Maafi Season 1 By Mariyam Khan Readelle50209 Episode 12
Rate this Novel
Episode 12
معافی۔۔
مریم عمران۔۔
قسط نمبر 12#
مرر میں بابر کے عکس کو دیکھ کے اقراء کو کپکپی طاری ہوگئی وہ لرزتی ہوئی مڑی تو بابر نے شیطانی مسکراہٹ لیہ آگے بڑھا اور کہا۔۔
کیا سمجھا تھا تونے مجھے سے بچ جائے گی تو یہ بھول تھی تیری آج تجھ سے مزے بھی لونگا اور وہ حال کرونگا کے ہر روز تو مرنے کی دعا مانگے گی۔۔
یہ بول کے بابر اسکے قریب بڑھا اقراء جیسی ہی اس سے بچ کے بھاگنے لگی بابر نے اسے زور سے بیڈ پہ دھکا دیا
اس سے پہلے وہ اقراء کو اوپر جھکتا اقراء تیزی سے مڑی اور آٹھ کے بھاگنے لگی ۔۔
بابر تیزی سے اس کے پیچھے بھاگا اور ایک لات زور سے اقراء کی کی کمر پہ ماری اقراء اپنا توازن نہ برقرار رکھی سکی اور سامنے لگی کانچ کی ٹیبل پہ گر پڑی تکلیف سے اسکی درد ناک چیخ نکلی مگر اسے بھاگنا تھا اپنی عزت کی خاطر مگر اس سے پہلے بابر اس تک پہنچ چکا تھا اس نے اقراء کو بالوں سے پکڑ کے گھسیٹنا شروع کردیا
اقراء ایڑھیاں رگڑنے لگی کافی کانچ اسکے پاؤں کی ایڑیوں پہ چبھے اسکی کمر میں گھبے مگر وہ وہ مسلسل اپنے آپ کو بابر سے چھڑوانے میں لگی تھی۔۔
بابر نے اسکو گھسیٹ کے بیڈ پہ پھیکا اور 6 7چماٹےاس کے منہ پہ مارے جس سے اسکا ۔منہ سوجھ گیا ۔۔
اقراء بابر کے بھاری ہاتھ کے چانٹے کھا کے نڈھال ہوچکی تھی۔۔۔۔
بابر نے اسکے دونوں ہاتھ جییسے ہی باندھنے چاہے اقراء نے ایک زور دار لات اسکے پیٹ پہ۔ماری اور ڈور کے واش روم میں بند ہوگئ ۔۔
بابر نے اٹھ کے زور زور واش روم کے دروازے کو دھکا دینا شروع کردیا۔۔..
#
اقراء نے دکان میں بابر کو دیکھا تھا اس لیہ گھبراہٹ کے مارے اس مال سے جلدی نکلی مگر وہ جو یہ سمجھ رہی تھی کے بابر کی نظر اس پہ
نہی پڑی یہ ہی اس کی سب سے بڑی بھول تھی ۔۔
بابر نے نہ صرف اسکا پیچھا کیا بلکہ واچ مین کو بھی بیہوش کرکے فلیٹ کے اندر داخل ہوگیا۔۔
#
بابر واش روم کے دروازہ توڑنے میں کامیاب ہوچکا تھا اس نے اقراء کو لاتوں سے بہت مارا اور جب وہ دوبارہ نڈھال ہوئ تو اس بیڈ پہ لیٹانے کیلیے جیسے ہی اٹھانے لگا۔۔
کسی نے نہ صرف اسکا ہاتھ پکڑا بلکہ ایک زور دار مکا اسکے منہ ماڑا جس سے وہ لڑکھڑا کے زمین بوس بوا ۔
عمر تیزی سے آگے بڑھا اور اقراء کو کندھوں سے تھام کے اٹھایا تو اسکی حالت بہت خراب تھی مگر وہ ہوش میں تھی اور عمر کو دیکھتے ہی اسکے گلے لگ گئ۔۔
اقراء کی حالت دیکھ کے عمر کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔۔
اس نے اقراء کو ڈوپٹہ اوڑایا اور اسے بیڈ پہ بیٹھایا اور پھر بابر کی وہ حالت کی کے اسے کی۔حالت قابل رحم تھی۔۔
کال کرکے عمر نے حمزہ کو اور باقی گھر والوں کو بھی لانے کو کہا اور ساتھ میں قاضی کو بھی لانے کو کہا۔
عمر نے حمزہ کو کال کرکے جہاں سب بتایا تھا وہی پولیس کو کال۔کرکے بابر کو نہ صرف اریسٹ کروایا بلکہ ریپ کا چارج بھی لگوایا۔۔
بابر کو پولیس پکڑ کے لے گئ تھی۔
حمزہ کے گھر والے آئے اقراء کی حالت دیکھ کے زرین بیگم اور بسمہ کی چیخ نکل گئ۔۔
زرین بیگم نے اقراء کے کپڑے بدلوائے۔۔
اور پھر عمر اور اقراء کا نکاح ہوا۔۔
مجاہد صاحب اور حمزہ عمر کی حالت دیکھ کے اندازہ لگا چکے تھے کے اگر آج وہ۔وقت پہ نہ پہچتا تو شاید زندہ نہی رہتا کیونکہ اقراء اس کے لیہ کیا حیثیت رکھتی تھی یہ دیکھ کے مجاہد صاحب نے بھی کوئ بات نہی کی اورخاموشی سے اقراء اور عمر کا نکاح پڑوادیا۔۔
اقراء تو سکتے کی حالت میں تھی وہ یہہی سوچ رہی تھی کے اگر آج عمر نہی آتا تو ۔
اس نے خاموشی سےنکاح نامے پہ سائن کردیے ہمیشہ کیلیے اس شخص کے نام اپنی زندگی کردی۔۔
جسکی پرخلوص محبت کو وہ بری طرح تھکراکے اسکا ساتھ بھی ٹھکرا چکی تھی۔۔
نکاح کے بعد اقراء سب کے ساتھ گھر آگئ ابھی رخصتی کو کوئ وقت مقرر نہی ہوا تھا ۔
اس لیہ عمر اور اقراء الگ الگ کمرے میں تھے۔۔
گھر آکے عمر نے فورا اپنے اللہ کا سجدہ شکر ادا کیا اور سوچنے لگا کے اگر آج بسمہ کی ضد پہ وہ گاڑی میں بھولا اور اقراء کا موبائل واپس نہ کرنے جاتا تو شاید آج وہ سب کچھ کھو دیتا۔۔۔
عمر ٹیرس پہ خاموش سا بیٹھا تھا۔جب حمزہ اس کے پاس آکے بیٹھا اور کہا۔۔
کیا سوچ رہا ہے عمر ؟؟
کچھ نہی بھائ بس یہی کبھی کبھی ہم اللہ سے اپنی دعا مانگ کے بھول جاتے ہیں یہ سوچ کے جب ایک دفعہ مانگنے پہ پوری نہی ہوئ تو دوبارہ مانگنے پہ بھی نہی ہوگی۔۔
مگر ہمارا اللہ جو ہماری شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے کب کس وقت ہماری دعا سن لیتا ہےیقین ہی نہیں ہوتا ۔۔
ہمم۔ حمزہ نے عمر کے کندھے پہ ہاتھ رکھا اور کہا۔۔
بس اب سوجا کافی دیر ہوگئ اور کسی بات کا بدلہ اب اقراء سے نہی۔لینا جو ہوگیا سو ہوگیا۔۔
عمر حمزہ سے الگ ہوا اور جاتے جاتے صرف اتنا کہا
اتنی آسانی سے کہا معافی ملے گی بھائ اس لیڈی ڈائنا کوپتہ توچلے اپنی چلانے کی سزا یہ بول کے عمر نیچے اترا تو ادھر حمزہ نے نفی میں گردن ہلائی اور تمنا کو کال کرکے آج کے واقعے کے بارے میں بتانے لگا۔۔۔۔
زرین بیگم نے اقراء کو میڈیسن دی دودھ کیساتھ جس میں نیند کی گولی بھی شامل تھی اور ٹیوب دی اپنے زخموں پہ لگانے کیلیے ۔۔
زرین بیگم کے جانے کے بعد اقراء نے ڈھیلا سا ٹراوزر اور شرٹ پہنا اور باہر نکل کے لنگڑا کے چلنے لگی۔۔
اقراء کو لگ رہا تھا کے اسکی ایڑھی میں کوئ کانچ شاید اندر تک جا چکا ہے جیسی ہی وہ بیڈ پہ بیٹھ کے کانچ دیکھنے لگی دروازہ کھول کے عمر اندر ایا۔عمر اقراء کو ایڑھی پہ جھکا دیکھ چکا تھا ۔۔
جو اقراء کے کمرے سے زرین بیگم کو نکلتا دیکھ کمرے کے اندر داخل ہواتھا۔
اقراء عمر کو دیکھ کے فورا سیدھی ہوئ اب تو وہ ایسے کچھ بول بھی نہی سکتی کیونکہ مجازی خدا جو تھا۔۔
عمر اس کے سامنے بیٹھا اور غور غور سے اقراء کا چہرہ دیکھنے لگا جہاں کافی چوٹ کے نشان تھے اور سوجا ہوا بھی تھا۔۔
اقراء کے سامنے بیٹھ کے عمر نے اسکی ایڑھی کو چیک کیا جہاں کانچ چبا تھا دیکھنے لگا جہاں کافی کٹ کے نشان تھے مگر ہلکا سےا کانچ کا ٹکڑا بھی گھسا ہوا تھا۔۔
عمر نے جیسی ہی کانچ کو ٹکڑا کو ہاتھ لگایا اقراء نے تکلیف کے مارے فورا اپنا پاؤں پیچھے کرنے چاہے مگر عمر کی گرفت اتنی مظبوط تھی پاؤں پہ کے وہ چاہ کے بھی ایسا نہی کر سکی اچانک عمر نے جھکا اور اسکی ایڑھی پہ جھک کے اپنے دانتوں سے اس کانچ کو باہر نکالا تو اقراء ۔ے تکلیف سے فورا اسکا کندھا تھاما اور آنکھیں کس کے بندھ کر کے اپنے آنسو روکنے کی۔کوشش کرنے لگی۔۔
عمر نےسائڈ پہ سے رکھی ٹیوب اٹھائ اور جہاں جہاں اسکی ایڑھی پہ چوٹ کے نشان تھے وہاں وہاں ٹیوب لگای۔
جیسی ہی عمر نے اسکا ٹراوزر اوپر کرا ٹیوب لگانے کیلیے اقراء نے فورا اپنے پاؤں پیچھے کیا اور کہا۔۔
میں لگا لونگی آپکا شکریہ ۔۔
مگر عمر نے اسکی ایک نہی سنی اور غصہ سے اسکی ٹانگ پکڑ کے کھینچی اور ٹراوزر اوپر کرکے کریم لگانے لگا ۔۔
پھر شرٹ کا شولڈر نیچے کرکے وہاں ٹیوب لگائ۔۔
اقراء عمر کی ساری کاروائی کسی ریبورٹ کی طرح دیکھ رہی تھی مگر اس میں اتنی ہمت نہی تھی کے اسے روکے۔۔
چہرے پہ ٹیوب۔ لگائ ہونٹوں کے کناروں مگر اگلی بات پہ اقراء کی سانس حلق میں آگئ جب عمر نے کہا اپنا شرٹ بیک سے اوپر کرو۔۔
میں لگالونگی ٹیوب پلیز ۔۔
مگر عمر اسکی بیگ پہ جاکے کھڑا ہوا شرٹ اوپر کرکے جیسی ہی عمر نے بیک کے اسٹریپ کھولے جہاں اقراء کو دل اچھل کے حلق میں آیا وہی عمر بھی اقراء کی کمر دیکھ کے نظریں چرا گیا۔۔
کمر پہ ٹیوب لگا کے عمر نے اسکی شرٹ نیچے کی اور دودھ اور میڈیسن دے کے کہا۔۔
الٹی ہوکے لیٹنا کمر پہ زخم گہرا ہے سیدھی ہوئ تو ٹیوب ہٹ جائے گی وہاں۔سے۔۔
عمر اسکے واش روم میں گیا ہاتھ دھونے اور تھوڑی دیر وہاں کھڑے ہوکے اپنے آنسو بہنے دیے جو اقراء کے زخم دیکھ کے وہ۔کافی دیر سے برداشت کررہا تھا۔۔
عمر واش روم سے باہر آیا تو اقراء دوائیوں کے زیر اثر سوچکی تھی۔۔
عمر بیڈ کے قریب آیا اور اسکا تکیہ درست کرکے اسے ٹھیک سے الٹا کرکے لیٹایا مگر نیند کی گولیوں کا اثر تھا کے اقراء کی نید میں زرا خلل نہی ہوا۔۔
عمر نے ایک بار پھر اقراء کی شرٹ اوپر کی اور اپنے لب اسکے زخم پہ رکھے تو ایک بار پھر اسکے آنسو بہنے لگے۔۔
اور پھر اپنا حق سمجھ کے عمر نے اقراء کے ہر زخم پہ اپنے لبوں سے مرہم رکھا اور کمرے سے باہر نکل گیا۔۔
جاری ہے ۔
روتتللو میمبر۔۔۔😂😂😂😂
