونکہ ہمارے مذہب میں خودکشی کی موت کو حرام موت کہا گیا ہے۔۔یہ بول کے نومیر کمرے سے چلا گیا لائبہ کو سکتے کی حالت میں چھوڑ کر۔۔

#

جمیلا بیگم سے سب خوش اسلوبی سے ملے۔۔
انکے بیٹے کی نظریں بار بار بھٹک کے جنت کے چہرے ک طواف کرہی تھی۔۔
جمیلا بیگم جنت اور باقی سب سے ملے کے ایسے گلا پھاڑ پھاڑ کے رورہی تھی جسے انہیں یوسف کی موت کا سب سے زیادہ دکھ ہے ۔۔
جبار کن انکھیوں سے جنت کو گھور رہا تھا یہ جنت کو بخوبی اندازہ تھا۔۔
جمیلا بیگم کو رکے آج دو ہفتے گزر چکے تھے ۔۔جنت کے لیہ انکا پیار سب کیلیے ہی شوکڈ تھا۔تو ادھر جبار جب جب جنت کو اکیلا بیٹھا دیکھتا وہاں پہنچ جاتا مگر جنت اسے دیکھتے ہی اپنا رخ بدل لیتی۔۔
اور پھر اچانک جمیلا بیگم کی آمد کا کا اور جنت پہ انکے پیار نچھاوڑ کرنے کا رازکھلا۔۔
سب ہی ایک ساتھ ڈائئنگ ٹیبل پہ کھانا کھانے میں مصروف تھے۔ لائبہ اور نومیر میں اس دن کے بعد سے کوئ بات نہی ہوئ نومیر بھر پور
ناراضگی کا اظہار کررہا تھا۔۔
جمیلا بیگم نے اچانک اپنے دونوں بھائیوں اور خالدہ بیگم کو مخاطب کرکے کہا۔۔
بھائ صاحب میں یہاں ایک خاص مقصد کیلیے آئ ہوں کچھ عرصہ پہلے اگر آپ میری بات مان لیتے تو جنت کے سر پہ یہ بیوگی کی چادر نہی آتی ہاے میری بچی بھری جوانی میں بیوہ ہوگئ۔۔
جمیلا کی باتیں سن کے سب ہی چپ تھے جب کے جنت کے منہ میں موجود لقمہ اس سے نگلنا مشکل ہوگیا۔
میں جانتی ہو بھائ صاحب جو عورت جوانی میں بیوہ ہو جائے اس کا اس معاشرہ میں جینا بہت مشکل ہوجاتا ہے کوئ محنوس تو کوئ بد نصیب کا طعنہ مارتا ہے اس لیہ میں اپنے جبار سے آپکی جنت کا ہاتھ مانگنے آئ ہو اور اس بار میں خالی ہاتھ نہی لوٹونگی۔۔
جمیلہ بیگم کی بات سن کے سب کو جیسے سانپ سونگھ گیا۔جنت ٹیبل چھوڑ کے جانے لگی جب شبنم بیگم کی آواز گونجی ۔۔
ابھی اسی وقت جنت اپنی جگہ پہ واپس بیٹھو۔۔
شبنم بیگم کے بولنے پہ جنت نے مڑ کے ایک۔التجائ نظر شبنم بیگم پہ ڈالی مگر انکے گھورنے پہ چپ چاپ واپس ٹیبل پہ بیٹھ گئ۔۔
جب جمیلا بیگم نے اکمل اور خالدہ بیگم سے کہا۔
تم لوگ جواب دو جنت کی زندگی کا فیصلہ کرنے کا حق تمہارا ہے۔۔
نہی آپا جنت پہ اب ہمارا نہی بھائ صاحب اور بھابھی کا حق ہے۔۔
ہاں آپا خالدہ بیگم بھی بول پڑی آپا کی زمیداری ہے جنت جو انکا فیصلہ ہوگا وہی ہمیں منظور ہوگا
اکمل اورخالدہ بیگم نے جو آج شبنم بیگم کو عزت دی شبنم بیگم کی آنکھیں بھیگنے لگی۔
جمیلا بیگم نے ایک طنز بھری نظر شبنم بیگم پہ ڈالی اور کہا
بولو شبنم کیا فیصلہ ہے تمہارا میں نہ نہی سنوگی
ابھی تو ہمارا ایسا کوئ ارادہ نہہی آپا معزرت اور اگر کبھی ہوا بھی تو جبار سے میں کبھی جنت کی شادی نہی کرونگی۔۔
شبنم بیگم کی بات پہ سب نے کی سکون کا سانس لیا۔
مگر جمیلا بیگم ہٹے سے اکھڑ گئ اور کہا۔
میرا جبار نہی مطلب تم سمجھتی کیا ہو خود کو معاف کرنا تمہارے یوسف سے زیادہ کماؤ پوت اورخوش شکل ہے ۔اور تم ساس ہونے کے باوجود اپنی اس محنوس بہہو کو سر پہ بیٹھا رہی ہو جو تمہارے گھر میں آتے ہی تمہارے بیٹے کو نکل گئ ۔وہ تو میرے دل میں اپنے بھائ کیلیے ہمدردی جاگی جو اپنی بیوہ بھتیجی کی زندگی سنوار رہی ہو ۔
بس آپا بہت بول چکی اپ۔شبنم بیگم ایک دم غصہ میں دھاڑی اور کہا۔۔
جنت میری بہو نہی میری بیٹی ہے چ جب اللہ کا حکم ہوگا یہ پھر دلہن بنے گی میرے بیٹے کی موت اسی طرح لکھی تھی جنت ساتھ ہوتی اسکے تب بھی نہی ہوتی تب بھی اور آپ کیا میری جنت کو مہنوس کہہ رہی ہیں ۔اپکا اپنے بیٹے کے بارے میں کیا خیال ہے ۔۔جسکی پہلی بیوی بچہ پیدا کرتے ہی مرگئ اور دوسری بیوی مان بنی کی خوشی اسے ملے کے گھر کی سیڑھیوں سے گر کر مرگئ۔۔
تو محنوس تو آپکا بیٹا ہوا آپکا گھر ہوا جو دو جانوں کو نکل گیا۔
جنت بیوہ ہوئ ہے لاوارث نہی جو کسی بھی بیکار کھوٹے سے اسےباندھ دو۔۔
معاف کرنا اپکو شرم آنی چاہیے تھی اسطرح کا سوچتے ہوئے بھی ۔
یہ بول شبنم بیگم ٹیبل پہ سے اتھ گئ اور جاتے جاتے جنت کو بھی اسکے کمرے میں جانے کا اشارہ کیا۔۔
جمیلا بیگم اور انکا بیٹا خاموشی سے اپنے کمرے میں چلے گئے۔۔
اجمل صاحب کمرے میں آئے تو شبنم بیگم سلام پھیر رہی تھی۔۔اجمل صاحب انکے پاس بیٹھے اور کہا ۔
مجھے فخر ہے تمہاری سوچ پہ شبنم کاش دنیا کی ہر ساس ایسا سوچے۔۔اجمل صاحب موت زندگی کی ڈور اللہ کے ہاتھ میں ہر جاندار کو موت کا مزہ چکھنا ہے تو پھر ہم کون ہوتے کسی کی زندگی کو ناسور بنانے والے۔۔
اپکو پتہ ہے یوسف میرے خواب میں روز آتا ہے اور صرف یہی کہتا ہے ۔۔ماں میری جنت کو خوش رکھنا۔
بس جنت میرے بیٹے کی جان نہی میری بھی جان ہے میں اسے زندگی کی طرف ضرور لاونگی۔۔
انشاءاللہ
انشاءاللہ ۔۔
دونوں ایک ساتھ کہا اور مسکرانے لگے۔۔

#

اگلے دن جمیلا بیگم بنا کسی سے ملے واپس روانہ ہوچکی تھی۔۔
دن گزر رہے تھے جس جنت کے بولنے سے سب چڑتے تھے آج سب اسکی خاموشی سے اداس تھے۔۔
شبنم بیگم کے بہت اصرار پہ اج وہ دعا اور زنیرہ کے گھر گئ۔۔
مگر وہاں سے واپسی پہ اسکے غصہ کی انتہا نہی رہی جب اسکے کمرے سے یوسف کی ایک ایک چیز غائب تھی۔۔
جب جنت نے ماسی پہ برسنا شروع کیا تو شبنم بیگم نے کہا۔۔
میرے کہنے پہ اس نے کیا یہ سب۔۔
مگر کیوں ماما ایک ہی تو کل سرمایا تھا میرا
جنت نے روتے روتے شبنم بیگم سے شکوہ کیا ۔شبنم بیگم اسکے پاس آئ اور کہا۔
مرنے والوں کے ساتھ مرا نہی جاتا جنت مایوسی کفر ہے ہمارے دین میں بھی صرف تین دن کے سوگ کا حکم ہے اسکے بعد اللہ خود صبر دے دیتا ہے ۔
تم اگر مجھے کچھ سمجھتی ہو تو لوٹ آؤ زندگی کی طرف جنت تمہں یوسف کی قسم ۔۔
اپنی مصروفیات بڑھاؤ کوئ جاب کرو تمہارے پاس ہنر ہے باہرنکلو اپنے اس خول سے ۔۔
یہ بول کے شبنم بیگم تو کمرے سے چلی گئ مگر جنت بلک بلک کے رونے لگی۔۔
شبنم بیگم کی بات کا جنت نے مان رکھا ۔۔اور جاب تلاش کرنا شروع کی کئ فیشن ڈیزائنر کمپنی میں اسنے اپنی سی وی بھیجی اور آج ایک جگہ سے اسے انٹر ویو کی کال ائ۔۔
جنت انٹرویو دینے گئ تو کمپنی کی بلڈنگ دیکھ کے کافی متاثر ہوئ۔۔
جنت کو چادر اور نقاب میں دیکھ کے سب ہی اسکے حلیہ پہ ایک طنز بھری نظر ڈال رہے تھے مگر جنت کو فرق نہی پڑا۔
اور تھوڑی دیر بعد ریسپشن پہ بیٹھی لڑکی نے اسکا نام پکارا اور اسے اندر جانے کو کہا۔۔
جنت نے آفس کا دروازہ نک کیا تو اندر سے آواز ائ۔۔
اجائے ۔۔
آواز سن کے جنت کا دل زور زور سے ڈھرکا ہلکا سا دروازہ کھلا تو ریمی کی خوشبو اسکی نتھنوں سے ٹکرائی اور اسنے دھیرے سے کہا۔۔
یوسف ۔۔
اور اندر چلی گئ۔۔
جاری ہے۔۔