Rate this Novel
Episode 8
معافی ۔۔
مریم عمران۔۔۔
قسط نمبر 8#.
حمزہ نے اقراء کو ایک کمرے میں لیٹایا اور پریشان سا اسے دیکھنے لگا۔
مجاہد صاحب زرین بیگم حمزہ کے پیچھے کمرے میں پہنچے اور حمزہ سے پوچھا۔۔
کون ہے یہ حمزہ؟؟
پاپا یہ۔میرے آفس کی سب سے ہونہار کولیگ ہے مگر یہ اس طرح اس حالت میں سمجھ سے باہر اس کی حالت ٹھیک نہی لگ رہی مجھے آپ ڈاکٹر کو کال کرے۔۔
زرین بیگم نے بھی پریشان حالت میں کہا۔
نہی۔ماما ڈاکٹر اگر ایا تو خاماخائ میں اسکینڈل بنادینگے میڈیا والے۔
تم فکر نہی کرو حمزہ میں اپنے دوست کو بلا لیتا ہو ۔وہ کافی اچھا دوست ہے ہمارا انشاءاللہ یہ بات لیک نہی ہوگی۔۔
مجاہد صاحب کی بات سن کے حمزہ نے ہاں میں گردن ہلائی تو زرین بیگم نے حمزہ کو باہر جانے کا بولا کیونکہ اقراء کے کپڑے کی جگہ سے پھٹیں ہوئے تھے۔۔انہوں نے بسمہ سے اسکے کپڑے لانے کو بولے ۔حمزہ باہر نکلا تو عمر کمرے سے ٹیک لگا کے کھڑا تھا۔
حمزہ کو دیکھتے ہی اسکی طرف لپکا اور پوچھا۔
کیسی ہے بھائ وہ؟؟
عمر کی ایسی بیتابی پہ حمزہ نے چونک کے عمر کو دیکھا جسکی آنکھوں میں لہجوں میں اسے کسی اور چیز کا گمان ہوا ۔کیونکہ عمر کی آنکھیں بیان کررہی تھی کے اندر لیتی لڑکی اسکے لیہ کیا معنی رکھتی ہے۔۔
حمزہ نے اسکے کندھے پہ تسلی بخش ہاتھ رکھا اور کہا
ابھی بیہوش ہے پاپا نے ڈاکٹر کو کال کردی ہے آنے والے ہونگے تم پریشان نہ ہو۔۔
حمزہ کی بات سن کے اس نے اپنی آنکھیں بند کی اور ہاں میں گردن ہلائی ۔
تھوڑی دیر بعد ڈاکٹر آئے اور انہوں نے صرف یہی کہا کے کسی گہرے صدمے کی وجہ سے یہ بیہوش ہوئ ہے میں نے انجیکشن دے دیا ہے شام تک انہیں ہوش اجائے گا۔۔
ڈاکٹر جانے لگے تو حمزہ نے کہا۔
انکل پلیز یہ بات لیک نہ ہو ۔
ڈاکٹر نےمسکراتے ہوئے حمزہ کے کندھے پہ ہاتھ رکھا اور کہا۔۔
ڈونٹ وری بیٹا میرے آگے بھی بیٹی ہے یہ بول کے ڈاکٹر صاحب چلے گئے۔
اور حمزہ اور عمر افس کیلیے۔۔
آفس کی پارٹی میں بھی عمر کا دل نہی لگا۔۔بار بار اسکا دیھان اقراء کی طرف جا رہا تھا۔۔
شام میں بسمہ اقراء کے کمرے میں آئ تو وہ ہوش میں تھی اور جاگ چکی تھی ۔۔
وہ نیچے گئ زرین بیگم کو بتانے تو عمر اور حمزہ بھی آئے ہوئے تھے۔۔
اس نے اقراء کے ہوش میں آنے کا بتایا تو سب ہی اس کے پیچھے اقراء کے کمرے میں گئے۔۔
اقراء نے جب حمزہ اور عمر کو دیکھا تو اسے تھوڑا سکون ہوا کے وہ انجان آدمی کے گھر نہی۔مجاہد صاحب کو بھی وہ اچھے سے جانتی تھی کافی بار وہ آفس اچکے تھے اور اپنے ورکر کے ساتھ کافی اچھے تھے ۔۔
زرین بیگم اور بسمہ بھی اقراء کے پاس ہی بیٹھے تھے جب حمزہ نے اقراء سے پوچھا ۔۔
اقراء تم اس طرح میری گاڑی کی ڈگی میں کیسے مطلب تم ہوا کیا تھا۔۔؟؟
حمزہ نے پوچھنے پہ چند آنسو اقراء کی آنکھوں سے بہہ نکلے ۔تو زرین بیگم نے اسکا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا اور کہا۔
بیٹی گھبراوں نہی مجھے اپنی ماما سمجھو بتاو ہمیں تمہاری فیملی تمہارے گھر والے کہاں ہیں۔
کئ سالوں بعد اقراء نے اپنے لیہ بیٹی کا لفظ سنا تھا۔
اقراء نے اپنی زندگی کی ساری حقیقت انکے سامنے کھول کے رکھ دی واش روم میں کیمرے سے لے کر گاڑی میں ہوئے حادثے تک ڈگی میں پہنچنے تک سب۔۔
اقراء کی بات سن کے جہاں زریں بیگم کی بھی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔وہی عمر نے بابر کی حرکت پہ سختی سے اپنی مٹھیاں بھینچی تھی ۔
مجاہد صاحب تو غصہ میں صرف اتنا کہا۔
اجکل کے لوگوں کا تو خون سفید ہوگیا ہے تم پریشان نہی ہو بیٹا آج سے تم میری زمہ داری ہو۔۔
میری بیٹی ہو جیسی بسمہ ہے۔۔مجہاد صاحب کی بات سن کے اقراء کی آنسو میں اور تیزی آگئی جبکہ بسمہ تو خوشی میں اقراء کے گلے لگ گئ یہ سوچ کے کے اسے ایک بہن مل گئ۔۔
حمزہ ابھی ہم نے اقراء کو اگر اپنے ساتھ رکھا تو ہم لوگوں کا منہ نہی بند کرواسکےینگے۔۔
تم ایک کام کرو پچھلے گلی میں جو ہم نے ایک فلیٹ بک کروایا تھا ۔اس دوبارہ ایک نظر دیکھو اقراء آج سے وہی رہے گی۔24گھنٹے اس فلیٹ کے باہر ایک گارڈ رہے گا۔اور اقراء بیٹا مجھے اپنا پاپا سمجھو جس چیز کی بھی ضرورت ہو مجھے کہنا یہ پھر اپنے حمزہ بھائ جو ٹھیک ہے بلکل بھی پریشان نہی ہونا۔مجاہد صاحب نے مسکرا کے اقراء کے سر پہ ہاتھ رکھا تو مشکور نگاہوں سے انہیں دیکھنے لگی۔۔
جبکہ حمزہ صرف عمر کو ہی دیکھ رہا تھا جو مسلسل اقراء کو اپنے نظروں کے حصار میں لیا ہوا تھا۔
حمزہ کے کھانسنے پہ ایک دم چونکا توحمزہ نے کہا۔
چلے عمر اقراء کو آرام کی ضرورت ہے ۔۔۔
جی جی بھائ چلے یہ بول کے عمر نے اقراء کو دیکھا تو وہ بھی اسے ہی دیکھ رہی تھی ۔ایک دم دونوں کی نظریں ملی تو اقراء نظریں چورا گئ ۔
#
اقراء کو فلیٹ میں شفٹ کروادیا تھا حمزہ نے جہاں ضرورت کی ہر چیز تھی اقراء کی کافی شاپنگ زرین بیگم نے کی تھی جس میں ضرورت کی تمام چیزیں موجود تھی ۔۔
اقراء معمول کے مطابق آفس جانے لگی تھی۔حمزہ نے اسکے باہر کھڑے گارڈ کو سخت تاکید کی تھی کے حمزہ کے فیملی میمبر کے علاؤہاور کام کرنے والی ماسی کے علاوہ کوئ اس فلیٹ کے اندر نہ جائے ۔۔
ایک مخصوص گاڑی خاص اقراء کے لیہ تھی جسمیں وہ آفس آتی جاتی تھی۔حمزہ نے اقراء کے لیہ جو کچھ بھی کیا وہ۔صرف عمر کیلیے کیونکہ حمزہ جان چکا تھا اقراء عمر کیلیے کیا ہے۔۔
اقراء کے آفس سے نکلنے کے بعد عمر خاموشی سے اقراء کو فالو کرتا جب تک اس کے فلیٹ کےباہر کھڑا رہتا جب تک وہ لائٹ افف نہی کردیتی۔۔
گارڈ کو عمر نے خاص کر اپنا نمبر دیا تھا کسی پریشانی کیلیے خاص تاکید کی تھی۔گارڈ کو کے وہ اس کو کال کرے۔۔
#
جنت کے پیپر ختم ہوچکے تھے اور اب اسکے نکاح کی تیاری شروع ہوچکی تھی جو ایک ہفتے بعد تھا۔۔
آج گھر کے سارے لوگ ایک ہفتے بعد ہونے والے یوسف اور جنت کے نکاح کی شاپنگ کرنے جارہے تھے۔
اکمل اور اجمل صاحب اسٹور سنبھال رہے تھے ۔
سب ہی تیار کھڑے تھے جب ماریہ اداس سی جنت کے کمرے سے باہر آئ اور خالدہ بیگم سے کہا۔
ماما آپی نہی جارہی وہ کہہ رہی ہیں اپنی مرضی سے لے آؤ نکاح کا جوڑا۔۔
ماریہ کی بات سن کے نومیر اور خالدہ کو کافی شرمندگی ہوئ یوسف اور شبنم بیگم کے سامنے اس سے پہلے خالدہ بیگم کچھ بولتی یوسف بول پڑا ۔۔
نومیر تم چچی اور باقی سب کو لے کر پہنچو مال میں دوسری گاڑی میں جنت کو لے کر آتا ہو۔۔
یوسف کے لہجہ میں ایسا کچھ تھا کے کسی نے اس سے کوئ سوال نہی کیا اور خاموشی سے نومیر کے ساتھ گاڑی میں جاکے بیٹھ گئے۔جبکہ نومیر نے مسکراتے ہوئے ہلکی سے سرگوشی کی
اب آئے گا مزا جنت آپی زرا آج یوسف بھائ کی قربت بھی جھیلو۔۔
یوسف بنا ناک کیہ جنت کے کمرے میں داخل ہوا تو وہ میڈم بنا ڈوپٹہ کے شیشے کے سامنے کھڑے ہوکے کاجل لگا رہی تھی۔۔
جنت سمجھ چکی تھی کے اس کے کمرے میں کوئ آیا ہے وہ کاجل کو بیوٹی باکس میں رکھتی ہوئ کہنے لگی۔میں نے کہا ہے نہ ماریہ میں ابھی جنت اپنی شیشے میں دیکھ کے پوری کرتی کے ایک منٹ کیلیے شیشہ میں یوسف کا عکس دیکھ کے ساکن ہوگئ۔اور پلٹ کے شیشے سے لگ کے غور غور سے یوسف کو دیکھنے لگی جو اسی کی طرف بڑھ رہا تھا۔
جنت نے بے بسی ایک نظر بیڈ پہ پڑے اپنے ڈوپٹہ کو دیکھا اور پھر یوسف جو اس کے قریب آیا اور کہا۔
میں نے سنا ہے تم نہی جارہی ہمارے نکاح کی شاپنگ کرنے ۔۔
جنت نے اپنا حلق تر کیا اور ساتھ میں یوسف کو بھی دیکھنے لگی جو ڈریسنگ کا سامان دونوں اعتراف سے آہستہ آہستہ سائیڈ میں کرنے لگا۔
اس سے پہلے جنت وضاحت دیتی یوسف نے جنت کو کمر سے تھام کے اوپر کرکے ڈریسنگ پہ بیٹھایا ۔اور سائیڈ اسٹینڈ پہ سے اسکا عبایا اتارا اور پھر کہا۔
ہاں بتایا نہی تم نے کیوں نہی جارہی تھی تم۔۔۔؟؟
۔و۔۔ہ۔۔۔م ۔ی۔۔ں نے ۔کہ۔۔ہاا۔۔کے۔۔جںنت کی ہکلاہٹ یوسف صاف محسوس کررہا تھا ۔اور بہت مشکل سے اپنی ہنسی کنٹرول کررہا تھا جس سے اسکا ڈمپل بار بار ابھر رہا تھا۔۔
اور جنت تو اسکے ڈمپل میں ہی۔کھو گئ۔۔
یوسف آج جنت کے اتنا قریب تھا کے جنت آج بہت غور سے اسکے چہرے کے ایک ایک نقش دیکھ رہی تھی۔۔
یوسف جنت کو عبایا ایسے پہنا رہا تھا جسے کسی ضدی بچے کو کپڑے پہناتے ہیں۔جنت نے خاموشی سے عبایا پہنا یوسف نے اسے اسکی چادر پہنائی اور آگے کو جھک کے اسکا نقاب باندھا۔
اور پیچھے ہٹ کے اسکی طرف اپنا ہاتھ کیا جانے کیلیے جو جنت نے خاموشی سے تھاما اور یوسف اسے لے کر گھر سے باہر نکل گیا۔۔
شاپنگ مال پہنچ کے یوسف نے گاڑی روڈ کے اس پار پارک اور روڈ کراس کرنے لگا تو اس نے جنت کا ہاتھ پکڑ لیا۔۔۔
جنت نے چونک کے یوسف کو دیکھا تو وہ روڈ کراس کرنے میں جتنا دیھان دے رہا تھا اس سے زیادہ مظبوطی سے اس نے جنت کا ہاتھ پکڑا تھا۔۔
یوسف اور جنت مال میں پہنچے تو نومیر کی کال آگئ ۔
یوسف نومیر کی بتائ جگہ پہ پہنچا اور اس نے جنت کا ہاتھ چھوڑ دیا ۔
جنت لائبہ سب ہی جنت کے نکاح کے جوڑے پسند کررہے تھے ۔۔جب یوسف کی نظر جنت پہ تھی جو نکاح کے جوڑے کے بجائے سامنے ڈمی پہ سجی ایک بلیک ساڑھی کو بڑی چاہ سے دیکھ رہی تھی۔۔
یہ دیکھ کے یوسف کے لبوں پہ مسکراہٹ رینگ گئ۔۔
سب کی صلاح مشورے سے جنت نے ایک گولڈن اور وائٹ کلر کے کومبینشن کا شرارہ پسند کیا تو نمیرنے لائبہ کیلیے بھی ایک خوبصورت سا ریڈ اور گرین کلر کا ڈریس پسند کیا نکاح کیلیے خالدہ اور شبنم بیگم اب اپنی شاپنگ کررہے تھے ۔لائبہ ماریہ نومیر جیولری پہ بہس کررہے تھے جبکہ جنت خاموش کھڑی تھی جب یوسف نے اسکے پاس آکے کہا۔
تم کچھ نہی لے رہی جیولری میں۔۔؟!
یوسف کے ایسےخفیہ بولنے پہ جنت ایک دم چونکی اور نفی میں گردن ہلائ۔۔
جب یوسف نے ایک بار پھر جنت کا ہاتھ تھاما اور آگےبڑھ گیا اور نومیر کو کال کرکے کہا وی
ہ لوگ گھر چلے جانا میں جنت کو پوری شاپنگ کراکے اونگا۔۔
جاری ہے ۔۔
